Tafseer-e-Mazhari - Saad : 31
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے
اذ عرض علیہ بالعشی الصفنت الجیاد یاد کرو کہ جب پچھلے دن میں اس کے سامنے اصیل اور عمدہ گھوڑے لائے گئے (یعنی وہ گھوڑوں کے ملاحظہ میں مشغول ہوئے) ۔ بِالْعَشِیِّ دوپہر کے بعد ‘ یعنی پچھلا دن۔ الصّٰفِنٰتُ ‘ صافن اس گھوڑے کو کہتے ہیں جو تین ٹانگوں پر کھڑا ہوتا ہے اور چوتھی ٹانگ کے سم کی فقط ایک نوک (اس پر زور دئیے بغیر) زمین سے لگی ہوتی ہے ‘ یہ (گھوڑے کے اصیل ہونے کی علامت ہے اور) اچھی صفت مانی جاتی ہے۔ الجیاد ‘ جواد کی یا جود کی جمع ہے ‘ تیز رفتار گھوڑے کو کہتے ہیں۔ بعض کے نزدیک جیاد ‘ جید کی جمع ہے (کھرا گھوڑا) حضرت ابن عباس نے فرمایا : سب سے آگے بڑھ جانے والے گھوڑے مراد ہیں۔ بعض نے کہا : آیت میں گھوڑوں کی دونوں اچھی صفتیں بیان کی گئی ہیں : صافن ہونا اور جودت۔ جب گھوڑا کھڑا ہو تو اس کی صفت صافن ہونا ہے کہ سکون و اطمینان کے ساتھ تین ٹانگوں پر کھڑا ہو اور جب چل رہا ہو تو سبک رفتار اور تیز رو ہو۔ یہ جودت کی نشانی ہے۔ کلبی نے بیان کیا کہ حضرت سلیمان نے دمشق اور نصیبین والوں سے جہاد کیا اور وہاں سے ایک ہزار گھوڑے آپ کے ہاتھ لگے۔ مقاتل نے کہا : حضرت داؤد کی میراث میں حضرت سلیمان کو ہزار گھوڑے ملے تھے۔ یہ قول غلط ہے ‘ حدیث کے خلاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم گروہ انبیاء کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے ‘ ہمارا چھوڑا ہوا مال خیرات ہوتا ہے۔ عبد بن حمید ‘ فریابی ‘ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابراہیم تیمی کے حوالہ سے بیان کیا کہ وہ بیس ہزار گھوڑے تھے اور (پرندوں کی طرح) بازوؤں والے تھے ‘ ان کو حضرت سلیمان نے ذبح کرا دیا تھا۔ عبد بن حمید اور ابن المنذر نے بروایت عوف بیان کیا کہ حسن نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جن گھوڑوں کو حضرت سلیمان نے ذبح کیا تھا ‘ وہ (پرندوں کی طرح) پروں والے تھے اور حضرت سلیمان کیلئے سمندر سے برآمد کئے گئے تھے۔ آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کسی کو دریائی گھوڑے نہیں ملے۔ بغوی نے بروایت عکرمہ بیان کیا کہ وہ بیس ہزار پر دار گھوڑے تھے۔ اہل روایت کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان ظہر کی نماز کے بعد اپنی کرسی پر بیٹھے ‘ (قطار در قطار) گھوڑے آپ کے ملاحظہ میں لائے جانے لگے۔ نو سو گھوڑے پیش ہوچکے تو نماز عصر کا آپ کو خیال ہوا ‘ دیکھا تو سورج غروب ہوچکا تھا اور عصر کی نماز فوت ہوگئی اور ڈر کے مارے کسی نے آپ کو اطلاع نہیں دی۔ آپ کو اس کا بڑا رنج ہوا۔
Top