Tadabbur-e-Quran - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ : آپ صبر کریں عَلٰي : اس پر مَا يَقُوْلُوْنَ : جو وہ کہتے ہیں وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عَبْدَنَا : ہمارے بندے دَاوٗدَ : داؤد ذَا الْاَيْدِ ۚ : قوت والا اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : خوب رجوع کرنے والا
یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور ہمارے بندے دائود، زور و قوت والے کا، حال سنائو، بیشک وہ اللہ کی طرف بڑا ہی رجوع کرنے الا تھا۔
-2 آگے کا مضمون آیات 29-17 آگے نبی ﷺ کو یہ ہدایت ہوئی کہ تم مخالفوں کی اس تمام مخالفت کے باوجود اپنے موقف حق پر ڈٹے رہو اور حضرت دائود ؑ کی سرگزشت سے خود بھی سبق حاصل کرو اور ان لوگوں کو بھی ان کے حالات منائو کہ اللہ نے ان کو جو دولت و حشمت دی اس کا عشر عشیر بھی قریش کو حاصل نہیں ہے لیکن وہ یہ سب کچھ پاکر ان کی طرح غرور اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ جتنا ہی ان پر اللہ کا انعام بڑھتا گیا اتنی ہی ان کی شکر گزاری اور توجہ الی اللہ میں اضافہ ہوتا گیا۔ وہ لوگوں کے مقدمات بڑے صبر و حلم سے سنتے اور عدل کے مطابق ان کے فیصلے کتے اور اگر ان مقدمات کے اثناء میں کوئی بات ان کے سامنے ایسی آجاتی جو خود ان کے لئے سبق آموز ہوتی تو فوراً اپنے رب کے آگے توبہ و استغفار کے لئے سجدے میں گر پڑتے۔ اللہ نے ان کو عظیم حکومت دی وہ انہوں نے اللہ کے احکام کے مطابق چلائی۔ اسکتبار میں مبتلا ہو کر اپنی خواہشوں کی پیروی نہیں کی۔ وہ اس حقیقت سے واقف تھے کہ جو لوگ زمین میں اقتدار پا کر خدا کے اقتدار اور آخرت کے محاسبہ کو بھول جائیں گے وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچیں گے۔ اس لئے کہ یہ دنیا اس کے خالق نے بازیچہ اطفال نہیں بناتی ہے بلکہ اس کے بعد ایک ایسا دن لازماً آنا ہے جس میں وہ ان لوگوں کو صلہ دے جو اس زمین میں اس کی خلافت کا حق ادا کریں اور وہ لوگ کیفر کردار کو پہنچیں جو استکبار میں مبتلا ہو کر اس میں دھاندلی مچائیں … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -3 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت اصبر علی مایقولون و اذکر عبدنا دائود ذالایہ انہ اواب (17) حضرت دائود کی زندگی کا نمونہ پیغمبر کے لئے بھی اور قریش کے لئے بھی حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہا السلام) کے نہایت مئوثر واقعات زندگی انبیاء نمل اور سبا میں بھی گزر چکے ہیں۔ یہاں کچھ نئے واقعات ان کی زندگی کے سنائے گئے ہیں جو نبی ﷺ کے لئے بھی موجب تسلی ہیں اور قریش کے لیڈروں کے لئے بھی نہایت سبق آموز ہیں، اگر وہ ان سے فائدہاٹھائیں۔ لفظ اذکر یہاں اپنے اور دو پہلے رکھتا ہے۔ ایک کا تعلق آنحضرت ﷺ سے ہے کہ اپنے مخالفوں کی ان دل آزار باتوں پر صبر اور ہمارے بندے دائود کے حالات زندگی سے تسلی حاصل کرو کہ وہ طاقت و قوت رکھنے کے باوجود کس حلم و تحمل کے ساتھ لوگوں کے ناگوار رویے کو برداشت کرتے، نہایت عدل و مہربانی کے ساتھ ان کے معاملات کے فیصلے فرماتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنی زندگی کے لئے سبق حاصل کرتے۔ دوسرے کا تعلق قریش کے ان متمر دین سے ہے جن کا ذکر اوپر چلا آ رہا ہے کہ ان لوگوں کو ہمارے صاحب قوت و جمعیت بندے دائود کے حالات زندگی سنائو کہ باوجود یکہ ان کو ان سے کہیں زیادہ دولت و حشمت حاصل تھی لیکن اس چیز نے ان کی طرح کسی غرور و استکبار میں ان کو مبتلا نہیں کیا بلکہ وہ اپنے رب کی طرف برابر متوجہ رہنے والے بندے تھے۔ ان کے واقعات زندگی شاہد ہیں کہ وہ دوسروں کے واقعات سے اپنی فروگزاشتوں پر متنبہ ہو کر اپنے رب کے آگے توبہ و استغفار کے لئے گر پڑتے۔ قوت، نعمت اس وقت ہے جب اس کے ساتھ ادابیت ہو انہ اواب یعنی وہ اپنے رب کی طرف بڑے رجوع ہونے والے بندے تھے۔ یہاں اگٓے جو واقعات بیان ہوئے ہیں وہ حضرت دائود ؑ کے اسی وصف کو نمایاں کرنے والے ہیں۔ دوسری سورتوں شفاق کے الفاظ سے ہوا ہے۔ یہ امر یہاں محلوظ رکھیے کہ انسان فرشتہ نہیں ہے کہ اس سے کسی غلطی کا صدور ہی نہ ہو۔ انسان جب اختیار کی نعمت سے نوازا گیا ہے اور اس کے اس اختیار کی آزمائش بھی ہو رہی ہے تو ہر قدم پر اس سے غلطی کا امکان ہے لیکن یہ غلطی کا امکان اللہ تعالیٰ اور اس کے اس اختیار کی آزمائش بھی ہو رہی ہے تو ہر قدم پر اس سے غلطی کا امکان ہے لیکن یہ غلطی کا امکان اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہلاکت کے لئے نہیں رکھا ہے بلکہ یہ بھی اس کے لئے سب سے بڑی سعادت کے حصول کا ذریعہ ہے اگر وہ اپنی غلطی کے بعد اپنے رب کی طرف رجوع ہونا اور توبہ و استغفار کرنا سکیھ جائے۔ انسان کی شامت اس وقت آتی ہے جب وہ جرم پر جرم کئے چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے جرائم اس طرح اس پر مسلط ہوجاتے ہیں کہ خود متنبہ ہونا تو الگ رہا اگر کوئی اللہ کا بندہ اس کو متنبہ کرتا ہے تو وہ کبر و غرور کے سبب سے اس کے بھی در پے آزاد ہوجاتا ہے۔ قرآن نے یہاں ذوالاید، اور اداب دونوں صنعتوں کو ایک ساتھ ذکر کر کے یہ دکھایا ہے کہ کوئی صاحب قوت و حکومت شخص اللہ تعالیٰ کا منظور نظر بندہ اس وقت بنتا ہے جب قوت و شوکت کے ساتھ اس کے اندر اوابیت کی صفت پائی جائے۔ اگر قوت وصولت اس کے اندر عزت و شقاق کی رعونت پیدا کر دے تو یہ نمردویت اور فرعونیت ہے جو اللہ کے نزدیک معلون و مبغوض ہے۔
Top