Tafseer-e-Majidi - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور یہ اس پر حیرت کررہے ہیں کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا انہیں میں سے آیا،5۔ اور (یہ) کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص ساحر ہے کذاب ہے،6۔
5۔ (کوئی فوق البشر نہیں، بلکہ انہیں جیسا بشر و انسان) مشرکوں کی سمجھ میں یہی تو نہیں آتا کہ ایک بشر مرتبہ رسالت پر کیسے پہنچ سکتا ہے، دیوتا پرستی ان کی سمجھ میں آجاتی ہے۔ اوتار، مظہریت، عینیت، حلول کے عقیدے عین ان کے مذاق طبیعت کے موافق ہیں۔ بس ایک نہ سمجھ میں آنے والی بات یہی مسئلہ سفارت الہی و رسالت ہے۔ بار بار اسی پر الجھتے تھے۔ ضمیر ھم جنس بشر کی جانب ہے۔ رسول من جنسھم اے بشرا (روح) یعنی استبعدوا ان یکون النبی من البشر (مدارک) 6۔” اس کے لائے ہوئے کلام میں اثر اور اس کے پیش کیے ہوئے معجزات تو نتیجہ ہیں، اس کے کمال ساحری کا اور اس کا دعوی نبوت و رسالت تمامتر بےبنیاد ہے “۔ جب نقطہ آغاز یہ ہوا کہ دعوائے نبوت صحیح ہو ہی نہیں سکتا، تو اب اس سے چارہ نہیں کہ مدعی نبوت کے وعظ وتبلیغ کے اثر کو سحر پر محمول کیا جائے، ساحر قرار دیتے ہوئے یہ احمق اتنا نہ سوچے کہ ساحر بھی کبھی دعوت توحید دیتا رہتا ہے ؟ تزکیہ اخلاق کی طرف بلاتا رہتا ہے ؟ عقائد صحیحہ و اعمال صالحہ کی تبلیغ کرتارہتا ہے ؟ بات کچھ نہ کچھ کہہ دینی ہی تھی، تو ایسی تو کہتے جو کچھ لگتی ہوئی ہوتی، یہ تشخیص تو سراسر الٹی اور بالکل ہی بےتکی تھی، امام رازی (رح) کہتے ہیں کہ آیت میں کام محض قالوا سے بھی نکل سکتا تھا، لیکن بجائے اس کے (آیت) ” قال الکفرون “۔ کی صراحت میں اشارہ ان لوگوں کی کمال بدعقلی کی طرف کرنا ہے کہ ایسے مہمل ولا یعنی قول کا مصدر ومنشا کفر محض ہی ہوسکتا ہے۔
Top