29. Al-Ankabootالعنكبوت
The Spider · Meccan · 69 ayahs · 7 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمّٓۚ﴿1﴾
الف۔ لام۔ میم۔اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ﴿2﴾
کیا لوگوں نے یہ خیال کیا ہے کہ محض یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوٹ جائیں گے اور وہ آزمائے نہ جائیں گے۔وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ﴿3﴾
اور ہم تو انہیں بھی آزماچکے ہیں جو ان سے قلب گزرے ہیں سو اللہ ان لوگوں کو جان کررہے گا جو سچے تھے اور جھوٹوں کو بھی جان کر رہے گا۔اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ﴿4﴾
ہاں تو کیا جو لوگ برے برے کام کررہے ہیں وہ یہ بھی خیال کررہے ہیں کہ ہم سے نکل بھاگیں گے کیسی بیہودہ ان کی (یہ) تجویز ہےمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿5﴾
جو کوئی اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو سو اللہ کا وہ معین وقت تو ضرور ہی آنے والا ہے۔ اور وہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے۔وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ﴿6﴾
اور جو کوئی محنت کرتا ہے وہ اپنے ہی لئے محنت کرتا ہے۔ بیشک اللہ سارے عالم سے بےنیاز ہے۔وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿7﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے ہم ان کے گناہ ان سے دور کرکے رہیں گے۔ اور ہم ان کو ان کے اعمال کا زیادہ اچھا بدلہ دے کر رہیں گے۔وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿8﴾
اور ہم نے حکم دیا ہے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ سلوک نیک کا لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو کسی چیز کو میرا شریک بنا جس کی کوئی دلیل تیرے پاس نہیں تو تو ان کا کہا نہ ماننا تو سب کو میرے ہی پاس آنا ہے میں تمہیں جتلا دوں گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہتے تھے۔وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ﴿9﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں ہم نیک بندوں میں داخل کرکے رہیں گےوَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ﴿10﴾
اور بعضے آدمی ایسے ہیں جو (زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے پھر جب اللہ (کی راہ) میں تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو لوگوں کی اذیت رسانی کو مثل عذاب الہی کے سمجھنے لگتے ہیں۔ اور اگر کوئی مدد آپ کے پروردگار کی طرف سے آپہنچتی ہے۔ تو کہنے لگتے ہیں ہم تو تمہارے ساتھ تھے ہی۔ کیا اللہ کو دنیا جہان والوں کے دلوں کی باتیں خوب معلوم نہیں ؟۔وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ﴿11﴾
اور اللہ ایمان والوں کو بھی معلوم کرکے رہے گا اور منافقوں کو بھی معلوم کرکے رہے گاوَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ﴿12﴾
اور کافر ایمان والوں سے کہتے ہیں ہماری راہ چلو اور تمہارے گناہ ہمارے ذمہ حالانکہ یہ لوگ ان کے گناہوں میں سے ذرا بھی نہیں لے سکتے یہ بالکل جھوٹے ہیںوَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ع﴿13﴾
اور یہ لوگ اپنے گناہ اپنے اوپر لادے ہوں گے اور اپنے گناہوں کے ساتھ کچھ اور گناہ بھی۔ اور ان سے قیامت کے دن باز پرس ہو کر رہے گی جیسی جیسی باتیں یہ گڑھتے رہتے تھےوَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ﴿14﴾
اور بالیقین ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا تو وہ ان کے درمیان پچاس سال کم ایک ہزار برس رہے پھر ان کو طوفان نے آدبایا اور وہ (بڑے) ظالم لوگ تھےفَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ﴿15﴾
پھر ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو بچالیا اور ہم نے اس (واقعہ) کو دنیا جہان والوں کے لئے ایک نشان بنادیا۔وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿16﴾
اور ابراہیم کو (بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا) جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی پرستش کرو اور اس سے ڈرو یہ بہتر ہوگا تمہارے حق میں اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہواِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿17﴾
تم تو اللہ کو چھوڑ کر محض بتوں کو پوج رہے ہو اور جھوٹ تراشتے ہو۔ جنہیں تو اللہ کو چھوڑکرپوج رہے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ سو تم لوگ رزق اللہ کے ہاں سے تلاش کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر ادا کرو۔ اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ﴿18﴾
اور اگر تم لوگ (مجھے) جھٹلا رہے ہو تو تم سے پہلے بھی امتیں (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکی ہیں اور پیغمبر کے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہوتا ہے۔اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ﴿19﴾
کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ کس طرح مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا یہ اللہ کے نزدیک بہت ہی آسان بات ہےقُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ﴿20﴾
آپ کہیے تم لوگ زمین میں چلو پھرو پھر اس پر نظر کرو اللہ نے کس طرح مخلوق کو اول بار پیدا کیا پھر اللہ پچھلی بار بھی پیدا کرے گا بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ﴿21﴾
عذاب دے گا اسے جس کی بابت اس کی مشیت ہوگی اور رحم کرے گا اس پر جسے وہ چاہے گا اور اسی کے پاس تم سب لوٹ کر جاؤ گے۔وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ع﴿22﴾
اور تم نہ زمین میں ہرا سکتے ہو اور نہ آسمان میں اور اللہ کے سوا کوئی تمہارا نہ کار ساز ہے نہ مددگار۔وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿23﴾
اور جو لوگ اللہ کی نشانیوں اور سامنے جانے کے منکر ہیں وہی تو ہیں جو میری رحمت سے مایوس ہوں گے۔ اور وہی تو ہیں جنہیں عذاب دردناک ہوگافَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿24﴾
سو ان (ابراہیم) کی قوم کا (آخری) جواب بس یہی تھا کہ کہنے لگے انہیں قتل کرڈالو یا انہیں جلا ڈالو سو اللہ نے ان کو (اس) آگ سے بچا لیا۔ بیشک (اس واقعہ) میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ﴿25﴾
اور (ابراہیم نے یہ بھی) کہا کہ تم نے تو بس اپنے باہمی تعلقات دنیا کی بناء پر اللہ کو چھوڑ کر بت تجویز کر رکھے ہیں پھر قیامت میں تم سے ایک دوسرے کا منکر ہوجائے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی حمایتی نہ ہوگا۔فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿26﴾
پھر لوط ؑ نے ان کی تصدیق کی۔ اور (ابراہیم علیہ السلام) بولے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ترک وطن کرکے چلا جاؤں گا بیشک وہی بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿27﴾
اور ہم نے انہیں اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ عطا کیا۔ اور ہم نے ان کی نسل میں نبوت اور کتاب کو قائم رکھا۔ اور ہم نے ان کو ان کا صلہ دنیا میں (بھی) دیا اور آخرت میں یقیناً وہ (بڑے) نیک کاروں میں ہوں گے۔وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ﴿28﴾
اور لوط کو (بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا) جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بیشک تم تو ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان والوں میں کسی نے نہیں کیا۔اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿29﴾
ارے ! تم تو مردوں سے فعل کرتے ہو اور تم رہزنی کرتے ہو اور تم بھری مجلس میں ممنوعات کا ارتکاب کرتے ہو۔ سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہی تھا کہ ہم پر عذاب لے آؤ اگر تم سچے ہوقَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ع﴿30﴾
) لوط ؑ نے) دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے (ان) مفسد لوگوں پر غالب کردے۔وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ﴿31﴾
اور جب ہمارے قاصد ابراہیم ؑ کے پاس بشارت لے کر آئے۔ تو کہنے لگے ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں بیشک اس کے پاشندے بڑے بدکار ہیں۔قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ﴿32﴾
ابراہیم ؑ نے) کہا (مگر) وہاں تو لوط (بھی) ہیں (فرشتے) بولے ہم کو خوب معلوم ہے وہاں کون کون رہتا ہے ہم لوط اور ان کے گھروالوں کو بچا دیں گے بجز ان کی بیوی کے کہ وہ (عذاب میں) رہ جانے والوں میں ہوگی۔وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ﴿33﴾
اور پھر جب ہمارے (وہ) قاصد لوط ؑ کے پاس پہنچے تو وہ ان (کے آنے) سے مغموم ہوگئے اور ان کے سبب سے بہت کڑھے۔ (اس پر ان فرستادوں نے) کہا آپ اندیشہ نہ کریں اور مغموم نہ ہوں ہم بچا لیں گے آپ کو اور آپ کے گھروالوں کو بجز آپ کی بیوی کے کہ وہ (عذاب میں) رہ جانے والوں میں ہوگیاِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ﴿34﴾
ہم اس بستی کے باشندوں پر ایک عذاب آسمانی انکی بدکاریوں کی پاداش میں نازل کرنے والے ہیںوَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿35﴾
اور ہم نے اس بستی کے کچھ نشان رہنے دیئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں۔وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ﴿36﴾
اور مدین (والوں) کی طرف (ہم نے) ان کے بھائی شعیب ؑ کو (پیغمبر بنا کر بھیجا) انہوں نے کہا کہ اے میری قوم والو اللہ کی عبادت کرو اور روز قیامت سے ڈرو اور ملک میں فساد مت پھیلاؤفَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘﴿37﴾
سو ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا بس انہیں زلزلہ نے آپکڑا وہ اپنے گھروں میں اوندھے گر کر رہ گئے۔وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ﴿38﴾
اور عاد وثمود کو (بھی ہم نے ہلاک کیا) اور یہ تم پر انکے مسکنوں سے ظاہر ہوچکا ہے۔ اور شیطان نے انکے اعمال (بد) کو ان کی نظر میں خوش نما کر دکھایا تھا اور ان کو راہ (حق) سے روک رکھا تھا اور وہ لوگ (ویسے) ہوشیار تھے۔وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ﴿39﴾
اور قارون اور فرعون اور ہامان کو (بھی ہم نے ہلاک کیا) اور موسیٰ ؑ یقیناً ان لوگوں کے پاس کھلے نشان لے کر آچکے تھے لیکن انہوں نے زمین پر سرکشی کی اور بھاگ نہ سکے۔فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿40﴾
سو ہم نے (ان میں سے) ہر ایک کو اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑلیا سو ان میں سے کسی پر تو ہم نے تند ہوا بھیجی اور ان میں سے کسی کو ہولناک آواز نے آ دبایا۔ اور ان میں سے کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کسی کو ہم نے غرق کردیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا البتہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ﴿41﴾
جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور کارساز تجویز کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی مثال ہے اس نے ایک گھر بنایا اور مکڑی کا گھر سب گھروں سے زیادہ بودا ہوتا ہے۔ کاش انہیں اس حقیقت کا علم ہوتا۔اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿42﴾
بیشک اللہ کے سوا جس کسی کو بھی پکارتے رہتے ہیں۔ اللہ ان سب کو جانتا ہے اور وہ بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ﴿43﴾
ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انہیں بس علم والے ہی سمجھتے ہیں۔خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ع﴿44﴾
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے (بالکل) ٹھیک طور پر اسی میں (بھی بڑی) دلیل ہے ایمان والوں کے لیے۔اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ﴿45﴾
جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے پڑھا کیجیے اور نماز کی پابندی رکھیے۔ بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے۔ اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے اور اللہ تمہارے سب کاموں کو جانتا ہے۔وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ﴿46﴾
اور تم اہل کتاب سے مباحثہ مت کرو بجز مہذب طریقہ کے سوا ان میں سے ان لوگوں کے جو زیادتی کریں۔ اور کہہ دو کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اس (کتاب) پر بھی جو ہم پر نازل ہوئی اور ان (کتابوں) پر بھی جو تم پر نازل ہوئیں اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود تو ایک ہی ہے اور ہم تو اسی کے فرمانبردار ہیں۔وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ﴿47﴾
اور اسی طرح ہم نے آپ پر کتاب نازل کی سو جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان بھی لے آتے ہیں۔ اور ان لوگوں میں سے بھی بعض اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ہماری آیتوں سے بجز (کٹے) کافروں کے اور کوئی منکر نہیں ہوتا۔وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ﴿48﴾
اور آپ تو اس (قرآن) سے قبل نہ کوئی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور نہ اسے (یعنی کوئی کتاب) اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے ورنہ (یہ) ناحق شناس لوگ شبہ نکالنے لگتے۔بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ﴿49﴾
بات یہ ہے کہ یہ (کتاب خود ہی بہت ہی) کھلی ہوئی نشانیاں ہے ان لوگوں کے ذہن میں جنہیں علم عطا ہوا ہے۔ اور ہماری آیتوں سے تو بس ضدی ہی لوگ انکار کرتے ہیں۔وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ﴿50﴾
اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر کوئی نشان ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نہیں اترے۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشان تو بس اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ اور میں تو بس ایک صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ع﴿51﴾
کیا ان لوگوں کیلئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ کے اوپر کتاب نازل کی ہے جو ان کو سنائی جاتی رہتی ہے۔ بےشبہ اسی (کتاب) میں بڑی رحمت اور نصیحت ہے ایمان والے لوگوں کے لئے۔قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿52﴾
آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان بطور گواہ کے اسی ہر چیز کی خبر ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے ہیں اور اللہ کے منکر ہیں وہی تو ہیں بڑے گھاٹے میں پڑے ہوئے۔وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿53﴾
اور یہ لوگ آپ سے جلدی کررہے ہیں۔ عذاب کی۔ اور اگر یہ میعاد متعین نہ ہوتی تو ان پر عذاب آچکا ہوتا اور (وہ عذاب) ان پر اچانک آپڑے گا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ﴿54﴾
آپ سے جلدی کررہے ہیں عذاب کی اور یقیناً دوزخ کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿55﴾
جس دن کے عذاب ان پرچھا جائے گا ان کے اوپر سے بھی اور ان کے پیروں کے نیچے سے بھی (اللہ) کہے گا (اب) مزا چکھو اس کا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ﴿56﴾
اے میرے ایمان داربندوں میری زمین تو بہت وسیع ہے سواکیلی میری ہی پرستش کرو۔كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ﴿57﴾
ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم سب ہماری طرف واپس لائے جاؤ گے۔وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ﴿58﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے۔ ہم ان کو جنت میں جگہ دیں گے بالا خانوں پر جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے کیا اچھا اجر ہے نیک کام کرنے والوں کاالَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ﴿59﴾
جنہوں نے صبر کیا اور اپنے پروردگار پر توکل کیا کرتے تھے۔وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿60﴾
اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی غذا اٹھا کر نہیں رکھتے اللہ ہی انہوں روزی پہنچاتا ہے اور تم کو بھی اور وہی خوب سننے والا ہے (اور) خوب جاننے والا ہے۔وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ﴿61﴾
اور اگر آپ ان سے دریافت کرے کہ وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج و چاند کو کام میں لگا دیا تو وہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے تو پھر یہ ادھر الٹے چلے جارہے ہیں۔اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿62﴾
اللہ روزی کھول دیتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے اور (جس کیلئے چاہے) تنگ کردیتا ہے بیشک اللہ ہی ہر چیز سے خوب واقف ہے۔وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ع﴿63﴾
اور اگر آپ ان سے پوچھئے کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا پھر اس سے زمین کو اس کی خشکی کے بعد تروتازہ کردیا تو بھی یہ لوگ کہیں گے کہ اللہ نے آپ کہیے الحمدللہ۔ لیکن ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ﴿64﴾
اور یہ دنیوی زندگی بجز کھیل تماشہ کے کچھ ہے ہی نہیں۔ اور عالم اخرت ہی اصل زندگی ہے۔ کاش انہیں (اس کا) علم ہوتا۔فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ﴿65﴾
اور جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب وہ انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو یہ لوگ فورا ہی شرک کرنے لگتے ہیں۔لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ﴿66﴾
یعنی جو (نعمت) ہم نے انہیں دی ہے اس کی ناشکری کرنے لگتے ہیں یہ لوگ چندے اور حظ اٹھا لیں پھر تو انہیں عنقریب معلوم ہی ہوا جاتا ہے۔اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ﴿67﴾
کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم نے (ان کے شہر کو) امن والاحرام بنایا ہے۔ اور ان کے گرد وپیش لوگوں کو نکالا جارہا ہے تو کیا یہ لوگ جھوٹے معبودوں پر ایمان رکھیں گے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہی کرتے رہے گے۔وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ﴿68﴾
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ افتراء کرے اور سچی بات جب اس کے پاس آئے تو اسے جھٹلائے کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہ ہوگا۔وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ع﴿69﴾
اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم ان کو اپنے راستے ضرور دکھادیں گے اور بیشک خلوص والوں کے ساتھ ہے۔