Mufradat-ul-Quran - Saad : 31
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے
اِذْ عُرِضَ عَلَيْہِ بِالْعَشِيِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُ ۝ 31ۙ عرض أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ، ( ع ر ض ) العرض اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے رکھا ۔ عرضت الشئی علی فلان اولفلان میں نے فلاں کے سامنے وہ چیزیں پیش کی ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا ۔ عشا العَشِيُّ من زوال الشمس إلى الصّباح . قال تعالی: إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحاها[ النازعات/ 46] ، والعِشَاءُ : من صلاة المغرب إلى العتمة، والعِشَاءَانِ : المغرب والعتمة «1» ، والعَشَا : ظلمةٌ تعترض في العین، ( ع ش ی ) العشی زوال آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت قرآن میں ہے : ۔ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْضُحاها[ النازعات 46] گویا ( دنیا میں صرف ایک شام یا صبح رہے تھے ۔ العشاء ( ممدود ) مغرب سے عشا کے وقت تک اور مغرب اور عشا کی نمازوں کو العشاء ن کہا جاتا ہے اور العشا ( توندی تاریکی جو آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے رجل اعثی جسے رتوندی کی بیمار ی ہو اس کی مؤنث عشراء آتی ہے ۔ صفن الصَّفْنُ : الجمعُ بين الشّيئين ضامّا بعضهما إلى بعض . يقال : صَفَنَ الفرسُ قوائمَهُ ، قال تعالی: الصَّافِناتُ الْجِيادُ [ ص/ 31] ، وقرئ : ( فاذکروا اسم اللہ عليها صَوَافِنَ ) والصَّافِنُ : عِرْقٌ في باطن الصّلب يجمع نياط القلب . والصَّفْنُ : وعاءٌ يجمع الخصية، والصُّفْنُ : دلوٌ مجموع بحلقة . ( صن ) الصفن ۔ دو چیزوں کو اس طرح اکٹھا کردینا کہ ان کے کچھ حصے دوسروں کے ساتھ مل جائیں چناچہ محاورہ ہے ۔ صفن الفرس قوائمہ گھوڑے کا تین پاؤں پر کھڑے ہو کر چوتھے پاؤں کا سم اس طرح اٹھایا کہ اس کا اگلا حصہ زمین پر لگا رہے ۔ قرآن میں ہے : الصَّافِناتُ الْجِيادُ [ ص/ 31] خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے ۔ اور آیت کریمہ : فاذکروا اسم اللہ عليها تو قربانی کرنے کے وقت صف بستہ کھڑے اونٹوں پر خدا کا نام لو ۔ میں ایک قرات صوافن بھی ہے اور باطن صلب کی رگ کو جا نیا ط قلب کو جمع کرتی ہے بھی صافن کہا جاتا ہے اور صفن کے معنی خصیتیں کی تھیلی کے ہیں ۔ صفن وہ ڈول جس کے ساتھ حلقہ بندھا ہوا ہو ۔ جود قال تعالی: وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِ [هود/ 44] ، قيل : هو اسم جبل بين الموصل والجزیرة، وهو في الأصل منسوب إلى الجود، والجود : بذل المقتنیات مالا کان أو علما، ويقال : رجل جَوَاد، وفرس جواد، يجود بمدّخر عدوه، والجمع : الجِيَاد، قال تعالی: بِالْعَشِيِّ الصَّافِناتُ الْجِيادُ [ ص/ 31{ ( ج و د ) الجودی ۔ اس پہاڑی کا نام ہے جو موصل اور جزیرہ کے درمیان واقع ہے : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِ [هود/ 44] اور کشتی کوہ جودی پر جاٹہری ۔ یہ دراصل الجود کے معنی مقتنیات ( بیضائر ) کو صرف اور خرچ کرنے کے ہیں عام اس سے کہ وہ ذخیرہ علم ہو یا ذخیرہ مال کا ہو ۔ رجل جواد ۔ سخی آدمی فرس جواد ( تیز رفتار عمدہ گھوڑا ) جو دوڑنے میں اپنی پوری طاقت صرف کردے اس کی جمع الجباد آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بِالْعَشِيِّ الصَّافِناتُ الْجِيادُ [ ص/ 31]( جب ان کے سامنے ) شام کو خاصے کے گھوڑے ( پیش کئے گئے )
Top