Mutaliya-e-Quran - Saad : 31
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
قابل ذکر ہے وہ موقع جب شام کے وقت اس کے سامنے خوب سدھے ہوئے تیز رو گھوڑے پیش کیے گئے
اِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ [جب پیش کئے گئے ان (علیہ السلام) پر ] بِالْعَشِيِّ [شام کو ] الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُ [بہترین تیز رفتار گھوڑے ] ۔ صن صفونا گھوڑے کا تین ٹانگوں پر کھڑا ہونا اور چوتھی ٹانگ کے کھر کا صرف سرا زمین پر ٹکانا۔ جب چلیں تو نہایت تیز رفتار۔ صافن ج صافنات۔ تین ٹانگوں پر کھڑا ہونے والا گھوڑا۔ تیز رفتار گھوڑا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 31 ۔ نوٹ۔ 1: آیات 31 ۔ 32 ۔ 33 کے ترجمہ اور تفسیر میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ ان کا یہ مطلب بیان کرتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کے معاملہ اس قدر مشغول ہوئے کہ عصر کی عبادت بھول گئے یہاں تک کہ سورج چھپ گیا۔ تب انھوں نے گھوڑوں کو واپس لانے کا حکم دیا اور تلوار سے ان کو قربان کرنا شروع کردیا کیونکہ وہ ذکر الٰہی سے غفلت کا موجب بن گئے تھے۔ یہ تفسیر اگرچہ بعض اکابر مفسرین نے کی ہے لیکن یہ اس وجہ سے قابل ترجیح نہیں ہے کہ اس میں مفسر کو تین باتیں اپنی طرف سے بڑھانی پڑتی ہیں جن کا کوئی ماخذ نہیں ہے۔ اولا وہ فرض کرتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عصر کی عبادت اس شغل میں چھوٹ گئی۔ حالانکہ انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی کا ترجمہ یہ تو کیا جاسکتا ہے کہ میں نے اس مال کو اتنا پسند کیا کہ اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا، لیکن اس میں عصر کی کوئی خاص عبادت مراد لینے کے لئے کوئی قرینہ نہیں ہے۔ ثانیا وہ یہ بھی فرض کرتا ہے کہ سورج چھپ گیا۔ حالانکہ یہاں سورج کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ حتی تورت بالحجات کے الفاظ پڑھ کر آدمی ذہن منا الصافنات الجیاد کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ ثالثا وہ یہ بھی فرض کرتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر خالی مسح نہیں کیا بلکہ تلوار سے مسح کیا۔ حالانکہ قرآن میں بالسیف کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور کوئی قرینہ بھی ایسا موجود نہیں ہے جس کی بنا پر مسح سے مسح بالسیف مراد لیا جاسکے۔ اصول یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ سے زائد کوئی مطلب لینا چار ہی صورتوں میں درست ہوسکتا ہے۔ یا تو قرآن ہی کی عبارت میں اس کے لئے کوئی قرینہ موجود ہو۔ یا قرآن میں کسی دوسرے مقام پر اس کی طرف اشارہ ہو۔ یا کسی حدیث میں اس اجمال کی شرح ملتی ہو یا اس کا اور کوئی قابل اعتبار ماخذ ہو۔ مثلا تاریخ کا معاملہ ہو تو تاریخ میں تفصیلات ملتی ہوں یا آثار کائنات کا ذکر ہے تو مستند علمی تحقیقات سے اس کی تشریحات ہورہی ہو، وغیرہ۔ یہاں ان میں سے کوئی بھی بات موجود نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
Top