Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 36. Yaseen · Ayah 33

  1. وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ﴿33﴾

    1. وَاٰيَةٌایک نشانی
    2. لَّهُمُان کے لیے
    3. الْاَرْضُزمین
    4. الْمَيْتَةُ ښمردہ
    5. اَحْيَيْنٰهَاہم نے زندہ کیا اسے
    6. وَاَخْرَجْنَااور نکالا ہم نے
    7. مِنْهَااس سے
    8. حَبًّااناج
    9. فَمِنْهُپس اس سے
    10. يَاْكُلُوْنَوہ کھاتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
26 اِن لوگوں کے لیے بے جان زمین ایک نشانی ہے 27۔ ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلّہ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یٰسٓ 26 پچھلے دو رکوعوں میں کفار مکہ کو انکار و تکذیب اور مخالفت حق کے اس رویہ پر ملامت کی گئی تھی جو انہوں نے نبی ﷺ کے مقابلے میں اختیار کر رکھا تھا۔ اب تقریر کا رخ اس بنیادی نزاع کی طرف پھرتا ہے جو ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان کشمکش کی اصل وجہ تھی، یعنی توحید و آخرت کا عقیدہ، جسے حضور ﷺ پیش کر رہے تھے اور کفار ماننے سے انکار کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں پے در پے چند دلائل دے کر لوگوں کو دعوت غور و فکر دی جا رہی ہے کہ دیکھو، کائنات کے یہ آثار جو علانیہ تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں، کیا اس حقیقت کی صاف صاف نشان دہی نہیں کرتے جسے یہ نبی تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے ؟ سورة یٰسٓ 27 یعنی اس امر کی نشانی کہ توحید ہی حق ہے اور شرک سراسر بےبنیاد ہے۔