Tafseer-e-Majidi - Saad : 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ : کیا نازل کیا گیا عَلَيْهِ : اس پر الذِّكْرُ : ذکر (کلام) مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ : ہم میں سے بَلْ : بلکہ هُمْ : وہ فِيْ شَكٍّ : شک میں مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ : میری نصیحت سے بَلْ : بلکہ لَّمَّا : نہیں يَذُوْقُوْا : چکھا انہوں نے عَذَابِ : میرا عذاب
تو کیا ہم سب میں سے بس اسی شخص پر کلام الہی نازل کیا گیا،10۔ اصل یہ ہے کہ یہ لوگ میری وحی ہی کی طرف سے شک میں پڑے، اصل یہ ہے کہ انہوں نے میرا عذاب اب تک نہیں چکھا ہے،11۔
10۔ یعنی بالفرض نبوت یا پیغمبری کی کچھ اصلیت ہوتی بھی، تو پیغمبری ہمارے ہاں کے رؤسا وامراء کے ہوتے ہوئے آخر یتیم ونادار شخص کو کیوں ملی ! اہل لطائف نے کہا ہے کہ منشاء اس قول کا کبر تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کبرایسی بری چیز ہے جو کبھی کفر تک بھی پہنچا دیتی ہے۔ 11۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ انکار کا باعث محمد ﷺ کی شخصی تکذیب نہیں، بلکہ یہ اصل مسئلہ وحی میں بھٹک رہے ہیں، اور خود اس کی بنیاد عذاب الہی سے غفلت پر ہے۔
Top