Mazhar-ul-Quran - Saad : 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ : کیا نازل کیا گیا عَلَيْهِ : اس پر الذِّكْرُ : ذکر (کلام) مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ : ہم میں سے بَلْ : بلکہ هُمْ : وہ فِيْ شَكٍّ : شک میں مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ : میری نصیحت سے بَلْ : بلکہ لَّمَّا : نہیں يَذُوْقُوْا : چکھا انہوں نے عَذَابِ : میرا عذاب
کیا ہم سب1، میں سے اسی شخص (یعنی محمد ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا ، بلکہ کافر میری نصیحت کی طرف سے ش کے میں ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا
خدا پر اعتراض کرنا۔ (ف 1) قرآن شریف کو جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف میں اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ ، عروہ بن مسعود ایسے مالدار شخص پر نازل ہوتا، یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا، کیا سارے جہان میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا، جس پر اپنا کلام نازل کرتا، اس کا جواب اللہ نے یہ دیا بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکالگا ہوا ہے وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جارہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ نہیں چکھا۔ جس وقت خدائی مار پڑے گی تمام شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے ، پھر فرمایا کہ اللہ کی رحمت کے خزانے اور آسمان و زمین کی حکومت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہ زبردست اور بڑی بخشش والا ہے۔ جس پر جو انعام چاہے کرے کون روک سکتا ہے یا نکتہ چینی کرسکتا ہے۔ اگر وہ کسی بشر کو منصب نبوت و رسالت پر سرفرا زفرماتا ہے تو تم دخل دینے والے کون ہو کہ صاحب اس پر یہ مہربانی فرمائی ہم پر نہ فرمائی، کیا رحمت کے خزانوں اور زمین وآسمان کی حکومت کے تم مالک ومختار ہو جو اس قسم کے لغو اعتراضات کرتے ہو، اگر ہو تو اپنے تمام اسباب وسائل کا کام میں لے آؤ، اور رسیاں تان کر آسمان پر چڑھ جاؤ، تاکہ وہاں سے محمد ﷺ پر وحی آنا بند کردو، اور علویات پر قابض ہوکر اپنی مرضی ومنشاء کے موافق آسمان و زمین کے انتظام وتدبیر کا کام انجام دے سکو، اگر تنا نہیں کرسکتے تو آسمان و زمین کی حکومت اور خزائن رحمت کی ملکیت کا دعوی عبث ہے پھر خدائی انتظامات میں دخل دینا بجز بےحیائی یا جنون کے اور کیا ہوگا، فرمایا جس طرح ان سے پہلے لوگ قوم نوح (علیہ السلام) سے لے کر فرعون تک بڑی بڑی طاقتور قومیں بھی رسولوں کو جھٹلاکر سزا سے نہ بچ سکیں ایک دن یہی حال ان کا ہونے والا ہے اور پھر دوسرے صور کی آواز سے ان کو دوبارہ زندہ کرکے انکی بداعمالی کی پوری سز ان کو دی جائے گی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر فرعون تک بڑی بڑی طاقت ور قومیں بھی رسولوں کو جھٹلا کر سزا سے نہ بچ سکیں ، ایکدن یہی حال ان کا ہونے والا ہے اور پھر دوسرے صور کی آواز سے ان کو دوبارہ زندہ کرکے ان کی بداعمالی کی پوری سزا ان کو دی جائے گی۔
Top