Tafseer-e-Jalalain - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
سب طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے
تفسیر و تشریح سورة الفاتحۃ مکیۃ سبع آیاتٍ بالبسملۃ۔ سورة فاتحہ مکی ہے، مع بسم اللہ سات آیتیں ہیں۔ قرآنی سورتوں کو سورت کہنے کی وجہ تسمیہ : سورة کے لفظی معنی بلندی یا بلند منزل کے ہیں، السُّوْرَۃُ : الرفیعۃ (لسان) السورۃ المنزلۃ الرفیعۃ (راغب) گویا ہر سورت بلند مرتبہ کا نام ہے، سورة کے ایک معنی فصیل (شہر پناہ) کے ہیں، کے ہیں، سورة المدینۃ، حَائطُھَا (راغب) قرآنی سورتوں کو سورت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے مضامین کا اسی طرح احاطہ کئے رہتی ہیں جس طرح فصیل شہر کا احاطہ کئے رہتی ہے۔ الفاتحۃ : فاتحۃ کے لفظی معنی ہیں ابتداء کرنے والی، قرآن مجید کی اس پہلی سورت کو بھی فاتحہ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے، گویا کہ یہ دیباچہ قرآن ہے، قرآنی سورتوں کے نام بھی توقیفی ہیں اور ایک ایک سورت کے کے کئی کئی نام بھی ہیں، (وقد ثَبَتَتْ جمیعُ اسماءِ السُوَرِ بِالتَوْقِیْفِ مِنَ الْاَحَادِیْثِ وَالْآثَارِ ) (اتقان) سورة الفاتحہ کے متعد نام احادیث میں آئے ہیں، بعض حضرات نے ان کی تعداد بیس تک پہنچائی ہے، ان میں سے چند مشہور نام یہ ہیں۔ (١) سورة الشفاء، (٢) سورة الوافیۃ، (٣) ام القرآن، (٤) سورة الکنز، (٥) الکافیہ، (٦) السبع المثانی۔ سورة فاتحہ کے فضائل و خصوصیات : سورة فاتحہ کی سب سے پہلی سورت ہے، اور مکمل سورت کی حیثیت سے نزول کے اعتبار سے بھی پہلی سورت ہے، غالبًا اسی وجہ سے اس سورت کا نام سورة فاتحہ رکھا گیا ہے، اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سورت ایک حیثیت سے پورے قرآن کا متن ہے اور پورا قرآن اس کی شرح ؛ یہ سورت اپنے مضمون کے اعتبار سے ایک دعاء ہے، ایک طالب حق کو چاہیے کہ حق کی تلاش و جستجو کرتے وقت یہ دعاء بھی کرے کہ اسے صراط مستقیم کی ہدایت عطا ہو، دراصل یہ ایک دعاء ہے، جو ہر اس شخص کو سکھائی گئی ہے جو حق کا متلاشی ہو، اس بات کو سمجھ لینے کے بعد یہ بات خودبخود واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن اور سورة فاتحہ کے درمیان صرف کتاب اور اس کے مقدمہ کا ساہی تعلق نہیں ؛ بلکہ دعاء اور جواب دعاء کا سا بھی ہے، سورة فاتحہ بندے کی جانب سے ایک دعاء ہے، اور قرآن اس کا جواب ہے، خدا کی جناب میں، بندہ دعاء کرتا ہے کہ اے پروردگار ! تو میری رہنمائی کر، جواب میں اللہ تعالیٰ پورا قرآن اسکے سامنے رکھ دیتا ہے کہ یہ ہے وہ ہدایت اور رہنمائی جس کی درخواست تو نے مجھ سے کی ہے ایک تنبیہ : اس سورت کی ابتداء، الحمدللہ رب العالمین سے کرکے اس بات کی تعلیم دی گئ ہے کہ دعاء جب مانگو، تو مہذب طریقہ سے مانگو یہ کوئی تہذیب نہیں، کہ منہ کھولتے ہی جھٹ اپنا مطلب پیش کردیا، تہذیب کا تقاضہ یہ ہے کہ جس سے دعاء کر رہے ہو پہلے اس کی خوبیوں کا، اس کے احسانات اور اس کے مرتبے کا اعتراف کرو پھر جو کچھ مانگنا ہو شوق سے مانگو۔ بسم اللہ سے متعلق مباحث : بسم اللہ کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا یہ ہر سورت کی مستقل آیت ہے یا ہر سورت کی آیت کا حصہ ہے یا صرف سورة فاتحہ کی ایک آیت ہے، یا کسی بھی سورت کی مستقل آیت نہیں ہے بلکہ ایک سورت کو دوسری سورت سے ممتاز کرنے کے لئے ہر سورت کے آغاز میں لکھی جاتی ہے ؟ قراء مکہ و کوفہ نے اسے ہر سورت کی آیت قرار دیا ہے، جب کہ قراء مدینہ بصرہ و شام نے اسے کسی بھی سورت کی آیت تسلیم نہیں کیا سوائے سورة نمل کی آیت ٣٠ کے کہ اس میں بالاتفاق بسم اللہ سورت کا جز ہے، اسی طرح جہری نماز روں میں اس کے اونچی آواز سے پڑھنے میں بھی اختلاف ہے بعض اونچی آواز سے پڑھنے کے قائل ہیں اور بعض سری آواز سے، امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ اور اکثر علماء سری آواز سے پڑھنے کو راجح قرار دیتے ہیں۔ سورة فاتحہ کے مضامین : سورة فاتحہ سات آیتوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی تین آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء ہے اور آخری تین آیتوں میں انسان کی طرف سے دعاء و درخواست کا مضمون ہے جو اللہ رب العزت نے اپنی رحمت سے خود ہی انسان کو سکھایا ہے اور درمیانی آیت دونوں چیزوں میں مشترک ہے، اس میں کچھ حمد کا پہلو ہے اور کچھ دعاء و درخواست کا۔
Top