Jawahir-ul-Quran - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
سب  1  تعریفیں  2  اللہ کے لیے ہیں جو پالنے والاف  3  سارے جہان کا  4 
بسم اللہ الرحمن الرحیم  1  سورة الفاتحہ خلاصہ : سورة فاتحہ کے بہت سے نام ہیں جن میں سے ” اُمُّ الْقُرْاٰنْ “ سب سے زیادہ جامع اور مشہور ہے۔ اس نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ امّ کے معنی یہاں مغز اور خلاصہ کے ہیں یہ سورت چونکہ ان تمام مضامین کا خلاصہ ہے جو سارے قرآن میں بالتفصیل مذکور ہیں اس لیے یہ سورة مبارکہ ام القرآن کے نام سے موسوم کی گئی۔ اس کی دو تقریریں ہیں۔ پہلی تقریر : مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم نے اس کی تقریر یہ فرمائی کہ قرآن مجید میں چھ مضامین بیان کیے گئے ہیں۔  1  ۔ توحید  2  ۔ رسالت  3  ۔ احکام  4  ۔ قیامت  5  ۔ ماننے والوں کے احوال  6  ۔ نہ ماننے والوں کے احوال۔ اور سورة فاتحہ میں یہ تمام مضامین بالاجمال موجود ہیں۔ الحمدللہ سے الرحمن الرحیم تک توحید۔ ملک یوم الدین میں قیامت۔ ایاک نعبد اور اھدنا الصراط المستقیم میں احکام کا بیان ہے کیونکہ نعبد میں عبادت کے تمام طریق اور احکام کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح الصراط المستقیم سے شریعت کے تمام احکام مراد ہیں صراط الذین انعمت علیھم میں ایک طرف رسالت کا بیان ہے کیوں کہ منعم علیہم چار جماعتیں ہیں جن میں انبیاء (علیہم السلام) سرفہرست ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشادھے اولئک الذی انعم اللہ علیہم من النبیین والصدیقین والشھداء والصلحین وحسن اولئک رفیقا (سورۂ نساء) اور دوسری طرف ماننے والوں کے احوال کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی ماننے والوں کو ہر قسم کے انعام واکرام سے نوازاجائے گا۔ اور غیر المغضوب علیہم ولا الضالین میں نہ ماننے والوں کا ذکر ہے۔ اسی طرح یہ سورت قرآن مجید کے تمام مضامین کا خلاصہ ہے اور اسی بنا پر اس کا نام ام القراٰن ہے۔ دوسری تقریر : دوسری تقریر ہمارے شیخ حضرت مولانا حسین علی (رح) کی ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت امام ربانی (رح) نے حضرت علی (رض) سے نقل کیا ہے۔ نیز تفسیر مواہب الرحمان جلد  1  ص  3  میں ہے کہ سارے آسمانی علوم اور قرآن مجید کا خلاصہ سورة فاتحہ میں موجود ہے کیوں کہ مضامین کے اعتبار سے قرآن مجید کے چار حصے ہیں ہر حصہ الحمد للہ سے شروع ہوتا ہے۔ پہلا حصہ سورة فاتحہ سے سورة مائدہ کے آخر تک ہے اس حصہ میں زیادہ تر خالقیت کا بیان ہے یعنی ساری کائنات کا پیدا کرنے والا صرف اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ دوسرا حصہ سورة انعام سے سورة بنی اسرائیل کے آخر تک ہے اس حصہ کا مرکزی مضمون ربوبیت ہے یعنی اس میں زیادہ تر اس میں زیادہ تر یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر چیز کو پیدا کرنے کے بعد اس کو حد کمال تک پہنچانے والا اور ہر چیز کی دیکھ بھال کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ تیسرا حصہ سورة کہف سے سورة احزاب کے آخر تک ہے اس میں زیادہ تر یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ تخت بادشاہی پر وہ خود متمکن ہے وہی مالک و متصرف اور مختار و کارساز ہے اور وہی برکات دہندہ ہے اور وہ اپنی بادشاہی میں اپنے تصرفات اور اختیارات میں کسی کو شریک نہیں بناتا۔ چوتھا حصہ۔ سورة سبا سے قرآن مجید کے آخر تک ہے اس حصے کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ قیامت کے دن مالک ومختار صرف اللہ ہی ہوگا۔ اور اس کے سامنے کوئی شفیع غالب نہیں ہوگا۔ یہ چاروں مضامین جو پورے قرآن میں تفصیل سے مذکور ہیں ان کا خلاصہ اور اجمالی خاکہ سورة فاتحہ میں موجود ہے۔ چناچہ الحمد للہ میں حصہ اول کی طرف اشارہ ہے کیونکہ لفظ اللہ سے وصف مشہور مراد ہے یعنی خالق بمطابق قاعدہ مشہورہ " لکل فرعون موسیٰ ای لکل مبطل محق " مشرکین عرب بھی اللہ کی صفت خالقیت کا اقرار کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ۔ زخرف ع  7 ؛ اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضروریہی کہیں گے کہ (ان کو) اللہ تعالیٰ نے (پیدا کیا ہے) دوسری جگہ ارشاد ہے ولئن سالتھم من خلق السموات والارض لیقولن اللہ (لقمان ع  3 ) اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے۔ دوسرا حصہ رب العلمین میں مذکور ہے اور تیسرے حصہ کی طرف الرحمن الرحیم میں اشارہ یعنی مالک و مختار اور تخت حکومت پر وہی متمکن ہے کیونکہ انتہائی رحمت اور غایت شفقت بادشاہوں ہی کی صفتیں ہیں۔ اور چوتھا حصہ ملک یوم الدین میں مذکور ہے۔ نیز حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے " لکل شئی لباب ولباب القراٰن الحوامیم " (خازن ص  73  ج  6 ) یعنی ہر چیز کا ایک خلاصہ ہوتا ہے۔ اور قرآن کا خلاصہ حوامیم ہیں۔ اور تمام حوامیم کا مبدا سورة زمر ہے اور سورة زمر کا دعویٰ یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ ہی کرو اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ چناچہ ارشاد ہے۔” فاعبداللہ مخلصا لہ الدین۔ الا للہ الدین الخالص۔ (زمر رکوع  1 ) ۔ سو آپ خالص اعتقاد کر کے اللہ کی بندگی کرتے رہیے۔ یاد رکھو عبادت جو کہ (شرک سے) خالص ہو اللہ ہی کے لیے سزا وار ہے اس آیت میں بقرینہ فاعبدو، الدین کے معنی عبادت کے ہیں اور عبادت سے مراد ہے دعاو پکار ہے جیسا کہ حم مومن اس اس کی وضاحت کی گئی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین (حم مومن رکوع  7 ) ۔ سو تم سب خالص اعتقاد کر کے اس کو پکارا کرو۔ یہاں اعبدوا کے بجائے ادعوا فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ عبادت سے مراد دعا و پکار ہے اور پکار عبادت کا جزو اعظم ہے جیسا کہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔ الدعاء ھو العبادۃ اور الدعاء مخ العبادۃ۔ اسی طرح حم مومن رکوع  6  میں ہے۔ وقال ربکم الدعونی استجب لکم۔ ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جہنم داخرین (حم مومن رکوع  6 ) ۔ اور تمہارے پروردگار نے فرما دیا ہے کہ مجھ کو پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا جو لوگ صرف میری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں وہ عنقریب (مرتے ہی) ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ آں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا عن عبادتی قال عن دعائی (ابن جریر ص  34 ،  47 ) ۔ یعنی عن عبادتی میں عبادت سے مراد دعا اور پکار ہے۔ اور حوامیم سبعہ کا دعوی یہی ہے کہ حاجات و مشکلات میں غائبانہ صرف اللہ ہی کو پکارو اور صرف اسی سے استمداد اور استعانت کرو۔ سورة زمر کا خلاصہ سورة فاتحہ میں ایک نعبد میں آگیا اور حوامیم سبعہ کا خلاصہ سورة فاتحہ کے ایاک نستعین میں آگیا۔ اس طرح سارے قرآن کا خلاصہ سورة فاتحہ میں آگیا۔ سورة فاتحہ کے خلاصہ اور دعوی کو سورة جن رکوع  2  میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔ قل انما ادعوا ربی ولا اشرک بہ احدا۔ کہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے پروردگار ہی کو (غائبانہ حاجات) میں پکارتا ہوں اور اس کی پکار میں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہیں کرتا ہوں۔ بعینہ اس مفہوم کو علامہ ابن کثیر نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ الفاتحۃ سر القران وسرھا ھذہ الکلمۃ (ایاک نعبد وایاک نستعین) ۔ یعنی سورة فاتحہ کا مغز ایاک نعبد وایاک نستعین ہے۔ سوال : یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید کا چوتھا حصہ جو سورة سبا سے شروع ہوتا ہے اس کی ابتدا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سے ہوتی ہے۔ اور اس حصہ کی دوسری سورت یعنی سورة فاطر وہ بھی اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سے شروع کی گئی ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : تو اس کا جواب یہ ہے کہ چوتھے حصہ میں دو مضامین بیان کیے گئے ہیں ایک یہ کہ قیامت کے دن کوئی شفیع قہری نہیں ہوگا اور دوسرا یہ کہ عبادت اور پکار صرف اللہ ہی کی چاہئے اور کسی کی نہیں۔ اس طرح یہ دونوں سورتیں آپس میں بھی مرتبط ہوگئیں۔ یعنی جب خدا کے یہاں کوئی شفیع قہری نہیں تو عبادت اور پکار بھی اس کے سوا کسی کی نہیں ہونی چاہئے۔ چناچہ سورة سبا میں شفاعت قہری کی نفی کی گئی ہے اور پھر سورة یاسین، صافات اور سورة ص تینوں اس پر متفرع ہیں۔ سورة یس میں فرمایا کہ ہم نے بد کردار قوموں کو پکڑا مگر کسی نے ان کو نہ چھڑایا۔ صافات میں بیان فرمایا کہ چھڑانا تو درکنارجن کے بارے میں چھڑانے کا زعم ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) وہ تو خود خدا کے سامنے زاری اور عجز ونیاز کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور ص میں بیان کیا نہ صرف زاری کر رہے ہیں بلکہ اللہ کی طرف سے بعض جسمانی مصائب میں خود گرفتار ہیں۔ اس طرح سورة فاطر میں عبادت اور پکار کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ اور پھر زمر اور حوامیم سبعہ میں اس کی توضیح کی گئی ہے اور شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔ سورة سبا چونکہ یس، صافات اور ص کا مبدا تھی اور سورة فاطر، زمر اور حوامیم سبعہ کا مبدا تھی اس لیے دونوں سورتوں کو الحمدللہ سے شروع کیا گیا۔ جس طرح سارے قرآن کا خلاصہ سورة فاتحہ میں موجود ہے اسی طرح سوۂ فاتحہ کا خلاصہ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں موجود ہے۔ پہلا حصہ لفظ اللہ میں مذکور ہے کیوں کہ اس سے وصف مشہور یعنی خالق مراد ہے۔ تیسرا حصہ حسب بیان سابق الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں مذکور ہے۔ جب خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی تو ظاہر ہے کہ مربی اور روزی رساں بھی وہی ہوگا اس طرح دو حصے صراحۃً اور ایک حصہ اشارۃً بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں آگیا جن تینوں حصوں کا تعلق دنیا سے تھا وہ بِسْمِ اللّٰهِ میں آگئے جب دنیا میں سب کا خالق اور پھر سب کا مربی اور مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے تو آخرت کا مالک اور وہاں کا متصرف و مختار بھی وہی ہوگا اور پھر ساری بِسْمِ اللّٰهِ کا خلاصہ بِسْمِ اللّٰهِ کی ب میں موجود ہے۔ گویا سارے قرآن کا اصل مقصد باء استعانت سے معلوم ہوجاتا ہے۔ ب کا متعلق محذوف ہے اور اصل عبارت اس طرح ہے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِسْتَعِیْنُوْا۔ متعلق آخر میں اس لیے نکالا گیا ہے تاکہ حصر کا فائدہ دے۔ ای بسم اللہ استعینوا خاصۃ لا بما اشرک بہ المشرکون بزعمہم وادعوہ خاصۃ لا غیر۔ یعنی صرف اللہ ہی کے نام سے استعانت کرو۔ اور اللہ ہی کو غائبانہ حاجات میں پکارو۔ اور مشرکین اور نہ ہی ان کو پکارو۔ تعلیم المسئلۃ : سورة فاتحہ کا ایک نام تعلیم المسئلۃ بھی ہے۔ جس کے معنی ہیں " سوال کی تعلیم " سورة فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سوال کی تعلیم دی ہے کہ تم مجھ سے یوں سوال کیا کرو اس لیے اس سورت کو تعلیم المسئلہ بھی کہا گیا۔ چناچہ پوری سورة فاتحہ میں غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ ساری کی ساری ایک عاجزانہ درخواست ہے جو بندہ اپنے مولا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ پہلے اس کی حمد وثنا بجالاتا ہے۔ اس کے لائق ہر خوبی ہونے کا اعلان کرتا ہے اس کے خالق ومالک اور ساری کائنات کا پروردگار اور رحمان ورحیم اور مالک روز جزا ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ اور پھر اپنی بندگی اور بےچارگی کا اعتراف کر کے اس سے سیدھی راہ پر قائم رہنے کی توفیق مانگتا ہے۔ یہ بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کی انتہائی شفقت اور مہربانی ہے کہ بندوں کو سوال کرنے کا طریقہ بھی سکھا دیا۔ چونکہ سورة فاتحہ میں بندوں کو سوال کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس لیے اس سے پہلے لفظ قُوْلُوْا (یوں کہو) محذوف ہے اور پھر تعریفی اور دعائیہ جملوں کی ابتداء میں بھی قُوْلُوْا محذوف ہے۔ مثلاً قُوْلُوْا بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَسْتَعِیْنُ ، قُوْلُوْا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۝ۙالرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝ۙمٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۝ۭ قُوْلُوْااِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۝ۭ قُوْلُوْا اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ الخحضرت شیخ (رح) کے الفاظ میں سورة فاتحہ کا خلاصہ حسب ذیل ہے :۔ قال تعالیٰ بسم اللہ الرحمن الرحیم ای قولوا بسم اللہ الخ۔ ومعناہ اللہ استعین خاصۃ وادعوہ خاصۃ لا غیرہ واتلبس بذکر اسمہ۔ نسمی ھذہ الطریق فی اصطلاحنا ادماجاً ای استعین باللہ الرحمن الرحیم لانہ ھو الخالق الملک وفھم المعنی الوصفی عن العلم ہشھرتہ بھذا الوصف قال تعالیٰ وھو اللہ فی السموات وافی الارض فقال تعالیٰ وھو الذی فی السماء الہ وفی الارض الہ فھو الخالق الملک الرحمن الرحیم۔ اعلم یا اخی ان جمیع القراٰن منقسم الی ابرعۃ ابحاث کل بحث یبتدا بالحمد للہ۔ الاول من فاتحۃ الکتاب الی اٰخر سورة النساء والثانی من الانعام الی اٰخر سورة بنی اسرائیل والثالث من الکہف الی اٰخر الاحزاب والرابع من السبا الی اٰخر القراٰن۔ فاجتمعت المضامین الاربعۃ فی الفاتحۃ والفاتحۃ فی بسم اللہ الرحمن الرحیم وبلفظ اٰخر تمام القراٰن فی الفاتحۃ فان لباب القراٰن الحوامیم وخلاصۃ الحوامیم فی حم المؤمن ای ادعو اللہ مخلصین لہ الدین کما نبی نہ فی تفسیر الحوامیم وذکر فی السور السابعۃ فن تعالیٰ ھو الخالق لا غیرہ فاعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین وھذا المذکور ثابت فی الفاتحۃ۔ والفاتحۃ فی بسم اللہ وبسم اللہ فی الباء کان لفظۃ اللہ جمعت فیہ الالوھیۃ والربوبیۃ والمقصود من الحصر فی الحمد لہ ھو حصر العبادۃ التی اعظم شعابھا الاستعانۃ فاذا قرا القاری بسم اللہ استعین بتقدیم الجار فھم حصر الاستعانۃ ای بسم اللہ استعین لا بما اشرک بہ المشرکون۔ فالفاتحۃ جامعۃ وام للقراٰن وھی فی البسملۃ والبسملۃ فی الباء نقل عن علی (رض) ان الجار فی بسم اللہ جامعۃ کذا فی المکتوبات للامام الربانی قدس سرہ واللہ اعلم بالصواب فشروع القراٰن بحصر الاستعانۃ والختم علی قل ھو اللہ احد وقل اعوذ برب الناس فالشروع بالاستعانۃ منہ والختم علیھا کذا سنۃ رب العلمین فی الاشجار الا تری الا حبۃ تنبت فالمبدا والمنتھی الثمرۃ التیھی الحبۃ وھذا یشعر ان المبدا منہ والیہ المرجع والمصیر۔  2 : اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۔ تفسیروں اور فنون کی کتابوں میں یہ بحث نہایت تفصیل سے مذکور ہے کہ اَلْحَمْدُ میں الف لام استغراق کے لیے۔ پھر اس پر اعتراضات اور ان کے جوابات کا ایک طویل سلسلہ ہے جو ختم ہونے پر نہیں آتا۔ مثلاً اس پر ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر الف لام استغراق کے لیے ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا تمام صفتوں اور خوبیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے لہذا اللہ کے سوا اس کی مخلوق میں سے کسی میں بھی کوئی صفت اور خوبی موجود نہیں ہوگی۔ حالانکہ یہ بات صحیح نہیں بلکہ اللہ کی مخلوق میں بھی ہزاروں صفتیں موجود ہیں اور خود قرآن میں مخلوق کی صفتیں بیان کی گئی ہیں۔ حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کئی صفتیں مثلاً رءوف ورحیم، سراج منیر، بشیر ونذیر وغیرہ قرآن میں موجود ہیں۔ آپ کے سوا انبیاء (علیہم السلام) کی کئی صفات مومنین صالحین اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے بعض اوصاف کا بھی خود قرآن مجید میں ذکر موجود ہے۔ علاوہ ازیں کافروں میں بھی بعض قابل تعریف خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔ تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ مخلوق میں جو صفات ہیں ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے نیز یہ صفات عارضی ہوتی ہیں یعنی مخلوق کی موت ووفات پر وہ صفتیں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ دائمی اور مستقل نہیں ہوتیں مگر اللہ تعالیٰ کی صفات دائمی اور مستقل ہیں۔ ان کو فنا نہیں وہ ازلی اور ابدی ہیں مخلوق کی صفات کا سر چشمہ اور ان کا خالق اور معطی اللہ تعالیٰ ہے۔ اور مخلوق کی تمام صفات کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے اس لیے تمام صفتوں اور خوبیوں کا مالک اور سزاواردر حقیقت اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ لیکن حضرت شیخ (رح) اپنے مخصوص طرز کے مطابق کہ " ہر لفظ اور اور آیت کی ایسی مراد بیان کی جائے کہ جس پر کوئی اعتراض وارد ہی نہ ہو سکے " فرماتے ہیں کہ الحمد میں الف لام استغراق کے لیے نہیں بلکہ جنس اور عہد خارجی کے لیے ہے۔ اور قاعدہ نحو کے مطابق الف لام کا حقیقی معنی ہے ہی جنس اور عہد خارجی استغراق کو محققین نے الف لام کا مجازی محمل قرار دیا ہے۔ اور اس سے صرف وہی صفات مراد ہیں جو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں اور مخلوق میں نہیں پائی جاتی ہیں۔ یعنی صفات کا رسازی یا بالفاظ دیگر صفات فاعلیہ یا صفات ما فوق الاسباب مثلاً مالک ومختار، متصرف و کارساز حاجت روا، مشکل کشا اور دورونزدیک سے یکساں طور پر سمیع وبصیر ہونا وغیرہ مطلب یہ ہے کہ تمام صفات الوہیت اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں اور ان میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس صورت میں نہ کوئی اعتراض وارد ہوتا ہے اور نہ ہی جواب دینے کی زحمت اٹھانا پڑتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جابجا اپنی صفات الوہیت بیان فرمائی ہیں۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد ہے :۔ قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ (النمل : 25 ) کہہ دیجئے اللہ کے سوا نہ آسمان والے غیب جانتے ہیں نہ زمین والے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم غیب کا ذکر ہے جو صفات الوہیت میں سے ہے۔ ایک جگہ فرمایا۔ وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗٓ اِلَّا ھُوَ ۚ وَاِنْ يُّرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَاۗدَّ لِفَضْلِهٖ (یونس : 107 ) اس میں یہ بیان فرمایا کہ نقصان کا مالک صرف اللہ ہے، اس کے بغیر نہ کوئی نفع دے سکتا ہے اور نہ کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے ایک جگہ ارشاد ہے کہ ساری مخلوق پر صبح وشام مختلف انعامات کی جو بارش ہوتی رہتی ہے۔ وہ بھی اللہ کی طرف سے ہے۔ چناچہ فرمایا وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ (النحل : 53 ) یعنی تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں وہ سب اللہ کی طرف سے ہیں۔ ایک جگہ فرمایا۔ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ۭ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللّٰهِ يَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۭ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ (فاطر : 3 ) اے لوگو اللہ کی وہ نعمتیں یاد کرو جو اس نے تم پر کی ہیں۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور پیدا کرنے والا ہے۔ جو زمین و آسمان سے تمہیں روزی مہیا کرتا ہے۔ (یاد رکھو) اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق و رازق اور منعم و مربی ہونے کی صفات کا ذکر فرمایا ہے یہ اور مذکورہ بالا تمام صفات الوہیت ہیں۔ ان کے علاوہ اور سینکڑوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی صفات مخصوصہ بیان کی گئی ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ تمام صفات مافوق الاسباب ہیں اور عالم غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھ لی جائے کہ نظام عالم میں جو کام ہورہے ہیں وہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہیں وہ یا تو ماتحت الاسباب ہیں یعنی اپنے اسباب عادیہ کے تحت انجام پذیر ہورہے ہیں مثلاً بینائی وشنوائی رکھنے والا آدمی اپنے ارد گرد کی چیزوں کو دیکھ سکتا ہے اور قرب و جوار کی آوازیں سن سکتا ہے یا مثلاً ایک آدمی اناج یا پھل اگانا چاہتا ہے تو وہ اس کام کے لیے اسباب استعمال کرتا ہے یعنی زمین میں ہل چلا کر اسے قابل کاشت بناتا ہے۔ پھر اس میں بیج ڈالتا ہے، اسے پانی دیتا ہے اس کی تلافی وغیرہ کرتا ہے۔ یہ تمام اسباب عادیہ ہیں ان کو استعمال میں لائے بغیر کام نہیں بن سکتا۔ دوسری قسم کے کام وہ ہیں جو مافوق الاسباب ہیں یعنی ان اسباب عادیہ سے بالا تر ہیں مثلاً ساری کائنات کے ذرے ذرے کو ہر وقت دیکھنا زمین و آسمان کی چھپی ہوئی تمام چیزوں کا ہر آن مشاہدہ کرنا اسباب عادیہ سے بالا تر اور ماورا ہے اسی طرح زمین کے پیٹ میں پڑے بیجوں اور تخموں کو شق کر کے ان سے پودوں کی شاخیں نکالنا انسانی دسترس سے باہر اور اسباب عادیہ سے بالا تر ہے تو معلوم ہوا کہ انسانی دسترس میں صرف وہی کام ہیں جو ماتحت الاسباب ہیں اور مافوق الاسباب سارے امور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کے تحت داخل ہیں لہذا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سے مراد وہ تمام صفات ہیں جو مافوق الاسباب ہیں یعنی مافوق الاسباب تمام صفتیں اور خوبیاں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں اور ان میں سے ایک صفت اور ایک خوبی بھی اللہ کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ مشرکین مکہ چونکہ انہی صفات الوہیت یا مافوق الاسباب صفات ہی میں اپنے معبودوں کو خدا کا شریک سمجھتے تھے۔ اس لیے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِمیں مشرکین کے اسی خیال باطل کی تردید فرمائی گئی ہے کہ تمام مافوق الاسباب صفات اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں جملہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِواقع ہوا ہے وہاں سیاق وسباق سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مشرکین کے اسی خیال کی تردید ہے کہ ان کے مزعومہ معبود مافوق الاسباب صفات کے حامل ہیں۔ چناچہ سورة انعام رکوع نمبر  5  میں ارشاد ہے فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۭوَالْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (پھر ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے) اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کارسازی کا ذکر فرمایا ہے۔ مثلاً مصیبت کے وقت وہی کام آتا ہے، خدا کی گرفت زبردست ہے، ظالموں کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ آخر میں فرمایا الْحَـمْدُ لِلّٰهِیعنی یہ تمام صفات کارسازی اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں۔ یہاں اگر الحمد کو صفات کارسازی سے مختص نہ کیا جائے تو ماقبل سے اس آیت کا کوئی ربط باقی نہیں رہتا۔ اور سورة نمل رکوع  5  میں ہے الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰي عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى ۭ(تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے سزاوار ہیں اور اس کے بندوں پر سلام ہو جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے) اس آیت سے پہلے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر ہے کہ اس تکذیب کرنے والی قوم کو کس طرح تباہ کیا گیا اور ایمان والوں کو کس طرح بچایا گیا چناچہ ارشاد ہے۔ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ اَجْمَعِيْنَ (ہم نے ان (نو غنڈوں) اور ان کی ساری قوم کو تباہ کردیا) اور مومنین کے بارے میں فرمایا وَاَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ (اور ہم نے ان ایمان والوں کو جو ہرو قت اللہ سے ڈرتے رہتے تھے بچا لیا) اس کے بعد مؤمنین لوط اور منکرین لوط (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَهْلَهٗٓ اِلَّا امْرَاَتَهٗ (تو ہم نے لوط (علیہ السلام) اور اس کے اہل کو اس کی بیوی کے سوا بچالیا) اور وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا (اور ان کے منکرین پر ایک نئی طرح کا مینہ برسایا) حضرت صالح اور حضرت لوط (علیہما السلام) اور ان کی مومن قوم کو نجات دینے اور ان کے منکرین کو تباہ وبرباد کرنے کا ذکر کر کے آخر میں فرمایا۔ ۧقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلٰمٌ عَلٰي عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰىیعنی نیک بندوں کو سلامتی عطا کرنا اور کافروں کو ہلاک کرنا یہ صفتیں اللہ ہی کی ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں پر اللہ کی طرف سے سلامتی تو نازل ہوتی ہے لیکن وہ کارساز اور متصرف ومختار نہیں ہوتے۔ اور سورة جاثیہ کے آخری رکوع میں ارشاد ہوتا ہے۔ فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (سو تمام خوبیاں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں جو مالک ہے آسمانوں کا اور مالک ہے زمین کا مالک تمام جہانوں کا) یہاں بھی صاف فرمادیا کہ زمین و آسمان کا مالک و مختار اور ساری کائنات کا کارساز اللہ ہی ہے اور صفات کارسازی اسی کے ساتھ مخصوص ہیں اور ان میں کوئی اس کا شریک نہیں اور سورة صافات میں انبیاء (علیہم السلام) کے مختلف واقعات بیان کرنے کے بعد آخر میں فرمایا وَسَلٰمٌ عَلَي الْمُرْسَلِيْنَ  181 ؀ۚوَالْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ  182 ؀ۧ(اور سلامتی ہے تمام پیغمبروں پر اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے) مطلب یہ کہ تباہی اور عذاب سے رسولوں کو سلامت رکھنا اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کرنا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے پیغمبروں کا نہیں حاصل یہ کہ تمام مافوق الاسباب اور غائبانہ طاقتوں کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور تمام صفات الوہیت اسی کی ذات مقدسہ کے ساتھ مخصوص ہیں۔ مشرکین نے اپنے زعم باطل میں اللہ کے جن پیغمبروں اور نیک بندوں کو غائبانہ اور مافوق الاسباب طاقتوں میں خدا کا شریک سمجھ رکھا ہے وہ خود اللہ کے محتاج ہیں۔ اور آڑے وقت ان کے کام نہیں آسکتے۔  3 :۔ " رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ " لفظ اللّٰهِ ذات باری تعالیٰ کا اسم علم ہے لیکن یہاں اس سے وصف مشہور مراد ہے یعنی خالق اور اَلْحَمْدُ لِلّٰهِمع صفات باقیہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی دلیل بھی اس میں موجود ہے یعنی تمام صفات کارسازی اور تمام اوصاف الوہیت اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں۔ کیونکہ وہ خالق ہے وہ رب العالمین ہے۔ وہ رحمان و رحیم ہے اور وہ مالک روز جزا ہے اور اس کے سوا زمین و آسمان میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان تمام صفات یا ان میں سے کسی ایک صفت سے متصف ہو۔ سورة انعام رکوع نمبر  1  ارشاد ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ڛ(تمام خوبیاں اس اللہ کے لیے زیبا ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ اور اندھیروں اور اجالے کو بنایا) اس میں الذین موصول اپنے صلہ سے مل کر بمنزلۂ علت ہے یعنی جب آسمانوں اور زمین کا خالق اور اندھیروں اور اجالے کو پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ تو صفات کارسازی بھی اسی کی ذات سے مختص ہیں کسی اور کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ اس کے متصل بعد فرمایا۔ ثُمَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ (پھر کافر کافر لوگ (اپنے باطل معبودوں کو) اپنے پروردگار کے برابر قرار دیتے ہیں) ۔ اس سے بھی اسی حقیقت کو واضع فرمایا کہ جب ارض وسماء اور لیل ونہار کا خالق اللہ ہے تو صفات کارسازی کا ملک بھی تنہا وہی ہے۔ اگر اس کے سوا کوئی اور خالق نہیں تو لا محالہ یہ بھی ماننا پڑے گا۔ کہ اس کے سوا کارساز اور مافوق الاسباب متصرف اور مختار بھی کوئی نہیں۔ مخفی نہ رہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ایک دعویٰ ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ تمام صفات کارسازی کا مستحق صرف اللہ ہے۔ اس کے بعد رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۝ۙالرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝ۙمٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِیہ سب اس دعویٰ کی دلیلیں ہیں۔  4 : " رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ " لفظ اللہ سے چونکہ وصفی معنی مراد تھے یعنی خالق۔ اس لیے اس کی مناسبت سے اس کے بعد دسری صفت رب العلمین لائی گئی کیونکہ ہر طرح مخلوق اپنے وجود کے لیے اپنے خالق کی محتاج ہیں طرح بقاء وجود کے لیے رب اور پروردگار کی محتاج ہیں۔ رَبّکے معنی ہیں ہر چیز کو بتدریج اس کی حد کمال تک پہنچانے والا اور موقع کے مطابق اس کی ضرورتیں مہیا کرنے والا اور اسے ؟ سے بچانے والا جیسا کہ امام ؟ حنفی نے امام واسطی سے نقل کیا ہے۔ ھو الخالق ابتداء ومربی غذاء والغافر انتھاء وھو اسم اللہ الاعظم (مدارک ج  1  س ؟ ) الْعٰلَمِيْنَعالم کی جمع ہے اور اسم آلہ کا صیغہ ہے اور یہاں اس سے ہر وہ چیز مراد ہے جس کے وجود سے خالق کائنات کے وجود پر استدلال کیا جاسکے خواہ وہ انسان ہو یا دیگر حیوانات، نباتات ہوں یا جمادات۔ چناچہ امام نسفی فرماتے ہیں۔ والعالم کل ما علم بہ الخالق من الاجساد والجواھر والاعراض او کل موجود سوی اللہ تعالیٰ سمی بہ لانہ علم علی وجودہ الخ (مدارک ص  6  ج  1 ) غرضے کہ ہر وہ چیز جو خلعت وجود میں ملبوس ہے اور جس کا انسان آنکھوں سے مشاہدہ کرسکتا ہے یا دیگر حواس کے ذریعے ان کا وجود محسوس کرسکتا ہے وہ سب الْعٰلَمِيْنَکے جامع لفظ میں داخل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا نظام ربوبیت مخلوق کی ہر نوع کو شامل ہے اور کائنات عالم کا ایک ذرہ بھی اس کی ربوبیت سے مستغنی نہیں۔ جس طرح ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح ہر چیز کا مربی اور محافظ بھی وہی ہے اللہ تعالیٰ کا نظام ربوبیت تمام انسانوں کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ نطفہ سے لے کر طفل تک اور طفل سے لے کر بڑھاپے تک تمام منازل سے انسان کو وہی گزارتا ہے اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ نہایت اختصار سے اس حقیقت کو بیان فرمایا۔ اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ (روم رکوع  6 ) اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا تم کو ناتوانی کی حالت میں پھر ناتوانی کی حالت کے بعد توانائی عطا کی پھر توانائی کے بعد ضعف اور بڑھاپا کیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ جاننے والاقوت رکھنے والا ہے۔ زمین و آسمان کا خالق اور کائنات کے ذرے ذرے کا پیدا کرنے والا وہی ہے۔ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ (تغابن رکوع  1 ) اسی نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر پیدا کیا اور تمہارا نقشہ بنایا اور عمدہ نقشہ بنایا۔ اور ایک جگہ فرمایا۔ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا (فرقان رکوع  1 ) اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر سب کو الگ الگ اندازہ پر رکھا۔ اور ایک جگہ ارشاد ہے۔ اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۡ وَّهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ (زمر ع  6 ) (اللہ تبارک وتعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے) ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ عالم کے ذرے ذرے کا خالق اللہ ہی کو ہے اور اللہ کے سوا کوئی اور خالق نہیں اسی طرح اللہ کی ربوبیت بھی عام ہے اور ساری کائنات اس کے نظام ربوبیت کے تحت داخل ہے چناچہ اللہ نے اپنی ربوبیت عامہ کا اس طرح اعلان فرمایا۔ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ مَابَیْنَھُمَا (شعراء رکوع  2 ) (وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو (مخلوقات) ان کے درمیان ہے اس کا) ۔ اور ایک جگہ فرمایا قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْ رَبًّا وَّهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ (انعام رکوع  20 ) (کہ دیجئے کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رب بنانے کے لیے تلاش کروں حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے) ۔ انسان اور دیگر حیوانات کے لیے اللہ کس طرح روزی بہم پہنچاتا ہے۔ اس کا ذکر اس طرح فرمایا۔ۭفَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖٓ  24 ؀ۙاَنَّا صَبَبْنَا الْمَاۗءَ صَبًّا  25 ؀ۙثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا  26 ؀ۙفَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا  27 ؀ۙوَّعِنَبًا وَّقَضْبًا  28 ؀ۙوَّزَيْتُوْنًا وَّنَخْلًا  29 ؀ۙوَّحَدَاۗىِٕقَ غُلْبًا  30 ؀ۙوَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا  31 ؀ۙمَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِاَنْعَامِكُمْ (عبس رکوع  1 ) (سو انسان کو چاہئے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے کہ ہم نے عجیب طور پر پانی) اور زیتون اور کھجور اور گنجان باغ اور میوے اور چارہ پیدا کیا اور تمہارے مواشی کے فائدہ کے لیے) مندرجہ بالا آیات سے بخوبی واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کا نظام ربوبیت ساری کائنات پر حاوی ہے۔ اور انسان سے لے کر تمام حیوانات، نباتا، جمادات، خدا کی ساری نوری و ناری اور خدا کی مخلوق، علویات اور سفلیات سب کا خالق ومربی و محافظ اور پروردگار وہی ہے۔
Top