Kashf-ur-Rahman - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور بلا شبہ ہم نے سلیمان کو امتحان میں مبتلا کیا اور ہم نے اس کے تخت پر ایک ناقص المخلقت دھڑلاڈالا۔
(34) اور یقینا ہم نے سلیمان کو امتحان اور آزمائش میں مبتلا کیا اور ہم نے اس کے تخت پر ایک ناقص الخلقت دھڑلاڈالا۔ پھر سلیمان نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں رجوع کیا۔ واقعہ یہ ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ماتحت امراء اور سرداروں سے ان کی بعض کوتاہیوں کے سلسلے میں منغص اور ناراض ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ میں آج کی رات اپنی ستریا سو بیویوں سے ہم بستر ہوں گا اور ہر ایک بیوی سے ایک ایک لڑکا پیدا ہوگا تو ان کو جہاد میں استعمال کیا جائے گا۔ اس موقعہ پر فرشتے نے قلب میں السقا کیا کہ انشاء اللہ کہہ لیجئے مگر سلیمان کو خیال نہ رہا اور زبان سے انشاء اللہ نہ کہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ایک بیوی کے ہاں کچا بچہ پیدا ہوا اور قابلہ نے اس کچے بچے کو سلیمان کے تخت پر لاکر رکھ دیا۔ چناچہ اس پر حضرت سلیمان نادم ہوئے کہ کسی بیوی کو حمل قرارنہ ہوا اور جس کو ہوا اس کے ہاں بھی ناقص الخلقت اور کچا بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس پر حضرت حق کی جناب میں رجوع کیا اور مغفرت طلب کی نبی کریم ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتا تو اس کی تمام بیویوں کے ہاں لڑکے پیدا ہوتے جو جوان ہوکر گھوڑوں پر چڑھ کر جہاد کرتے۔ یہ ایک طبعی امر تھا کہ جب کوئی بڑا آدمی اپنے ملازموں اور اپنے امراء کی غیر وفادارانہ روش سے ناراض ہوتا ہے تو اس کو اپنی اولاد کا خیال آتا ہے کہ اگر اولاد ہو تو وہ میری خیر خواہ اور حکومت کی وفادار ہو۔ چناچہ اسی ہی خیال کی بنا پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ خواہش کی کہ جب گھر کے جہاد کرنے والے ہوں گے تو پھر کسی سردار کی کوتاہی اور غیروفادارانہ روش کا اندیشہ نہ رہے گا۔ لیکن انشاء اللہ تعالیٰ سہوآنہ کہنے کی بنا پر صورت حال بدل گئی اور اللہ تعالیٰ کے روبرو رجوع کرنے لگے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Top