Tafseer-e-Mazhari - Saad : 27
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ : اور مَا خَلَقْنَا : نہیں پیدا کیا ہم نے السَّمَآءَ : اور زمین وَالْاَرْضَ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان کے درمیان بَاطِلًا ۭ : باطل ذٰلِكَ : یہ ظَنُّ : گمان الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ : جن لوگوں نے کفر کیا فَوَيْلٌ : پس خرابی ہے لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر) مِنَ : سے النَّارِ : آگ
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات ان میں ہے اس کو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا۔ یہ ان کا گمان ہے جو کافر ہیں۔ سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے
وما خلقنا السماء والارض وما بینھما باطلا اور ہم نے آسمان و زمین کو اور دونوں کے درمیان کی کائنات کو خالی از حکمت نہیں پیدا کیا۔ بَاطِلاً خالی از مصلحت و حکمت ‘ یا بیکار محض کھیل کے طور پر ‘ یا باطل سے مراد ہے : اتباع خواہشات جو حق کے مقابل ہے۔ اس ساری کائنات سے خالق کا وجود پر استدلال اور اس کے احکام کی تعمیل کی صورت میں اس کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا حق ہے اور خواہشات نفس کا اتباع باطل ہے (پس اس کائنات کو اللہ نے اسلئے نہیں پیدا کیا کہ انسان اپنے نفس کے میلان و خواہش کا بندہ بن جائے ‘ نہ خالق کے وجود کو مانے نہ اس کے اوامرو نواہی کی پابندی کرے (بلکہ خواہش پرست بنا رہے) ۔ ذلک ظن الذین کفروا فویل للذین کفورا من النار یہ (کائنات کا خالی از حکمت ہونا) ان لوگوں کا خیال ہے جو کافر ہیں۔ سو (آخرت میں) کافروں کیلئے بڑی خرابی ہے ‘ یعنی دوزخ۔ کیونکہ ایسے لوگ قیامت کے منکر ہیں ‘ خالق کے فرمانبرداروں کے ثواب اور نافرمانوں کے عذاب کو نہیں مانتے اور اس انکار کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اس کائنات کی تخلیق کو خالی از حکمت قرار دیتے ہیں۔ فَوَیْلٌ پس بڑا عذاب ہے۔ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اس فقرہ میں کفروا کی دوبارہ صراحت کافروں کی مذمت اور برائی کو ظاہر کرنے کیلئے کی گئی۔ مِنَ النَّار میں مِن سببیہ ہے۔
Top