Anwar-ul-Bayan - Saad : 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ : کیا نازل کیا گیا عَلَيْهِ : اس پر الذِّكْرُ : ذکر (کلام) مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ : ہم میں سے بَلْ : بلکہ هُمْ : وہ فِيْ شَكٍّ : شک میں مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ : میری نصیحت سے بَلْ : بلکہ لَّمَّا : نہیں يَذُوْقُوْا : چکھا انہوں نے عَذَابِ : میرا عذاب
کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اتری ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا
(38:8) علیہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب رسول کریم ﷺ کی طرف راجع ہے۔ الذکر : ای القران۔ پندنامہ۔ نصیحت نامہ۔ ذکری۔ میری وحی۔ لما بمعنی لم ہے ای لم یذوقوا۔ عذاب : ای عذابی۔ (انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ چکھا ہی نہیں) آیت ہذا میں بل دو دفعہ استعمال ہوا ہے اور دونوں صورتوں میں بطور اضراب آیا ہے۔ بل ھم فی شک من ذکری میں اس بات سے اعراض ہے جو جملہ ما قبلء انزل علیہم الذکر من بیننا میں پائی جاتی ہے یعنی حسد۔ سرداران قریش حسدا یہ کہتے تھے کہ خدا نے اگر کوئی کلام نازل کرنا ہی تھا۔ تو سارے عرب اور مکہ و طائف میں اس نے آپ جناب کو کوئی منتخب کرلیا۔ جن کے پاس نہ مال و زر ہے نہ کوئی یارومدد گار ۔ ان میں سے ہی کسی سردار کو کیوں نہ چن لیا۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وقالوا لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم (43:31) اور کہتے ہیں کیوں نہ اترا یہ قرآن کسی بڑے مرد ان دو بستیوں میں سے۔ بل کے استعمال سے پہلے امر کو برقرار رکھتے ہوئے مابعد کو اس پر اور زیادہ کردیا گیا ہے یعنی نہ صرف یہ حسد کے شکار ہیں بلکہ مزید برآں اس کلام کو منزل من اللہ ہونے پر بھی شک کرتے ہیں۔ دوسرے بل کو بھی اسی طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ بل لما یذوقوا عذاب یعنی حسد اور شک کو بحال رکھتے ہی نہیں۔ (جب وہ اس عذاب کا مزہ چکھیں گے تو حسد اور کینہ کے جذبات اور تمام شکوک و شبہت دور ہوجائیں گے۔ مگر بےسود۔ بعض علماء کے نزدیک بل دونوں جملوں میں ابتدائیہ ہے۔ اضراب و اعراض کے لئے نہیں پہلا جملہ کافروں کے کلام کا جواب ہے اور دوسرا جمہ پہلے جملہ کی تاکید ہے۔ ام عندھم ۔۔ الوھاب : یہ جملہ سابقہء انزل علیہ الذکر من بیننا۔ کے مقابلہ میں ہے یعنی یہ جو کہتے ہیں کہ ہم سب میں سے اس پر قرآن کیوں اتارا گیا ہے (تو یہ بتائیں) کیا ان لوگوں کے قبضہ میں آپ کے فیاض غالب کل پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں (کہ جس کو یہ چاہیں دیں اور جس کو نہ دینا چاہیں نہ دیں) ۔ یہاں ام منقطعہ مقدرہ بہ بل والہمزۃ الاستفہام آیا ہے ای بل أیملکون خزائن۔
Top