Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Saad : 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ
: کیا نازل کیا گیا
عَلَيْهِ
: اس پر
الذِّكْرُ
: ذکر (کلام)
مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ
: ہم میں سے
بَلْ
: بلکہ
هُمْ
: وہ
فِيْ شَكٍّ
: شک میں
مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ
: میری نصیحت سے
بَلْ
: بلکہ
لَّمَّا
: نہیں
يَذُوْقُوْا
: چکھا انہوں نے
عَذَابِ
: میرا عذاب
کیا اتاری گئی ہے اس پر نصیحت ہم سب کے درمیان سے ؟ بلکہ وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں میری نصیحت سے ، بلکہ انہوں نے ابھی چکھا نہیں عذاب کا مزا ۔
ربط آیات : گذشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا جب اللہ نے نبی نے ان کو کفر اور شرک سے منع کرکے توحید کا درس دیا تو انہوں نے انکار کردیا اور تعجب کرنے لگے کہ کہا کہ کیا ہم بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود پر اکتفا کرلیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر وہ اس مجلس سے اٹھ کھڑے ہونے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس شخص کی دعوت خود غرضی پر مشتمل ہے لہذا اس کی بات نہ ماننا اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہنا کہنے لگے یہ اس شخص کی من گھڑت بات ہے جو ہم نے پہلے کبھی کسی سے نہیں سنی (رسالت پر اعتراض) گذشتہ درس میں مشرکین کی طرف سے توحید کے انکار کا بیان تھا اب آج کی آیات میں رسالت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعید کا ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ کیا ہم میں سے صرف اس شخص (محمد ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نصیحت یعنی قرآن پاک اتارا گیا ہے ؟ کیا اللہ کو محمد ﷺ کے علاوہ رسالت کا اور کوئی حقدار نہیں ملا تھا جس پر قرآن نازل کیا جاتا ؟ کہنے لگے کہ ہم تو اس کو نبی اور رسول تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں (آیت) ” قالوا لوشآء ربنا لانزل ملئکۃ “۔ (حم السجدۃ : 14) کہنے لگے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم پر کوئی فرشتہ نازل کردیتا تو ہم مان بھی لیتے ہم اپنے میں سے ایک شخص کی باتیں کیسے تسلیم کرلیں ، سورة القمر میں ہے (آیت) ” فقالوا ابشرا منا واحدا نتبعہ انا اذا الفی ضلل وسعر “۔ (آیت ، 24) کہنے لگے ، بھلا ہم اپنے میں سے ایک شخص کی پیروی کریں ، یوں تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے ، غرضیکہ وہ لوگ انسان کے رسول ہونے پر تعجب کرتے تھے جیسا کہ اس سورة کی ابتداء میں بھی گزر چکا ہے (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر منھم “۔ (ص ، 4) کتنی عجیب بات ہے کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا آجائے ، اللہ نے فرمایا ، حقیقت یہ ہے (آیت) ” بل ھم فی شک من ذکری “ کہ یہ لوگ میری نصیحت (قرآن) کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں ان کو تردد ہے کہ اللہ نے انسانوں میں بعض ہسیتوں کو منتخب فرما کر ان پر اپنا کلام نازل کیا ہے اور ان کو منذر اور مبشر بنایا ہے ، فرمایا اصل بات یہ ہے (آیت) ” بل لما یذوقوا عذاب “۔ کہ انہوں نے ابھی سزا کا مزا چکھا ہی نہیں جب ان پر عذاب آئے گا تو پتہ چلے گا کہ نبوت و رسالت اور نصیحت کا کس طرح انکار کیا جاتا ہے اور اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے ۔ فرمایا کہ یہ لوگ نزول قرآن کا انکار کس بنا پر کرتے ہیں (آیت) ” ام عندھم خزآئن رحمۃ ربک العزیز الوھاب “۔ کیا ان کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو کہ کمال قدرت کا مالک اور بخشش کرنے والا ہے ؟ کیا یہ اللہ کی رحمت کے خزانے خود تقسیم کرکے جس کو چاہیں رسول بنا دیں گے (آیت) ” ام لھم ملک السموت والارض وما بینھما “ یا ان کے پاس زمین وآسمان اور ان کے درمیان کی بادشاہی ہے کہ اس بادشاہی کے تحت حاصل شدہ اختیارات سے وہ جس کو چاہیں نبی بنا دیں اور جس پر چاہیں نصیحت اتار دیں یا پھر جس کے متعلق چاہیں اسے نبی بننے اور کتاب لانے سے روک دیں آخر ان کے پاس کون سے اختیارات ہیں جن کی بناء پر یہ لوگ اللہ کے بھیجے ہوئے نبی اور اس پر نازل شدہ نصیحت کا انکار کر رہے ہیں ؟ فرمایا یہ سب ان کے تعصب ، عناد اور ضد کا نتیجہ ہے وگرنہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ، اور اگر ان کو کوئی اختیار حاصل ہے (آیت) ” فلیرتقوا فی الاسباب “۔ تو اپنے تمام ذرائع کو بروئے کار لا کر آسمان پر چڑھ جائیں ، رسیاں تان لیں ، یا کسی اور ذریعے سے آسمان تک رسائی حاصل کریں اور پھر حضور ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کو روک دیں ، فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس کچھ نہیں اور ان کا انکار بلادیس اور محض ہٹ دھرمی کا مظہر ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا دراصل (آیت) ” جند ماھنالک مھزوم من الاحزاب یہ بھی یہاں ایک لشکر ہے ان لشکروں اور گروہوں میں سے جن کو شکست دی جائیگی ، اللہ کی وحدانیت ، اس کے رسول کی رسالت اور کتاب کا انکار کرنے والوں کا یہ ایک گروہ ہے جو ڈینگیں مار رہا ہے عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ان کو شکست ہوگی اور اللہ کا دین غالب آجائیگا حقیقت میں یہ ایک شکست خوردہ پارٹی ہے جسے جلد ہی اپنی حیثیت کا پتہ چل جائے گا ۔ (سرکش اقوام) فرمایا کفار مکہ وعرب کوئی نئی سرکش قوم اور جماعت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے باغی ہمیشہ سے چلے آرہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کے مناسب حال ہی سلوک کرتا رہا ہے دیکھو (آیت) ” کذبت قبلھم قوم نوح وعاد “۔ اس سے پہلے قوم نوح اور قوم عاد بھی اللہ تعالیٰکے رسولوں کو جھٹلا چکی ہے ان اقوام کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بیشتر سورتوں میں کیا ہے جنہوں نے غرور وتکبر کیا اپنی قوت پر ناز کا ، رسولوں کو جھٹلایا اور ان کو اذیتیں پہنچائیں تو اللہ نے ان کو صفحہ ہستی سے ناپید کردیا (آیت) ” وفرعون ذوالاتاد “۔ اور میخوں والے فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ساری قوم کو بحیرہ قلزم میں غرق کردیا ، میخوں والے سے مراد یہ ہے کہ فرعون کے پاس نہایت اعلی قسم کا قیمتی سازوسامان تھا حتی کہ اس کے خیموں کی میخیں اور گھوڑوں کی نعلیں بھی سونے کی بنی ہوئی تھیں بعض فرماتے ہیں کہ فرعون کو میخوں والا اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ظالم تھا اور جس کو سخت سزا دینا مطلوب ہوتا تھا اس کے ہاتھ اور پاؤں میں چار میخیں ٹھونک کہ وحشیانہ طریقے سے ہلاک کرتا تھا ۔ فرمایا (آیت) ” وثمود “ اور قوم ثمود کا عبرت ناک حال بھی قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں بیان ہوا ، انہوں نے اپنے رسول کا انکار کیا اور اس کو اذیت پہنچائی (آیت) ” وقوم لوط “ اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی پڑھ لیں ، ان میں ہم جنسیت کی بدترین خصلت پائی جاتی تھی ، وہ لوگ اللہ کے نبی سے ٹھٹا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ تم بڑے پاکباز بنے پھرتے ہو ، ہماری بستی سے نکل جاؤ یہ ایسے بدطینت لوگ تھے کہ اپنی مجالس میں کھلے بندوں بندوں برائیوں اور بےحیائیوں کا ارتکاب کرتے اور پھر اس پر فخر کرتے تھے ، اللہ نے سزا کے طور پر انکی بسیتاں ہی الٹ دیں اور پھر اوپر سے پتھروں کی بارش کی وجہ سے ایک بھی نافرمان زندہ نہ بچا ۔ فرمایا (آیت) ” واصحب الئیکۃ “۔ اور ایکہ والوں پر بھی ایک نظر عبرت ڈال لیں ، ان کی طرف اور اہل مدین کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا ، یہ لوگ جنگل میں ایک بستی میں آباد تھے جو کہ ایک کھلے راستے پر واقع تھی ، انہوں نے بھی اللہ کے نبی کی تکذیب کی اور پھر انتقام خداوندی کا نشانہ بنے بعض فرماتے ہیں کہ اہل مدین اور ایکہ والے دو مختلف قومیں تھیں جن کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور بعض کہتے ہیں کہ دونوں گروہ ایک قوم تھے ، فرق صرف یہ ہے کہ مدین والے شہر میں آباد تھے جب کہ اصحاب ایکہ جنگل میں رہتے تھے جس سے وہ خوب فائدہ اٹھاتے تھے ۔ فرمایا (آیت) ” اولئک الاحزاب “ یہی بڑے بڑے گروہ تھے (آیت) ” ان کل الا کذب الرسل “۔ ان سب نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا ، ان پر بیہودہ الزامات لگائے اور ان کو طرح طرح کی تکلیف پہنچائیں (آیت) ” فحق عقاب “ پس میری طرف سے ان پر عذاب ثابت ہوگیا ، انہوں نے خدا کی توحید کا انکار کر کے رسولوں کی تکذیب کرکے اپنے آپ پر عذاب کو واجب کرلیا پھر اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی اور یہ سب لوگ صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے ، اس سے اہل مکہ کو سمجھانا مقصود ہے کہ وہ کس بات پر اپنے رسول کا انکار کر رہے ہیں کیا انہوں نے مذکورہ پہلی قوموں کا حال نہیں دیکھا ؟ وہ تجارتی سفر میں ان اقوام کی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈرات پر سے صبح وشام گزرتے ہیں مگر ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے ، وہ تو بڑی طاقت کے مالک تھے ان کے پاس بڑا مال و دولت تھا ۔ (آیت) ” وما بلغوا معشار ما اتینھم “۔ (سبا ، 45) ان کو تو پرانے لوگوں کا عشر عشیر بھی نہیں دیا گیا پھر یہ کس گھمنڈ میں تکذیب رسالت کر رہے ہیں ، قرآن کا انکار کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک نہیں مانتے بلکہ سراپا شرک اور کفر میں ملوث ہیں ، جب اتنی اتنی بڑی قومیں عذاب الہی میں مبتلا ہو کر نابود ہوگئیں تو یہ کس کھیت کی مولی ہیں جو اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان کو ابھی سے سوچ لینا چاہئے ، وگرنہ جب خدا تعالیٰ کا عذاب آجاتا ہے تو پھر کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکتا ۔ (اچانک عذاب کا انکار) فرمایا اب ان کفار ومشرکین کی حالت یہ ہوچکی ہے (آیت) ” وما ینظر ھؤلاء الا صیحۃ واحدۃ “۔ اور یہ لوگ نہیں انتظار کرتے مگر ایک ہی چیخ کا جو آکر ان کا کام تمام کر دے ، قوم شعیب پر ایک چیخ ہی تو آئی تھی جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ مکہ کے کافر بھی کسی ایسی ہی ایک چیخ کے منتظر ہیں جو ان کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دے ، فرمایا کیا یہ ایسی چیخ چاہتے ہیں (آیت) ” مالھا من فواق “۔ کہ جس کے لیے کوئی وقفہ بھی نہیں ہوگا ، دراصل فواق عربی میں اس وقفہ کو کہتے ہیں جو اونٹنی کے دودھ دوہنے کے درمیان کیا جاتا ہے کچھ دودھ دوھ کر رک جاتے ہیں تاکہ مزید دودھ تھنوں میں اتر آئے تو اس کو بھی نکال لیا جائے مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کا عذاب آئے گا تو پھر اس میں اتنا وقفہ بھی نہیں دیا جائے گا بلکہ وہ اچانک ہی آجائے گا اور ان کی تمام تدابیر دھری کی دھری رہ جائینگی ، قیامت کے متعلق بھی اللہ کا فرمان ہے کہ وہ اچانک آئے گی سورة الاعراف میں فرمایا کہ قیامت کے برپا ہونے کا وقت صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے (آیت) ” لاتاتیکم الا بغتہ “۔ (آیت ۔ 187) مگر وہ اچانک ہی آجائے گی اور کسی کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملے گا تو فرمایا کیا یہ کفار ومشرکین بھی کسی اچانک وارد ہونے والی چیز کے منتظر ہیں جو آکر ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دے اور جس کے لیے کوئی وقفہ بھی نہ ہو ؟ (حصول حصہ میں جلد بازی) فرمایا ان لوگوں کی بدبختی ملاحظہ کریں (آیت) ” وقالوا ربنا رجل لنا قطنا قبل یوم الحساب “۔ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! جلدی کر دے ہمارے لیے حساب کے دن سے پہلے ہی یعنی ہمیں جو کچھ دینا ہے وہ اسی دنیا میں دے دے ہم قیامت کے دن کا انتظار نہیں کرسکتے دراصل کفار ومشرکین یہ مطالبہ تمسخر کی بنا پر کرتے تھے ، اللہ کا نبی ڈراتا تھا کہ کفر وشرک اور معاصی سے باز آجاؤ ورنہ قیامت والے دن عذاب میں پکڑے جاؤ گے اور پھر تمہارا کوئی عذر قابل سماعت نہیں ہوگا ، اس پر وہ کہتے کہ تم اپنے لیے جنت کی آمید رکھتے ہو اور دوزخ کے عذاب سے ڈراتے ہو ، اگر ایسا کوئی وقت آنے والا ہے ، قیامت برپا ہو کر حساب کتاب کی منزل آنی ہے اور پھر جزا اور سزا کا فیصلہ ہونا ہے تو ہم اتنی دیر انتظار نہیں کرسکتے ، اے پروردگار ! ہمیں ثواب یا عذاب میں سے جو بھی دینا ہے اسی دنیا میں دے دے تاکہ ہم دیکھ لیں کہ وہ کیسا عذاب ہے جس سے یہ پیغمبر ہمیں خوفزدہ کر رہا ہے اس کے بعد اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو مشرکین کی ان مکروہ باتوں پر صبر کی تلقین کی ہے اور تسلی دی ہے کہ آپ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ دیکھیں کہ ان مکذبین کا کیا انجام ہوتا ہے ۔
Top