Dure-Mansoor - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور ان لوگوں نے بات پر تعجب کیا کہ انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آگیا، اور کافروں نے کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے بڑا جھوٹا ہے
:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلکہ وہ سردار ہیں اور یہ (آیت ) ” وانطلق الملامنھم “ تلاوت فرمائی۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانطلق الملامنھم “ (قریش کے سرداران ان میں سے یہ کہتے ہوئے چل دیئے فرمایا (یہ آیت) نازل ہوئی جب قریش کے سردار ابوطالب کی طرف چلے تاکہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں ان سے بات کریں۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانطلق الملامنھم “ سے مراد ہے ابوجہل۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانطلق الملامنھم ان امشوا واصبروا “۔ (کہ قریش کے سردارن ان میں سے یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ چلو اور اپنے معبودوں کی پوجا پر جمے رہو) اس سے عقبہ بن ابی معیط مراد ہے (آیت ) ” ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “ (یہ بات تو ہم نے اپنے پچھلے مذہب میں نہیں سنی) یعنی نصرانیوں سے اور انہوں نے کہا اگر یہ قرآن حق ہوتا تو ہم کو نصرانی اس بارے میں ضرور بتاتے۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے مذہب والوں سے (ہم نے نہیں سنا) ۔ 7:۔ عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “ یعنی نصاری والوں سے۔ 8:۔ فریا بی (رح) عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “ یعنی نصاری والوں سے۔ 9:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “ یعنی یہ بات نہ ہم نے اس دین میں اور نہ اس زمانے میں اس بارے میں سنا (آیت ) ” ان ھذا الا اختلاق “ (نہیں ہے مگر یہ من گھڑت ہے) اور انہوں نے کہا یہ ایسی چیز ہے جس کو وہ خود گھڑتے ہیں (آیت ) ” ام عندھم خزآئن رحمۃ رب العزیز الوھاب “ (کیا ان کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب ہے، عطا کرنے والا ہے) فرمایا نہیں اللہ کی قسم ان کے پاس اس میں سے کچھ بھی نہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ خاص کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے (آیت ) ” ام لھم ملک السموت والارض وما بینھما فلیرتقوا فی الاسباب “ (کیا ان کو آسمانوں کا اور اس کا یا ان دونوں کی درمیانی کائنات کا مکمل اختیار ہے تو ان کو چاہئے کہ سیڑھیاں لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں) یعنی آسمان میں (چڑھ جائیں) 10:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلیرتقوا فی الاسباب “ یعنی وہ چڑھ جائیں آسمان میں۔ 11:۔ ابن جریر (رح) نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاسباب “ سے مراد ہے بال سے زیادہ باریک اور لوہے سے زیادہ مضبوط اور وہ ہر جگہ ہے (لیکن) اسے دیکھا نہیں جاتا۔ 12:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلیرتقوا فی الاسباب “ کہ آسمان کے راستوں سے اس کے دروازے مراد ہیں (آیت ) ” جند ماھنالک “ (وہ یہاں ایک لشکر ہے) یعنی قریش کا (آیت ) ” من الاحزاب “ میں احزاب سے مراد ہے سابقہ قومیں۔ مشرکین کا لشکر بدر میں شکت کھا گیا : 13:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جند ما ھنالک مھزوم من الاحزاب “ (یعنی وہاں ان کے لشکر شکست پائیں گے) یعنی مکہ میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ مشرکین کے لشکر شکست کھائیں گے اس کی تاویل بدر کے دن آئی (آیت ) ” و فرعون ذوالاوتاد “ (اور فرعون میخوں والا) یعنی اس کی میخیں اور رسیاں تھیں اور کھیل والے ساتھ تھے کہ ان پر اس کے لئے کھیلتے (آیت ) ” ان کل الا کذب الرسل فحق عقاب “ (یعنی ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا سو یرا عذاب ان پر واقع ہوگیا) یعنی ان سارے لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر واقع ہوگیا۔ (آیت ) ” وما ینظر ھولآء “ (اور یہ لوگ منتظر ہیں) یعنی محمد ﷺ کی امت (انتظار میں ہے) (آیت ) ” الا صیحۃ واحدۃ “ (صرف ایک چیخ کے) یعنی قیامت کے (آیت) ” مالھا من فواق “ (جس میں دم لینے کی گنجائش نہ ہوگی) یعنی اس کے لوٹنے اور پلٹنے کی کوئی صورت نہیں (آیت ) ” وقالوا ربنا عجل لنا قطنا “ (اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب ہمارا صحیفہ ہم کو جلد دنیا ہی میں دیجئے یعنی ہمارا حصہ عذاب میں سے (ہم کو جلدی دیجئے) (آیت ) ”’ قبل یوم الحساب “ یعنی قیامت کے دن (سے پہلے) یہ ابوجھل نے کہا تھا : اے اللہ ! جو محمد کہتے ہیں اگر وہ حق ہے (آیت ) ” فامطرعلینا حجارۃ من السمآء اوائتنا بعذاب الیم (32) (الانفال آیت 32) (توہم پر آسمان سے پتھر برسا دیجئے یا ہمارے پاس دردناک عذاب لے آئے ) ۔ 14:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مالھا من فواق “ کہ اس سے لوٹنا نہیں ہوگا (جب اللہ کا عذاب آئے گا) (آیت ) ” وقالوا ربنا عجل لنا قطنا “ یعنی ہمارے لئے عذاب کی جلدی کیجئے۔ 15:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالھا من فواق “ یعنی اس سے لوٹنا نہیں ہوگا (آیت ) ” وقالوا ربنا عجل لنا قطنا “ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کے لئے (عذاب میں) جلدی کی جائے۔ 16:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس قول (آیت ) ” عجل لنا قطنا “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا ” القط “ سے مراد ہے بدلہ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا : ہاں ! کیا تو نے اعشی کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا : ولا الملک النعمان یوم لقیتہ بنعمۃ یعطینی القطوط ویطلق : ترجمہ : اور جس دن میں بادشاہ نعمان سے ملاقات کرتا ہوں وہ نعمت کے بدلے میں حزائن نہیں دیتا اور نہ چھوڑتا ہے۔ 17:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عجل لنا قطنا “ سے مراد ہے ہماری سزا۔ 18:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عجل لنا قطنا “ ہمارا اعمال نامہ (ہم کو جلدی دیجئے ) 19:۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عجل لنا قطنا “ سے مراد ہے ہمارا حصہ۔ 20:۔ عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقالوا ربنا عجل لنا قطنا “ سے مراد ہے نفرین حرث بن علقمہ بن کا لۃ جو بنوعبد اللہ سے تعلق رکھتا تھا اس نے کہا (آیت ) ” سال سآئل بعذاب واقع “ (المعارج آیت 1) یعنی اس نے عذاب کا سوال کیا جو ان پر واقع ہونے والا تھا اور اس نے یہ بات بھی کی تھی (آیت ) ” اللہم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوائتنا بعذاب الیم (32) ۔ اے اللہ اگر یہ حق ہے تیری طرف سے ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا دے یا ہمارے پاس درد ناک عذاب لے آ) عطا (رح) سے روایت کیا کہ اس بارے میں دس آیات نازل ہوئیں اللہ کی کتاب میں۔ 21:۔ ابن ابی حاتم نے الزبیر بن عدی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عجل لنا قطنا “ یعنی جنت میں سے ہمارا حصہ (ہم کو جلد عطا فرمائیے )
Top