Al-Qurtubi - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
4 ۔ 5:۔ ان جاء ھم میں ان محل نصب میں ہے اس کا معنی ہے من ان جاء ھم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا تعلق فی عزۃ فی شقاق کے ساتھ ہے تقدیر کلام یہ بنے گی فی عزۃ و شقاق و عجبوا اور کم اھلکنا جملہ معترضہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نہیں بلکہ یہاں سے کلام کا آغاز ہے یعنی ان کی جہالت میں سے یہ بات ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا۔ کافروں نے کہا : یہ جادو گر ہے یہ آراستہ کلام لاتا ہے جس کے ساتھ لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے جادو کے ذریعے والد اور اس کے بچے ‘ خاوند اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرتا ہے کذاب یعنی دعوی نبوب مییں جھوتا ہے۔ اجعل لا لھۃ الھا واحدا یہ دونوں مفعول ہیں یعنی اس نے بہت نے بہت سے معبوں کو ایک معبود بنا دیا ہے بےسک یہ تو عجیب و غریب چیز ہے سلمی نے عجاب پڑھا ہے عجاب ‘ عجاب اور عجب سب کا معنی ایک ہی ہے۔ خلیل نے عجیب اور عجاب میں فرق کیا ہے کہا عجیب ‘ عجب ہی ہے عجاب عجب کی حد کو تجاوز کرنا ہے۔ طویل جس میں طول ہو طوال اسے کہتے ہیں جس نے طول کی حد کو تجاوز کیا ہو۔ جوہر نے کہا : عجیب اس امر کو کہتے ہیں جس سے تعجب کا اظہار کیا جائے اسی طرح عجاب ضمہ کے ساتھ ہے عجاب جب شد کے ساتھ ہو تو وہ اس سے بڑھ کر ہے اسی طرح اعجوبہ ہے۔ مقاتل نے کہا : عجاب یہ از دشنوء کیلعت ہے۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ابو طالب مریض ہوئے (1) تو قریش ان کے پاس ائے اور نبی کریم ﷺ بھی تشریف لائے جب کہ ابو طالب کے سر کی طرف ایک آدی کی بیٹھنے کی جگہ تھی ابو جہل اپنی جگہ سے اٹھا تاکہ آپ ﷺ کو اس جگہ سے روکے قریش نے ابو طالب کے پاس رسول اللہ ﷺ کی شکایت کی ‘ ابو طالب نے کہا : اے بھتیجے ! تو اپنی قوم سے کیا چاہتا ہے ؟ فرمایا اے میرے چچا جان ! میں ان سے ایک کلمہ کہنے کی خواہش کرتا ہوں جس کے باعث تمام عرب ان کی اطاعت کریں گے اور انہیں جزیہ دیں گے “ پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا : لا الہ الا اللہ قریشن نے کہا : کیا اس نے تمام معبوں کو ایک معبود بنایا دیا تو ان کے بارے میں قریش نازل ہوا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب ؓ اسلام لے آئے تو قریش پر ان کا اسلام بڑا شاق گذرا تو قریش ابو طالب کی کدمت میں جمع ہوئے کہا : ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان فیصلہ کر دیجئے۔ ابو طالب نے نبی کریم ﷺ کو بلا بھیجا اور کہا۔ اے بھتیجے یہ تیری قوم مجھ سے انصاف کا تقاضا کرتی ہے اپنی قوم پر ظلم نہ کر۔ پوچھا وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں “ انہوں نے کہا : ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو اور ہمارے معبودوں کا ذکر چھوڑ دو ہم تجھے اور تیرے معبود کو چھوڑتے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم مجھے ایک کلمہ دیتے ہو جس کے باعث تم عربوں کے مالک بن جائو گے اور عجمی تمہاری اطاعت کریں گے “ ابو جہل نے کہا : تیرا بھلا ہو ہم تجھے وہ کلمہ اور دس اس جیسے کلمات دینے کو تیار ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہو : لا الہ الا اللہ وہ اس سے بدک گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا : کیا اس نے تمام خدائوں کو ایک خدا بنا دیا ہے اس تمام مخلوق کو ایک خدا کیسے پورا ہو سکتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق گذبت قبلھم قوم نوح تک آیات کو نازل فرمایا۔
Top