39. Az-Zumarالزمر

The Groups · Meccan · 75 ayahs · 8 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ﴿1﴾

    یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے ا۔
  2. اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ﴿2﴾

    بیشک ہم نے آپ کی طرف اس) کتاب کو ٹھیک ٹھیک نازل کیا ہے سو آپ خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کی عبادت کرتے رہئے۔
  3. اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ﴿3﴾

    یاد رکھو عبادت خالص اللہ ہی کے لئے ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور شرکاء تجویز کر رکھے ہیں (کہ) ہم تو ان کی پرستش بس اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں۔ بیشک اللہ ان کے درمیان فیصلہ کردے گا جس بات میں یہ باہم اختلاف کررہے ہیں بیشک اللہ اسے راہ پر نہیں لاتا جو جھوٹا ہو ناشکرا ہو۔
  4. لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴿4﴾

    اگر اللہ کسی کو اولاد بنانے کا ارادہ کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا وہ پاک ہے۔ وہ اللہ واحد ہے زبردست ہے۔
  5. خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ﴿5﴾

    آسمان اور زمین اس نے حکمت سے پیدا کئے ہیں وہ رات کو لپیٹتا ہے دن پر اور دن کو لپیٹتا ہے رات پر اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ ہر ایک وقت مقررہ تک چلتا رہے گا۔ یاد رکھو وہ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے۔
  6. خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ﴿6﴾

    اسی نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور تمہارے لئے اس نے چارپایوں کے آٹھ (تعداد میں) جوڑے پیدا کئے ا۔ وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بناتا ہے ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر تین تین تاریکیوں میں۔ یہی ہے اللہ تمہارا پروردگار اسی کی حکومت ہے کوئی خدا بجز اس کے نہیں سو تو کہاں پھرے چلے جارہے ہو۔
  7. اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿7﴾

    اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تمہارا حاجت مند نہیں۔ اور نہ وہ اپنے بندوں کیلئے کفر کو پسند کرتا ہے اور اگر تم لو شکر کروگے تو وہ اسے تمہارے لئے پسند کرتا ہے۔ اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا تا۔ پھر تمہیں اپنے پروردگار کے پاس لوٹ کر جانا ہوگا سو وہ تم کو تمہارے (سارے) اعمال بتا دے گا بیشک وہ دلوں تک کی باتوں کا جاننے والا ہے۔
  8. وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ﴿8﴾

    اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کو اسی کی طرف رجوع ہو کر پکارنے لگتا ہے پھر جب اللہ اس کو اپنے پاس سے نعمت عطا کردیتا ہے تو پیشتر جس کے لئے (اس کو) پکار رہا تھا بھول جاتا ہے اور اللہ کے شریک بنانے لگتا ہے جس سے وہ اللہ کی راہ سے (دوسروں کو بھی) گمراہ کرتا ہے آپ کہہ دیجیے کہ اپنے کفر کا مزہ کچھ دن اور اٹھا لے تو دوزخیوں میں سے تو ہونے والا ہی ہے۔
  9. اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ع﴿9﴾

    بھلا جو شخص رات کے اوقات میں سجدہ و قیام کی حالت میں عبادت کررہا ہو آخرت سے ڈر رہا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید کررہا ہو۔ آپ کہیے کہ کیا علم والے اور بےعلم کہیں برابر بھی ہوتے ہیں ؟ نصیحت تو بس وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔
  10. قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴿10﴾

    آپ کہہ دیجیے اے میرے ایمان والے بندو اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو جو لوگ اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک صلہ ہے اور اللہ کی زمین فراخ ہے۔ ثابت قدم رہنے والوں کو بھی اجر بیشمار ملے گا۔
  11. قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ﴿11﴾

    آپ کہہ دیجیے کہ مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں اللہ کی عبادت خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے کروں
  12. وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ﴿12﴾

    اور مجھے یہ بھی حکم ملا ہے کہ میں سب مسلمانوں میں اول ہوں۔
  13. قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿13﴾

    آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو (اپنے لئے) ایک عظیم الشان دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں۔
  14. قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ﴿14﴾

    آپ کہہ دیجیے میں اللہ کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ اپنے دین کو اس کے لئے خالص رکھتا ہوں
  15. فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ﴿15﴾

    سو تمہارا دل جس چیز کو چاہے عبادت کرو اللہ کو چھوڑ کر۔ آپ کہ دیجیے کہ پورے زیاں کار وہی لوگ ہیں جو اپنی جانوں سے اور اپنے متعلقین سے قیامت کے روز خسارہ میں پڑے یاد رکھو کہ یہی صریح خسارہ ہے۔
  16. لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ﴿16﴾

    ان کے لئے اوپر سے بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی شعلے ہوں گے یہ وہی (عذاب) ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اے میرے بندومجھ سے ڈرو۔
  17. وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ﴿17﴾

    اور جو لوگ اس سے بچے رہتے ہیں کہ شیطان کی پرستش کریں اور اللہ کی طرف متوجہ رہتے ہیں ان کے لئے بشارت ہے سو آپ بشارت دے دیجیے
  18. الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ﴿18﴾

    میرے انہیں بندوں کو جو (اس) کلام کو کان لگا کر سنتے ہیں پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پر چلتے ہیں۔ یہی ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور یہی ہیں جو ذی عقل ہیں۔
  19. اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ﴿19﴾

    بھلا جس پر عذاب کی بات متحقق ہوچکی تو کیا آپ ایسے شخص کو جو دوزخ میں ہوگا چھڑا سکتے ہیں ؟۔
  20. لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ﴿20﴾

    البتہ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں ان کیلئے بالاخانے ہیں جن کے اوپر بنے بنائے (تیار) بالاخانے ہیں ان کے نیچے نہریں چل رہی ہیں (یہ) اللہ کا وعدہ ہے (اور) اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔
  21. اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ع﴿21﴾

    کیا تو نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اسے زمین کے سوتوں میں داخل کردیا پھر وہ اس کے ذریعہ سے کھیتیاں پیدا کرتا ہے جس کی مختلف قسمیں ہیں پھر وہ کھیتی خشک ہوجاتی ہے سو تو اس کو زرد دیکھتا ہے پھر وہ اس کو چورا چورا کردیتا ہے اس (نمونہ قدرت) میں بڑی نصیحت ہے اہل عقل کیلئے۔
  22. اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿22﴾

    سو جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کیلئے کھول دیا اور وہ اپنے پروردگار کے نور پر چل رہا ہے (کیا ایسا شخص اور اہل قساوت برابر ہوسکتے ہیں ؟) سو بڑی خرابی ان لوگوں کے لئے ہے جن کے دل اللہ کے ذکر کی طرف سے سخت ہیں یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں۔
  23. اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ﴿23﴾

    اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے ایک کتاب باہم ملتی جلتی ہوئی اور بار بار دہرائی ہوئی۔ اور اس سے ان لوگوں کی جلد جو اپنے پرور دگا رسے ڈرتے ہیں کانپ اٹھتی ہے پھر ان کی جلد اور ان کے قلب اللہ کے ذکر کے لئے نرم ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی (طرف سے آئی ہوئی) ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعہ سے ہدایت کردیتا ہے اور اللہ جسے بےراہ کردے اس کے لئے ہادی کوئی نہیں۔
  24. اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ﴿24﴾

    بھلا جو شخص قیامت کے دن عذاب سخت کو اپنے چہرہ پر لے گا اور (ایسے) ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو (تو کیا ایسا شخص اور جو ایسا نہ ہو برابر ہوسکتے ہیں ؟)۔
  25. كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿25﴾

    ان کے قبل والوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا سو ان پر عذاب ایسے طور پر آپڑا کہ ان کو گمان بھی نہ تھا۔
  26. فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ﴿26﴾

    سو اللہ نے انہیں دنیوی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور آخرت کا عذاب تو اور سخت ہے کاش یہ لوگ سمجھ جاتے۔
  27. وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ﴿27﴾

    اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی ہدایت کے لئے ہر قسم کے مضمون بیان کردیئے ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کرتے رہیں
  28. قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ﴿28﴾

    قرآن واضح جس میں کوئی کجی نہیں تاکہ لوگ ڈرتے رہیں۔
  29. ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿29﴾

    اللہ مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی ساجھی ہیں آپس میں باہم ضد رکھنے والے اور ایک اور شخص ہے کہ پورا ہی ایک شخص کی (ملک) ہے تو کیا دونوں کی حالت یکساں ہے ؟۔ الحمد للہ مگر ہے یہ کہ ان میں سے اکثر سمجھتے ہی نہیں۔
  30. اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘﴿30﴾

    آپ کو بھی مرنا ہے اور انہیں بھی مرنا ہے
  31. ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ع﴿31﴾

    پھر قیامت کے دن تم (دونوں فریق) اپنے پروردگار کے روبرو مقدمہ پیش کرو گے۔
  32. فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ﴿32﴾

    تو اس سے بڑھ کر بےانصاف کون ہے جو اللہ پر جھوٹ لگائے اور سچی بات کو جھٹلائے جبکہ وہ اس کے پاس پہنچے کیا (ایسے) کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہ ہوگا ؟۔
  33. وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ﴿33﴾

    اور جو لوگ سچی بات لے کر آئے اور (خود بھی) اس کو سچ جانا تو یہی لوگ تو پرہیزگار ہیں
  34. لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ﴿34﴾

    وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس سب کچھ ہے یہ صلہ ہے اہل اخلاص کا۔
  35. لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿35﴾

    تاکہ اللہ ان سے انکے عمل کی برائیوں کو دور کردے اور ان کے عمل کی نیکیوں کا انہیں (پورا) اجر دے۔
  36. اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ﴿36﴾

    کیا اللہ اپنے بندۂ (خاص) کے لیے کافی نہیں ؟ اور یہ لوگ آپ کو ان سے ڈراتے ہیں جو اللہ کے علاوہ ہیں۔ اور جسے اللہ گمراہ کردئے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں
  37. وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ﴿37﴾

    اور جسے اللہ ہدایت دیا سے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ زبردست (اور) انتقام پر قادر نہیں ؟۔
  38. وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ﴿38﴾

    اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یہی کہیں گے کہ اللہ نے آپ کہہ دیجئے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اللہ کے سوا تم جنہیں پکارتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کی (دی ہوئی) تکلیف کو دور کرسکتے ہیں یا اللہ مجھ پر عنایت کرنا چاہے تو یہ اس کی عنایت کو روک سکتے ہیں ؟۔ آپ کہہ دیجئے کہ میرے لئے تو اللہ کافی ہے توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں۔
  39. قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ﴿39﴾

    کہہ دیجئے کہ اے میری قوم والو تم اپنی حالت پر عمل کئے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں سو عنقریب تم جان لوگے
  40. مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ﴿40﴾

    کہ کوئی شخص ہے جس پر اسے رسوا کرنے والا عذاب آیا چاہتا ہے اور جس پر عذاب مستقل نازل ہوگا۔
  41. اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ع﴿41﴾

    ہم نے آپ پر یہ کتاب لوگوں کیلئے اتاری ہے حق کے ساتھ سو جو کوئی راہ ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی لئے اور جو کوئی بےراہ ہوگا تو اس کی بےراہی بھی اسی پر پڑے گی اور آپ ان پر ذمہ دار نہیں کئے گئے ہیں۔
  42. اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿42﴾

    اللہ جانوں کو قبض کرتا ہے ان کی موت کے وقت اور ان (جانوں) کو بھی جن کی موت نہیں آئی ہے ان کے سونے کے وقت۔ پھر وہ ان (جانوں) کو تو روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم کرچکا ہے اور باقی (جانوں) کو ایک میعاد معین کیلئے رہا کردیتا ہے۔ بیشک اس (سارے تصرف) میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو سوچتے رہتے ہیں۔
  43. اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ﴿43﴾

    اچھا تو کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا (دوسروں کو) سفارشی قرار دے رکھا ہے ؟) آپ کہہ دیجئے کہ اگرچہ یہ (سفارشی) کچھ بھی قدرت نہ رکھتے ہوں اور نہ کچھ سمجھتے بوجھتے ہوں۔
  44. قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿44﴾

    آپ کہہ دیجئے سفارش تمامتر اللہ ہی کے اختیار میں ہے اسی کی سلطنت آسمانوں اور زمین میں ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹ کرجاؤ گئے۔
  45. وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ﴿45﴾

    اور جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے انکے دل منقبض ہونے لگتے ہیں اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس وقت یہ لوگ خوش ہوجاتے ہیں۔
  46. قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿46﴾

    آپ دعا کیجئے کہ اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے باطن اور ظاہر کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کردے گا جن امور میں یہ اختلاف کرتے رہتے تھے۔
  47. وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ﴿47﴾

    اور اگر شرک کرنے والوں کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا ہی اور بھی تو ان سب کو وہ قیامت کے دن عذاب سخت کے فدیہ میں دینے لگیں۔ اور اللہ کی طرف سے انہیں وہ پیش آکر رہے گا جس کا انہیں گمان بھی نہ تھا۔
  48. وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿48﴾

    (اس وقت) ان پر ان کے (تمام) برے اعمال ظاہر ہو کر رہیں گے اور انہیں وہ (عذاب) آگھیرے گا جس پر وہ استہزاء کیا کرتے تھے۔
  49. فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿49﴾

    جس وقت آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ ہم کو پکارتا ہے لیکن جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ یہ کہتا ہے کہ یہ مجھے (اپنی) تدبیر سے ملی ہے۔ اصل یہ ہے کہ وہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔
  50. قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿50﴾

    یہ بات ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پیشتر ہوگذرے ہیں سو ان کی کارروائی ان کے کچھ بھی کام نہ آئی۔
  51. فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ﴿51﴾

    بلکہ ان کی (ساری) بدعملیاں ان پر آپڑیں اور ان میں جو لوگ ظالم ہیں ان پر ان کی بدعملیاں ابھی آپڑنے والی ہیں اور وہ ہرا نہیں سکتے۔
  52. اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ع﴿52﴾

    کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی جس کا چاہتا ہے رزق بڑھا دیتا ہے اور وہی تنگ بھی کردیتا ہے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے واسطے۔
  53. قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ﴿53﴾

    آپ (میری طرف سے) کہہ دیجئے کہ اے میرے بندوجو اپنے اوپر زیادتیاں کرچکے ہو اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو۔ بیشک اللہ سارے گناہ معاف کردے گا۔ بیشک وہ بڑا غفور ہے بڑا رحیم ہے۔
  54. وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ﴿54﴾

    اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کی فرمانبرداری کرو قبل اس کے کہ تم پر عذاب واقع ہونے لگے جب تمہیں کوئی مدد نہ پہنچ سے۔
  55. وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ﴿55﴾

    اور اپنے پروردگار کی طرف سے اترے ہوئے اچھے اچھے حکموں پر چلو قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تم کو اس کا خیال بھی نہ ہو۔
  56. اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ﴿56﴾

    یہ حکم اس لئے دیا جاتا ہے کہ) کہیں کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے خدا کی جناب میں کی اور میں تو تمسخر ہی کرتا رہا
  57. اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ﴿57﴾

    یا کوئی یہ کہنے لگے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت دیدی ہوتی تو میں (بھی) پرہیزگاروں میں ہوتا
  58. اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿58﴾

    یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ کاش میرا پھرجانا ہوجائے پھر میں نیک بندوں میں ہوجاؤں۔
  59. بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ﴿59﴾

    کیوں نہیں ! ارے تجھ پر تو میری آیتیں یقیناً پہنچ چکی تھیں سو تو نے ان کو جھٹلایا اور تو نے تکبر کیا اور تو کافروں میں شامل ہورہا۔
  60. وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ﴿60﴾

    اور آپ قیامت کے دن ان لوگوں کے چہرے سیاہ دیکھیں گے جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا تھا کیا (ان) متکبرین کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے ؟۔
  61. وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿61﴾

    اور جو لوگ بچ رہے تھے اللہ ان لوگوں کو کامیابی کے ساتھ نجات دے گا ان کو نہ تکلیف پہنچے گی اور نہ یہ غمگین ہوں گے
  62. اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ﴿62﴾

    اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے ہر چیز کا اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔
  63. لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ع﴿63﴾

    اسی کے اختیار میں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں اور جو لوگ اللہ کی آیتوں سے (اب بھی) انکار کئے جاتے ہیں وہی لوگ بڑے گھاٹے میں پڑنے والے ہیں۔
  64. قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ﴿64﴾

    آپ کہہ دیجئے کہ اے جاہلو کیا پھر بھی تم مجھ سے غیر اللہ کی عبادت کرنے کی فرمائش کرتے ہو ؟۔
  65. وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿65﴾

    اور واقعہ یہ ہے کہ آپ کی طرف بھی اور جو آپ سے قبل گزر چکے ہیں ان کی طرف بھی یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ (اے مخاطب) اگر تو نے شرک کیا تو تیرا عمل (سب) غارت ہوجائے گا اور تو خسارہ میں پڑکر رہے گا
  66. بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ﴿66﴾

    تو تو اللہ ہی کی عبادت کرنا اور شکر گزار رہنا۔
  67. وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿67﴾

    اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی۔ اور حال یہ ہے کہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے وہ پاک ہے اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے۔
  68. وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ﴿68﴾

    اور صور پھونکا جائے گا تو ان سب کے ہوش اڑجائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں بجز اس کے کہ جس کو اللہ چاہے پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو دفعۃ سب کے سب اٹھ کھڑے ہوں گے دیکھتے بھالتے ہوئے۔
  69. وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿69﴾

    اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے اور سب میں ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔
  70. وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ع﴿70﴾

    اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ ملے گا اور اللہ سب کے کاموں کو خوب جانتا ہے۔
  71. وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ﴿71﴾

    اور جو کافر ہیں وہ گروہ گروہ جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اس تک پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور ان سے دوزخ کے محافظ کہیں گے کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور تم کو تمہارے اس دن کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے۔ وہ (کافر) کہیں گے ہاں (کیوں نہیں) لیکن عذاب کی بات (آخر) کافروں پر پوری ہو کر رہی۔
  72. قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ﴿72﴾

    (پھر) کہا جائے گا دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو (اور) اس میں (ہمیشہ) پڑے رہو تو غرض کہ بڑا برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا۔
  73. وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ﴿73﴾

    اور جو لوگ اہل تقوی تھے وہ جنت کی طرف گروہ گروہ روانہ کئے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوں گے اور وہاں کے محافظ ان سے کہیں گے سلام علیکم مزہ میں رہو سو اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ۔
  74. وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ﴿74﴾

    اور وہ کہیں گے اللہ کا (لاکھ لاکھ) شکر ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں (اس) زمین کا مالک کردیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں تو غرض کہ عمل کرنے والوں کا کیسا اچھا انعام ہے۔
  75. وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿75﴾

    اور آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ حلقہ باندھے ہوں گے عرش کے گردا گرد اپنے پروردگار کی تسبیح وحمد کرتے ہوئے اور بندوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا اور آواز آئے گی کہ ساری خوبیاں اللہ پروردگار عالم ہی کیلئے ہیں۔