Mazhar-ul-Quran - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ : آپ صبر کریں عَلٰي : اس پر مَا يَقُوْلُوْنَ : جو وہ کہتے ہیں وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عَبْدَنَا : ہمارے بندے دَاوٗدَ : داؤد ذَا الْاَيْدِ ۚ : قوت والا اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : خوب رجوع کرنے والا
اے محبوب ﷺ2، ) تم ان کی باتوں پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو (عبادت کی بڑی) قوت رکھتا تھا بیشک وہ بڑا رجوع کرنے والا تھا
حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 2) حضرت داؤد (علیہ السلام) جب صبح شام ذکر الٰہی کرتے تھے ان کے ساتھ پہاڑ اور جانور بھی ذکرالٰہی کیا کرتے تھے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) پہاڑوں اور جانوروں کے ذکرالٰہی کا مطلب سمجھتے تھے اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو فوج ولشکر کی کثرت عطا فرمائی ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ روئے زمین کے بادشاہوں میں حضرت داؤد کی بادشاہت بڑی مضبوط اور قوی بادشاہت تھی چھتیس ہزار مرد آپ کے محراب کے پہرے میں رہتے تھے پھر فرمایا کہ ہم نے حضرت داؤد کو حکمت یعنی نبوت عطا کی ۔ فصل خطاب یعنی وہ کلام وہ عقل جو مدعی ، مدعی علیہ کے درمیان جلد فیصلہ کردے، کسی مقدمہ میں نہ رکتے، سچا حکم جھٹ سنادیتے آگے فرمایا کہ اے محبوب کیا تمہیں وہ جھگڑے والوں کی بھی خبرآئی جبکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے عبادت خانہ میں جہاں کوئی پہنچ نہ سکتا تھا دوجھگڑنے والے کود کر پہنچے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) باوجود اپنی قوت اور شوکت کے یہ ناگہاں ماجرادیکھ کر گھبرا گئے کہ یہ آدمی ہی یا کوئی اور مخلوق۔ آدمی ہیں تو بےوقت آنے کی ہمت کیسے ہوئی دربانوں نے کیوں نہیں روکا، اگر دروازے سے نہیں تو اتنی اونچیں دیواروں کو پھاندنے کی کیا سبیل کی ہوگی، خدا جانے ایسے غیرمعمول طور پر کس نیت اور کس غرض سے آئے ہیں آنے والوں نے کہا کہ آپ گھبرائیے نہیں اور ہم سے خوف نہ کھائیے ہم دوفریق اپنے ایک جھگڑنے کا فیصلہ کرانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں آپ ہم میں منصفانہ فیصلہ کردیجئے کوئی بےراہی اور ٹالنے کی بات نہ ہو، ہم عدل و انصاف کی سیدھی راہ معلوم کرنے آئے ہیں ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ میرے اس دینی بھائی کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے یہ چاہتا ہے کہ وہ ایک بھی کسی طرح مجھ سے چھین کر سو پوری کرے اور مشکل یہ آن پڑی ہے کہ جیسے مال میں یہ مجھ سے زیادہ ہے بات کرنے میں بھی مجھ سے تیز ہے جب بولتا ہے تو مجھ کو دبالیتا ہے غرض میرا حق چھیننے کے لیے زبردستی کی باتیں کرتا ہے، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے سن کر یہ فیصلہ کیا کہ جو شخص ننانوے دنبیاں رکھ کر اپنے دینی بھائی کے پاس ایک دنبی بھی نہیں دیکھ سکتا وہ بڑی ناانصافی کرتا ہے اس فیصلہ کے بعد حضرت داؤد نے یہ بھی فرمایا کہ ایک معاملہ میں جہاں چند شخص شریک ہوتے ہیں وہاں اکثر ایسے معاملے پیش آتے ہیں کہ ایک بھائی دوسرے پر ظلم کرنے لگتا ہے کہ قوی حصہ دار چاہتا ہے کہ ضعیف کو کھاجائے مگر جو لوگ مسلمان ہیں اعمال صالحہ خالصتا اللہ ادا کرتے ہیں وہ ایسی باتوں سے بچتے ہیں اور وہ دنیا میں بہت تھوڑے ہیں۔
Top