Anwar-ul-Bayan - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور ان لوگوں نے اس بات کا تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آگیا اور کافروں نے کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے بڑا جھوٹا ہے
(وَعَجِبُوْا اَنْ جَاءَ ھُمْ مُنْذِرٌ مِّنْہُمْ ) (اور انہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آگیا) اس میں ان کے لیے دو باتیں تعجب کی تھیں ایک تو یہ کہ انسان اللہ کا پیغمبر بن کر آیا ہے دوسرے یہ کہ ہمارے ہی اندر سے نبی بھیجا گیا ہے اگر ہمارے اندر سے اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیجنا تھا تو کوئی سردار آدمی ہوتا کما فی سورة الزخرف (لَوْلاَ نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ ) (وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سَاحِرٌ کَذَّابٌ) (اور کافروں نے کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے بڑا جھوٹا ہے) رسول اللہ ﷺ کے معجزات دیکھ کر انہوں نے یہ بات کہی تھی، کافروں نے یہ بھی کہا (اَجَعَلَ الْاٰلِہَۃَ اِِلٰہًا وَّاحِدًا) (کیا اس نے بہت سے معبودوں کو ایک ہی معبود بنا دیا) (اِِنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ) (بلاشبہ یہ بڑے تعجب کی بات ہے) چونکہ قریش مکہ اپنے باپ دادوں کو دیکھتے آئے تھے جو بہت سے معبود مانتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے اس لیے انہیں یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ صرف ایک ہی معبود کی عبادت کی جائے اور ایک معبود کے علاوہ سارے معبودوں کو باطل معبود قرار دے دیا جائے خیر کی بات رواج سے اٹھ جاتی ہے اور بری بات عام ہوجاتی ہے رواج میں جگہ پکڑ لیتی ہے تو اچھی بات سن کر جو خلاف رواج ہو تعجب ہونے لگتا ہے اسی لیے قریش مکہ کو توحید کی بات سن کر تعجب ہوا۔ )
Top