Jawahir-ul-Quran - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ : آپ صبر کریں عَلٰي : اس پر مَا يَقُوْلُوْنَ : جو وہ کہتے ہیں وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عَبْدَنَا : ہمارے بندے دَاوٗدَ : داؤد ذَا الْاَيْدِ ۚ : قوت والا اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : خوب رجوع کرنے والا
تو تحمل کرتا رہ اس پر جو وہ کہتے ہیں18 اور یاد کر ہمارے بندے داؤد قوت والے کو19 وہ تھا رجوع رہنے والا
18:۔ اصبر الخ : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ اور نفی شفاعت قہری پر پہلی نقلی دلیل ہے۔ آپ صبر و تحمل سے کام لیں۔ ہم ان کو ان کی گستاخانہ روش کی سخت سزا دینگے۔ اور ان کو داؤود (علیہ السلام) کا قصہ سنائی کہ اس قدر جلالت شان کے باوجود ایک خلاف اولی فعل پر ان کو بھی تنبیہہ کی گئی۔ بھلا یہ سرکش اور گستاخ کس طرح چھورے جاسکتے ہیں ( واذکر عبدنا داوٗد) وکرامتہ علی اللہ کیف زل تلک الزلۃ الیسیرۃ فلقی من عتاب اللہ مالقی (مدارک ج 4 ص 28) ۔ ساتھ ہی نفی شفاعت قہری پر یہ دلیل نقلی بھی ہے۔ یعنی داؤود (علیہ السلام) ایسے جلیل القدر پیغمبر جو نہایت ہی عابد و زاہد اور ساتھ ہی ایک عظیم بادشاہ بھی تھے لیکن بایں ہمہ ان سے ایک لغزش ہوگئی جس کی بنا پر انہیں تنبیہہ کی گئی۔ اس لیے وہ کسی طرح بھی خدا کی بارگاہ میں شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ دلیل نقلی از انبیاء دو قسم کی ہوتی ہے۔ اول یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) کے اقوال اور ان کی تعلیمات کو نقل کیا جائے۔ دوم یہ کہ ان کے احوال نقل کیے جائیں اور ان سے استشہاد کیا جائے۔ اس سورت میں دلیل نقلی کی قسم ثانی مراد ہے۔ 19:۔ ذا الاید الخ یہ حضرت داود (علیہ السلام) کی صفت ہے۔ اید بمعنی قوت و طاقت۔ حضرت داود (علیہ السلام) اللہ کی عبادت میں نہایت مضبوط اور چاک و چوبند رہتے تھے۔ ہر رات نصف شب اللہ کی عبادت میں گذارتے اور ہر دوسرے د روزہ رکھتے تھے۔ یہ ان کی ساری زندگی کا معمول تھا۔ اواب اللہ کی طرف بہت زیادہ رجوع رکھنے والا اور اس کی عبادت وطاعت میں لگا رہنے والا (روح) ۔
Top