Jawahir-ul-Quran - At-Tahrim : 13
وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا
وَّ : اور اَخْذِهِمُ : ان کا لینا الرِّبٰوا : سود وَ : حالانکہ قَدْ نُھُوْا : وہ روک دئیے گئے تھے عَنْهُ : اس سے وَاَ كْلِهِمْ : اور ان کا کھانا اَمْوَالَ : مال (جمع) النَّاسِ : لوگ بِالْبَاطِلِ : ناحق وَاَعْتَدْنَا : اور ہم نے تیار کیا لِلْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے لیے مِنْهُمْ : ان میں سے عَذَابًا : عذاب اَلِيْمًا : دردناک
اور ہم نے نہیں بنایا آسمان اور زمین26 کو اور جو ان کے بیچ میں ہے نکما یہ خیال ہے کہ ان کو جو منکر ہیں سو خرابی ہے منکروں کے لیے آگ سے
26:۔ وما خلقنا الخ : یہ عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کو اور ساری کائنات کو ہم نے یوں ہی بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ بلکہ یہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے تفرد بالالوہیت پر دلالت کرتی ہے۔ کائنات کے نظم و نسق کو برقرار رکھنا اور نہایت ہی حکیمانہ تدبیر سے نظام کائنات کو چلانا معبود برحق کے سوا کسی اور کا کام نہیں۔ وہ جو کچھ کرتا ہے اپنے ارادے سے کرتا ہے۔ اس لیے کوئی ایسا شفیع غالب نہیں جو اس کے کاموں میں دخل دے سکے۔ کافروں کا یہ گمان کہ یہ کارخانہ کائنات محض بےمقصد ہے۔ یا یہ کہ ان کے معبودانِ باطلہ خدا کے کاموں میں دخل دے سکتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں شفیع غالب ہیں، سراسر باطل ہے۔ فویل للذین کفروا الخ، یہ ایسے کافروں کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Top