Tafseer-e-Baghwi - Saad : 31
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے
آیت ، الصفنت الجیاد، کی تفسیر 31، اذعرض علیہ بالشی الصافنات الجیاد، کلبی کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ومشق اور نصیبین والوں سے جہاد کیا اور وہاں سے ایک ہزار گھوڑے آپ کے ہاتھ لگے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی میراث میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ہزار گھوڑے ملے تھے۔ عوف نے حسن (رح) کا قول نقل کیا ہے کہ مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کے پاس گھوڑے جو سمندر سے نکلے ہیں ان کے پر تھے اور وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پہلی نماز پڑھی اور کرسی پر بیٹھے اور ان پر گھوڑے پیش کیے گئے اور انہی میں مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز چلی گئی اور سورج غروب ہوگیا اور عصر فوت ہوگئی اور اس طرح ان پر اللہ کا خوف طاری ہوا اور ان کو لوٹا دیاتو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) تلوار کے ساتھ گھوڑوں کو ذبح کرنے لگے تاکہ اللہ کا تقرب حاصل ہو، انہی کی وجہ سے وہ نماز سے مشغول ہوگئے۔ اس وقت گھوڑے ان کے لیے مبا تھے۔ اگر چہ ہمارے اوپر یہ حرام ہے جیسا کہ ہم چوپایوں کو ذبح کرتے تھے، پھر ان کے پاس سوگھوڑے رہ گئے۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ جب انہوں نے گھوڑوں کو ذبح کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہترچیز ہواکوان کے تابع بنادیا تھا۔ پھر وہ جہاں چاہتے ہیں چلتی ہے۔ ابراہیم تیمی کا قول ہے کہ وہ بیس گھوڑے تھے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ اس سے مراد ایک سوبیس گھورے ہیں۔ ان کے پر بھی تھے۔ ، اذعرض علیہ بالعشی الصافنات الجیاد، صافن اس گھوڑے کو کہتے ہیں جو تین ٹانگوں پر کھڑا ہوتا ہے اور چوتھی ٹانگ کے سم کی فقط ایک نوک زمین پر لگی ہوتی۔ یہ اچھی صفت مانی جاتی ہے۔ بعض نے کہا کہ صافن کا معنی ہے کھڑا ہونا۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اس بات پر خوش ہو کہ لوگ صف بناکر اس کے سامنے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے، جیاد کی واحد جواد ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا سب آگے بڑھ جانے والے گھوڑے مراد ہیں۔
Top