Ruh-ul-Quran - Saad : 31
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
اس وقت کو یاد کرو جب شام کے وقت حضرت سلیمان کے سامنے اصیل اور عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے
اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ ۔ فَقَالَ اِنِّیْ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ ج حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ۔ رُدُّوْھَا علَیَّ ط فَطَفِقَ مَسْحًا م بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ ۔ (صٓ: 31 تا 33) (اس وقت کو یاد کرو جب شام کے وقت حضرت سلیمان کے سامنے اصیل اور عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے۔ تو اس نے کہا کہ میں نے دوست رکھا ہے مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد کی وجہ سے یہاں تک کہ سورج پردے میں چھپ گیا۔ انھیں میرے پاس واپس لائو، پھر وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ ) آیت کی تفسیر میں اختلاف اور نقطہ اعتدال گزشتہ رکوع میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی سب سے بڑی صفت اوابیّت کو بیان فرمایا گیا۔ اور پھر اس پر ایک مثال بیان فرما کر ان کی اس حیثیت کو مستحکم کردیا گیا۔ اس رکوع میں ان کے صاحبزادے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی اس طرح پیش کیا گیا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بالکل اپنے والد ماجد کے کمالات کا عکس ہیں۔ جس طرح ان کا سب سے بڑا وصف اوّاب ہونا تھا، اسی طرح بیٹا بھی اسی کمال کا حامل تھا۔ اور پھر ان کے اوّاب ہونے کی مثال بیان کی گئی ہے تاکہ ان کی سیرت کا یہ پہلو نمایاں ہوسکے۔ مفسرین نے پیش نظر آیات کریمہ میں بیان کردہ وصف کے لیے مختلف تعبیریں اختیار کی ہیں جو آیات کے الفاظ سے مترشح ہوتی۔ اور بعض روایات سے مؤید ہوتی ہیں۔ ایک گروہ کے نزدیک آیات کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کے معائنہ میں اس قدر مشغول ہوئے کہ عصر کی نماز قضاء ہوگئی یا کوئی وظیفہ جو اس وقت پڑھا کرتے تھے وہ چھوٹ گیا۔ آپ کو جیسے ہی احساس ہوا تو آپ نے گھوڑوں کو واپس لانے کا حکم دیا اور اس تغافل کی تلافی کے لیے تمام گھوڑوں کو ذبح کر ڈالا کہ ان کی وجہ سے یادالٰہی میں خلل واقع ہوا ہے۔ ان مفسرین نے تَوَارَتْ بِالْحِجَابِسے سورج کا غروب ہونا مراد لیا ہے۔ اور اس میں ایسی کوئی بات نہیں جسے قبول کرنا مشکل ہو۔ کیونکہ الشمس جو ” توارت “ کا فاعل ہے وہ یہاں محذوف ہے۔ اور عربی میں مشہور و معروف چیزوں کے لیے فعل کو اس طرح لانا ایک معمول کی بات ہے۔ البتہ اس تفسیر پر بعض لوگوں نے دو اعتراضات وارد کیے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ گھوڑوں کے معائنے میں اس طرح کھو جانا کہ عصر کی نماز ہی ذہول کا شکار ہوجائے، یقینا حُبِ مال اور حُبِ دنیا پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ گھوڑے بھی دنیا کے مال و متاع میں شامل ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول سے مال کی محبت میں ایسی وارفتگی، قبول کی جانے والی بات نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کا مزاج ہر لحاظ سے اعتدال کی تصویر ہوتا ہے۔ نہ اس پر نسیان کا غلبہ ہوتا ہے اور نہ اشتعال کا۔ چناچہ اس کا جواب دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ خود آیت کریمہ میں اس آیت کا جواب موجود ہے۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے قرآن کریم کی زبان میں یہ فرمایا کہ میں نے مال کی محبت کو صرف اپنے رب کی یاد کی وجہ سے دوست رکھا ہے۔ یعنی یہ گھوڑے چونکہ جہادی گھوڑے ہیں جن کی زندگیوں کا مقصد اعلائے کلمۃ الحق ہے، اس لیے ان سے محبت کلمہ ٔ حق سے محبت کرنے کے مترادف ہے۔ جو یقینا دنیا سے محبت نہیں بلکہ دین سے محبت کا نتیجہ ہے۔ دوسرا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جب احساس ہوا کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اس طرح کھو گیا کہ عصر کی نماز قضا ہوگئی۔ تو آپ نے ان تمام گھوڑوں کو ذبح کر ڈالا۔ یہ بلاشبہ ضیاع مال ہے، جس کا عام آدمی کے لیے بھی کوئی جواز نہیں، چہ جائیکہ اس کا ارتکاب ایک اللہ کے رسول سے ہو۔ اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ درحقیقت غلبہ ٔ حال سے مغلوبیت کا ایک واقعہ ہے اور شدید احساس میں ایسا ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ حضرت عمرفاروق ( رض) ایسے ہی غلبہ ٔ حال سے مغلوب ہو کر نبی کریم ﷺ کے انتقالِ پُرملال کا اس وقت تک انکار کرتے رہے جب تک حضرت صدیق اکبر ( رض) نے ان کے سامنے قرآن پاک کی آیت نہیں پڑھی۔ اور ویسے بھی علامہ سیوطی نے معجم طبرانی کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے عن ابی بن کعب عن النبی ﷺ فی قولہ فطفق مسحا بالسوق والاعناق قال قطع سوقھا واعناقھا بالسیف علامہ سیوطی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ اس حدیث مرفوع کی وجہ سے اس تفسیر کو یقینا ایک اہمیت حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ جن آئمہ تفسیر نے اس سے اختلاف کیا ہے ان میں حضرت ابن عباس ( رض) جیسے ترجمان القرآن بھی موجود ہیں تو پھر اس حدیث کے بارے میں یقینا یہ سمجھا جائے گا کہ اس حدیث کا حسن ہونا علامہ سیوطی کی رائے تو ہے لیکن دوسرے اہل علم اس سے اختلاف کرتے ہیں، ورنہ وہ کبھی اس سے مختلف تفسیر نہ کرتے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے جو تفسیر منقول ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے جب وہ گھوڑے معائنہ کے لیے پیش کیے گئے جو جہاد کے لیے تیار کیے گئے تھے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) انھیں دیکھ کر اس قدر مسرور ہوئے کہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ مجھے ان گھوڑوں سے جو محبت اور تعلق خاطر ہے وہ دنیا کی محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے پروردگار ہی کی یاد کی وجہ سے ہے، کیونکہ یہ جہاد کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ جب وہ گھوڑے ریس میں دوڑتے ہوئے آپ کی نگاہوں سے روپوش ہوگئے تو آپ نے حکم دیا کہ انھیں دوبارہ سامنے لایا جائے۔ چناچہ جب وہ دوبارہ سامنے آئے تو آپ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کی یہ تفسیر زیادہ قرین صواب معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ قرآن مجید کے الفاظ سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔ اس میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی جس کی توجیہ کرنے کی ضرورت پیش آئے اور جس مقصد کے لیے یہ مثال دی گئی ہے وہ بھی اس سے پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔ بتلانا صرف یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے کیسے بہترین بندے تھے۔ وہ ہر وقت اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے اور حتی المقدور لو لگانے والے تھے۔ ہم نے انھیں کیسی عظیم نعمتوں سے نوازا، اقتدار کی بلندیوں تک پہنچایا اور حکومت و ریاست کو ہر طرح کی قوت اور ہیبت سے مستحکم کیا۔ باایں ہمہ اسے دنیا اپنی طرف متوجہ نہ کرسکی۔ اپنے عظیم جہادی دستے کو دیکھ کر بھی اسے اللہ تعالیٰ ہی کی یاد آئی اور اسی کے دین کی سربلندی کو ہمیشہ اپنی ترجیح بنایا۔
Top