Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Maarif-ul-Quran - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ
: آپ صبر کریں
عَلٰي
: اس پر
مَا يَقُوْلُوْنَ
: جو وہ کہتے ہیں
وَاذْكُرْ
: اور یاد کریں
عَبْدَنَا
: ہمارے بندے
دَاوٗدَ
: داؤد
ذَا الْاَيْدِ ۚ
: قوت والا
اِنَّهٗٓ
: بیشک وہ
اَوَّابٌ
: خوب رجوع کرنے والا
اے پیغمبر ﷺ یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحب قوت تھے (اور) بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے
تلقین صبر و تسلی نبی کریم ﷺ بذکر قصہ حضرت داؤد (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اصبر علی ما یقولون ...... الی ...... بما نسوا یوم الحساب “۔ (ربط) ما قبل آیات میں مکذبین رسل کا انجام ہلاکت بیان فرمایا گیا اور یہ کہ بڑی قوت و طاقت اور پائیدار سلطنتیں اللہ کے رسولوں کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکیں تو یہ کفار مکہ اور قریش کے لوگ جن کے پاس نہ اس طرح کی طاقت وقوت ہے اور نہ حکومت وسلطنت کیسے نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں کامیاب ہوجائیں گے تو بطور تسلی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ کو صبر کی تلقین کی جارہی ہے فرمایا (آیت ) ” اصبر علی مایقولون واذکر عبدنا داؤد ذالاید “۔ اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے ان باتوں پر جو یہ کافر کہہ رہے ہیں کبھی استہزاء و تمسخر میں کبھی تردید وتکذیب اور کبھی تحقیر وتوہین کرتے ہوئے اور یاد کیجئے ہمارے بندہ داؤد کو جو بڑی ہی قوت وہمت والے تھے کہ انکے علم وحلم عزم وحوصلہ اور ریاضت وعمل کی قوت اور سلطنت و حکومت کے دبدبہ کی کوئی حد نہ تھی اور بیشک وہ خدا کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والے تھے کہ انکے اوقات ذکر وتسبیح اور عبادت میں مصروف رہتے نصف رات تہجد میں گزارتے اور ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کا معمول بنایا ہوا تھا اور پھر قوت کا یہ عالم تھا جیسے کہ حدیث میں ارشاد فرمایا ” وکان لایفراذا لاتی “ کہ دشمن سے مقابلہ ہوتا تو میدان چھوڑ کر بھاگتے نہ تھے اور اپنی خاص نعمتوں میں ایک نعمت سے اس طرح نوازا تھا کہ ہم نے پہاڑوں کو انکے تابع کر رکھا کہ تسبیح کیا کریں انکے ساتھ شریک ہو کر شام وصبح جو داؤد (علیہ السلام) کے خاص اوقات تھے ذکر وتسبیح کے اور اسی طرح پرندوں کو بھی حکم دے رکھا تھا کہ وہ بھی صبح وشام داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح میں شریک ہوا کریں جمع ہوکر۔ 1 حاشیہ (1) (آیت ) ” والطیر محشورۃ “ کا ترجمہ ” جمع ہوکر “ عام اہل لغت اور مفسرین کی رائے کے مطابق ہے حافط ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں محشورۃ کا ترجمہ محبوسۃ کیا ہے یعنی پرند ہوا میں اڑتے ہوئے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی تسبیح سن کر رک جاتے تھے اور انکے ساتھ تسبیح میں ہمنوا ہوجاتے اسی طرح اونچے اونچے پہاڑ بھی نفخ داؤدی کے ساتھ آواز بلند کرتے یہ تمام فضائل داؤد (علیہ السلام) کے معجزات نبوت تھے۔ ) اس یہ جبال وطیور سب ہی داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنے اور ذکر الہی میں مشغول ہونے والے تھے یہ کس قدر عظیم انعام تھا اور اللہ کی طرف سے داؤد (علیہ السلام) کی عظمت وعزت تھی کہ گویا انکے حلقہ ذکر میں صرف انسان نہیں ملائکہ کے ،۔ 2 حاشیہ نمبر 2 (ملائکہ کے علاوہ کی قید اس وجہ سے واضح کی گئی کہ اللہ کے فرشتے تو ہر حلقہ ذکر میں موجود ہی ہوتے ہیں تو داؤد (علیہ السلام) کی خصوصیت اور شرف یہ تھا کہ اس حلقہ ذکر میں فرشتوں کے علاوہ پہاڑ اور پرندے بھی شامل ہوتے تھے، 12) علاوہ جبال وطیور بھی شامل ہوتے تھے اور دوسری نعمت یہ تھی کہ ہم نے انکی حکومت وسلطنت کو مضبوط بنایا تھا اور مزید ” تیسری نعمت یہ کہ ہم نے انکو فیصلہ کن خطاب وگویائی کی قوت عطا کی تھی کہ ان کی بات نہایت ہی فصیح وبلیغ اور جامع ہوتی قوت دلائل سے ایسی محکم ہوتی کہ حق و باطل اور ظلم و انصاف کے درمیان فیصلہ کن ہوتی تھی یہ نہیں کہ سلطنت و حکومت کی رعونت میں از خود رفتہ ہو کر حق وناحق کا فرق نہ کریں اور جو کچھ دل میں آئے بس اسی کو اپنی طاقت سے نافذ وجاری کردیں بلکہ عدل و انصاف احتیاط اور دلائل و اصول کے پورے تقاضے ملحوظ رکھتے ہوئے بات فرماتے تھے چناچہ انکے اس طرح کے واقعات میں سے اے ہمارے پیغمبر کیا آپ کو ان مقدمہ والوں کی خبر پہنچی جو محراب ودیوار، عبادت خانہ پھلاند کر داؤد (علیہ السلام) کے عبادت خانہ میں گھس آئے حالانکہ پہرہ داروں کا زبردست پہرہ تھا اور حضرت داؤد (علیہ السلام) نے تقسیم اوقات میں یہ دن عبادت کے لئے مخصوص کر رکھا تھا اور ان پہروں کے باعث کسی کو جرأت نہ ہوسکتی تھی کہ اس طرح کوئی شخص انکی عبادت گاہ میں داخل ہوجائے اور انکی عبادت ذکر اللہ اور توجہ الی اللہ میں مخل بنے تو انکے اس طور سے داخل ہونے سے داؤد (علیہ السلام) گھبراگئے کہ یہ کیسے پہنچ گئے خدا جانے یہ کون ہیں کہ مقصد لے کر آئے ہیں انکی اس گھبراہٹ کو دیکھ کر اہل مقدمہ بولے ڈرو نہیں، ہم تو ایک خصومت وجھگڑے والے ہیں جو اپنا مقدمہ لے کر آپ (علیہ السلام) کے پاس آئے ہیں کسی دشمنی یا برے ارادہ سے نہیں آئے کہ آپ گھبرائیں ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم میں سے دوسرے پر زیادتی کی ہے پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیجئے اور ہمارے اس معاملہ میں کوئی ناانصافی اور کسی ایک کی طرف کسی طرح کا جھکاؤ اور جانبداری اختیار نہ کیجئے اور ہم کو سیدھے راستہ پر ڈال دیجئے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی اجازت پر اہل خصومت میں سے ایک نے کہنا شروع کیا اے داؤد ! بات یہ ہے کہ یہ میرا بھائی ہے باعتبار دین کے یا باعتبار تعلق وملاقات کے جس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے سو کہتا ہے مجھے ہی اس کا کفیل اور ذمہ دار اور مالک بنادے اور اپنی منہ زوری سے بات کرنے میں مجھ پر غالب آگیا ہے کہ میری بات چلنے ہی نہیں دیتا اور نہ ہی بولنے کا موقع دیتا ہے جب بات شروع ہوتی ہے تو مجھے ہی دبا لیتا ہے یہ صورت حال سن کر داؤد (علیہ السلام) نے کہا اس شخص نے تو بیشک تجھ پر ظلم کیا تیری ایک دنبی کو اپنی دنبیوں میں شامل کرلینے کا تجھ سے سوال کرکے حقیقت تو یہ ہے کہ اس شخص کو اپنی اس فراخی اور وسعت کے ہوتے ہوئے تو یہ چاہئے تھا کہ اپنے بھائی پر تبرع و احسان کرتا جو تنگ دست ہے اور صرف ایک ہی دنبی کا مالک ہے اسکے برعکس اپنے غریب بھائی کو اس سے بھی محروم کردینا چاہتا ہے اور یہ حقیقت ہے دنیا میں ظلم وستم کا یہی حال ہوچکا ہے کہ بہت شرکاء ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کیا کرتے ہیں بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک کام کیے وہ اپنے ساتھی اور شریک کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرتے ہیں اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں داؤد (علیہ السلام) نے یہ مضمون مظلوم کی تسلی اور حق کے تحفظ کے لیے فرمادیا اس قضیہ کے سننے میں اور اپنی بات کرنے میں کچھ وقت گذرا اور اس چیز کی بنا پر کہ ان کے طے کردہ وقت میں انہماک عبادت اور ذکر اللہ میں اشتغال کے بجائے ایک جھگڑے کی قسم نے خلل اور تشویش میں ڈالا خیال کیا کہ ہم نے ان کا امتحان کیا ہے کہ دیکھیں کیسے صابر ومتحمل ہیں کہ بلااجازت عبادت گاہ اور خلوت میں آنے پر برافروختہ وناراض تو نہیں ہوتے کہ اتنے بڑے بادشاہ کے خاص محل میں کس بےڈھنگے پن سے گھس آئے اور یہ کہ عبادت کے اوقات مخصوص کرنے پر دل میں یہ جو خیال تھا کہ میں نے عبادت کا جو معمول بنایا ہے اس میں خلل نہیں ہوگا اور یہ بہت ہی اچھی صورت ہے تو سمجھ گئے کہ یہ میرا امتحان لیا گیا ہے اور قدرت خداوندی سے مجھ پر یہ ظاہر کردیا گیا کہ کسی بندہ کا اپنی عبادت یا پابندی اوقات پر بھروسہ نہ کرنا چاہئے بغیر توفیق ومشیت خداوندی بندہ اپنے معمولات ایک روز بھی قائم و برقرار نہیں رکھ سکتا پس فورا ہی اپنے رب کے سامنے استغفار و توبہ کی اور گرپڑے سربسجود ہوتے ہوئے اور خاص طور پر خدا کی طرف رجوع کیا پس ہم نے معاف کردیا اس چیز کو اور جو کمی صبر وتثبت کے مقام میں اس تخیل کی وجہ سے پیش آئی تھی اس کا تدارک کردیا اور بیشک داؤد (علیہ السلام) کے واسطے تو ہمارے یہاں کا بہت ہی عظیم مقام اور عنایت ہی بہترین انجام وٹھکانا ہے کہ ایک معمولی خیال پر اس قدر بےقراری وتضرع کے ساتھ بارگاہ خداوندی میں تائب ہوئے ہوتے سربسجود ہوگئے اور تل برابر چیز کو پہاڑ سمجھ لیا اور ظاہر ہے کہ مقربین کی یہی شان ہوتی ہے کہ معمولی سی کوتاہی ان کے واسطے بےچینی وبے قراری کا باعث ہوتی ہے اور انکی یہ بےقراری اور دعا و استغفار ان کے مقام کی اور بلندی کا باعث ہوتی ہے جب داؤد (علیہ السلام) اس امتحان میں پورے اترے اور انابت الی اللہ کا یہ بلند تر مقام ان سے ظاہر ہوا تو ہم نے انکی اس سعادت کو سراہتے ہوئے اعلان کردیا اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے بنا دیا تم کو زمین پر حاکم سو لوگوں کے درمیان تم حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے رہو جس طرح کہ اب تک کرتے رہے ہو اور آیندہ بھی نفس کی خواہش کی پیروی مت کرنا جیسا کہ پہلے بھی نفس کی خواہشات کی تم نے پیروی نہیں کی اس لیے کہ نفس کی خواہشات کی پیروی اگر تم نے کی تو وہ تم کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گا اور بیشک جو لوگ خدا کے راستے سے بھٹکتے ہیں انکے واسطے سخت عذاب ہوگا اس بنا پر کہ وہ روز حساب کو بھولے رہے اور ظاہر ہے کہ ہر طرح کی گمراہی اور عدل و انصاف سے انحراف اور کسی کی حق تلفی آخرت کی یاد بھلانے ہی کے باعث ہے اس معیار اور ضابطے کو اگر خطاب داؤد (علیہ السلام) کو دوران بیان فرمایا گیا لیکن مراد دوسروں کو تنبیہ کرنا ہے جیسے کہ بعض مواقع میں آنحضرت ﷺ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو متنبہ کیا گیا۔ قصہ داؤد (علیہ السلام) : قرآن کریم کی ان آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کے جس قصہ کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ صرف بطور کنایہ ورمز بیان کیا گیا ہے جس کے ضمن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کی عبادت گاہ میں دو خصومت کرنے والوں کا ایک مقدمہ لے کر آنا اور پھر اس مقدمہ میں باہمی معاملات میں ایک دوسرے پر تعدی کرنا اور اس پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا یہ فیصلہ کہ یہ طریق ظلم وعدوان ہے پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا توبہ و استغفار اور خدا کی بارگاہ کی طرف رجوع اور حق تعالیٰ کی طرف سے ان کے مرتبہ کی عظمت وبلندی اور خلافت فی الارض کا انعام اور عدل و انصاف قائم کرنے کی تاکید نفس کی خواہشات سے اجتناب کا حکم اور نفس کی پیروی کا انجام گمراہی اور اس کا اصل سبب فکر آکرت سے قلب و دماغ کا خالی ہونا بیان فرمایا گیا۔ واقعہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے متعلق بعض غیر مستند اور بےاصل روایات : آیات متذکرہ میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کے جس قصہ کا اجملا واشارۃ ذکر فرمایا گیا ہے اس کی تفسیر وتشریح میں بعض مفسرین نے ایک قصہ بروایت قتادہ (رح) نقل کیا ہے جسکو بعد کے مفسرین نے بھی اپنی تفاسیر میں نقل کیا اس وجہ سے وہ شہرت پذیر ہوگیا حالانکہ وہ قصہ نہ روایۃ صحیح ہے بلکہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہے اور نہ عقلا اس کے تصور کی گنجائش معلوم ہوتی ہے بلا شبہ وہ قصہ نہایت ہی بےہودہ کہانی ہے جس کا قرآن کریم خود اپنے سیاق وسباق سے انکار کرتا ہے۔ اس حدیث خرافہ اور لغو قصہ کا حاصل یہ ہے ایک روز حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے خلوت خانہ میں ذکر و عبادت میں مشغول تھے کہ ایک خوبصورت کبوتر اڑ کر سامنے آیا آپ (علیہ السلام) نے اس کو عجیب و غریب پاکر اس کے پکڑنے کا ارادہ کیا تو وہ ایک سوراخ سے نکل کر اڑ گیا حضرت داؤد (علیہ السلام) دریچہ سے جب اس کو جھانکنے لگے تو ایک حسین و جمیل عورت پر نظر پڑی جو غسل کررہی تھی اس کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگئے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ اور یاہ کی بیوی ہے جو آپ (علیہ السلام) کے ایک لشکر کا سپہ سالار ہے اور جو آج کل کسی جہاد میں باہر گیا ہوا ہے آپ (علیہ السلام) کے دل میں یہ خیال ہوا کہ اگر یہ سپاہی مارا جائے تو میں اس کی بیوی سے نکاح کرلوں اس لئے آپ نے فوج کو یہ حکم بھیجا کہ اور یا کو تابوت سکینہ کے آگے رکھا جائے تابوت سکینہ کے سامنے جو سپہ سالار رہتا اس کے لئے امکان نہیں ہوتا تھا کہ وہ کسی بھی مرحلہ پر میدان جہاد سے بھاگ جائے اس کے ذمہ تھا کہ وہ اسی کے ساتھ رہے یا فتح ہوجائے یا وہ شہید ہوجائے اس طرح اور یاہ کسی غزوہ میں شہید ہوگیا تو اسکی بیوی سے حضرت داؤد (علیہ السلام) نے نکاح کرلیا حالانکہ اس سے پہلے ان کی بہت سی بیویاں تھیں ظاہر ہے کہ خداوند عالم کو یہ کام ان کی شایان شان نہیں معلوم ہوا تو انکو اس پر متنبہ کرنے کے لئے دو فرشتے بصورت مدعی اور مدعا علیہ بھیجے حقیقت میں ان کے درمیان نہ کوئی جھگڑا تھا اور نہ وہ کسی مقدمہ کے فیصلہ کے واسطے آئے تھے اور نہ ان میں سے ایک کے پاس ننانوے دنبیاں تھیں اور دوسرے کے پاس ایک انہوں نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو متنبہ کرنے کے لئے اس طرح کا مقدمہ بنا کر پیش کیا کہ یہ میرا بھائی ہے جس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی ہے اور یہ مجھ کو اس بات پر مجبور کررہا ہے کہ یہ ایک بھی میں اس کو دیدوں حالانکہ اسے کے پاس تو پہلے ہی بہت سی ہیں اور میرے پاس تو صرف ایک ہی ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فیصلہ تو کردیا کہ یہ مطالبہ نہایت ہی ظالمانہ ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اکثر شرکاء اپنے نفس کے تقاضے سے یہی روش اختیار کرتے ہیں مگر اس فیصلہ کے ساتھ فورا یہ احساس ہوا کہ یہ قصہ تو مجھ ہی پر منطبق ہورہا ہے میں نے کثیر الازواج ہونے کے باوجود اور یاہ کی عورت سے نکاح کرلیا جو اس کی ایک ہی بیوی تھی چناچہ اس پر متنبہ ہو کر توبہ و استغفار میں مصروف ہوگئے جس کے بعد خدا نے ان کی مغفرت اور ان کی اس غلطی کو معاف کیا، العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ ‘۔ یہ قصہ سرتاپا غلط بےاصل اور قطعا اللہ کے پیغمبر پر عظیم افتراء وبہتان ہے اصل میں اسرائیلیات اور یہود سے نقل شدہ یہ قصہ ہے جس کو بعض مفسرین نے اپنی کتابوں میں درج کردیا اصول دین کے سراسر خلاف ہے جس کا زبان پر لانا حرام ہے حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) اپنے تفسیر ج 4 میں فرماتے ہیں کہ ان میں اکثر اسرائیلیات سے ماخوذ ہیں۔ اکثرھا ماخوذ میں الاسرائیلیات ولم یثبت فیھا عن المعصوم حدیث لکن روی ابن ابی حاتم ھھنا حدیثا لا یصح سندہ لانہ من روایۃ یزید ویزیدوان کان من الصالحین لکنہ ضعیف الحدیث عند الائمۃ : ترجمہ : اور اس سلسلہ میں کوئی حدیث پیغمبر معصوم (علیہ السلام) سے ثابت نہیں ہے البتہ ابن ابی حاتم نے اس جگہ ایک حدیث روایت کی ہے جس کی سند صحیح نہیں کیونکہ وہ باسناد یزید الرقاشی انس بن مالک میں سے ہے اور یہ شخص اگرچہ صالحین میں سے ہے مگر باجماع ائمہ محدثین ضعیف الحدیث اور ساقط الاعتبار ہے ،۔ تفسیر خازن میں بھی اسکی تصریح کی ہے اور باسناد سعید بن المسیب (رح) اور حارث اعور حضرت علی ؓ سے یہ روایت کیا ہے۔ انہ قال من حدثکم بحدیث داؤد علی مایرویہ القصاص جلدتہ مأۃ وستین جلدۃ وھو حد الفریۃ علی الانبیاء :۔ ترجمہ : انہوں نے فرمایا جو شخص تم سے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بارے میں وہ قصہ بیان کرے گا جس کو عام طور پر واعظین بیان کرتے ہیں میں اسکو ایک سو ساٹھ کوڑے ماروں گا جو انبیاء (علیہم السلام) پر بہتان لگانے کی سزا ہے۔ مولانا ابومحمد عبدالحق دہلوی (رح) تفسیر حقانی میں فرماتے ہیں کہ اس قصہ کا اصل مأخذ کتاب اصمویل ہے اور آج تک خود اہل کتاب کو بھی اس کتاب کا پورا پتہ نہیں چل سکا کہ اس کا مصنف کون ہے وہ بحیثیت ایک تاریخ کی کتاب کے یہود میں مروج تھی جس کو یہود ونصاری نے بلاوجہ الہامی کتاب فرض کرلیا امام رازی (رح) نے تفسیر کبیر میں اس قصہ کی تردید وابطال پر نہایت مفصل کلام کیا ہے ،۔ بعض حضرات مفسرین نے ان آیات کی تفسیر اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کے اس واقعہ کی توضیح میں متعدد اقوال ذکر کیے ہیں امام قرطبی (رح) نے اپنی تفسیر احکام احکام القرآن ج 15 ص 176 میں طبری (رح) کی روایت سے امام ابوالسعود (رح) نے اپنی تفسیر میں اسی طرح تفسیر درمنثور ج 5 ص 30 میں تفسیر روح البیان ص 19 اور تفسیر مواہب الرحمن ج 23 ص 142 میں اس قصہ مذکورہ کے علاوہ اوراقوال ذکر کیے ہیں مثلا یہ کہ وہ عورت اور یاہ کی مخطوبہ تھی نہ کہ منکوحہ اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کو علم نہ تھا اس عورت کے لیے کوئی خطبہ اور پیغام پہلے سے ہے اور لاعلمی میں پیغام دے دیا تو اس پر یہ عتاب ہوا کہ پہلے تحقیق کرلینی چاہئے بےتحقیق پیغام دینا نبوت کے خلاف ہے لیکن ان میں بھی تکلف ہے ،۔ 1 (تفسیر قرطبی ج 15۔ 176) اور روایتی حیثیت سے بھی انکی صحت ثابت نہیں ہوتی نیزشریعت کے اصول سے بھی ان اقوال پر آیات کی تفسیر مشکل ہے شرح فقہ اکبر میں بھی امام ابو منصور ماتریدی (رح) سے ایک قول نقل کیا گیا ہے لیکن اس پر بھی حضرت داؤد (علیہ السلام) کی شان نبوت کے لحاظ سے قلب مطمئن نہیں ہوتا یہی وجہ ہے یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن کثیر (رح) نے ان تمام اقوال سے اعراض وکنارہ کشی کرتے ہوئے سکوت اختیار کیا حضرات اہل علم ان اقوال کی تفصیل کے لئے ان تفاسیر کی مراجعت فرمالیں بعض مفسرین نے اس قصہ کے تتمہ اور اس پر مرتب ہونے والے ثمرات کے درجہ میں یہی بعض روایات اپنی کتابوں میں بیان کی ہیں چناچہ علامہ آلوسی (رح) کی روح المعانی ج 23 ص 167 پر ایسی بعض روایات حضرات قارئین ملاحظہ فرما سکتے ہیں محدثین کے نزدیک انکی سندیں معتبر وحجت نہیں روایتی لحاظ سے اس قصہ کا لغو اور باطل ہونا تو ظاہر ہے ہی انسانی عقل بھی اس بات کے تصور سے انکار کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی پیغمبر سے ایسی ناپسندیدہ اور ذلیل ترین حرکتیں واقع ہوں وہ برگزیدہ پیغمبر جو امت کے واسطے ہادی ومصلح ہوں کے اعمال واخلاق کو پاکیزہ بنانا انکی زندگی کا نصب العین ہو بھلا یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس طرح کی ذلیل اور انسانیت سے گری ہوئی باتیں کریں کہ کسی اجنبی عورت کو برہنہ دیکھنا پھر اس پر فریفتہ ہوجانا پھر ایک خاص حیلہ اور تدبیر سے اسکے شوہر کو شہید کرا دینا اور اس کے بعد اس عورت کو اپنے نکاح میں لے آنا یہ باتیں تو کسی معمولی سے ایمان وتقوی رکھنے والے شخص سے بھی بعید ہیں چہ جائیکہ وہ جلیل القدر ہستیاں جن کے اوصاف و فضائل کی بلندی کی کوئی انتہا نہیں جن کی پہلی فضیلت تو یہ کہ آنحضرت ﷺ کو صبر کا حکم دیتے ہوئے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زندگی کو یاد کرنے اور ان کے اسوہ کو نمونہ بنانے کا حکم دیا گیا پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) کو عبدنا ہمارا بندہ جیسے پاکیزہ لقب سے یاد کیا گیا گویا اس عنوان نے ان میں عبدیت کے تمام اوصاف کاملہ وفاضلہ کو بیان کردیا یہ عنوان تو وہ ہے جو آنحضرت ﷺ کے لئے معراج جیسے عظمت والے قصہ کے ساتھ اختیار کیا گیا جیسے کہ ارشاد ہے (آیت ) ” سبحن الذی اسری بعبدہ “۔ ان کو (آیت ) ” ذالاید “۔ قوت وعزم والا فرمایا ان کو (آیت ) ” اواب “۔ خدا کی طرف رجوع کرنے والا فرمایا نیز انکی فضیلت یہ کہ پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے ذکر وتسبیح کے ساتھ تابع ومسخر کردیا گیا (آیت) ” والطیر محشورۃ “۔ کے پرند بھی جمع ہو کر ان کے ذکر میں شامل ہوتے ان کے ملک وسلطنت کا استحکام وقوت انکو حکم دیا جانا فصل خطاب کی نعمت سے نوازا جانا مغفرت خداوندی مرتبہ کا قرب جس کو (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی “ میں بیان کیا اور اخیر میں انجام کی خوبی کا اعلان کیا گیا پھر ان سب چیزوں کے بعد خلافت فی الارض کا اعزاز جس کو (آیت ) ” یاداؤد انا جعلناک خلیفۃ فی الارض “۔ سے ذکر کیا گیا ہے تو کیا یہ قابل تصور امر ہے کہ جس ذات مقدس کی یہ فضیلتیں ہوں ایسے عظیم انعامات اور علمی وعملی کمالات سے نوازا گیا ہو جس کے لیے اعلان ہو خلافت ارض کا اللہ کے نزدیک مرتبہ کی بلندی اور انجام کی خوبی کی بشارت ہو دنیا میں کوئی عقل رکھنے والا انسان بیان کردہ قصہ کی ذلیل باتوں کا ان کے بارے میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ علامہ آلوسی (رح) نے تفسیر روح المعانی ج 23 میں امام احمد بن حنبل (رح) کی روایت سے ایک نہایت ہی لطیف مضمون بیان کیا ہے کہ مالک بن دینار (رح) اس آیت (آیت ) ” وحسن ماب “۔ کی تفسیر میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ قیامت کے روز حضرت داؤد (علیہ السلام) کو عرش الہی کے سامنے لا کر کھڑا کیا جائے گا پھر حق تعالیٰ کا ارشاد ہوگا اے داؤد (علیہ السلام) آج اس وقت تم میری تسبیح اور کبریائی اسی لحن اور آواز سے بیان کرو جس آواز سے دنیا میں بیان کرتے تھے حضرت داؤد (علیہ السلام) کہیں گے اسے پروردگار وہ بات تو دنیا کی زندگی میں تھی جو اب نہیں رہی حق تعالیٰ فرمائیں گے میں وہی صوت تم کو واپس کرتا ہوں اور وہی لحن داؤدی جس سے دنیا میں پہاڑ اور پرند تمہارے ہمنوا ہوجایا کرتے تھے تم کو عطا کرتا ہوں تو حضرت داؤد (علیہ السلام) ذکر تسبیح شروع کریں گے جس سے تمام جنتی بےخود ہوجائیں گے۔ پھر ان تمام وجوہ فضیلت کے علاوہ ایک عظمت و برتری کی وجہ یہ بھی قرآن کریم کی تعبیر سے ظاہر ہے کہ اس قصہ کو حق تعالیٰ نے عنوان سے ذکر فرمایا (آیت ) ” وھل اتاک نبؤ الخصم “۔ تو یہ عنوان بالکل ایسا ہی ہے جیسا (آیت ) ” ھل اتک حدیث موسیٰ اذ نادہ ربہ بالواد المقدس طوی “۔ کے اے ہمارے پیغمبر کیا آپ ﷺ کو موسیٰ (علیہ السلام) کی بات پہنچی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو انکے پروردگار نے وادی مقدس طوی میں پکارا تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ (آیت ) ” نبؤالخصم “۔ جو داؤد (علیہ السلام) کا بیان کیا گیا وہ عظمت وفضیلت و تقدس کے عنوان سے بیان کیا جارہا ہے ہرگز وہ ایسا فحش اور بےہودہ واقعہ نہیں ہوسکتا جس سے ہر حیا رکھنے والا انسان نفرت کرتا ہو اور کیا قرآنی عظمت اس بات کو گوارہ کرتی ہے کہ ایسا قصہ اس اہمیت وخصوصیت سے بیان کیا جائے غرض کسی نوعیت سے بھی اس مشہور کردہ واقعہ کی صحت کی کوئی گنجائش نہیں۔ آیات مذکورہ میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کی صفات کمال : امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی دس صفات کمال بیان کیں اور اس کے بعد (آیت ) ” ھل اتاک نبؤالخصم “۔ کے عنوان سے یہ قصہ ذکر فرمایا ہے جس سے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ثنا اور تعظیم مقصود ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے اور، اور یاہ شوہر کے قتل کا قصہ جو اسرائیلیات سے نقل کیا گیا ہے وہ سراسر باطل ہے کیونکہ یہ قصہ ان دس صفات کمال کے صریح خلاف ہے جو اللہ نے ان کی مدح وثنا اور منقبت میں بیان کیا ہیں جن کی تفصیل گزر چکی یہ قصہ تو کسی بدتر فاسق وفاجر کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہر سننے والا اس سے نفرت وبیزاری ظاہر کرے گا اور صاحب قصہ پر لعنت بھیجے گا لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا کے برگزیدہ پیغمبر معصوم کی طرف ایسے قابل نفرت واقعہ کی نسبت کی جائے۔ دوم۔ یہ کہ اس قصہ کا تو حاصل یہ ہے کہ صاحب واقعہ ایسا شخص ہے کہ نفس کی خواہش اور طبع نے اس کو اس قدر ایمانی شعور سے بعید کرڈالا ہے کہ اس کو کسی کے قتل کے ارتکاب میں اور اس کے بعد اسکی بیوی کو حاصل کرلینے میں کیسے تصور کی جاسکتی ہے۔ سوم۔ یہ کہ ایسا کام کرنے والا تو نفس اور شہوت کا بندہ ہوا نہ کہ اللہ کا بندہ وہ کیونکر اس لائق ہوسکتا ہے کہ خدا اس کو یوں کہے ” ہمارا بندہ۔ چہارم ،۔ یہ کہ جو شخص کسی کی عورت کو دیکھ کر بےصبر اور بےقابوہوجائے تو ایسے واقعہ کو خداوند عالم اپنے پیغمبر کو صبر کی تعلیم وتلقین کے طور پر کیسے بیان فرماسکتا ہے اور یہ کہنا کیونکر ممکن ہوتا۔ (آیت) ” اصبر علی مایقولون واذ کر عبدنا “۔ کہ آپ ﷺ صبر کیجئے ان باتوں پر جو یہ کہہ رہے ہیں سوال ہوگا کہ کیا صبر کی تعلیم وتلقین کے موقعہ پر ایسا ہی واقعہ بیان کیا جاتا ہے اور کیا ایسا ہی صبر کیا جائے جیسا کہ اس صاحب واقعہ نے صبر کیا۔ ” استغفر اللہ “۔ پنجم۔ یہ کہ قرآن کریم میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو یہ فرمایا گیا ہے یہ ہیں وہ انبیاء جن کو خدا نے ہدایت دی ہے تو اے ہمارے پیغمبر آپ ﷺ بھی انکی اقتداء کیجئے تو کیا ایسے شخص کی اقتداء کا حکم دیا جانا ممکن ہے۔ ششم۔ یہ کہ ان کو (آیت ) ” ذا الاید “۔ قوت و طاقت والا کہا گیا جو شخص اپنے نفس پر ہی قابو نہ پاسکے وہ کہاں سے طاقت والا ہو اور کہاں اس قابل ہوا کہ قرآن کریم میں اسکو قوت وہمت والا کہہ کر متعارف کرایا جائے۔ ھفتم۔ یہ کہ ان کو (آیت) ” اواب “۔ خدا کی طرف رجوع کرنے والا فرمایا گیا تو یہ قصہ تو ظاہر کرتا ہے کہ وہ صاحب واقعہ فسق وفجور کی طرف رجوع کرنے والا تھا نہ کہ اللہ اور اسکی اطاعت و بندگی کی جانب اور صرف یہی نہیں بلکہ ان کا تو اللہ کی طرف رجوع وانابت کا یہ مقام فرمایا گیا کہ پہاڑ اور پرند بھی انکی تسبیح کے ساتھ ہمنوا ہوتے تو کیا جو شخص کسی کی جان اور عزت وآبرو کی پروا نہ رکھتا ہو وہ اس کرامت و عظمت کا مستحق ہوسکتا ہے ؟۔ ھشتم۔ یہ کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ملک کو اللہ نے فرمایا (آیت ) ” وشددنا ملکہ “۔ کہ ہم نے ان کا ملک مضبوط کیا تھا تو جس ملک میں قتل اور فسق وفجور سے امن نہ ہو اور کسی کی جان وآبرو کا تحفظ نہ ہوسکے تو ہرگز وہ ملک مضبوط نہیں ہوسکتا۔ نہم۔ یہ کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی شان میں فرمایا گیا (آیت) ” واتیناہ الحکمۃ “۔ کہ ہم نے ان کو علم ومعرفت اور حکمت سے نوازا تھا اور حکمت نام ہے کمالات علمیہ اور عملیہ کا اور ظاہر ہے کہ ایسا شخص جو اس قسم کے افعال کا مرتکب ہو وہ حکیم (صاحب حکمت کیونکر ہوسکتا ہے۔ دھم : یہ کہ ان کے حق میں فصل الخطاب یعنی فیصل کن بات کہنے کی قوت وصلاحیت دی کہ ہر بات عدل و انصاف کی ترازو میں تلی ہوئی ہو تو کیا ایساشخص جو اس قسم کی برائیوں کا ارتکاب کرتا ہو اسکو یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اس کی ہر بات عدل و انصاف کی ترازو میں تلی ہوئی ہے۔ بہرکیف یہ دس وجوہ اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی صفات فاضلہ وہ ہیں جن کو نہایت صراحت کے ساتھ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے پھر یہ کہ کلام کی ابتداء ان کی مدح وثنا سے اور انتہا ایسی بےپایاں عنایات نوازش سے کہ (آیت ) ” ان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “۔ بیشک ان کے واسطے ہمارے یہاں عنایت ہی قرب وفضیلت کا درجہ ہے اور بہترین انجام ہے اور آخر یہ کہ خلافت برحق کے اعزاز سے نواز دیا گیا تو ان وجوہ کے پیش نظر یہ بات بلاتردد وتامل تسلیم کرنی پڑے گی کہ یہ قصہ محض یہودیوں کا من گھڑت افسانہ ہے جس کے ذریعہ وہ اللہ کے اولوالعزم پیغمبروں کے تقدس کو پامال کرنا چاہتے ہیں اسی وجہ سے جمہور مفسرین اور محققین علماء نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ یہ واقعہ بلاشبہ کذب اور افتراء ہے ، حافظ ابن کثیر (رح)، علامہ ابن الجوزی (رح)، قاضی ابوالسعود (رح)، قاضی بیضاوی (رح)، قاضی عیاض (رح)، امام رازی (رح)، علامہ ابوحیان (رح)، زمخشری (رح)، علامہ خازن (رح)، ابن حزم (رح)، علامہ خفاجی (رح)، شیخ احمد بن نصر (رح)، اور متاخرین مفسرین میں علامہ محمود آلوسی البغدادی (رح) صاحب تفسیر روح المعانی غرض ہر قرن اور دور کے مفسرین اس قصہ کے کذب وافتراء ہونے پر اتفاق کرتے رہے ہیں اور حافظ ابومحمد ابن حزم (رح) نے تو اپنی کتاب ” الفصل “ میں بڑی شدت کے ساتھ اس قصہ اور اس کے قریب جو باتیں بعض مفسرین نے بیان کیں انکی تردید کی ہے۔ ان سب باتوں کے علاوہ یہ بات قطعی ہے کہ یہ قصہ عصمت انبیاء کے منافی ہے اور عصمت انبیاء دین کی بنیاد ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا دین اسکے احکام انبیاء ہی کے ذریعے تو بندوں تک پہنچتے ہیں حضرات انبیاء خدا کے سفیر اور نمائندہ ہوتے ہیں اگر وہ معصوم نہ ہوں تو پھر ان کی سفارت ہی کہاں سے قابل اعتماد ہوسکتی ہے اور ان کے لائے ہوئے احکام اور ان کا اسوۂ ہدایت اور فلاح وسعادت کیونکر ہوسکتا ہے عصمت انبیاء کا مسئلہ تو ایسے اصول مسلمہ میں سے ہے کہ کسی آیت کی تفسیر یا روایت کی تشریح اور واقعہ کی توضیح و تفصیل میں اس کو ایک لمحہ کیلئے بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ الغرض یہ ہیں وہ دلائل اور وجوہ جن کے پیش نظر ان آیات کی تفسیر میں اس قصہ یا اس کے قریب دیگر ایسی روایات کو کسی درجہ میں بھی قابل قبول نہیں تصور کیا جاسکتا یقیناً ان تمام آیات کی تفسیر اس قصہ سے ہٹ کر ہی کی جائے گی۔ تفسیر آیات مشتملہ بر قصہ داؤد (علیہ السلام) : گذشتہ تحقیق و تفصیل سے یہ چیز تو واضح ہوگئی کہ یہ قصہ جو بعض مفسرین کی کتابوں میں مذکور ہونے کی وجہ سے مشہور ہوگیا لغو اور بےاصل بلکہ اصول شریعت اور خود قرآن کریم کی تصریحات کے قطعا منافی ہے اس کے بعد اب ہم ان آیات کی تفسیر و توضیح کی طرف حق تعالیٰ کی توفیق واعانت سے متوجہ ہوتے ہیں جو روایت ودرایت اور اصول شریعت سے بھی مطابق ہو کہ اصل مقصد بیان اور سیاق وسباق سے ربط بھی معلوم ہوجائے اور یہ بھی معلوم ہوجائے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے سامنے مقدمہ پیش کرنیو والے کون تھے اور مقدمہ کے فیصلہ پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے اس گماں کا کیا مطلب ہے کہ انکی آزمائش کی گئی ہے اور پر تو بہ و استغفار میں منہمک ہوجانا کس وجہ سے تھا پھر یہ کہ اخیر میں بیان کردہ ثمرہ وتنیجہ (آیت ) ” یا داؤد انا جعلنا ک خلیفۃ فی الارض “۔ کس طرح بیان کردہ اس واقعہ پر مرتب ہورہا ہے۔ وباللہ التوفیق وھو یھدی الی الحق والی صراط مستقیم۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی تفسیر اور امام رازی (رح) کی اختیار کردہ تحقیق کے پیش نظر آیات مذکورہ کی مراد اس طرح سمجھ میں آتی ہے کہ حق تعالیٰ نے ابتداء سورت میں قرآن کریم کی عزت و عظمت کو بیان فرمایا اور اس کے بالمقابل کفار مکہ کے مہمل اور بےہودہ اعتراضات کا رد فرماتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی (آیت) ” اصبر علی ما یقولون “۔ کہ آپ ﷺ صبر کیجئے ان باتوں پر جو یہ کہتے ہیں اور یاد کیجئے ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو کہ یہ اپنی تمام تر عظمتوں دینی ودنیوی عزتوں کے باوجود کیسے صابر اور اللہ رب العزت کی طرف رجوع کرنے والے تھے ان کے صبر کا تو یہ عالم تھا کہ کسی بھی نامناسب بات یا کسی طرف سے بےادبی یا تکلیف دہ چیز پر انتہائی حلم اور صبر کا معاملہ کرتے حالانکہ خدا تعالیٰ نے انکو ایسی سلطنت اور دبدبہ دیا تھا کہ وہ کسی بھی کوتاہی اور لغزش جو چاہتے سزا دیتے یا تو بیخ وتنبیہ کرتے چناچہ ایک دفعہ جب کہ یہ واقعہ پیش آیا کہ ناگہاں دو شخص ایک خصومت وجھگڑا لے کر انکے عبادت خانہ کی محراب پھلاند کر اندر پہنچ گئے جب کہ وہ دن داؤد (علیہ السلام) کی عبادت کا تھا کسی کو آنے کی اجازت نہ تھی لیکن یہ لوگ غیر اصولی طریقہ سے بلااجازت دیوار پھاند کر اندر گھس آئے اس پر داؤد (علیہ السلام) طبعی طور پر گھبرائے تو بیشک کہ یہ کون ہیں کیسے اندر آگئے اور کیا ارادہ ہے ان خیالات سے گھبراہٹ طبعی امر ہے لیکن صبر و تحمل سے کام لیا نہ انکی بےقاعدگی پر تنبیہ کی اور نہ ہی کوئی سزا دی حالانکہ دنیا کے معمولی حکام اور بادشاہ بھی بلااجازت اس طرح گھس آنے والوں کو برافروختہ ہو کر عتاب وملامت کا موردہی نہیں بلکہ سزا بھی دیتے ہیں ان دونوں نے آکر اپنی خصومت بیان کرنی شروع کی اور یہ مقدمہ کوئی حقیقی خصومت نہ تھی بلکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے من جانب اللہ ایک امتحان وآزمائش وتنبیہ کے طور پر دو فرشتوں کو بصورت مدعی ومدعی علیہ بھیجا گیا تاکہ جو ایک مرتبہ داؤد (علیہ السلام) کو ایک خیال اعجاب وخود پسندی کے درجہ میں واقع ہوا تھا اس پر تنبیہ ہوجائے مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے بارگاہ خداوندی میں ایک بار محض اللہ کے انعام کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا اے پروردگار حضرت داؤد (علیہ السلام) کے گھرانہ میں رات اور دن میں سے کوئی ساعت ایسی نہیں گزرتی جس میں آل داؤد میں سے کوئی نہ کوئی فرد تیری عبادت (نماز، ذکر وتسبیح) میں مشغول نہ رہتا ہو کیونکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے شب وروز کے چوبیس گھنٹوں کو اپنے گھروالوں پر نوبت عبادت کے لیے اس طرح تقسیم کر رکھا تھا کہ ایک لمحہ کے لیے ان کا عبادت خانہ سے خالی نہ رہنے پائے اور خود اپنی ذات کے لیے دن مقرر کر رکھے تھے اور جو دن عبادت کا مقرر تھا اس میں اس کے سوا اور کوئی کام انجام نہ دیتے ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ یہ میرا حسن انتظام ہے کہ میں نے اپنے معمولات کو کیسا مرتب کر رکھا ہے کہ اس میں بحمد اللہ کوئی خلل نہیں آتا اللہ رب العزت کو یہ بات حضرت داؤد (علیہ السلام) کے مقام کے لحاظ سے ناپسند ہوئی اس بات میں اگرچہ اللہ ہی کا شکر تھا اور اسکی حمد وتعریف تھی مگر پھر ایک طرح اعجاب وخود پسنی کا شائبہ تھا انبیاء (علیہم السلام) کا مقام اس قدر عالی وبلند تر ہوتا ہے کہ یہ معمولی شائبہ بھی خدا کو ناپسند ہوا کیونکہ بڑوں کی معمولی اور چھوٹی بات بھی بڑی اور قابل گرفت سمجھی جاتی ہے۔ حاشیہ نمبر 1 (شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) نے بحوالہ مدارج السالکین ص 99 ج 1 فرمایا بعض آثار میں ہے کہ بندہ اگر کوئی نیکی کرکے یہ کہتا ہے کہ اے پروردگار میں نے یہ کام کیا میں نے صدقہ کیا میں نے نماز پڑھی میں نے کھانا کھلایا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور میں نے تیری مدد کی میں نے تجھ کو توفیق دی “ اور جب بندہ کہتا ہے اے پروردگار تو نے میری مدد کی تو نے مجھ کو توفیق بخشی اور تو نے مجھ پر احسان فرمایا تو اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے “ اور تو نے عمل کیا، تو نے ارادہ کیا، تو نے یہ نیکی کی “ (فوائد قرآن کریم شیخ الاسلام ) بعض روایات میں ہے ارشاد ہوا اے داؤد (علیہ السلام) ! یہ سب کچھ ہماری توفیق سے ہے اگر ہماری توفیق ومدد شامل حال نہ ہو تو تو اس چیز پر قدرت نہیں پاسکتا خواہ ہزار کوشش کرلے اور نہ ہی نبھا سکے گا قسم ہے میری عظمت و جلال کی میں ایک روز تجھ کو اپنے نفس کے سپرد کردوں گا (یعنی اپنی مدد ہٹالوں گا) پھر دیکھنا کہاں تک تو اپنی عبادت ومعمول کو برقرار رکھ سکتا ہے عرض کیا اے پروردگار مجھے اس دن کی خبر کردیجئے پس اسی روز قدرت خداوندی سے یہ معاملہ پیش آیا اور اس طرح اس آزمائش میں مبتلا کیے گئے چناچہ وہ فریقین ایک خصومت لے کر اندر گھس آئے اور ایک نے دوسرے کے ظلم وتعدی کی داستان بیان کرنی شروع کردی اس کے سننے کے بعد یہ فرماتے ہیں (آیت ) ” لقد ظلمک بسؤال نعجتک الی نعاجہ وان کثیرا من الخلطآء لیبغی بعضھم علی بعض الا الذین امنوا وعملوا الصالحات وقلیل ماھم “۔ کہ اے شخص بیشک تیری ساتھی نے تجھ پر ظلم کیا اس بات کا مطالبہ کرکے کہ تیری دنبی بھی اپنی دنبیوں میں شامل کرلے اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے شرکاء اسی طرح ایک دوسرے پر ظلم کیا کرتے ہیں بجزان لوگوں کے جو ایمان لائیں اور عمل کریں تو اس طرح کی بات چیت اور مقدمہ کے سننے میں اور اس پر اس طرح کے اظہار خیال میں سلسلہ عبادت منقطع ہوگیا اور وہ معمول برقرار نہ رہ سکا جس پر وہ ایک نوع کا خیال آیا تھا فورا ہی چونک گئے اور سمجھ گئے کہ یہ خدا کی طرف سے میری آزمائش تھی جس کے ذریعہ مجھے یہ دکھلایا گیا کہ باوجود انتہائی کوشش کے کوئی بھی اپنے معمول و عبادت کو بغیر توفیق اور مدد خداوندی باقی نہیں رکھ سکتا۔ 1 حاشیہ نمبر 1 (حاکم (رح) نے مستدرک میں اس روایت کو بیان کیا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ صحیح الاسناد ہے ذہبی (رح) نے تلخیص میں اس کو درست قرار دیا۔ ) حالانکہ پہردار تھے پوری حفاظت ونگرانی تھی معمول مقرر تھا اور اس پر پابند بھی تھے لیکن ناگہاں کس طرح دو شخص تمام انتظامات کو درہم برہم کرکے اندر داخل ہوگئے اور اپنی خصومت وگفتگو میں مصروف کرکے عبادت میں انقطاع وخلل پیدا کردیا اسی چیز کو فتنہ وآزمائش کے عنوان سے (آیت ) ” وظن داؤد انما فتنہ “۔ میں تعبیر کیا گیا لفظ کا اطلاق اس جگہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک حدیث میں آتا ہے (حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ حدیث مروی ہے جس کو امام ترمذی (رح) ابو داؤد (رح) اور امام نسائی (رح) نے اپنی سنن میں تخریج کیا ہے 12۔ ) کہ آنحضرت ﷺ ایک دن خطبہ دے رہے تھے سامنے نظر پڑی حسن و حسین ؓ بچپن میں جس طرح بچے قمیص میں لڑکھڑاتے پھرتے ہیں اسی طرح سامنے سے آرہے ہیں آپ ﷺ سے صبر نہ ہوسکا خطبہ قطع کیا منبر سے اترے اور انکو اٹھالیا اور پھر ارشاد فرمایا ” صدق اللہ انما اموالکم واولادکم فتنۃ “۔ میں نے ان بچوں کو دیکھا کہ یہ آرہے ہیں تو مجھ سے صبر نہ ہوسکا یہاں تک کہ مجھے اپنی بات قطع کرنا پڑی تو جیسے یہاں حضور اکرم ﷺ نے بچوں پر نظر پڑنے اور اس وجہ سے خطبہ کو کچھ لمحہ کے لئے روک دینے کو فتنہ سے تعبیر کیا بالکل ایسا ہی یہاں محسوس ہوتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے عبادت میں خلل و انقطاع کو فتنہ سمجھا اور خداوند عالم نے انکے اس تاثر اور تخیل کی اسی لفظ کے ساتھ تعبیر کردی (آیت) ” وظن داؤد انما فتنہ “۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ذہن میں اس خیال کا آنا تھا کہ گھبرا گئے اور فورا تو بہ و استغفار میں مصروف ہوگئے اور اس قدر انابت الی اللہ کا رنگ غالب آیا کہ سر بسجود ہوئے بارگاہ خداوندی میں تضرع وزاری کرنے لگے اسی کیفیت کو بیان فرمایا جارہا ہے ، (آیت ) ” فاستغفر ربہ وخرراکعا واناب “۔ ظاہر ہے کہ ایسی معمولی چو ک پر یہ آہ وزاری اور سجدہ میں گر پڑنا اور توبہ و استغفار میں مصروف ہوجانا بہت ہی عظیم مقام ہے خشیت خداوندی اور انابت الی اللہ کا اس توبہ و استغفار کی عظمت اور سجود وانابت الی اللہ کا مقام اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے جو عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا ایک شخص۔ 1 (یہ ابوسعید خدری ؓ تھے شیخ جزری (رح) نے تصیحح المصابیح میں اسی کی تصریح کی ہے مرقاۃ شرح مشکوۃ بحوالہ حاشیہ مشکوۃ المصابیح 12۔ ) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیان کیا یا رسول اللہ آج رات میں نے اپنے کو خواب میں اس طرح دیکھا کہ ایک درخت کے پیچھے کھڑا نماز پڑھ رہا ہوں میں نے سجدہ کیا تو درخت بھی میرے ساتھ سجدہ میں گر پڑا میں نے یہ سنا درخت یہ تسبیح پڑھ رہا ہے۔ ” اللھم اکتب لی بھا عندک اجرا وحط عنی بھا وزرا واجعلھا لی عندک ذخرا وتقبلھا منی کما تقبلت من عبدک داؤد (علیہ السلام) “۔ اے اللہ تو اس سجدہ کی وجہ سے اپنے یہاں میرے لیے ایک اجر لکھ دے اور اسکی وجہ سے ایک گناہ معاف فرمادے اور اپنے یہاں اس سجدہ کو میرے واسطے ذخیرہ بنا لے اور تو اس سجدہ کو ایسا ہی قبول فرمالے جیسا کہ تو نے اپنے بندہ داؤد (علیہ السلام) سے قبول کیا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے یہ خواب سنتے ہی آیت سجدہ تلاوت فرمائی (بظاہر یہی آیت سجدہ تلاوت فرمائی ہوگی جو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے اس واقعہ پر مشتمل ہے یعنی (آیت ) ” وظن داؤد انما فتناہ فاستغفر ربہ وخر راکعا واناب “۔ اور پھر سر بسجود ہوئے اور میں نے سنا آپ ﷺ وہی کلمات پڑھ رہے ہیں جو اس شخص نے درخت سے سنے ہوئے الفاظ نقل کیے تھے اسی حد تک بات نہیں بلکہ اس سجدۂ داؤدی کا تو یہ مقام ہے مجاہد (رح) بیان کرتے ہیں میں نے ابن عباس ؓ سے یہ دریافت کیا کہ کیا میں سورة ص میں سجدۂ تلاوت کیا کروں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں (آیت ) ” ومن ذریتہ داؤد وسلیمن وایوب ویوسف ...... اولئک الذین ھدی اللہ فبھدھم اقتدہ “۔ تک۔ : اور فرمایا تمہارے نبی ﷺ کو تو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ ان حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی پیروی کریں اور ظاہر ہے کہ جب داؤد (علیہ السلام) کا سجدہ میں گرپڑنا اس آیت میں بیان کیا جارہا ہے اور ان کی پیروی کا حکم خود تمہارے پیغمبر کو دیا گیا تو تم پر بدرجہ اولی اس کی تعمیل ضروری ہوگی اس حدیث نے سجدۂ داؤد (علیہ السلام) کی جو عظمت ظاہر کی وہ اظہر من الشمس ہے تو ظاہر ہے کہ ایک معمولی سی بات (جو صرف اس حد تک تھی کہ شکر خداوندی کے ساتھ خود پسندی کا شائبہ محسوس ہونے لگا تھا، پر ایسی توبہ و استغفار اور تضرع وانابت الی اللہ کے ساتھ سربسجود ہونا بیشک ایسے ہی انعام کا ذریعہ ہوسکتا ہے جس کو ارشاد فرمایا گیا (آیت ) ” فغفرنا لہ ذلک وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “۔ معمولی سی بات پر ایسی بےقراری اور تضرع وزاری سے بندہ کے مقامات اس قدر بلند ہوتے ہیں کہ برس ہابرس کی عبادات بھی اس کو ایسے عظیم اور بلند مقام پر نہیں پہنچا سکتیں اس بنا پر اس توبہ و استغفار پر خلافت فی الارض کا عظیم ثمرہ وانعام مرتب ہوا جس کو (آیت ) ” یاداؤد انا جعلنا ک خلیفۃ فی الارض “۔ میں ذکر فرمایا گیا کہ اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے تم کو زمین میں اپنا نائب بنادیا لہذا تم اسی کے حکم پر چلو اور معاملات کے فیصلے عدل و انصاف کے ساتھ کرتے رہو کبھی کسی معاملہ میں خواہش نفس کا ادنی شائبہ بھی نہ آنے پائے۔ رہا یہ امر کہ مقدمہ میں خصومت کرنے والوں نے جو صورت مقدمہ پیش کی (آیت ) ” اخی لہ تسع وتسعون نعجۃ ولی نعجۃ واحدۃ “۔ اس کا کوئی تعلق حضرت داؤد (علیہ السلام) کے کسی واقعہ سے نہیں اور نہ ان الفاظ میں ان کی کسی بات کی طرف تلیمح و اشارہ ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معاملات میں پیش آنے والے مظالم وزیادتیوں کا بیان ہے کہ اس طرح ہر طاقتور اپنے کمزور بھائی پر ظلم کرتا اور انسان کی حرص کی کوئی انتہاء نہیں حتی کہ اگر اسکے پاس 99 دنبیاں ہوں اور اس کے غریب بھائی کے پاس صرف ایک ہی بکری ہو تو وہ یہی چاہے گا اور اپنی امکانی حد تک یہی تدبیر کرے گا کہ اس غریب بھائی کی وہ ایک بکری بھی قبضالے۔ رہی یہ بات کہ اس ظلم وتعدی کی روش کو بیان کرنے میں دنبیوں کا کس وجہ سے ذکر کیا گیا ؟ ہوسکتا ہے کہ اس زمانہ میں زیادہ ترمعیشت کا مالک بکریاں ہی ہوتی ہوں اور یہ تعبیر ایسی ہی ہو جس طرح کہ بعض احادیث میں مال و دولت کے تمول کے سلسلہ میں اونٹوں کا ذکر ہے مثلا حضرت علی ؓ کے لیے آپ ﷺ کا ارشاد ” لئن یھدی اللہ بک رجلا واحدا خیرلک من حمر النعم “ اے علی اگر تیرے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو ہی ہدایت دے دے تو یہ تیرے واسطے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہوگا اور کتاب فضائل القرآن میں ہے اگر کوئی شخص صبح ہی صبح مسجد میں دو آیتیں کتاب اللہ کی کسی کو سکھا دے تو دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین آیات تین اونٹنیوں سے بہتر اور اسی طرح جس قدر تعداد آیات کتاب اللہ کی تعلیم دے گا فرمایا گیا تو یہاں ان آیات میں دنبیوں کا ذکر اس زمانہ کے قابل قدر مال ہونے کی حییثت سے ہوسکتا ہے نہ یہ کہ اس سے کسی خاص پیش آمدہ واقعہ کی طرف تلیمح و اشارہ ہو اور ننانوے کا عدد جمع میں انتہائی عدد ہے اور ایک عدد قلت میں سب سے آخری درجہ رکھتا ہے اس وجہ سے ظالم کا باوجود کثرت مال کے غریب وتنگدست پر جو انتہائی غربت و افلاس کے مقام پر ہو ظلم وتعدی کرنا ننانوے اور ایک کے عدد سے تعبیر کیا گیا۔ بعض حضرات مفسرین کے کلام سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ داؤد (علیہ السلام) کی وہ لغزش جس پر من جانب اللہ تنبیہ کی گئی یہ تھی کہ انہوں نے محض مدعی کے بیان پر ایک کو ظالم اور دوسرے کو مظلوم کے درجہ میں قرار دے کر یہ فرمایا (آیت ) ” لقد ظلمک بسؤال نعجتک الی نعاجہ “۔ حالانکہ اولا یہ چاہئے تھا کہ مدعی کے دعوی کے بعد مدعی علیہ سے وضاحت طلب کرتے پھر مدعی سے بینہ اور ثبوت طلب کرتے اس کے بعد یہ فرماتے، مگر بظاہر قرائن مؤیدہ کے باعث سمجھ لیا کہ واقعی ان میں سے ایک تعدی کررہا ہے اور دوسرا اس صورت حال میں مظلوم ہے تو قانون سماعت دعوی میں بظاہر کچھ کمی رہ گئی تھی تو اس پر فورا ہی متنبہ ہو کر استغفار ودعا اور تضرع میں مصروف ہوگئے۔ خلیفہ اور بادشاہ میں فرق : ان آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کو انعامات خداوندی میں سے خلافت فی الارض کے انعام و اعزاز سے نوازنے کا ذکر فرمایا گیا نبوت و رسالت تو پہلے ہی عطا فرما دی گئی تھی مزید انعام یہ فرمایا کہ اس کے ساتھ سلطنت و حکومت سے بھی نواز دیا گیا اور ساتھ ہی اس عظیم منصب کی اہم ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلادی کہ (1) (آیت) ” فاحکم بین الناس بالحق “۔ اے داؤد (علیہ السلام) لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کرنا۔ (2) (آیت ) ” ولا تتبع الھوی “۔ کے خواہش نفس کی کبھی پیروی نہ کرنا کیونکہ عدل و انصاف کے قیام میں اصل رکاوٹ خواہشات نفس ہیں اس لئے یہ بات ظاہر ہے کہ خواہش نفس کی پیروی نہ کرنا کیونکہ عدل و انصاف کے قیام میں اصل رکاوٹ خواہشات نفس ہیں اس لیے یہ بات ظاہر ہے کہ خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا کسی طرح بھی عدل قائم نہیں کرسکتا اور خلافت الہیہ کی اصل حقیقت قیام عدل ہی ہے ان دوبنیادی ذمہ داریوں کو بیان فرماتے ہوئے یہ ظاہر کردیا گیا کہ انکی اساس فکر آخرت ہے فکر آخرت سے عدل بھی قائم کیا جاسکتا ہے اور ہوائے نفس سے بھی انسان محفوظ رہ سکتا ہے۔ ازالۃ الخلفاء میں حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرۂ نے خلیفہ اور بادشاہ میں فرق کے موضوع پر کلام کرتے ہوئے فرمایا ایک بار حضرت عمر ؓ نے طلحہ ؓ ، زیبر ؓ ، کعب احبار ؓ ، اور سلمان فارسی ؓ ، سے دریافت کیا کہ بتاؤ خلیفہ اور بادشاہ میں کیا فرق ہے حضرت سلمان ؓ ، نے کہا خلیفہ وہ ہے جو رعیت میں عدل کرے اور مال غنیمت برابر تقسیم کرے اور رعایا پر اس طرح شفقت کرے جیسے اپنے اہل و عیال پر کرتا ہو کعب احبار ؓ کہنے لگے میرا خیال تو یہ تھا کہ یہ معنی اس مجلس میں میرے علاوہ شاید کوئی اور شخص نہ جانتا ہو۔ سلیمان بن ابی العوجاء ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز عمر فاروق ؓ اپنی مجلس میں یہ فرمانے لگے میں نہیں جانتا کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ حاضرین مجلس میں سے ایک شخص بولا اے امیر المومنین خلیفہ اور بادشاہ میں بین فرق ہے اور وہ یہ کہ خلیفہ مال نہیں لیتا مگر حق کے ساتھ اور خرچ نہیں کرتا مگر حق کے ساتھ اور آپ بحمد اللہ ایسے ہی ہیں اسکے برعکس بادشاہ ظلم کرتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے لے لیتا ہے اور جسے چاہے دیتا ہے (اور خدا کے فضل سے آپ ایسے نہیں ہیں) یہ سن کر آپ خاموش ہوگئے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ رونے لگے بعض روایات میں ہے کہ امیر معاویہ ؓ جب منبر پر بیٹھتے تو یہ کہا کرتے، خلافت نہ مال جمع کرنا کا نام ہے اور نہ خرچ کرنے کا، بلکہ خلافت اس کا نام ہے کہ حق پر عمل کرے اور فیصلہ میں عدل کرے اور لوگوں کو حکم الہی پر قائم کرے ازالۃ الخفاء ص 584 ان آخری کلمات میں یہ بھی واضح کردیا گیا کہ اصل حاکمیت صرف اللہ کے لئے ہے کیونکہ اس کا کام تو احکام الہیہ کا نفاذ ہے اس لحاظ سے اس عظیم ذمہ داری کے انجام دینے لیے ایک خاص ہدایت یہ فرما دی گئی (آیت ) ” فاحکم بین الناس بالحق “۔ کہ حق کے مطابق فیصلہ کرنے اور اقامت عدل میں نفس کی خواہشات حائل بنتی ہیں تو اس سے اجتناب کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا (آیت ) ” ولا تتبع الھوی “ کہ نفس کی خواہش کی پیروی ہرگز نہ کرنا اور اتباع ہوی اور نفس کی پیروی کا نتیجہ بھی بیان کردیا گیا (آیت ) ” فیضلک عن سبیل اللہ “۔ کہ خدا کی راہ سے بھٹکنا ہے اور خدا کی راہ سے بھٹکنے اور گمراہ ہوجانے کا انجام عذاب آخرت ہے تو ان چند الفاظ ہی میں گویا اسلامی سلطنت کے فرمانروا کی حیثیت و حقیقت اسکی ذمہ داریاں اور ذمہ داریوں کو انجام دینے میں رکاوٹ پیدا کرنے والے اسباب اور اس پر مرتب ہونے والے نتائج وثمرات بیان فرمادیئے گئے اب اسی مناسبت سے آیندہ آیات (آیت ) ” وما خلقنا السمآء والارض “۔ میں تخلیق کائنات کی غرض اور دنیا میں انسانی حیات کا مقصد ذکر فرمایا جارہا ہے۔
Top