Ruh-ul-Quran - Saad : 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ : کیا نازل کیا گیا عَلَيْهِ : اس پر الذِّكْرُ : ذکر (کلام) مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ : ہم میں سے بَلْ : بلکہ هُمْ : وہ فِيْ شَكٍّ : شک میں مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ : میری نصیحت سے بَلْ : بلکہ لَّمَّا : نہیں يَذُوْقُوْا : چکھا انہوں نے عَذَابِ : میرا عذاب
کیا ہمارے درمیان میں سے کسی ایک شخص پر ذکر نازل کردیا گیا ؟ بلکہ یہ لوگ میرے ذکر پر شک کررہے ہیں، بلکہ اب تک انھوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا
ئَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْ م بَیْنِنَا ط بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ ذِکْرِیْ ج بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ ۔ (صٓ: 8) (کیا ہمارے درمیان میں سے اسی ایک شخص پر ذکر نازل کردیا گیا ؟ بلکہ یہ لوگ میرے ذکر پر شک کررہے ہیں، بلکہ اب تک انھوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ ) قریش کے پندار پر چوٹ مشرکینِ مکہ کو جس طرح اسلام کے تصورتوحید کا شدت سے انکار تھا اسی طرح انھیں یہ بات بھی گوارا نہ تھی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی رسالت کو تسلیم کریں۔ وہ اپنے جاہلانہ تصورات کے پیش نظر رسالت اور بشریت میں تضاد سمجھتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ انسانوں میں اللہ تعالیٰ کی پیغام بری کے لیے کسی فرشتے کو آنا چاہیے، انسان اس قابل کہاں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے پیغام وصول کرسکے اور انسانوں تک پہنچائے۔ لیکن نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ان کا اعتراض ایک اور پہلو سے بھی تھا، وہ یہ کہ چلیے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ بشر رسول ہوسکتا ہے، لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ جس آبادی میں اللہ تعالیٰ کا رسول اٹھایا جائے وہ آبادی کا سب سے غریب آدمی ہو۔ کیونکہ نبوت و رسالت ایک بہت معزز منصب ہے۔ اس منصب پر کسی بڑے رئیس کو اگر فائز کیا جائے تو یہ سمجھا جائے گا کہ واقعی ایک بڑی عزت سے اس آدمی کو نوازا گیا ہے جو پہلے بھی عزت کے بہت سے انتسابات رکھتا ہے۔ وہ دولت مند ہے، بارسوخ ہے، قبائل میں اس کا بےپناہ احترام ہے، اس کی بات سنی جاتی ہے، اسے معاشرے میں ایک بڑی حیثیت اور عظمت حاصل ہے۔ لیکن جس شخص کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہ ہو، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دولت مندوں اور معززین کی موجودگی میں اس شخص کو اس منصب پر فائز کردیا جائے۔ یہ وہ اعتراض ہے جو وہ بار بار پیش کرتے تھے۔ انھیں یہ بات تسلیم تھی کہ آپ سیرت و کردار میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ آپ شہر بھر میں نہایت نیک نام ہیں، لیکن چونکہ آپ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوئے، اس لیے نبوت کے کسی طرح بھی اہل نہیں ہیں۔ یہ درحقیقت اسی پندار اور تکبر کا اظہار تھا جس کا اس سورة کے آغاز میں فِیْ عِزَّۃٍ کے الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ پروردگار نے اس کے جواب میں فرمایا کہ درحقیقت انھیں آنحضرت ﷺ کی صداقت میں کوئی شبہ نہیں۔ کیونکہ وہ ہمیشہ آپ کی راست بازی کے قائل رہے ہیں۔ انھیں اگر شبہ ہے تو وہ دراصل میرے ذکر کی وجہ سے ہے۔ میں نے ان کو نصیحت کرنے کی خدمت جب آپ کے سپرد کی تو یہ آپ کی صداقت پر شک کرنے لگے، حالانکہ وہ اس سے پہلے آپ کی راست بازی کی قسمیں کھایا کرتے تھے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ حقائق کو سمجھ بوجھ کر ماننے کے عادی نہیں ہیں۔ انھیں یا تو منفعت کی زبان سمجھ میں آتی ہے اور یا طاقت اور شدت کی زبان۔ انھیں بار بار آنحضرت ﷺ نے ان کی تکذیب کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا ہے۔ لیکن وہ اسے محض ہَوائی بات سمجھ رہے ہیں۔ لیکن اس وقت انھیں مانے بغیر چارہ نہیں ہوگا جب عذاب کا کوڑا ان کے سروں پر برسے گا۔ لیکن اس وقت ان کا ایمان انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
Top