Tafseer-al-Kitaab - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ : آپ صبر کریں عَلٰي : اس پر مَا يَقُوْلُوْنَ : جو وہ کہتے ہیں وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عَبْدَنَا : ہمارے بندے دَاوٗدَ : داؤد ذَا الْاَيْدِ ۚ : قوت والا اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : خوب رجوع کرنے والا
(اے پیغمبر، ) جیسی جیسی باتیں یہ لوگ کرتے ہیں ان پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو کہ (باوجودیکہ وہ بڑی) قوت رکھتا تھا (مگر اس پر بھی) وہ (ہر معاملے میں ہماری طرف) رجوع کرنے والا تھا۔
[9] اصل میں لفظ '' اذکر '' استعمال ہوا ہے جو یہاں اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک کا تعلق نبی ﷺ سے ہے کہ اپنے مخالفوں کی دل آزار باتوں پر صبر اور ہمارے بندے داؤد کے حالات زندگی سے تسلی حاصل کرو کہ وہ طاقت و حکومت رکھنے کے باوجود کس صبروتحمل کے ساتھ لوگوں کے ناگوار روئیے کو برداشت کرتے، نہایت عدل و مہربانی کے ساتھ ان کے معاملات کے فیصلے فرماتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنی زندگی کے لئے سبق حاصل کرتے تھے۔ دوسرے کا تعلق قریش کے ان سرکش اور ہٹ دھرم لوگوں سے ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ ان لوگوں کو ہمارے بندے داؤد کے حالات سناؤ کہ باوجودیکہ داؤد کو ان لوگوں سے کہیں زیادہ دولت حشمت حاصل تھی لیکن اس چیز نے ان کو غرور وتکبر میں مبتلا نہیں کیا بلکہ وہ اپنے رب کی طرف برابر متوجہ رہنے والے بندے تھے اور دوسروں کے واقعات سے اپنی فروگزاشتوں پر متنبہ ہو کر اپنے رب سے توبہ و استغفار کرتے تھے۔
Top