Tafseer-e-Madani - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو پروردگار ہے سب جہانوں کا،
حمد و ثنا کا اصل حقدار اللہ تعالیٰ ہی ہے : حمد و ثنا کا اصل حقدار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ کیونکہ دنیا میں جہاں بھی اور جس طرح کی بھی کوئی خوبی پائی جاتی ہے یا پائی جائے گی، وہ سب اسی کے کمال و جمال اور عطا و نوال ہی کا کوئی مظہر ہوگا۔ پس اصل اور حقیقی تعریف اسی کی اور صرف اسی وحدہ لاشریک کی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اللہ نام ہی اس ذات اقدس و اعلیٰ کا ہے جو واجب الوجود ہے۔ یعنی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کیلئے رہے گی۔ نہ وہاں سبق عدم ہے اور نہ لحوق زوال و فنا کا کوئی سوال و احتمال۔ اور وہ ہر شائبہ نقص و عیب سے پاک اور وراء الوراء ہے۔ اسی لئے حضرات اہل علم لفظ جلالہ یعنی " اللہ " جل جلالہ کی تشریح اس طرح کرتے ہیں : " عَلَمٌ لِذَات الْوَاجِب الْوَجُوْد الْمُسْتَجْمِعُ لِجَمِیْع صِفَات الکَمَال "، " یعنی یہ اس ذات واجب الوجود کا نام ہے جو تمام صفات کمال سے موصوف و متصف ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہر تعریف اور ہر خوبی و کمال کا اہل اور حقدار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ واجب الوجود بھی وہی ہے اور تمام صفات کمال سے موصوف و متصف بھی وہی۔ تو اس کا طبعی اور لازمی نتیجہ ہے کہ ہر تعریف اور حمد و ثنا کا حقدار بھی وہی وحدہ لا شریک ہوا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جب ہر چیز کا خالق ومالک وہی وحدہ لا شریک ہے اور ہر چیز کا وجود اور اس کی ہر خوبی و کمال اسی کی طرف سے ہے۔ اس لیے ہر حمد اور خوبی کا مستحق بھی وہی ہے اور اس کائنات میں اور خاص کر ہر انسان پر حکم و ارشاد بھی اسی وحدہ لا شریک کا چلتا ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا اور حرف تنبیہ و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَ لَا لَہ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ، تَبَارَکَ اللّٰہ رَبُّ الْعٰالَمِیْنَ } ۔ (الاعراف : ) کہ " خالق بھی وہی ہے اور حکم بھی اسی کا چلے گا "۔
Top