Anwar-ul-Bayan - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
سب طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے
اَلْحَمْدُ : حَمِدَ یَحْمَدُ : (باب سمع) سے مصدر ہے۔ ثناء کرنا، تعریف کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی فضیلت اور ثناء کو حمد کہتے ہیں۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے۔ کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو کہ انسان سے اختیاری طور پر سرزد ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدائشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں چناچہ جس طرح مال کے خرچ کرنے اور علم و سخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اسی طرح اس کی درازی قدرو قامت اور چہرہ کی خوبصورت پر بھی تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن حمد صرف افعال اختیار یہ پر ہوتی ہے نہ کہ اوصاف اضطراریہ پر۔ اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں۔ لہذا ہر شکر حمد ہے مگر ہر حمد شکر نہیں ہے اور ہر حمد مدح ہے مگر ہر مدح حمد نہیں ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد فرماتے ہیں، عربی میں حمد کے معنی ثناء جمیل کے ہیں یعنی اچھی صفتیں بیان کرنے کے۔ اگر کسی کی بری صفتیں بیان کی جائیں ۔ تو یہ حمد نہ ہوگی۔ حمد : پر الف لام (ال) تعریف کا ہے یہ یا تو جنس کے لئے ہے اور حمد کے اس مضمون کی طرف اشارہ کر رہا ہے جسے ہر شخص جانتا ہے یا یہ استغراق کے لئے ہے۔ لِلّٰهِ میں لام اختصاص کا ہے جیسا کہ کہتے ہیں الدارلزید۔ پس اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کے معنی یہ ہوئے کہ حمد وثناء میں جو کچھ اور جیسا کچھ بھی کہا جاسکتا ہے وہ سب اللہ کے لئے ہے کیونکہ خوبیوں اور کمالوں میں سے جو کچھ بھی ہے سب اسی سے ہے اور اسی میں ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ جملہ خبریہ اسمیہ ہے اور استحقاق حمد کے استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ اس جملہ سے ثناء کرنا مقصود ہے اور بندوں کو حمد کی تعلیم دی گئی ہے تقدیر جملہ یہ ہے قولوا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ (لوگو ! اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ! کہا کرو) اس تقدیر کی ضرورت اس لئے ہے کہ آیت ایاک نعبد سے مناسبت پیدا ہوجائے کیونکہ نعبد کے قائل بندے ہیں۔ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ مضاف مضاف الیہ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے رب یرب (باب نصر) سے۔ استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے مطلق صورت میں یعنی اضافت اور تعریف سے خالی ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اور اضافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھی بولاجاتا ہے اور دوسروں پر بھی جیسے رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ (اللہ تعالیٰ کی صفت : تمام جہانوں کا پالنے والا) ۔ رب الدار (ماسوی اللہ کے لئے : گھر کا مالک) رب بمعنی کسی پر سیاست رالی کرنا مثلاً رب القوم۔ کسی کا کام درست کرنا ۔ جیسے رب الامر۔ کسی کو پالنا جیسے رب الولد۔ رب : تربیت کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ تربیت دینا۔ یعنی کسی چیز کو اس کی ازلی استعداد اور فطری صلاحیت کے مطابق آہستہ آہستہ مرتبہ کمال کو پہنچانا۔ اس پرورش میں محبت شفقت، حفاظت، نگہداشت، اور امانے کا عنصر موجود ہوتا ہے، جیسے ماں کا بچے کو پالنا۔ یا ماں باپ کا بچے کی نشو و نما میں اس کی نگہداشت کرنا۔ اور ہر ضرورت کو ہر وقت اور حسب موقع اس کی استعداد کے مطابق پورا کرنا۔ اس سے رب بمعنی پروردگار، پالنہار، پالنے والا آتا ہے۔ عالمین۔ عالم کی جمع ہے (استعمال میں اس کے لفظ سے اس کا واحد نہیں پایا جاتا۔ یعنی قرآن مجید میں لفظ عالم بصیغہ مفرد استعمال نہیں کیا گیا) ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے کو عالم کہتے ہیں اس میں تمام وہ مخلوق شامل ہے خواہ وہ زمین پر ہو یا آسمانوں میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (سب کا) مالک و پروردگار ہے۔ عالم نام ہے اس چیز کا جس کے ذریعہ سے کسی چیز کا علم ہو پھر استعمال ہونے لگا ا ان چیزوں میں جن کے ذریعہ صانع یعنی باری تعالیٰ کا علم حاصل ہو۔ چونکہ عالم کے تحت میں اجناس مختلف موجود ہیں اس لئے عالمین بصیغہ جمع لایا گیا ہے۔ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ بدل ہے اللہ کا یا اس کی صفت ہے بدیں وجہ مجرور ہے۔
Top