Mafhoom-ul-Quran - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
سورة الفاتحہ سورۃ الفاتحہ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یعنی کھولنے والی مراد رشد و ہدایت کی کتاب قرآن مجید کو کھولنے والی سورت۔ اس سورت کو ام القرآن، الدعاء، الشفاء اور الحمد کے نام بھی دیئے گئے ہیں۔ کیونکہ یہ سورة دعا بھی ہے انسان کی صحت یابی کے لئے بھی پڑھی جاتی ہے۔ خدا کی تعریف اور پھر قرآن پاک کی پہلی سورت بھی ہے یہ سورت ایک ہی وقت میں پوری نازل کی گئی ہے اس میں کل سات آیات ہیں اور یہ نبوت کے شروع میں مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ تشریح : اس آیت میں حمد و ثنا کے ساتھ ساتھ دعا مانگنے کا سلیقہ بھی سکھایا گیا ہے کہ جس سے کچھ مانگنا ہے تو سب سے پہلے اس کی تعریف بیان کی جائے۔ اسی لئے بندہ اپنے اللہ کو پکارتا ہے کہ اے اللہ آپ ہر قسم کی تعریف کے قابل ہیں کیونکہ تمام جہانوں کو پیدا کرنے والے ہیں اور پھر ہر قسم کی تمام مخلوقات کو پالنا صرف آپ کا ہی کام ہے۔ کوئی بھی ہستی نہ تو کائنات یعنی عالمین (کائنات بڑی وسیع ہے اس میں ایک دنیا ہی نہیں بلکہ کئی اور دنیائیں بھی ہیں اسی لئے عالم کی جمع عالمین کہا گیا ہے۔ ) کو بنانے کی قدرت رکھتی ہے اور نہ ہی دنیا میں بسنے والی مخلوقات کو پیدا کرنے اور پھر پالنے کی قدرت رکھتی ہے، ہم خود اپنے آپ کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ انسان ایک چلتی پھرتی مشین ہے۔ جس کو بنانا اور بچہ سے بوڑھا تمام عمر کی تمام ضروریات کو پورا کرنا سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں کرسکتا اسی لئے صرف اسی کی تعریف کرنی چاہئے، کیونکہ آیت نمبر 2 اس کی وضاحت ان الفاظ میں پر زور طریقہ سے کرتی ہے۔
Top