Tafseer-e-Mazhari - Saad : 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ : کیا نازل کیا گیا عَلَيْهِ : اس پر الذِّكْرُ : ذکر (کلام) مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ : ہم میں سے بَلْ : بلکہ هُمْ : وہ فِيْ شَكٍّ : شک میں مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ : میری نصیحت سے بَلْ : بلکہ لَّمَّا : نہیں يَذُوْقُوْا : چکھا انہوں نے عَذَابِ : میرا عذاب
کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اُتری ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں۔ بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا
ء انزل علیہ الذکر من بیننا کیا ہم سب میں سے اس پر یہ نصیحت نامہ (یعنی قرآن) اتارا گیا ؟ یعنی یہ شخص نہ تو ہمارا بزرگ اور شیخ ہے ‘ نہ مال و عزت میں ہم سے زائد ہے ‘ پھر اس پر نزول قرآن ہوا ؟ یہ عجیب بات ہے ‘ ہم نہیں مان سکتے۔ بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب بلکہ یہ لوگ خود میری وحی کی طرف سے شک (یعنی انکار) میں ہیں ‘ بلکہ (اصل وجہ یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ یعنی قرآن کی طرف سے ان کو شک ہے ‘ کیونکہ قرآن لانے ولے کو یہ جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ بَلْ کا لفظ انکار سے اعراض اور شک کے اثبات کو ظاہر کر رہا ہے ‘ کیونکہ وہ لوگ تقلید اسلاف کی طرف جھکے ہوئے اور یقینی دلائل سے روگرداں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسی یقینی دلیل نہیں ہے کہ جس سے وہ رسول اللہ ﷺ کا ساحر اور کذاب ہونا ثابت کرسکیں۔ بَلْ لَّمَّایَذُوْقُوْا بلکہ انہوں نے ابھی عذاب کا مزہ نہیں چکھا ‘ اگر چکھ لیتے تو ایسی بات نہ کہتے۔ لیکن عنقریب عذاب کا مزہ چکھ لیں گے اس وقت ان کا شک دور ہوجائے گا ‘ مگر بےفائدہ۔ اس جملہ میں بَلْ کا لفظ دو باتیں بتارہا ہے : (1) شک سے اعراض (2) قرآن کی حقانیت کی نفی کا اعتقاد اور یقین۔ اثبات شک کی بنیاد تو یہ ہے کہ کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور یقینی انکار کی بنیاد محض ان کی ضد ‘ ہٹ اور جہل مرکب ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک بَلْ دونوں جملوں میں ابتدائیہ ہے ‘ اضراب و اعراض کیلئے نہیں ہے۔ پہلا جملہ کافروں کے کلام کا جواب ہے اور دوسرا جملہ پہلے جملہ کی تاکید ہے۔
Top