Jawahir-ul-Quran - Saad : 31
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
جب دکھانے کو لائے اس کے سامنے30 شام کو گھوڑے بہت خاصے
30:۔ اذ عرض الخ : ایک دفعہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جہاد کی ضرورت پیش آئ تو پچھلے پہر کے وقت اصطبل سے گھوڑے پیش کرنے کا حکم دیا جن کی تعداد کم و بیش ایک ہزار تھی چناچہ گھوڑے ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ چونکہ وہ گھوڑوں کے اوصاف سے بخوبی واقف تھے جب انہوں نے دیکھا کہ تمام گھوڑے عمدہ نسل کے، اصیل اور سبک رفتار ہیں تو بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے۔ یہ مال (گھوڑوں) کی محبت بھی یاد الٰہی کی وجہ سے ہے یہ دنیوی محبت نہیں۔ اسی دوران میں گھوڑے آنکھوں سے اوجھل ہوچکے تھے۔ اس لیے دوبارہ حکم دیا کہ ان کو دوبارہ واپس لاؤ جب وہ واپس لائے گئے تو ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے تھپکی دینے لگے (ابن جریر، کبیر، خازن) ۔ الصافات، صافن کی جمع ہے۔ صافن اس گھورے کو کہتے ہیں جو ایک پاؤں کو اوپر اٹھا کر اس کے کھر پر کھڑا ہو۔ یہ گھوڑوں کی عمدہ صفات میں شمار ہوتی ہے۔ الجیاد، جواد کی جمع ہے جواد تیز اور سبک رفتار کو کہتے ہیں۔ الخیر سے مال مراد ہے۔ عن ذکر ربی میں عن بمعنی من ہے، عن ذکر ربی من ذکر ربی (صحیح بخاری ج 1 ص 486) ۔ توارت کی ضمیر الصافنات الجیاد کی طرف راجع ہے آیت کا مذکورہ بالا مفہوم امام ابن جریرطبری، امام رازی، خطیب شربینی اور خازن نے ذکر کیا ہے اور یہ مفہوم حبر الامت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بسند متصل امام طبری نے روایت کیا ہے، رازی اور طبری نے اسی مفہوم کو ترجیح دی ہے امام رازی نے اس کو امام زہری اور ابن کیسان کی طرف مبھی منسوب کیا ہے۔ والذی ذھبنا الیہ قول الزھری وابن کیسان (السراج المنیر للخطیب الشربینی ج 3 ص 390) ۔ لیکن حضرت علی ؓ اور دیگر مفسرین کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ گھوڑوں کی دیکھ پڑتال میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نماز عصر جاتی رہی جو ان پر فرض تھی۔ نماز عصر قضا ہونے کا سبب گھوڑے تھے اس لیے گھوڑوں کو واپس منگا کر ذبح کردیا (بحر، روح، معالم، مدارک، ابن جریر، ابن کثیر) ۔ اس صورت میں توارت کی ضمیر الشمس (سور ج) کی طرف راجع ہوگی جو العشی سے مفہوم ہے اور عن اپنے اصل معنی پر ہی ہوگا۔ لیکن امام رازی نے اس پر کئی اعتراضات وارد کیے ہیں۔ اول یہ کہ الصافنات کا ذکر آیت میں صریح اور الشمس کا کوئی ذکر نہیں اس لیے الصافنات کی طرف ضمیر لوٹانا بہتر ہے۔ دوم مسح بالسوق کو ذبح پر محمول کرنا صحیح نہیں ورنہ فامسحو برؤوسکم کے معنی بھی قطع کرنے کے ہوتے البتہ مسح بالسیف قطع کے معنوں میں آتا ہے۔ لوکان مسح السوق والاعناق قطعہا لکان معنی قولہ وامسحوا برؤوسکم وارجلکم قطعہا وھذا مما لا یقولہ عاقل بل لوقیل مسح راستہ بالسیف فربما فھم منہ ضرب العنق (کبیر ج 7 ص 200) ۔ سوم سینکڑوں گھوڑوں کو بےمقصد ذبح کردینا جبکہ وہ ہوں بھی بےقصور ایک پیغمبر کی شان سے بعید ہے۔
Top