Tafseer-Ibne-Abbas - Saad : 31
اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ
اِذْ : جب عُرِضَ : پیش کیے گئے عَلَيْهِ : اس پر۔ سامنے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت الصّٰفِنٰتُ : اصلی گھوڑے الْجِيَادُ : عمدہ
جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے
(31۔ 34) جبکہ طہر کے بعد ان کے سامنے اصیل عربی بہت ہی عمدہ تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے اور صافنات ان گھوڑوں کو بھی کہاجتا ہے جو تین پیروں پر کھڑے ہوں اور ایک پیر کو اوپر اٹھائیں تو وہ کہنے لگے افسوس میں مال کے انتخاب کرنے میں اپنے رب کی عبادت سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ سورج کوہ قاف میں چھپ گیا۔ ان گھوڑوں کو ذرا پھر میرے سامنے لاؤ، لائے گئے تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو کاٹنا شروع کردیا اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور عصر کی نماز فوت ہوگئی اس وجہ سے ان گھوڑوں کے ساتھ جو کچھ ان کو کرنا تھا سو کیا۔ اور ہم نے سلیمان کی چالیس دن کے لیے بادشاہت ختم کر کے ان کی آزمائش کی اور شیطان کو ان کے تخت پر اس زمانہ میں قابض کردیا۔
Top