Fahm-ul-Quran - Saad : 34
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
ایک دن شام کو اس کے ملاحظہ کے لئے اصیل اور عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے
(آیت) حضرت سلیمان کی ادابیت کی ایک مثال جس طرح اوپر حضرت دائود ؑ کی اوابیت کی مثال بیان ہوئی ہے اسی طرح یہ حضرت سلیمان کی اوابیت کی مثال بیان ہو رہی ہے۔ پہلے واقعہ کی اصلی صورت سادہ الفاظ میں سمجھ لیجیے، اس کے بعد اجزائے کلام پر تحقیقی نگاہ ڈالیے۔ الفاظ قرآن کی روشنی میں واقعہ کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی دن سہ پہر میں حضرت سلیمان ؑ کے اصیل گھوڑوں کا دستہ پریڈ کی شکل میں، ان کے ملاحظہ کے لئے پیش کیا گیا۔ گھوڑے زیادہ تھے اور کام دلچسپ تھا اس وجہ سے وہ اس میں اس طرح منہمک ہوگئے کہ سورج چھپ گیا اور عصر کی نماز رہ گئی۔ جب ان کو نماز کا خیال آیا تو اس حادثہ کا ان کو اتنا شدید قلق ہا کہ یا رائے ضبط نہیں رہا۔ ان کو خیال ہوا کہ یہ دنیا کی محبت تھی جس میں پڑ کر انہوں نے خدا کی یاد سے غفلت کی اور پھر غلبہ حال سے اس طرح مغلوب ہوگئے کہ فوراً گھوڑوں کو دوبارہ طلب فرمایا اور ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر تلوار مارنے لگے کہ انہی کی محبت ان کے لئے خدا سے غفلت کا باعث ہوئی یہ ایک غلبہ حال کی صورت ہے جس میں محرک نہایت اعلیٰ ہے اس وجہ سے بجائے خود یہ قابل تعریف چیز ہے لیکن اس طرح کے غلبہ حال میں شریعت کے صحیح نقطہ اعتدال سے چونکہ آدمی متجاوز ہوسکتا ہے اس جہ سے دین میں یہ چیز مستند نہیں ہے۔ یہ اسی طرح کی ایک خاص حالت ہے جس طرح کی حالت میں آنحضرت ﷺ کی وفات کی خبر سن کر حضرت عمر مبتلا ہوگئے تھے۔ چناچہ جب حضرت ابوبکر نے آیات قرآن کے حوالہ سے انہیں متنبہ کیا تب وہ متنبہ ہوئے۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ بھی از خود متنبہ ہوگئے ہوں یا اللہ تعالیٰ نے ان کو متنبہ فرما دیا ہو اگرچہ قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہاں ان کے اس اقدام کا ذکر ان کے جوش انابت اور غلبہ اوابیت کے اظہار کے لئے ہوا ہے۔ اور اس پہلو سے بلاشبہ یہ ایک شادنار واقعہ ہے۔ اذ عرض علیہ بالعشی الصفنت الجیاد، صافنات ایک خاص اصیل نسل کے گھوڑوں کو کہتے ہیں اور جیاد اچھے گھوڑوں کی عام صفت کے طور پر آتا یہ۔ یعنی یہ گھوڑے اپنی نسل کے اعتبار سے بھی اچھے تھے اور اپنی صفات کے اعتبار سے بھی۔ تورات میں حضرت سلیمان ؑ کے ان گھوڑوں کی تفصیل موجود ہے۔ فقال انی احببت حب الخسیرعن ذکر ربی حتی توارت بالحجاب احببت یہاں اعراض یا غفلت کے مضمون پر متضمن ہے اور حرف عن اس کا قرینہ ہے۔ توارت کا فاعل الشمس یہاں محذوف ہے۔ عربی میں معروف و مشہور چیزوں کے لئے فعل بھی اس طرح لاتے ہیں اور ضمیریں بھی۔ فاعل یا مرجع کو قرینہ سمجھ سے لیتے ہیں۔ یہاں لفظ عشی کی وجہ سے قرینہ واضح تھا اس وجہ سے فاعل کے اظہار کو چنداں ضرورت نہیں تھی۔ دین میں نماز کی اہمیت فقال سے پہلے یہاں اتنی بات بربنائے قرینہ محذوف ہے کہ وہ اس پریڈ کے ملاحظہ میں ایسے مستغرق ہوئے کہ عصر کی نماز جاتی رہی۔ پھر جب متنبہ ہوئے تو کہا کہ میں نے مال کی محبت کو اپنے رب کے ذکر پر ترجیح دی یہاں تک کہ سورج چھپ گیا اور نماز عصر سے میں محروم رہ گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ کلمہ انہوں نے اظہار رنج و غم کے طور پر فرمایا۔ اگرچہ یہ گھوڑے جنگ و جہاد کے گھوڑے تھے اور جس کام میں وہ مصروف رہے وہ بھی جہاد ہی کے سلسلہ کا ایک کام تھا لیکن نماز چونکہ دین میں اصل الاصول کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے مجبوری کے سوا کوئی اور چیز اس سے غفلت کے لئے عذر نہیں بن سکتی۔ اس مسئلہ پر مفصل بحث اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ عصر کیی نماز یہود کے ہاں بھی تھی ذکررب سے مراد قرینہ دلیل ہے کہ عصر کی نماز ہے۔ اس لئے کہ عشی یعنی سہ پہر میں غروب آفاتب سے پہلے عصر ہی کی نماز ہو سکتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ کیا یہود کے ہاں بھی عصر کی نماز تھی ؟ تو اس آیت یس تو یہ بات نکلتی ہے کہ سہ پہر میں غروب آفتاب سے پہلے پہلے ان کے ہاں بھی کوئی نماز تھی۔ اگر تورات میں اس کی تفصیل نہیں ملتی تو اس سے کچھ فرق نہیں پیدا ہوتا اس لئے کہ قرآن نے صریح الفاظ میں ان کو اس جرم کا مجرم ٹھہرایا ہے کہ انہوں نے نماز برباد کردی۔ نماز کے یہ اوقات جو اسلام نے مقرر کئے ہیں ایسے فطری اور عقلی ہیں کہ دل گواہی دیتا ہے کہ نماز کے یہی اوقات دوسرے ادیان میں بھی تھے، لیکن امتوں نے ان میں اختلاف کر کے ان کو ضائع کردیا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ عصر ہی کی نماز کے معاملے میں آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو غزوہ خندق کے موقع پر آزمائش پیش آئی۔ صلوہ وسطی کے تحت ہم نماز عصر کی اہمیت کے بعض پہلوئوں کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔ ردوھا علی فطفق مسحا با لسوق والاعتاق ضمیر مفعول کا مرجع الصافنات الجیاد، یعنی گھوڑے ہیں۔ لفظ مسح قتل کرنے کے معنی میں بھی معروف ہے اور مسحا فعل محذوف کی تاکید کے لئے ہے یعنی یمسح مسحاً غلبہ حال کے واقعات دوسروں کے لئے سند نہیں ہوتے یہ حضرت سلیمان ؑ کے اس اقدام کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے اس شدید تاثر اور مغلوبیت کی حالت میں کیا۔ انہوں نے فوراً حکم دیا کہ یہ گھوڑے پھر ان کے سامنے حاضر کئے جائیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ گھوڑے جب اپنے تھانوں واپس جا چکے تھے تب حضرت سلیمان ؑ پر اس احساس کا غلبہ ہوا کہ یہی گھوڑے ان کے لئے خدا سے غفلت کا باعث ہوئے۔ چناچہ ان کو پھر واپس لانے کا حکم دیا اور ان کی پنڈلیوں اور گرد نوں پر تلوار مارنے لگے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک غلبہ حال کی صورت ہے۔ لفظ طعق اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ آیت سے صرف اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے کچھ ہاتھ چلائے، یہ نہیں معلوم ہوتا کہ انہوں نے تمام گھوڑوں کو ختم کردیا اور ایسا کرنا ممکن بھی نہیں تھا اس لئے کہ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ گھوڑے ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ غالباً انہوں نے کچھ ہاتھ چلائے اور پھر متنبہ ہو کر اس سے باز آگئے ہوں گے … چونکہ یہ واقعہ ان کی انابت اور اوابیت کا ایک یادگار واقعہ ہے اس وجہ سے قرآن نے اس کا ذکر کیا۔ ویسے یہ اقعہ ہے اسی نوعیت کا جس کا صدور حضرت عمر فاورق سے ہوا جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے۔ غلبہ حال کے واقعات دوسروں کے لئے سند نہیں ہوتے اس وجہ سے جن صوفویں نے اس سے گریبان تار تار کرنے کا جواز نکالا ہے انہوں نے محض صوفیانہ نکتہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
Top