Ahkam-ul-Quran - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
سب طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے
سورة فاتحہ نماز میں سورة فاتحہ کی قرأت ہمارے تمام اصحاب کا قول ہے کہ نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت کے اندر سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ ایک اور سورة کی قرأت کی جائے گی۔ اگر نمازی ان رکعتوں میں سورة فاتحہ کی قرأت ترک کر کے اس کے بجائے کوئی اور سورت پڑھ لے تو یہ بری حرکت ہوگی۔ تاہم نماز ہوجائے گی۔ امام مالک کا قول ہے کہ اگر نمازی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ نہ پڑھے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ کفایت کرنے والی قرأت کی کم سے کم مقدار سورة فاتحہ کی قرأت ہے۔ اگر نمازی سورة فاتحہ کا ایک حرف بھی چھوڑ دے اور نماز سے باہر ہوجائے تو اسے نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ الا عمش خیثمہ سے اور انہوں نے عباد ربعی سے روایت بیان کی کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ جس نماز میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ دو یا اس سے زائد آیتوں کی قرأت نہ کی جائے وہ نماز نہیں ہوتی۔ ابن علیہ نے الجریری سے، انہوں نے ابن بریدہ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا : جس نماز میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ دو یا اس سے زائد آیتوں کی قرأت نہ کی جائے وہ نماز نہیں ہوتی۔ “ معمر نے ایوب سے اور انہوں نے ابو العالیہ سے روایت بیان کی کہ انہوں نے فرمایا :” میں نے حضرت ابن عباس سے نماز کی ہر رکعت میں قرأت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا :” قرآن میں سے پڑھ لو چاہے تھوڑی چاہے زیادہ، اور قرآن میں سے کوئی چیز قلیل نہیں ہے۔ “ حسن بصری، ابراہیم نخعی اور شعبی سے مروی ہے کہ جو نمازی سورة فاتحہ کی قرأت بھول جائے اور اس کے بجائے کسی اور سورة کی قرأت کرے تو اس سے اسے نقصان نہیں پہنچے گا اور اس کی نماز ہوجائے گی۔ “ دکیع نے جو یربن حازم سے اور انہوں الولید بن یحییٰ سے روایت بیان کی ہے کہ حضرت جابربن زید ایک دن نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور پھر (مدھا متان) کی قرأت کر کے رکوع میں چلے گئے۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت عمران سے جو روایت منقول ہے کہ سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ دو آیتوں کی قرأت کے بغیر نماز نہیں ہوتی وہ تکمیل کے جواز پر محمول ہے۔ اصل کی نفی پر محمول نہیں ہے کیونکہ فقہا کے درمیان اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ صرف سورة فاتحہ کی قرأت کے ساتھ نماز مکمل ہوجاتی ہے۔ اگرچہ سورة فاتحہ کا تارک بری حرکت کا مرتکب قرار پائے گا تاہم اس کے بغیر نماز کے جواز کی دلیل یہ قول باری ہے (اقم الصلوۃ لدلواری الشمس الی غسق اللیل و قرآن الفجر) آفتاب ڈھلنے کے بعد سے رات کے اندھیرے تک نماز ادا کیجیے اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کیجیے ) اس سے مراد فجر کی نماز میں قرآن پڑھنا ہے۔ کیونکہ اہل اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ فجر کی نماز کے وقت نماز میں قرآن کی قرأت فرض ہے۔ امر کا صیغہ اس وقت تک ایجاب پر محمول ہوتا ہے جب تک ندب یعنی استحباب کی دلالت قائم نہ ہوجائے۔ اس لئے مذکورہ بالانص کا ظاہر اس امر کا مقتضی ہے کہ نماز میں نمازی جہاں کہیں سے بھی قرآن کی قرأت کرے نماز ہوجائے گی کیونکہ اس میں قرآن کے کسی خاص حصے کی قرأت کی تخصیص نہیں ہے۔ اس پر یہ قول باری بھی دلالت کرتا ہے : فاقروا ماتیسومن القرآن (قرآن میں سے جو کچھ آسانی سے پڑھا جاسکے اس کی قرأت کرو) اس سے نماز کے اندر قرأت مراد ہے اور اس کی دلیل یہ قول باری ہے : ان ربک یعکم انک تقوم ادنیٰ من ثلثی اللیل ) (آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے کہ آپ رات کی دو تہائی کھڑے رہتے ہیں) تا قول باری : فاقروا ماتیسر من القرآن۔ امت کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ بات صلوۃ اللیل کے متعلق کہی گئی ہے۔ ہمارے نزدیک قول باری : فاقروا ماتیسر من القرآن میں عموم ہے جو صلوۃ اللیل اور دیگر نوافل و فرائض سب کو شامل ہے کیونکہ نص کے الفاظ میں عموم ہے۔ اس سے فرائض و نوافل تمام نمازیں مراد ہیں۔ اس کی دلیل حضرت ابوہریرہ اور حضرت رفاعہ بن رافع کی وہ حدیث میں جس میں ذکر ہے کہ جب ایک بدوی نے نماز اچھی طرح ادا نہیں کی تو آپ نے اسے نما ز کا طریقہ سکھاتے ہوئے فرمایا : پھر جتنا قرآن آسانی سے پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو۔ “ ہمارے نزدیک آپ کا یہ حکم قرآن سے ہی صادر ہوا تھا کیونکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی ایسا حکم دیتے جو قرآن میں مذکورہ حکم کے مترادف ہوتا تو اس صورت میں یہ کہنا واجب ہوجاتا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم قرآن سے دیا ہے۔ مثلاً چور کے قطع ید کا حکم اور زانی کو کوڑے لگانے کا حکم اور اسی طرح کے دوسرے احکام۔ مذکورہ بالا حکم میں آپ نے فرض یا نفل کی تخصیص نہیں کی جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آپ کی مراد تمام نمازوں کے لئے عام ہے۔ یہ حدیث دو وجوہ سے سورة فاتحہ کے بغیر نماز کے جواز پر دلالت کرتی ہے : پہلی وجہ تو یہ ہے کہ آیت کی مراد تمام نمازوں کے لئے عام ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مذکورہ حدیث سورة فاتحہ کے بغیر نماز کے جواز کے لئے بنفسہ مستقل دلیل ہے۔ نیز یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ صلوۃ اللیل کے بارے میں نازل ہونے والی اس آیت کی تائید اگر کسی حدیث سے نہ بھی ہوتی تو بھی یہ بات صلوۃ اللیل کے سوا دیگر فرائض و نوافل میں اس آیت کے حکم کے لزوم کے لئے مانع نہ بنتی اور اس کا مانع نہ بننا دو وجوہ کی بنا پر ہے : پہلی وجہ یہ ہے کہ جب یہ حکم صلوۃ اللیل میں ثابت ہوگیا تو دیگر تمام نمازیں بھی اسی طرح کی ہوگئیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ قرأت کے اندر فرض اور نقل نمازوں میں کوئی فرق نہیں ہے نیز یہ کہ جو قرأت نفل کے اندر جائز ہے وہ فرض کے اندر بھی جائز ہے جس طرح رکوع اور سجود نیز دیگر تمام ارکان صلوۃ کے اندر نفل اور فرض میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ یہاں اگر کوئی یہ کہے کہ تمہارے نزدیک فرض اور نفل نمازوں میں فرق ہے اس لئے کہ فرض کی آخری دو رکعتوں میں تمہارے نزدیک قرأت واجب نہیں ہے اور نفل کے اندر یہ واجب ہے ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات تو اس امر پر دلا ہے کہ قرأت کے حکم میں نفل نماز فرض نماز سے زیادہ مئوکد ہے اس لئے جب سورة فاتحہ کے بغیر نقل نماز جائز ہوجاتی ہے تو فرض نماز بطریق اولیٰ جائز ہوجائے گی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی نے بھی فرض اور نفل نمازوں میں فرق نہیں کیا ہے، یعنی جس نے ان میں سے ایک کے اندر سورة فاتحہ کی قرأت واجب کی ہے اس نے دوسری کے اندر بھی یہ قرأت واجب کردی ہے اور جس نے ان میں سے ایک کے اندر سورة فاتحہ کی فرضیت ساقط کردی ہے اس نے دوسری کے اندر بھی اس کی فرضیت کا اسقاط کردیا ہے اور جب ظاہر آیت سے ہمارے نزدیک سورة فاتحہ کے بغیر نفل نماز کا جواز ثابت ہوگیا تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ فرض نماز کا حکم بھی ایسا ہی ہو ۔ اگر کوئی شخص کہے کہ سورة فاتحہ کے ترک کے جواز پر آیت کے اندر کونسی دلالت ہے ؟ تو اس سے کہا جائے گا کہ قول باری : (فاقروا ماتیسر من القرآن تخیر (اختیار دینے کا متقاضی ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ ” جو چاہو پڑھو۔ “ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص کسی سے کہے کہ میرے اس غلام کی جو قیمت بھی آسانی سے مل سکے اس کے بدلے فروخت کر دو تو اسے اختیار ہوگا کہ جو قیمت بھی اسے مناسب نظر آئے اس کے بدلے اسے فروخت کر دے۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ آیت تخییر کی مقتضی ہے تو پھر ہمارے لئے اس کا اسقاط اور ایک معین چیز یعنی سورة فاتحہ پر اقتصار جائز نہیں ہوگا۔ کیونکہ ایسی صورت میں آپ کے مقتضا یعنی تخییر کا نسخ لازم آئے گا۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ زیر بحث آیت اس قول باری کی بمنزلہ ہے : (قربانی کا جو جانور بھی میسر آسکے) یہاں اسی آیت کے ذریعے اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری پر اقتصار کا وجوب آیت کے نسخ کا سبب نہیں بنا، جبکہ (ھد) کا اسم ان جانوروں کے علاوہ ان تمام جانوروں پر صادق آتا ہے جنہیں قربانی کرنے کے لئے حرم لے جایا جاسکتا ہو اور جن کا صدقہ دیا جاسکتا ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قربانی کرنے والے کا اختیار اس طرح باقی ہے کہ وہ ان تینوں اصناف میں سے جس جانور کی چاہے قربانی دے سکتا ہے۔ اس طرح ان تینوں اصناف پر اقتصار کے وجوب کی بنا پر نہ تو نہ تو آپ کے حکم، یعنی تخییر کا رفع لازم آیا اور نہ ہی اس کا نسخ، اس اقتصار کی بنا پر تو صرف تخصیص لازم آئی۔ اس کی نظیروہ اثر ہے جو کم از کم ایک آیت کی قرأت کے بارے میں وارد ہوا ہے اور اس سے کم کی قرأت جائز نہیں ہے ۔ اس اثر کی وجہ سے آیت کا نسخ لازم نہیں ہوا کیونکہ نمازی کا یہ اختیار اب بھی باقی رہا کہ وہ قرآن میں جہاں سے بھی چاہے قرأت کرلے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ قول باری :(فاقروا ماتیسر من القرآن) کا اطلاق سورة فاتحہ کے سوا قرآن کے باقی ماندہ حصوں پر ہوتا ہے اس لئے مذکورہ قول باری میں نسخ کا کوئی پہلو نہیں ہے، تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات کئی وجوہ سے درست نہیں ہے۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس قول باری میں قرأت کا حکم نماز کے اندر قرأت سے عبارت ہے، اس بنا پر یہ قرأت صرف اسی صورت میں عبادت بنے گی جب اسے نماز کے ان ارکان میں شمار کیا جائے جن کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس قول باری کا ظاہر اس امر کا مقتضی ہے کہ نمازی نماز کے اندر جو بھی قرأت کرے اس میں اسے تخییر حاصل ہو۔ اس لئے مذکورہ قرأت کو قرآن کے بعض حصوں کے ساتھ خاص کردینا اور بعض کے ساتھ خاص نہ کرنا جائز نہیں ہوگا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ زیر بحث قول باری صیغہ امر ہے اور امر کی حقیقت اور اس کا مقتضاد جوب ہے۔ اس لئے امر کے اس صیغے کو مستحب قرأت کی طرف پھیر دینا اور واجب قرأت کو چھوڑ دینا درست نہیں ہوگا۔ ہماری مذکورہ بات پر احادیث کی جہت سے بھی دلالت ہو رہی ہے۔ ایک حدیث وہ ہے جس کی محمد بن بکر نے روایت کی، انہیں ابودائود نے، انہیں مئومل بن اسماعیل نے، انہیں حماد نے اسحقٰ بن عبداللہ ابی طلحہ سے، انہوں نے علی بن یحییٰ بن خلاد سے اور انہوں نے حضرت عمر سے کہ ایک شخص مسجد میں آیا، نماز پڑھی اور پھر آ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام عرض کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب دے کر اس سے فرمایا :” واپس جائو اور جا کر نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ “ یہ سن کر وہ شخص واپس چلا گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھ کر پھر آپ کے پاس آیا اور سلام عرض کیا آپ نے سلام کا جواب دے کر اس سے پہلی بات دہرائی۔ وہ شخص واپس چلا گیا اور حسب سابق نماز پڑھ کر واپس آپ کے پاس آیا اور سلام عرض کیا۔ آپ نے تیسری بار بھی وہی بات دہرائی اور اس نے تیسری مرتبہ بھی نماز ادا کی ۔ اس پر آپ نے فرمایا :” نماز پڑھنے والے کی نماز صرف اس وقت مکمل ہوگی جب وہ وضو کرے اور وضو کا پانی اعضائے وپو ضر ڈالے، پھر تکبیر کہے اللہ کی حمد و ثنا کرے اور قرآن میں سے جتنی چاہے قرأت کرے اور پھر اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں جائے اور رکوع میں اتنی دیر تک ہے کہ اس کے مفاصل اپنے اپنے مقام پر ٹک جائیں۔ (تا آخر حدیث) یہ حدیث محمد بن بکر نے بیان کی، ان سے ابو دائود نے، ان سے محمد بن المثنی نے ، ان سے یحییٰ بن سعید نے عبداللہ سے، ان سے سعید بن ابی سعید نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے سنی کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھی اور پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر آپ کو سلام عرض کیا (راوی نے مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ یہاں بھی بیان کئے) پھر آپ نے اس سے فرمایا :” جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو اور پھر قرآن میں سے جو کچھ آسانی سے پڑھ سکو اس کی قرأت کرو اور پھر رکوع میں جائو۔ (تاآخر حدیث) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ پہلی حدیث کے الفاظ ہیں :” پھر قرآن میں سے جتنی چاہے قرأت کرے “۔ اور دوسری حدیث کے ا لفاظ ہیں :” جو کچھ آسانی سے پڑھ سکو اس کی قرأت کرو۔ “ اس طرح آپ نے مذکورہ شخص کو اپنے حسب منشا قرأت کرنے کا اختیار دے دیا۔ اگر سورة فاتحہ کی قرأت واجب ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے ضرور اس کی تعلیم دیتے کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم تھا کہ مذکورہ شخص نماز کے احکام سے ناواقف ہے۔ اس لئے کہ ایک لاعلم شخص کو تعلیم دینے کے سلسلے میں یہ طریق کار دوست نہیں ہے کہ اسے بعض فرائض کی تعلیم دے دی جائے اور بعض دوسرے فرائض سے اسے لاعلم رکھا جائے۔ اور اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ سورة فاتحہ کی قرأت فرض نہیں ہے۔ ایک اور حدیث عبدالباقی بن قانع نے بیان کی، ان سے احمد بن علی جزار نے ، ان سے عامر بن سیار نے، ان سے ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ن، ان سے سفیان نے ابو نفرہ سے، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرأت کے بغیر کوئی نماز نہیں، نماز میں سورة فاتحہ یا قرآن کی کسی اور سورت کی قرأت کی جائے۔ “ اسی طرح محمد بن بکر نے حدیث بیان کی، ان سے ابو دائود نے ، ان سے وہب بن بقیہ نے خلد سے، انہوںں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے علی بن یحییٰ بن خلاد سے اور انہوں نے رفاعہ بن رافع سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم نماز کے لئے قبلہ رو کھڑے ہو جائو تو تکیر کہو اور پھر ام القرآن یعنی سورة فاتحہ پڑھو اور جتنی اللہ چاہے قرأت کرو۔ “(پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی) اس حدیث میں سورة فاتحہ اور دوسری سورت کی قرآت کا ذکر ہے اور یہ بات دوسری حدیث کے خلاف نہیں ہے، اس لئے کہ یہ حدیث ان معنوں پر محمول ہے کہ اگر سورة فاتحہ کا پڑھنا آسان ہو تو اس کی قرأت کرے کیونکہ مذکورہ حدیث کو قرأت کے سلسلے میں فرض کی تعیین پر محمول کرنا اس بنا پر درست نہیں ہے کہ اس سے اس تخییر کا نسخ لازم آئے گا جس کا ذکر دوسری حدیث میں آیا ہے۔ اور ایک حدیث دوسری حدیث کو منسوخ بھی نہیں کرسکتی کیونکہ دونوںں حدیثیں ایک ہی واقعہ کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ایک حدیث میں تو قرأت کے اندر تخییر کا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں سورة فاتحہ پڑھنے کا حکم ہے اور اس میں تخییر نہیں ہے، بلکہ سورة فاتحہ کے ما سوائے قرأت میں تخییر ہے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : اور پھر سورة فاتحہ پڑھو اور اس کے بعد جتنی اللہ چاہے قرأت کرو۔ “ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دوسری حدیث میں مذکورہ تخییر سورة فاتحہ کے ماسوا قرأت میں ہے۔ اس حدیث میں سورة فاتحہ کا ذکر نہیں ہے تو اس کی وجہ کسی راوی کی غفلت بھی ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں اس حدیث میں ایک اضافہ بھی موجود ہے، وہ یہ کہ اس میں بلا تخییر سورة فاتحہ کی قرأت کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جس حدیث میں تخییر کا علی الاطلاق ذکر ہے اسے اس حدیث پر محمول کرنا جائز نہیں ہے جس میں معترض کے دعویٰ کے مطابق سورة فاتحہ کا ذکر ہے کیونکہ یہ بات مممکن ہے کہ دونوں حدیثوں پر بغیر کسی تخصیص کے عمل کرلیا جائے بلکہ ہمارے لئے یہ کہنا ضروری ہے کہ مطلق حدیث میں مذکورہ تخییر کا حکم اس حدیث میں بھی ثابت ہے جو سورة فاتحہ کے ذکر کے ساتھ مقید ہے۔ اس بنا پر تخییر سورة فاتحہ اور دیگر سورتوں کے لئے عام ہوگی اور یوں سمجھا جائے گا کہ گویا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو سورة فاتحہ کی قرأت کرلو اور اس کے سوا دوسری سورت کی بھی۔ “ ایسی صورت میں سورة فاتحہ کے اندر زائد تحییر استعمال ہوگی یعنی قرأت فاتحہ کے سلسلے میں ایک زائد تخییر پر عمل ہوجائے گا اور قرأت کی بعض صورت کے ساتھ اس تخییر کی تخصیص کی ضرورت نہیں رہے گی۔ درج بالا بات پر وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جو محمد بن بکر نے روایت کی۔ انہوں نے ابو دائود سے، انہوں نے ابراہیم بن موسیٰ سے، انہوں نے عیسیٰ سے، انہوں نے جعفر بن میمون البصری سے، انہوں نے ابو عثمان النہدی سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے ، وہ فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : باہر جائو اور جا کر مدینہ میں اعلان کر دو کہ قرآن کی قرأت کے بغیر کوئی نماز نہیں، خواہ سورة فاتحہ اور اس سے زائد کی قرأت ہی سہی۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کا پہلا حصہ : قرآن کی قرأت کے بغیر کوئی نماز نہیں۔ “ اس امر کا مقتضی ہے کہ نمازی قرآن کی جو بھی قرأت کرے گا اس کی نماز ہوجائے گی۔ آپ کے ارشاد کا دوسرا حصہ : خواہ سورة فاتحہ اور اس سے زائد کی قرأت ہی سہی۔ “ بھی سورة فاتحہ کے بغیر نماز کے جواز پر دلالت کرتا ہے ۔ اس لئے کہ اگر قرأت کی فرضیت سورة فاتحہ کی قرأت کے ساتھ متعین ہوتی تو آپ یہ نہ فرماتے کہ : خواہ سورة فاتحہ اور اس سے زائد کی قرأت ہی سہی بلکہ فرماتے : سورة فاتحہ کی قرأت کے بغیر کوئی نماز نہیں۔ مذکورہ بالا بات پر اس حدیث سے دلالت ہوتی ہے جسے ابن عینیہ نے العلاء بن عبدالرحمن سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نماز کے اندر سورة فاتحہ کی قرأت نہ کی جائے وہ ناقص نماز ہے۔ “ یہ حدیث امام مالک اور ابن جریح نے العلاء سے انہوں نے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابو السائب سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے۔ دونوں حدیثوں کی سند میں راہ یوں کا اختلاف ان کی تصنیف کا باعث نہیں بن سکتا، اس لئے کہ یہ مروی ہے کہ راوی العلاء نے اپنے والد اور ابو السائب دونوں سے سماع کیا ہے۔ اس حدیث میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” خداج “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ خداج ناقص کو کہتے ہیں۔ آپ کا یہ ارشاد اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ سورة فاتحہ کی قرأت کے بغیر پڑھی گئی نماز ہو تو جاتی ہے لیکن ناقص رہتی ہے کیونکہ اگر ایسی نماز جائز نہ ہوتی تو اس پر لفظ ناقص کا اطلاق نہ کیا جاتا اس لئے کہ اس کا ناقص صورت میں اثبات اس کے بطلان کی نفی کرتا ہے کیونکہ ایسی چیز جس کا کوئی حصہ سرے سے ثابت نہ ہو اسے ناقص کے وصف سے موصوف نہیں کیا جاسکتا ۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جس اونٹنی پر ایک سال گزر جائے اور وہ حاملہ نہ ہو تو اس کے لئے یہ فقرہ استعمال نہیں ہوتا کہ : قد احدجت (اونٹنی نے ناقص بچہ جنا) بلکہ جب اونٹنی ناقص الخلقت بچہ گرا دے۔ یا مدت حمل کے اختتا م سے پہلے بچہ جن دے تو اس کے لئے ” اخدجت و خدجت “ کا فقرہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ جو اونٹنی سرے سے حاملہ ہی نہ ہوئی ہو اسے خداج کے وصف سے موصوف نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز جائز ہے کیونکہ ناقص ہونا اصل کی نفی نہیں کرتا بلکہ اصل کے ثبوت کا مقتضی ہوتا ہے، حتیٰ کہ اسے نقصان کے وصف کے ساتھ موصوف کرنا درست ہوجاتا ہے۔ عباد بن عبداللہ بن الزبیر نے بھی حضرت عائشہ سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت بیان کی ہے کہ آپ نے فرمایا :” ہر ایسی نماز جس میں فاتحہ الکتاب کی قرأت نہ کی گئی ہو وہ خدا ہے۔ “ اس حدیث میں آپ نے مذکورہ نماز کے ناقص ہونے کا اثبات کردیا اور نقصان کا اثبات اصل کے ثبوت کا موجب ہوتا ہے، جیسا کہ ہم اوپر ذکر آئے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ ایک شخص نماز پڑھتا ہے لیکن اس کے نامہ اعمال میں اس نماز کا صرف نصف حصہ، پانچواں حصہ یا دسواں حصہ لکھا جاتا ہے۔ “ آپ نے اس نقصان کی بنا پر کسی چیز کو باطل نہیں قرار دیا۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ یہ حدیث محمد بن عجلان نے اپنے والد سے۔ انہوں نے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابوالسائب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں قرآن کے کسی حصے کی قرأت نہ کی تو یہ نماز خداج ہے، خداج ہے، خداج ہے ، غیر تمام ہے۔ یہ حدیث امام مالک اور ابن عبینہ کی حدیث کی معارض ہے جس میں صرف فاتحتہ الکتاب کا ذکر ہے کسی اور سورت کا ذکر نہیں ہے۔ جب دونوں حدیثوں میں تعارض پیدا ہوگیا تو دونوں ساقط ہوگئیں۔ لیکن اس کے نتیجے میں یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ نماز میں سورة فاتحہ نہ پڑھنے کی صورت میں نماز ناقص ہوجاتی ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ محمد بن عجلان کے ذریعے امام مالک اور ابن عینیہ کا معارضہ کرنا درست نہیں ہے، بلکہ مئوخر الذکر دونوں حضرات کی بہ نسبت محمد بن عجلان کی طرف سہو اور اغفال کی نسبت زیادہ مناسب ہے۔ اس بنا ر محمد بن عجلان کی روایت کے ذریعے ان دونوں حضرات کی روایت کردہ حدیث پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ علاوہ ازیں ان دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں باتیں بیان فرمائی ہوں، یعنی ایک دفعہ سورة فاتحہ کی قرأت کا ذکر فرمایا ہو اور دوسری دفعہ مطلقاً قرأت کا ۔ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اطلاق کے ذکر سے وہ قید مراد ہو جوان دونوں حدیثوں کی خبر میں موجود ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جب یہ مان لیا جائے کہ حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں باتیں ارشاد فرمائی ہیں تو پھر محمد بن عجلان کی حدیث سرے سے کسی قرأت کے بغیر نماز کے جواز پر دلالت کرے گی کیونکہ اس حدیث میں سرے سے کسی قرأت کے بغیر نماز کو ناقص ثابت کیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ ہم بھی اس اعتراض کو قبول کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دونوں حدیثوں کا ظاہر اسی بات کا تقاضا کرتا ہے، لیکن چونکہ اس بات پر دلالت قائم ہوچکی ہے کہ ترک قرأت نماز کو فاسد کردیتا ہے، اس لئے ہم نے محمد بن عجلان کی روای تکردہ حدیث کو دوسری حدیث کے معنوں پر محمول کیا ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں ہیں سورة فاتحہ کی قرأت کے سلسلے میں کئی اور حدیثیں بھی مروی ہیں جن سے وہ حضرات استدلال کرتے ہیں جن کی رائے میں اس سورت کی قرأت فرض ہے۔ ان میں سے ایک حدیث وہ ہے جسے العلاء بن عبدلارحمٰن نے حضرت عائشہ سے اور ہشام بن زہرہ کے غلام ابوالسائب سے اور ابوالسائب نے حضرت ابوہریرہ سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیا آدھی آدھی تقسیم کردی، اس کا آدھا حصہ میرا اور آدھا حصہ میرے بندے کا ہے۔ بندہ جب الحمد للہ رب العالمین کہے، تو اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی (تا) آخر حدیث) ان حضرات نے مذکورہ حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لفظ صلوۃ سے سورة فاتحہ کی قرأت کی تعبیر کی تو یہ بات اس امر پر دال ہوگئی کہ سورة فاتحہ کی قرأت نماز کے فرائض میں شامل ہے جس طرح قول باری و قرآن الفجر میں لفظ قرآن سے نماز کی تعبیر کی گئی ہے اور اس سے نماز فجر کی قرأت مراد ہے اور یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرأت نماز کے فرائض میں شامل ہے اور جس طرح قول باری : وارکعوا مع الراکین (رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو) میں رکوع کے لفظ سے نماز کی تعبیر کی گئی ہے اور یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رکوع بھی نماز کے فرائض میں داخل ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ان دونوں لفظوں سے نماز کی تعبیر نماز میں قرأت اور رکوع کی فرضیت کی اس فرضیت سے ہٹ کر موجب نہیں ہے جسے ایجاب کا مقتضی لفظ امر شامل ہے یعنی جس طرح مذکورہ تعبیر سے فرضیت ثابت ہوتی ہے، اسی طرح امر کے صیغے سے بھی فرضیت ثابت ہوتی ہے اس بنا پر استدلال کے طور پر مذکورہ تعبیر کے ذکر کا کوئی فائدہ نہیں۔ دوسری طرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیر بحث حدیث کے الفاظ ، میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیا آدھی آدھی تقسیم کردی الخ ۔ امر کا صیغہ نہیں ہے۔ اس میں زیادہ سے زیادہ جو بات بیان ہوئی ہے وہ سورة فاتحہ کی قرأت کے ساتھ نماز پڑھنے کی ہے اور یہ ایجاب کی مقتضی نہیں ہے۔ کیونکہ نماز نوافل اور فرائض دونوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ بلکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حدیث کے ذریعے قرأت فاتحہ کے ایجاب کی نفی بیان کردی ہے، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حدیث کے آخر میں فرمایا۔” جو شخص نماز کے اندرام القرآن، یعنی سورة فاتحہ نہیں پڑھے گا اس کی یہ نماز خداج ہوگی۔ “ ا ور اس طرح آپ نے سورة فاتحہ کے عدم قرأت کی صورت میں نماز کے ناقص ہونے کا اثبات کردیا۔ یہ بات تو واضح ہے کہ آپ نے اپنے کلام کے آخری حصے میں اول حصے کو منسوخ کرانے کا ارادہ نہیں کیا اور یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حدیث میں مذکورہ قول باری (میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدمی تقسیم کردی) نیز فاتحتہ الکتاب کا ذکر اس امر کے موجب نہیں ہوں گے کہ نماز میں سورة فاتحہ کی قرأت فرض ہوجائے۔ زیر بحث حدیث کی کیفیت و ہی ہے جو اس حدیث کی ہے جسے شعبہ نے عبدربہ بن سعید سے، انہوں نے انس بن ابی انس سے، انہوں نے عبداللہ بن نافع بن العیمان سے، انہوں نے عبداللہ بن الحارث سے، انہوں نے المطلب بن ابی وداء سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” نماز دو دو رکعتیں ہیں، ہر دو رکعت میں تم تشہد پڑھو گے، اپنے رب کے سامنے مسکینی اور عاجزی کا اظہار کرو گے اور کہو گے اللھم یعنی دعا مانگو، جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس کی نماز خداج ہوگی۔ “ یہ حدیث اس امر کا موجب نہیں بنی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جن افعال کو نماز کا نام دیا ہے وہ سب نماز میں فرض قرار دیئے جائیں۔ ہمارے مخالفین حضرت عبادہ بن الصاعت کی حدیث سے بھی استدلال کرتے ہیں جس میں مذکور ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔” جس شخص نے سورة فاتحہ کی قرأت نہیں کی اس کی کوئی نماز نہیں۔ “ یہ حضرات اس حدیث سے بھی استدلال کرتے ہیں جو محمد بن بکر نے بیان کی، ان سے ابو دائود نے ان سے ابن بشار نے ، ان سے جعفر نے ابو عثمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے سنی۔ انہوں نے فرمایا کہ : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں کہ فاتحہ الکتاب اور اس سے زائد کے بغیر کوئی نماز نہیں۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آپ کا ارشاد (فاتحتہ الکتاب کے بغیر کوئی نماز نہیں) نفی اصل اور نفی کمال کا احتمال رکھتا ہے۔ اگرچہ ہمارے نزدیک حدیث کا ظاہر نفی اصل پر محمول ہوگا، حتی کہ اس بات پر دلالت قائم ہوجائے کہ نفی کمال مراد ہے اور یہ بات تو واضح ہے کہ دونوں کا ایک ساتھ ارادہ کرنا درست نہیں ہے کیونکہ اگر نفی اصل مراد لی جائے تو اس کی کوئی چیز ثابت نہیں رہے گی اور اگر نفی کمال اور اثبات نقصان مراد ہو تو لامحالہ اس کا بعض حصہ ثابت رہے گا۔ دونوں کا ایک ساتھ ارادہ مستحیل اور منتقی ہے۔ آپ نے نفی اصل کا ارادہ نہیں فرمایا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ نفی اثبات سے اس تخییر کا اسقاط لازم ہے جو قول باری : فاقرئوا ماتیسر من القرآن میں مذکور ہے اور یہ بات نسخ ہے جبکہ خبر آحاد کے ذریعے نسخ قرآن جائز نہیں ہے۔ اس پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جسے امام ابوحنیفہ، ابو معاویہ، ابن فضیل اور ابوسفیا ن نے ابونفرہ سے روای ت کیا ہے : انہوں نے حضرت سعید سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہ آپ نے فرمایا : اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے فرض اور غیر فرض نماز میں ہر رکعت کے اندر الحمد للہ اور ایک سورت کی قرأت نہ کی ہو۔ “(اس روایت میں امام ابوحنیفہ کے الفاظ ہیں : سورة فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت “ اور ابو معاویہ کے الفاظ ہیں : ” اس شخص کی کوئی نماز نہیں “ ) یہاں یہ بات واضح ہے کہ آپ نے نفی اصل مراد نہیں لی، بلکہ آپ کی مراد نفی کمال ہے کیونکہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ سورة فاتحہ کی قرأت سے نماز ہوجاتی ہے خواہ اس کے ساتھ کوئی اور سورت نہ بھی ملائی جائے۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ آپ نے نفی کمال اور ایجاب نقصان کا ارادہ فرمایا ہے۔ آپ کی مراد نفی اصل اور نفی کمال دونوں ہوں تو یہ بات درست نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ دونوں باتیں ایک دوسری کی ضد ہیں اور ایک ہی لفظ سے بیک وقت دونوں مراد لینا محال ہے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ یہ حدیث حضرت عبادہ اور حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث کے علاوہ ہے اور یہ ممکن ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ فرمایا ہو :” فاتحتہ الکتاب کے بغیر کوئی نماز نہیں۔ “ اور اس طرح نماز میں سورة فاتحہ کی قرأت فرض کردی ہو اور دوسری مرتبہ حضرت سعید کی روایت کے مطابق سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ کسی اور سورت کی قرأت کی بات بیان کی ہو اور اس طرح سورة فاتحہ کے ساتھ کسی اور سورت کی قرأت نہ کرنے پر نفئی کمال مراد لی ہو۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ معترض کے پاس دونوں حدیثوں کی تاریخ و رود موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت موجود ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دونوں حدیثیں دو حالتوں کے اندر بیان فرمائی ہیں۔ اس لئے کسی ایسی دلالت کی ضرورت ہے جس سے یہ ثابت ہوجائے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو حالتوں کے اندر یہ دونوں حدیثیں بیان فرمائی تھیں ۔ ایسی صورت میں معترض کے مخالف کو یہ کہنے کا حق ہے یہ بات ثابت نہ ہوسکی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دونوں باتیں دو وقتوں میں فرمائی تھیں اور دونوں روایتیں ثابت ہیں تو میں نے ان دونوں کو ایک ہی حدیث قرار دے دیا۔ اسے بعض راویوں نے تو پورے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور بعض نے اس کے بعض الفاظ چھوڑ دیئے ہیں، یعنی سورت کا ذکر، اس لئے دونوں روایتیں یکساں حیثیت کی ہوگئیں۔ اس کے نتیجے میں ایک ہی حالت کے اندر یہ حدیث ایک زائد امر کا اثبات کرے گی اور میرے قول کو تمہارے قول پر ایک مزیت حاص لہو گی۔ وہ یہ کہ ہر ایسی حدیث جس کے درود کی تاریخ معلوم نہ ہو اس کا طریقہ ہے کہ اس میں مذکورہ دونوں باتوں کے ایک ساتھ وجود کا حکم لگادیا جائے ۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ہی وقت میں دونوں باتیں ارشاد فرمائی ہیں اور سورت مزید ذکر کیا ہے، تو اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورت کے ذکر کے ساتھ نفی اصل کا ارادہ نہیں فرمایا، بلکہ صرف نقصان کے اثبات کا ارادہ فرمایا ہے۔ اس لئے ہم نے اس حدیث کو اسی بات پر محمول کرلی۔ ا ایسی صورت میں اس حدیث کی وہی کیفیت ہوگی جو کیفیت آپ کے اس ارشاد کی ہے، ” مسجد کے پڑوسی کی نماز صرف مسجد میں ہی ہوتی ہے، اور جو شخص اذان کی آواز سن کر اس کا جواب نہ دے، یعنی مسجد میں آ کر با جماعت نماز ادا نہ کرے اس کی کوئی نماز نہیں، اور جس کے اندر امانت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں۔ “ اسی طرح یہ قول باری ہے : انھم لا ایمان لھم لعلھم ینتھون ۔ الاتقاتلون قوماً نکثوا ایمانھم ) ان کی قسمیں باقی نہ رہیں تاکہ یہ لوگ باز آ جائیں تم ایسے لوگوں سے کیوں قتال نہیں کرتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کی قسموں کی نفی کردی اور پھر ان کا اثبات کردیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نفی کمال کا ارادہ کیا، نفئی اصل کا ارادہ نہیں کیا۔ یعنی ان کی قسمیں پوری نہیں تھیں کہ یہ انہیں پوری کردیتے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ تم نے احادیث کو ان کے ظاہر پر کیوں نہ رکھا اور آیت میں مذکورہ تخییر کو سورة فاتحہ کے سوا دیگر سورتوں کے لئے کیوں نہیں استعمال کیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر احادیث کو آیت سے الگ رکھا بھی جائے تو بھی ان احادیث میں ایسی بات نہیں پائی جائے گی جو سورة فاتحہ کی قرأت کی فرضیت کی موجب بن سکے کیونکہ ہم نے بیان کردیا ہے کہ ان احادیث کا مضمون ایسا ہے جو قرأت کے ترک کے ساتھ اصل کے اثبات کے سوا اور کسی بات کا احتمال نہیں رکھتا، جبکہ دوسری تمام احادیث میں نفئی اصل اور نفئی کمال کا احتمال ہے۔ علاوہ ازیں اگر زیر بحث احادیث سورة فاتحہ کے اندر قرأت کی فرضیت کی تعیین کی موجب ہوتیں تو بھی ان کے ذریعے آیت پر اعتراض کا جواز نہ ہوتا اور سورة فاتحہ کے سوا دیگر سورتوں کے سلسلے میں آیت کو واجب سے نفل کی طرف پھیر دینے کی گنجائش نہ ہوتی۔ ہماری یہ بات ان دلائل پر مبنی ہے جن کا ذکر ہم زیر بحث مسئلے کے شروع میں کر آئے ہیں۔ معترض ان دلائل کی طرف رجوع کریں وہ انہیں انشاء اللہ کافی و شافی پائیں گے۔ فصل ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سورة فاتحہ کی قرأت اور اس کے متعلق ہمارے بیان کردہ حکم کا تقاضا ہے کہ اللہ نے اپنی حمد و ثنا کرنے کا ح کم دیا ہے اور ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ ہم کس طرح اس کی حمد و ثناء کریں اور کس طریقے سے اسے پکاری، اس میں اس امر پر دلالت بھی موجود ہے کہ دعا مانگنے سے پہلے اگر اللہ کی حمد و ثنا کرلی جائے تو یہ بات دعا کی قبولیت کا زیادہ امکان پیدا کر دے گی کیونکہ سورت کی ابتدا حمد کے ذکر اور پھر ثنائے باری سے ہوئی ہے۔ یہ مضمون : الحمد للہ رب العالمین سے لے کر مالک یوم الدین تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے بعد اللہ کی عبادت کا اعتراف اور صرف اس کی عبادت کا اقرار ہے۔ یہ مضمون، ایاک نعبد کے اندر موجود ہے۔ پھر اس کی عبادت کرنے اور دینی و دنیاوی امور کی حاجت روائی کے لئے اس کی مدد طلب کی گئی ہے۔ یہ بات : وایاک نستعین سے عیال ہے ۔ پھر اس ہدایت پر ثابت قدم رکھنے کی دعا کی گئی ہے جو اس نے ہمیں اپنی حمد کے وجوب اور ثناء و عبادت کے استحقاق کی صورت میں عطا کی ہے۔ اس لئے کہ اھدنا الصراط المستقیم کا فقرہ ہدایت کی دعا اور مستقبل میں اس پر ثابت رکھنے کی درخواست پر مشتمل ہے۔ یہ بات ماضی کے اعتبار سے ممکن اور درست نہیں ہے۔ کفار کو اللہ کی معرفت اور حمد و ثناء کا موقعہ نصیب نہیں ہوا اور اس کے نتیجے میں وہ اللہ کے غضب اور اس کے عقاب کے مستحق گردانے گئے، جبکہ ہمیں اللہ نے ان باتوں کی توفیق عطا کی یہی وہ ہدایت ہے جس کا ذکر درج بالا آیت میں ہوا ہے۔ اس بات کی دلیل کہ : الحمد للہ رب العالمین کا فقرہ ہمارے لئے حمد باری کی تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی حکم دے رہا ہے کہ ہم کہیں ” اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ جاننا چاہیے کہ حمد کرنے کا حکم سورت کی ابتدا میں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سورت تعویز اور شفا بھی ہے اور اسے پڑھ کر دم بھی کیا جا سکت ا ہے۔ اس سلسلے میں عبدالباقی نے حدیث بیان کی ہے، ان سے معاذ بن المثنی نے ان سے سعید بن المعلی نے ان سے ابو معاویہ نے اعمش سے، انہوں نے جعفر بن ایاس سے سنی، انہوں نے ابو نضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری سے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سریہ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں گئے ہوئے تھے۔ ہمارا گزر عربوں کے ایک قبیلے سے ہوا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے۔ پھر ہم سے جھاڑ پھونک کی درخواست کی ۔ میں نے کہا کہ یہ کام میں کر دوں گا، لکین جب تک انہوں نے اس کام کا معاوضہ مقرر نہیں کیا میں نے کام نہیں کیا۔ انہوں نے معاوضہ کے طور پر ایک بکری مقرر کردی ۔ میں نے مذکورہ شخص پر سات مرتبہ سورة فاتحہ پڑھ کر پھونک ماری اور اللہ نے اسے شفا دے دی۔ میں نے بکری لے لی، لیکن ساتھیوں سے کہا کہ جب تک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ کر سارا واقعہ بیان نہیں کردیں گے اس وقت تک یہ بکری استعمال میں نہیں لائیں گے۔ چناچہ آپ کی خدمت میں پہنچ کر ہم نے سارا واقعہ بیان کردیا جسے سن کر آپ نے فرمایا : تمہیں معلوم ہوگیا کہ سورة فاتحہ برحق دم، یعنی جھاڑ پھونک ہے۔ اس بکری میں میرے لئے بھی ایک حصہ رکھنا۔ “ اس سورت کے کئی نام ہیں۔ ایک نام ام الکتاب ہے اس لئے کہ کتاب اللہ کی ابتدا اسی سورت سے ہوتی ہے۔ شاعر کا شعر ہے۔ الارض معقلنا وکانت امنا زمین ہمارا قلعہ ہے اور ہماری ماں بھی شاعر نے زمین کو ہماری ماں قرار دیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری ابتدا زمین سے کسی ہے۔ اس سورت کا نام ام القرآن بھی ہے۔ ا ن دونوں ناموں میں سے ہر نام دوسرے کی جگہ کام دے سکتی ہے، اس لئے کہ جب ” ام الکتاب “ کہا جائے تو سامع سمجھ جاتا ہے کہ کتاب سے مراد اللہ کی کتاب ہے جسے قرآن کہا جاتا ہے۔ بنا بریں اس صورت کو کبھی ام القرآن کے نام سے پکارا جاتا ہے اور کبھی ام الکتاب کے نام سے ۔ یہ تعبیر بعینہ انہیں الفاظ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی مروی ہے۔ اسی طرح اس کا ایک اور نام فاتحہ الکتاب بھی آپ سے مروی ہے۔ السبع الثانی کے نام سے بھی مسوم کیا جاتا ہے۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ : میں نے حضرت ابن عباس سے السبع المثانی کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ : السبع المثانی ام القرآن یعنی سورة فاتحہ ہے۔ السبع یعنی سات سے مراد اس کی سات آیتیں ہیں اور المثانی کے معنی ہیں ان آیات کو نماز کی ہر رکعت میں دہرایا جاتا ہے، یہ بات اس سورت کی خصوصیت ہے۔ قرآن کی کسی اور سورت کو یہ خصوصیت حاصل نہیں ہے۔
Top