Tafseer-e-Haqqani - Saad : 23
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور منکر تعجب کرنے لگے کہ انہی میں سے ایک شخص ڈرانے والا آیا اور منکر کہہ اٹھے کہ یہ تو جادوگر بڑا جھوٹا ہے۔
وعجبوا ان جاء الخ یہ کفار اس بات سے تعجب کرتے ہیں کہ انہی کی قوم اور جنس میں سے ایک شخص خدا کا رسول کیونکر ہوگیا۔ (یعنی محمد) اور اس کو جادوگر اور جھوٹا بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر ایک معبود یعنی اللہ کی عبادت کا حکم دیتا ہے، ان بہت سے معبودوں کے مقابلہ میں اور ان کی جگہ ایک کو قائم کرتا ہے۔ یہ تعجب کی بات ہے، ایک شخص تمام کاروبار مخلوق کی نگرانی کاربراری کیونکر کرسکتا ہے ؟ یہ کہہ کر کفار کی جماعت اٹھ کھڑی ہوئی کہ اٹھ چلو اور اپنے معبودوں کو پوجے جائو، یہ ایک نئی بات ہے۔ پہلے ہم نے کسی سے نہیں سنی نہ کوئی پہلوں میں سے کہتا تھا اور کیا وجہ کہ ہم میں سے ذکر یعنی پیغمبری اور قرآن اسی ایک پر نازل ہوا ؟ کفار نے جو آنحضرت ﷺ کو کاذب بلکہ کذاب ٹھہرایا تھا، ان کا تین شبہات پر مدار تھا، جن کو اللہ تعالیٰ نے نقل کیا ہے۔ (1) الوہیت کی بابت تھا وہ کہتے ہے، اجعل الالہۃ الہا واحدا ان ھذا لشیٌٔ عجاب یہ شبہ ان کو دو وجہ سے تھا۔ اول یوں کہ ان کو نظر و استدلال کی عادت نہ تھی، صرف ان کے اوہام محسوسات کے تابع تھے، محسوسات میں دیکھا کہ ایک شخص کی قدرت بہت سی خلقت کی محافظت و علم کے لیے کافی نہیں، اس پر انہوں نے اس کو بھی قیاس کرلیا جو ان کے حواس سے پرے اور اوہام سے باہر ہے۔ دوسرے یوں کہ ان کے اسلاف باوجودیکہ عاقل تھے اور ایک دو نہیں سینکڑوں تھے، سب شرک میں مبتلا تھے، پھر ان کے مقابلہ میں یہ ایک شخص کیونکر صادق ہوسکتا ہے، عجاب میں عجیب سے زیادہ مبالغہ ہے، جیسا کہ طوال میں طویل سے زیادہ مبالغہ ہے، اس طرح عریض و عراض و کبیر و کبار (2) نبوت کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ ان الفاظ میں نقل کرتا ہے۔ انزل علیہ الذکر من بیننا بل ھم فی شک من ذکری الخ یہ شبہ کئی ایک جگہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔ القی الذکر علیہ من بیننا بل ھو کذاب اشر یہ قوم صالح نے کہا تھا۔ ولو لا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم یہ حضرت کی نسبت کہا گیا۔
Top