Madarik-ut-Tanzil - Saad : 27
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ : اور مَا خَلَقْنَا : نہیں پیدا کیا ہم نے السَّمَآءَ : اور زمین وَالْاَرْضَ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان کے درمیان بَاطِلًا ۭ : باطل ذٰلِكَ : یہ ظَنُّ : گمان الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ : جن لوگوں نے کفر کیا فَوَيْلٌ : پس خرابی ہے لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر) مِنَ : سے النَّارِ : آگ
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات اس میں ہے اسکو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا یہ انکا گمان ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے
27: وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآ ئَ وَالْاَرْضَ وَمَابَیْنَھُمَا (اور ہم نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہے نہیں پیدا کیا) مابینؔ سے مراد جو مخلوق ان کے درمیان ہے۔ بَاطِلاً (خالی ازحکمت) فضول تخلیق جس میں کوئی اہم حکمت نہ ہو یا بیکار کھیل تماشے کیلئے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا وما خلقنا السماء والارض وما بینہما لاعبین ] الانبیاء : 16 [ تقدیر کلام یہ ہے۔ ذوی باطل یا عبثا پھر باطل کو اس کے قائم مقام لائے ای ما خلقناھما وما بینھما للعبث واللعب ولکن للحق المتین یعنی ہم نے دونوں کو اور جو ان کے مابین ہے کھیل کود کیلئے نہیں بنایا۔ لیکن مضبوط حق کیلئے بنایا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ہم نے انسانوں کو پیدا کر کے ان میں عقل رکھی اور سنجیدگی اور وقار دیا۔ اس کے اسباب و علل کی وضاحت کی پھر مکلف بنا کر بیشمار منافع پر نفوس کو پیش کردیا۔ اور ان نفوس کیلئے اعمال کے مطابق جزاء اور انجام بنایا ذٰلِکَ (یہ) اس سے باطل تخلیق والی بات کی طرف اشارہ ہے۔ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (ان لوگوں کا خیال ہے جو کافر ہیں) الظنؔ کا معنی مظنون ہے یعنی کہ اس کی تخلیق عبث ہے بتقاضائے حکمت نہیں یہ کافروں کا خیال ہے۔ نکتہ : اس آیت میں ان کو ظانین قرار دیا کہ ان کی تخلیق عبث ہے حکمت کی بناء پر نہیں حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین اور جو ان کے مابین ہے اس کا خالق مانتے تھے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ ولئن سالتھم من خلق السمٰوٰت والارض لیقولن اللّٰہ ] لقمان : 25[ کیونکہ جب وہ بعث، حساب، ثواب و عقاب کے منکر ہیں اور اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہر چیز کی تخلیق عبث و باطل ہے۔ ان کو اس طرح قرار دیا گیا گویا کہ وہ اس کا گمان کرتے اور زبانوں سے کہتے ہیں کیونکہ بدلہ ہی وہ چیز ہے جس کی طرف تخلیق کائنات میں حکمت لے جاتی ہے پس جو جزاء کا منکر ہوا تو وہ گویا تخلیق عالم کی حکمت ہی کا منکرہوگیا۔ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنَ النَّارِ (پس کافروں کیلئے بڑی خرابی ہے یعنی دوزخ ) ۔
Top