Mualim-ul-Irfan - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو پرورش کرنے والا ہے سب جہانوں کا
سورة الفاتحۃ ١ فضائل قرآن اور اصول تفسیر درس ششم ٦ قرآن کریم کے بارے میں چند ضروری مسائل کل عرض کیے تھے ۔ اب قرآن پاک کی فضیلت بحیثیت مجموعی اور اس کے طریقہ تفسیر کے متعلق کچھ باتیں عرض کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد سورة فاتحہ کی فضیلت اور اس کے الفاظ کی تشریح وغیرہ بیان ہوگی۔ (اشرف کتاب) امام ابن کثیر آٹھویں صدی ہجری کے بڑے پائے کے مفسر قرآن ہوئے ہیں ۔ آپ نے بخاری شریف کی شرح بھی لکھی ہے اس کے علاوہ آپ نے تاریخ کی بڑی مستند کتاب لکھی ہے جس میں حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آٹھویں صدی تک کی تاریخی روایات سند کے ساتھ بیان کی ہیں ۔ قرآن پاک کی تفسیر کے ضمن میں فرماتے ہیں (١ تفسیر ابن کثیرص) کہ قرآن حکیم تمام کتابوں سے اشرف کتاب ہے ۔ شرافت اور عزت میں اس کے برابر کوئی دوسری کتاب نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود قران کریم میں فرمایا ہے اللہ نزل احسن الحدیث (الزمر) اللہ نے سب سے بہتر بات نازل فرمائی ہے۔ حدیث کا لغوی معنی بات ہے۔ سورة مرسلات میں ہے فبای حدیث بعدہ یؤمنون اگر خدا تعالیٰ کے قرآن میں نازل کردہ بات پر ایمان نہیں لاؤگے تو پھر اس کے بعد کون سی بات اور کون سی کتاب نازل ہونے والی ہے جس پر تم ایمان لاؤ گے ۔ قرآن کریم ہی تمام کتابوں سے اشرف کتاب ہے۔ (اشرف رسول) اللہ تعالیٰ نے یہ اشرف کتاب اپنے اشرف رسول پر نازل فرمائی قرآن پاک میں ہے ماکان محمد ابااحدمن رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبین (الا حزاب) اللہ نے تمام نبیوں کے خاتم اور سب سے فضیلت اور شرافت والے نبی پر یہ قرآن حکیم نازل فرمایا۔ سورة بقرہ میں ہے تلک الرسل فضلنابعضھم علی بعض یہ سب رسول ہیں ۔ ہم نے ان میں سے بعض پر فضلیت بخشی ہے۔ پھر ان میں سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درجات تو تمام انبیاء ورسل سے بلند ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں میں سے سب سے اشرف رسول پر یہ کتاب نازل فرمائی۔ (اشرف فرشتہ ) اور پھر جس فرشتے کے ذریعے قرآن پاک کا نزول ہوا یعنی جبرائیل (علیہ السلام) وہ فرشتہ بھی سب فرشتوں سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں فرمایا ہے نزل بہ الروح الامین (الشعرائ) یہ عظیم کتاب ہم نے جبرئیل امین کے واسط سے نازل فرمائی۔ (اشرف سرزمین) پھر یہ بھی ہے کہ قرآن حکیم جس خطہ زمین پر نازل ہوا ، وہ خطہ تمام خطوں سے زیادہ فضیلت والا ہے ۔ سورة آل عمران میں ہے ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبرکا وھدی للعلمین اللہ کا پہلا گھر جس گھر جس خطہ میں بنایا گیا وہ مکہ یعنی مکہ مکرمہ میں ہے ۔ یہ بڑاہی بابرکت اور جہان بھر کے لیے مرکزہدایت ہے یہ حرم پاک ہے جہاں اللہ کا گھر بیت اللہ شریف ہے۔ اسی زمین میں اللہ نے قرآن پاک کو نازل فرمایا۔ (اشرف مہینہ) شھررمضان الذی انزل فیہ القران (البقرہ) یہ ماہ رمضان ہے جس میں قرآن پاک کا نزول ہوا اور یہ افضل ترین مہینہ ہے۔ (اشرف رات) جس رات میں قرآن پاک نازل ہوا وہ رات بھی تمام راتوں سے افضل ہے اناانزلنہ فی لیلۃ القدر ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا لیلۃ القدر خیر من الف شھر یہ ایسی بابرکت رات ہے کہ اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں سے افضل ہے چناچہ قرآن کریم کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس کا نزول سب سے اشرف رات میں ہوا۔ امام ابن کیثرفرماتے ہیں کہ فکمل من کل الوجوہ پس قرآن پاک کی فضیلت تمام وجوہ سے مکمل ہے ۔ جس اعتبار سے بھی دیکھا جائے قرآن پاک شرف اور فضیلت رکھنے والی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اشراف و فضائل کو قرآن پاک پر ختم کردیا ہے۔ (تفسیر القرآن بالقرآن ) قرآن پاک کی تفسیر کے سلسلے میں بعض چیزیں ذہن میں رکھنا ضروری ہیں ۔ سلف صالحین کا طریق کا ریہ ہے کہ وہ قرآن پاک کی تشریح اور وضاحت سب سے پہلے خود قرآن پاک میں تلاش کرتے ہیں ۔ چناچہ امام شافعی (١ ب تفسیر کبیرص ٤٣ ج ١١) کو ایک مسئلہ کے متعلق تردد تھا کہ آیا یہ قرآن میں ہے یا نہیں ۔ انہوں نے تین سو مرتبہ قرآن کی ورق گردانی کی تب جاکر انہیں وہ آیت معلوم ہوگئی جس سے مسئلہ کا حل نکل آیا ۔ تا ہم مسئلہ کا استخراج دہی لوگ کرسکتے ہیں جو صاحب علم ہوتے ہیں جو کثرت سے کتابیں پڑھتے ہیں ان کے حافظے قوہی ہوتے ہیں اور وہ تمام مشکلات سے بھی واقف ہوتے ہیں ۔ بہرحال ہے تو دوسری جگہ تفصیل سے مل جائے گا یا اگر ایک مقام پر اصول بیان ہوا ہے ۔ تو دوسری جگہ کچھ وضاحت بھی موجود ہوگی ۔ (تفسیربالسفتہ) اگر کوئی مسئلہ قرآن حکیم سے پورے طورپرواضح نہ ہو تو پھر اس کی تشریح کیلے سنت سے رجوع کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے لتبین للناس مانزل الیھم (النحل) کہ جو چیزاتاری گئی ہے آپ اس کی وضاحت کردیں ۔ امام ابن تیمیہ (ب ١ فتاوی کبری لابن تیمیہ ص ١٣٨ ج ٣) حنبلی مسلک کے بہت بڑے امام ہوئے ہیں آپ مجاہد اور غازی بھی تھے وہ فرماتے ہیں فالسنۃ تبین القران وتفسرہ یعنی سنت ایسی چیز ہے جو قرآن پاک کو بیان کرتی ہے اور اس کی تفسیر کرتی ہے امام شافعی اور ہمارے اکابرین میں امام شاہ ولی اللہ اور مولا نارشیداحمد گنگوہی نے صاف لکھا ہے کہ جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ، وہ قرآن کریم کی شرح ہیں ، قرآن پاک کے الفاظ وحی جلی ہیں لیکن جو باتیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے بیان ہوئی ہیں وہ وحی خفی ہیں ، بہر حال قرآن پاک کے بعد تفسیر کا دوسرا ذریعہ حدیث ہے مطلوبہ تفصیل وہاں سے تلاش کی جائیگی ۔ (معاذبن جبل (رض) اور اجتہاد ) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ بن جبل (رض) کو یمن کی طرف دوحیثیتوں کے ساتھ روانہ فرمایا۔ آپ اس علاقہ کے حاکم بھی تھے اور آپ کو مبلغ اسلام کی حیثیت بھی حاصل تھی ۔ روانگی کے وقت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ سے (ب ٢ تفسیر ابن کثیرص ٣ ج ١) پو چھا کہ جب تمہارے سامنے مقدمات پیش ہوں گے تو ان کا فیصلہ کیسے کرو گے ۔ عرض کیا حضور ! سب سے پہلے میں مسئلہ کا حل قرآن پاک میں تلاش کروں گا اگر وہاں سے راہنمائی حاصل ہوگئی تو اس کے مطابق فیصلہ کروں گا اور وہاں کوئی چیز صراحتا نہ مل سکی تو پھر آپ کی سنت میں دیکھوں گا اور اگر وہاں بھی نہ پاسکا ثم اجتھد پھر میں اجتہاد کروں گا۔ اور جو بات قرآن وسنت کے مطابق معلوم ہوگی اس کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ یہ سن کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا الحمد اللہ الذی وفق رسول اللہ لمایحب ویرضی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے رسول کے بھیجے ہوئے کو اس چیز کی توفیق دی ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے اور جس پر راضی ہوتا ہے گویا یہ اصول وضع ہوگیا کہ جب کوئی چیز قرآن وسنت سے نہ مل سکے تو پھر ایسامسئلہ اہل علم اجہتا د کے ذریعے حل کریں گے۔ (امام ابوحنیفہ کا طریقہ تفسیر) امام ابوحنیفہ کا طریقہ تفسیر یہی ہے کہ وہ ہر مسئلے میں سب سے پہلے کتاب اللہ کو دیکھتے ہیں ۔ اگر وہاں صراحت نہیں ملتی تو پھر حدیث رسول میں تلاش کرتے ہیں ۔ اگر حدیث میں بھی کوئی چیزنہ ملے تو پھر اقوال صحابہ کو دیکھتے ہیں ۔ اگر صحابہ کرام کسی مسئلہ پر متفق ہوں تو آپ اس کو اختیار کرلیتے ہیں اور اگر صحابہ میں اختلاف ہو تو پھر امام صاحب اقوال صحابہ میں سے کسی ایک قول کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اگر صحابہ کے اقوال سے بھی معاملہ واضح نہ ہو تو پھر تابعین کے متعلق آپ فرماتے ہیں ھم رجال ونحن رجال وہ بھی اس میدان کے مرد ہیں اور ہم بھی اس میدان کے مرد ہیں چونکہ امام صاحب خود صغائر تابعین میں سے ہیں اس لیے آپ فرماتے ہیں کہ ہم خود اجتہاد کرکے مسئلے کا حل دریافت کریں گے تا ہم آپ کتاب اللہ ، سنت رسول اللہ اور اجماع صحابہ (رض) کو اولیت دیتے ہیں اور چوتھے نمبر پر اجتہاد کو اختیار کرتے ہیں ۔ چناچہ اصول فقہ والوں نے شریعت کے چارہی دلائل بیان کیے ہیں یعنی اللہ کی کتاب نبی کی سنت صحابہ کا اتفاق اور پھر اجتہاد۔ خود امام صاحب (ب ١ جامع المانیدص ٣١ تا ٣٢ ج ١ میزان الکبری ص ٥٩) نے ایک علمی کمیٹی بنا رکھی تھی جس میں امام ابو یوسف ، امام محمد داؤدطائی اور عبد اللہ بن مبارک جیسے بڑے بڑے لوگ شامل تھے جب کوئی حل طلب مسئلہ آتا تو اس چالیس رکنی کیمٹی کے سامنے پیش ہوتا۔ امام صاحب بھی مجلس میں شامل ہوتے متعلقہ مسئلہ پر بحث مباحثہ ہوتا اور پھر راحج امرکو لکھ لیا جاتا ۔ امام صاحب اور آپ کے شاگردان نے جو مسائل اجتہاد کے ذریعے حل کیے ہیں ان کی تعدا دبارہ لاکھ سے کم نہیں۔ (عبداللہ ابن مسعود) ۔ کسی معاملہ میں صحابہ (رض) کے درمیان اختلاف کی صورت میں بعض کو بعض پر ترجیح دی جاتی ہے ۔ مثلا جہاں کہیں خلفائے راشد ین میں سے کسی کا قول آجائے گا ۔ وہ قابل ترجیح ہوگا ۔ کیونکہ ان کے بارے میں خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ ان کی سنت کو مضبوطی (ب ١ ترمذی ص ٩٦ ج ٢ کتاب العلم ) پکڑو کیونکہ یہ ہدایت اور استقامت پر ہیں ۔ چاروں خلفائے راشدین کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود کی قابل تسلیم ہوگی کیونکہ انہوں نے قرآن پاک کا اکثرحصہ خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے براہ راست سیکھا تھا۔ آپ ہی کی زبان مبارک سے قرآن پاک کی تشریح۔ سنی تھی ، چناچہ امام احمد نے بھی خلفائے راشدین کے بعد ابن مسعود (رض) کا ذکر کیا ہے۔ خود آپ کا دعویٰ تھا (ب تفسیرابن کثیرص ٣ ج ١) والذی لا الہ غیرہ مانزلت من ایۃ من کتاب اللہ الا وانااعلم فی من نزلت واین نزلت مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں قرآن کریم کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی مگر میں جانتا ہوں کہ کس کے حق میں اور کس جگہ نازل ہوئی فرماتے تھے ولو اعلم احد ا اعلم بکتاب اللہ اگر مجھے علم ہو کہ قرآن کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی ہے اور میں اس تک سواری پر پہنچ سکتا ہوں تو یقینا سوارہوکر اس کے پاس جاتا اور اس سے علم سیکھتے کی کوشش کرتا ۔ آپ کا یہ بھی قول ہے (ب ٣ تفسیرابن کثیرص ٣ ج ١) کہ ہم جماعت صحابہ (رض) کی حالت یہ تھی ۔ کہ جب دس آیتیں نازل ہوتی تھیں تو ہم آگے نہیں بڑھتے تھے جب تک ان کے معانی اور ان پر عمل کرنے کے طریقے کو نہ جان لیتے اور پھر ہر قابل عمل حکم پر عمل کرتے ۔ آپ کے الفاظ اس طرح ہیں ۔ حی یعلموابما فیھا مناالعمل فتعلمنا القران والعمل جمیعا۔ (عبد اللہ بن عباس (رض) صحابہ کرام میں سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی شخصیت بھی بہت مشہور ہے خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کے متعلق دعا کی تھی (ب ١ تفسیرابن کثیرص ٣ ج ١) اللھم علم الکتاب اللھم فقھہ فی الدین اے اللہ اس بچے کو کتاب کا علم سکھا اور اسے دین میں سمجھ عطاکر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے وقت حضرت ابن عباس کی عمرصرف گیارہ یا بارہ برس تھی تا ہم آپ دینی معاملات میں بڑے متجس تھے اکثر حضور کے گھر میں اپنی خالہ کے ہاں قیام کرتے تا کہ رات کے وقت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعمال کا مشاہدہ کرسکیں ۔ ایک دفعہ حضور (ب ٢ بخاری ص ٥٣١ ج ١ ص ٢٦ ج ١) قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے حضرت ابن عباس (رض) نے آپ کے لیے پانی کالوٹا رکھ دیا ۔ حضور واپس تشریف لائے تو دریافت کیا یہ لوٹا کس نے رکھا ہے آپ کو بتایا گیا کہ ابن عباس (رض) نے رکھا ہے آپ نے اس موقع پر دعا کی اللھم علمہ الحکمۃ اے اللہ ! اس کو حکمت اور دانائی سکھادے ۔ اس کو کتاب اللہ کا علم سکھادے ۔ چنا نچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا قبول ہوئی اور اللہ نے آپ کو علم کا وافرحصہ عطا فرمایا ۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس (رض) حضرت علی (رض) کے زمانہ خلافت میں تھوڑ اعرصہ گورنری پر متمکن رہنے کے علاوہ ساری عمر قرآن وحدیث کی تعلیم دیتے رہے حضرت مجاہد (رض) جیسے آپ کے بعض شاگرد ایسے بھی ہیں جنہوں نے آپ سے تیس ٣٠ مرتبہ قرآن پاک اول تا آخر سیکھا اور پوری تفسیر وتشریح سے مستضید ہوئے ۔ خود حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کو نعم ترجمان القران کا خطاب دیا ہے (١ تفسیر ص ٤ ج ١) یعنی قرآن پاک کی بہتر ین ترجمانی کرنے والے ہیں ۔ بہرحال حضرت ابن مسعود (رض) کے بعد حضرت ابن عباس کی تشریح دیکھی جائے گی کہ انہوں نے قرآن کی کسی آیت کا کیا مطلب لیا ہے۔ (تفسیربالرائے حرام ہے ) تفسیر بالرائے یعنی محض اپنی ذاتی رائے سے قرآن پاک کی تفسیر کرنا حرام ہے ۔ اگر کوئی شخص ایسی رائے رکھتا ہے جو قرآن پاک کی مراد نہیں ہے اور پھر وہ اسے قرآن کی کسی سورة یا آیت پر چپاں کرتا ہے تو یہ انتہائی درجے کی گمراہی ہوگی حقیقت یہ ہے کہ خود حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام سلف صالحین اللہ تعالیٰ کی منشاء معلوم کرکے اس کے مطابق قرآن حکیم کی تفسیر کرتے رہے ہیں ۔ اور کسی نے اللہ کی منشاء کے خلاف اپنی رائے کو دخیل نہیں ہونے دیا تفسیر بالرائے ڈاکہ چوری اور زنا سے بھی بڑا جرم ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے (ب ٢ تفسیر ابن کثیرص ٥ ج ١) من قال فی القران برایہ او بمالا یعلم فلیتبوا مقعدہ من النار جس شخص نے قرآن پاک کی تفسیر اپنی رائے سے کی یا ایسی بات کی جس کو وہ نہیں جانتا تو ایسا شخص اپنا ٹھکانا دوزخ میں تلاش کرے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی فرمایا (ب ٣ تفسیر ابن کثیرص ٥ ج ١) من قال فی القران براء فقد اخطا جس نے اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کی اس نے غلطی کی ۔ اگر چہ اس نے ٹھیک بات کی ہو مگر پھر بھی اس نے اپنی ذاتی رائے شامل کرکے غلطی کا ارتکاب کیا ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں (ب ٤ تفسیر قرطبی ص ٣٣ ج ١) من فسرالقران براء یہ فقد کفر جس نے قرآن پاک کی تفسیر اپنی رائے سے کی اس نے گو یا کفرکا ارتکاب کیا ۔ امام ابن کثیر نے یہ روایت نقل کی (تفسیر ابن کثیرص ٥ ج ١) ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے پوچھا گیا کہ فاکھۃ وابا میں فاکھۃ کا معنی تو معلوم ہے اباکا کیا مطلب ہے ؟ اس پر آپ نے فرمایا ای سماء تظلنی وای ارض تقلنی اذا انا قلت فی کتب اللہ مالا اعلم مجھ پر کونسا آسمان سایہ کرے گا۔ اور کون سی زمین مجھ کو اٹھا ئیگی جب میں اللہ کی کتاب کے بارے میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ اس معاملے تکلف نہیں کرنا چاہیئے۔ جس کا علم نہ ہو وہ اپنی رائے سے نہیں بتانی چاہیئے بلکہ صاف کہ دنیا چاہیے کہ مجھے اس کا علم نہیں ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان بھی (ب ١) ہے کہ جو کچھ جانتے ہو وہ بتاؤ اور جو نہیں جانتے انہیں اہل علم کی طرف سونپ دو بلا علم اپنی رائے کو دخیل نہ کرو یہ گمراہی ہے۔ (تباہی کے اسباب) حضرت مولانا عبید اللہ سندھی ہمارے دور کے قرآن کے بہت بڑے عالم ہوئے ہیں ۔ حضرت مولانا احمد علی لاہوری نے آپ ہی سے قرآن پڑھا تھا ۔ آپ نے ان کو وصیت کی تھی کہ احمد علی قرآن پڑھا نے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کرنا ۔ چناچہ اس وصیت کے مطابق حضرت لاہوی نے ساری عمر قرآن پاک کی تعلیم دی اور آپ کے شاگرد دور دور تک پھیل گئے ۔ تو مولا سندھی فرماتے (ب ٢) کہ مسلمانوں کو دو چیزوں نے تباہ کیا ہے ایک کتاب اللہ سے غفلت اور دوسری قرآن پاک کی غلط تفسیر ، فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت قرآن کی تعلیم سے بےبہرہ ہے وہ جانتے ہی نہیں کہ یہ کیا چیز ہے ۔ صرف ایک دوفیصدی آدمی قرآن کی طرف توجہ دیتے ہیں وگرنہ غالب اکثریت غفلت کا شکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اتنی عظیم کتاب عطا فرمائی ہے مگر یہ اس سے اغماض برت کر تباہی کی طرف جا رہے ہیں ۔ مسلمانوں کی تباہی کی دوسری وجہ غلط تفسیر بھی عام ہے ۔ خود مسلمانوں میں سے کتنے نام نہاد مفسرین جنہوں نے قرآن پاک کی تفسیر غلط کی ہے عبداللہ چکڑالوی کا دماغ خراب ہوا اور اس غلط تفسیر کرکے لوگوں کو گمراہ کیا کبھی نمازوں کی تعداد دوبتائی اور کبھی تین بتائی ۔ اس طرح سرسید کا دماغ بھی خراب ہوگیا ۔ اس نے پڑے اچھے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی تھی مگر معجزات کا انکار کیا اور من کفر پھیلا یا ۔ اہل بدعت کی غلط تفاسیر بھی موجود ہیں یہ لوگ قرآن کریم میں تحریف کے مرتکب پھیلایا ۔ اہل بدعت کی غلط تفاسیر بھی موجود ہیں ۔ یہ لوگ قرآن کریم تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں اور لوگوں کو تباہ وبرد کیا ہے مودودی صاحب کی تفسیر بھی بہت سی اعتقادی غلطیاں ہیں ۔ انہوں نے بھی حدیث کے سمجھنے میں غلطیاں کی ہیں اصلاحی صاحب ابھی زندہ سلامت ہیں انہوں نے واقعہ معراج کو خواب سے تعبیر کردیا ہے۔ حالانکہ چھیا لیس ٤٦ صحابہ سے یہ واقعہ تواتر کے ساتھ منقول ہے مگر انہوں نے اسے خواب کا واقعہ قراردیا ہے۔ اگر یہ خواب کا واقعہ تھا تو پھر مشرک لوگ کس بات پر جھگڑا کرتے تھے خواب میں تو سب کچھ ممکن ہے اسی طرح احمد رضاخان نے قرآن پاک الفاظ کے غلط ترجمے کیے ہیں اور اس طرح قرآن پاک تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ آج بڑے اچھے اچھے تراجم بھی موجود ہیں جن میں مولانا شاہ اشرف علی تھانوی اور حضرت مولانا محمود حسن کا ترجمہ ہے کا ترجمہ ہے آپ نے مالٹا جیل میں قلمبند کیا تھا ۔ اللہ کی کتاب کا نہایت احتیاط سے ترجمہ کیا ہے یہ معیاری تراجم ہیں ۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کا تر جمہ بھی ٹھیک ہے تاہم خوداہل حدیث علماء نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی تفسیر میں بعض غلیاں موجود ہیں مولانا موودی تے بعض صحیح احادیث کا اس لیے انکا کردیا ہے کہ یہ عقل کے خلاف ہیں حضرت مولانا امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں (١ ب حجہ اللہ مقدمہ ص ٢ ج ١) کہ ہماری عقلیں ناقص ہیں اور نبی کی عقل کامل ہے ، لہذا ہمیں صحیح حدیث کے انکار کی بجائے اپنی عقل کو موردالزام ٹھہرانا چاہیئے ۔ صحیح حدیث بہرحال مصطفے ہے خواہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے ۔ بہرحال تفسیر قرآن کے ضمن میں میں نے یہ چند باتیں عرض کردی ہیں ۔ سورۃ الفاتحۃ ١ قرآن کریم کا موضوع اور سورة فاتحہ درس ہفتم ٧ (ربط مضامین ) قرآن پاک کی تفسیر کے سلسلے میں کل عرض کیا تھا کہ کسی سورة آیت یا لفظ کی تشریح سب سے پہلے قرآن پاک میں تلاش کی جائیگی اگر وہاں نہ ملے تو پھر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف رجوع کیا جائے گا ۔ اگر وہاں پر بھی مسئلہ کا حل نہ مل سکے تو پھر اقوال صحابہ (رض) میں دیکھا جائے گا ۔ اگر پھر بھی تفسیر معلوم نہ ہوتا تو تا تابعین اور ان کے بعد والے آئمہ مجہتدین کی طرف رجوع کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایسے مسائل میں اہل علم لوگ ہی غوروفکر کرکے کسی نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں ۔ حضرت مولا نا شیخ الہند محمود حسن نے مالٹاجیل میں اسیری کے دوران قرآن پاک کا نہایت عمدہ ترجمہ لکھا ہے۔ اس کے مقدمہ میں آپ نے شاہ عبدالقادر کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے (ب ١ مقدمہ قرآن کریم حضرت شیخ الہند ص ٢) کہ قرآن پاک کے معنی بغیر سند کے معتبر نہیں جہاں پر جس کسی نے قرآن کریم کے کسی لفظ کا کوئی معنی کیا ہے تو اس سے پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ معنی کہاں سے لیا ہے کسی کی ذاتی رائے کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا اس کام کے لیے تمام مفسرین کرام نے اپنی زندگیوں کے پیشترحصے صرف کیے ہیں انہوں نے اساتذہ کی خدمت میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے اور کتاب اللہ کو سمجھنے کے لیے بڑی جدوجہد کی ہے تب جا کر انہیں تفسیر قرآن کا ملکہ حاصل ہوا ہے ۔ امام بخاری نے صحیح بخاری کی کتاب التفسیر میں تمام اسنادبیان کی ہیں اور آپ نے تفسیر کی شرائط بھی بیان کی ہیں اور جو تفسیر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا صحابہ کرام (رض) یا آئمہ سے منقول ہے اس کو ذکر کیا ہے ۔ اسی طرح امام ترمذی اور امام حاکم نے بھی باب التفسیر لکھا ہے۔ امام طحاوی نے بھی اپنی کتاب مشکل الآثار میں تفسیر کا باب ذکر کیا ہے ۔ اب آج کے درس میں قرآن پاک کے موضوع اور قرآن پاک اور سورة فاتحہ کے کوائف کا ذکر ہوگا۔ (قرآن کا موضوع) ہر کتاب کا کوئی نہ کوئی موضوع ہوتا ہے جس سے وہ بحث کرتی ہے اسی طرح قرآن پاک کا بھی موضوع ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن کا موضوع ہے انسان مکلف یعنی وہ بالغ انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل وشعورعطا کیا ہے اور وہ قانوں کا پابند ہے۔ قانوں کی پابندی اس لیے ضروری ہے ۔ کہ کوئی انسان اس کے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا ۔ قانون کی پابندی سے ہی انسان ذہنی عقل اور ا (رح) خلاقی طور پر ترقی کرکے بالاخرخطیرۃ القدس اور جنت میں پہنچے گا ۔ انسان کی ترقی دنیا میں تو جاری رہتی ہے بلکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم (١ ب حجۃ اللہ البالغہ ص ٥٣ ج ١) کے مطابق ایمان والے کی ترقی برزخ میں بھی جارہی رہتی ہے اور پھر وہ حشر کی منزل کو طے کرکے اصل منزل تک پہنچے گا ۔ تو بہرحال قرآن کا موضوع انسان مکلف ہے۔ قرآن پاک کسی خاص فردواحد سے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان سے بحث کرتا ہے۔ (عالمی اور قومی نبی) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا مقصد بھی عالمی طور پوری انسانیت کی تکمیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام اقوام عالم اور پوری بنی نوع انسان کی طرف رسول بناکر بھیجا ہے۔ قرآن میں اس بات کا اعلان خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے اس طرح کرایا گیا ہے۔ قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا (الا عراف ) اے بنی ہیں ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دوسری حیثیت قومی نبی کی ہے کیونکہ قرآن پاک کا نزول قریش کی قومی زبان عربی میں ہوا۔ اس سے قریش کی سعادت بھی مقصودتھی ۔ اصحاب فیل کے واقع میں اللہ تعالیٰ نے قریش کی بڑی عزت افزائی فرمائی اور ایک طاقتور دشمن چھوٹے سے جانوروں سے ذلیل کروا دیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس قریش خاندان میں اپنے آخری نبی کو معبوث فرمایا اور قرآن پاک بھی انہی کی زبان میں فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے ۔ وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ (ابراہیم ) ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی قومی زبان میں ۔ قرآن پاک کے متعلق اللہ نے فرمایا انا انزلنہ قرانا عربیا لعلکم تعقلون (یوسف) ہم نے قرآن حکیم عربی زبان میں نازل فرمایا تاکہ تم اس پروگرام کو اچھی طرح سمجھ سکو تو اس لحاظ سے آپ قومی نبی بھی ہیں۔ (اسلام کی عالمی حیثیت) بہرہال قرآن کا موضوع انسان مکلف ہے کیونکہ تکمیل انسانیت ہی اس کا مقصد ہے ۔ نبوت کا مقصد بھی یہی ہے کہ اجتماعی طور پر تمام انسانیت کو ترقی نصیب ہو اور اسلام بھی عالمی ترقی کا ہی پروگرام پیش کرتا ہے جس کے ذریعے تمام انسانیت کی ہدایت مطلوب ہے تو گویا مذہب اسلام بھی کسی خاص قوم اور خاص وطن کیلئے نہیں آیا بلکہ اقوام عالم کے لیے آیا ہے ۔ اگر چہ یہ ایک خاص قوم اور خاص زبان میں نازل ہوا ہے مگر اس کی حیثیت عالمی اور اس کی دعوت پوری بنی نوع انسان کے لیے ہے گذشتہ ادوار میں اللہ تعالیٰ نے کسی بنی کو ایک قوم کی طرف مبعوث کیا اور کسی کو دویا زیادہ اقوام کی طرف مگر تمام اقوام عالم کے لیے صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی ذات مبارکہ کو مبعوث فرمایا ہے ہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی عمومی حیثیت میں نبی بناکر بھیجا ۔ آپ کی نبوت و رسالت بھی تمام انسانوں کے لیے تھی ۔ اور پھر سب سے آخر میں یہ منصب اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا فرمایا۔ (اصلاح علم وعمل ) نزول قرآن پاک کا ایک مقصدیہ ہے کہ یہ علم اور عمل دونوں چیزوں کی اصلاح کرتا ہے ۔ علم ایک عام چیز ہے اور اس میں پڑی خرابیاں پائی جاتی ہیں لوگوں کے عقیدے خراب ہوتے اور فکر میں بگاڑ پیدا ہوتا ۔ باطل مذاہب والے لوگ بھی علم رکھتے ہیں ، وہ کوئی جاہل مطلق نہیں ہیں ۔ یہودیوں اور عیسائیوں میں بڑے بڑے عالم موجود ہیں ۔ ان کے پاس دنیاوی مذہبی کلچرل اور اجتماعی ہر قسم کے علوم ہیں مگر ان میں خرابی پائی جاتی ہے ، وہ عالم ہیں مگر بگڑنے ہوئے ، تو قرآن پاک ہر بگڑے ہوئے علم کی اصلاح کرکے لوگوں کے عقیدے فکر اور ذہن کی اصلاح کرتا ہے یہ علم کی اصلاح ہے ۔ اور عمل کا بگاڑ تو عام ہے۔ دنیا کی کوئی قوم عمل بگاڑ سے خالی نہیں۔ ہم سچے دین کے پیروکار ہیں مسلمان کہلاتے ہیں مگر ہم میں بھی عملی خرابیوں کی کمی نہیں ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحیح عمل بالکل ناپید ہوچکا ہے بلکہ صالح اعمال والے لوگ بھی کچھ نہ کچھ تعداد میں ہر زمانے میں موجود رہے ہیں اور موجود رہیں گے ۔ حق باطل کبھی ختم نہیں ہوگا ۔ بہرحال خرابی علمی ہو یا عملی یا اخلاقی قرآن پاک اس کی اصلاح کرتا ہے امام رازی اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نزول قرآن کا مطلب حصول سعادت الدارین یعنی دونوں جہاں کی سعادت مندی حاصل کرنا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اگر انسان کی علمی اور عملی اصلاح ہوجائے تو اسے دنیا میں بھی سعادت حاصل ہوجائے گی اور اس کی آخرت بھی باسعادت ہوگی ۔ غرضیکہ مختصر طورپرہم یہ کہ سکتے ہیں کہ قرآن کا موضوع انسان مکلف ہے۔ یہ قرآن انسان کی علمی اور عملی دونوں طریقوں سے اصلاح کرتا ہے اور نبوت کا مقصد بھی جیسا کہ امام بیضاوی فرماتے ہیں تکمیل انسانیت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو مبعوث فرمایا جو لوگوں کی تربیت کرتے رہے ہیں ۔ پھر جو لوگ انبیاء سے ادب سیکھ کر اس پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں وہ درجہ کمال تک پہنچ جاتے ہیں اور جو لوگ انبیاء کی تعلیم وتربیت سے مستفید نہیں ہوتے وہ دنیا وآخرت ہر دو مقامات پر بدبختی کا شکار رہتے ہیں ۔ (کوائف قرآن ) قرآن پاک کے موضوع کے ذکر کے بعد اب قرآن حکیم کے کچھ کوائف بھی پیش کیے جاتے ہیں ۔ قرآن کریم کی کل ١١٤ سورتیں ہیں اور ہر سورة کو ایک صحیفہ بھی کہ سکتے ہیں کیونکہ سورة بینہ میں موجود سے رسول من اللہ یتلواصحفا مطھرۃ اللہ کا رسول پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سناتا ہے اور اس سے مرادیہی سورتیں ہیں ۔ جس کا مطلب یہ کہ اگر ہر سورة کو علیحدہ علیحدہ صحیفہ تسلیم کرلیا جائے تو قرآن پاک کے کل ١١٤ صحیفے بن جائیں گے ۔ ان میں سے بعض لمبے ہیں جیسے سورة بقرۃ آل عمران مائدہ وغیرہ بعض درمیانے درجے کے صحیفے ہیں اور بعض چھوٹے ۔ ہر سورة یا صحیفے میں انسانیت کو درجہ کمال تک پہنچا نے کا پروگرام موجود ہے ۔ اگر انسان چھوٹی سے چھوٹی سورة میں بھی غوروفکر کرے اس پر اعتقاد جمائے اور اس کے مطابق عمل کرے تو اس کے لیے یہی کافی ہے۔ قرآن پاک کی کل آیات کی تعدادچھ ہزار سے کچھ زیادہ ہے اس تعداد کے متعلق مفسرین میں معمولی سا اختلاف پایا جاتا ہے اور یہ کوئی ایسا فاش اختلاف نہیں ۔ بعض حضرات کسی ایک آیت کو دوشمار کرلیتے ہیں جسکی وجہ سے کل گنتی میں فرق آجاتا ہے جیسے سورة الفجر کی ایک لحاظ سے تیس ٣٠ آیات ہیں جب کہ دوسرے حساب سے تینتنیس ٣٣ ہیں ۔ اس طرح کل آیات ٦٦١٦ یا ٦٦٠٠ بنتی ہیں ۔ اور اگر ہر سورة کے ساتھ بسم اللہ کو بھی آیت شمار کرلیا جائے تو مزید کچھ فرق پڑھ جائے گا ، وگرنہ سورة نمل کو چھوڑ کر باقی ١١٣ سورتوں میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کسی سورة کا جزو نہیں ہے۔ قرآن پاک کے جملہ الفاظ یا کلمات کی تعداد ٧٧٩٣٤ ہے جب کہ جملہ حروف ٧٦٠ ، ٣٢٣ ہیں ۔ حضرت مجاہد اور حضرت عطاکی تعداد میں کچھ تھوڑا بہت فرق ہے تاہم ابن کثیر (١ ب ابن کثیرص ٧ ج ١) اور دیگر مفسرین نے مذکورہ تعداد کو ہی اختیار کیا ہے۔ (اہل تشیع کی کذب بیانی) کتب حدیث میں جس طرح اہل سنت کے ہاں صحاح ستہ اور پھر ان میں صحیح بخاری کو شرف حاصل ہے۔ اسی طرح جامع تیسری اور چوتھی صدی کا یعقوب کلینی ہے ۔ اس نے اپنے راویوں سے روایتیں جمع کی ہیں اور انہیں امام جعفر صادق اور حضرت علی (رض) سے منسوب کر کے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وابستہ کیا ہے تاہم اہل سنت کی تحقیق کے مطابق ان میں سے اکثر روایات صحیح نہیں ہیں ۔ بہرحال اصول کافی میں لکھا (٢ ب اصول کافی ص ٦٣٤ ج ٢ مبوعہ تہران ١٣٨٨ ھ) ہے ان القران الذی جاء بہ جبل سیل الی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سبعۃ عشر الف ایۃ یعنی جس قرآن پاک کو جبرائیل (علیہ السلام) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لائے تھے اس کی سترہ ١٧٠٠٠ ہزار آیتیں تھیں ۔ یہ روایت بالکل جھوٹ کا پلندہ ہے کیونکہ قرآن پاک کی آیات کی تعداد جیسا کہ پہلے عرض کیا چھ ہزار سے کچھ زائد ہے ۔ شیعہ حضرات اس روایت سے گویا مطلب اخذ کرتے ہیں کہ باقی آیتیں صحابہ کرام (رض) نے قرآن پاک سے خارج کردیں ۔ اس روایت سے صحابہ کرام (رض) کی دیانت کو مجروح کرنا مقصود ہے جنہوں نے قرآن پاک کی جمبلہ آیات کو جمع کیا لکھو ایا اور پھر آگے پھیلایا ۔ یہ روایت حقیقت کے سراسر خلاف ہے۔ جائیں گے ۔ (سورۃ فاتحہ کے کوائف فضائل ) سات آیات پر مشتمل اس سورة میں پچیس ٢٥ الفاظ اور ایک سو تیس ١٢٣ حروف ہیں ۔ بعض روایات (١ ب تفسیر ابن کثیر ص ٦٩ ج ٤) میں آتا ہے لباب القران الحوامیم السبعۃ یعنی پورے قرآن پاک کا لب لباب ان سات سورتوں میں ہے جن کی ابتدا حم سے ہوتی ہے ۔ قرآن پاک کے بنیادی مسائل تو حید رسالت قیامت اور وحی الٰہی ہیں باقی سب کچھ ان کی تشریح کے ضمن میں آتا ہے ۔ تو یہ چار بنیادی چیزیں حوامیم میں کمال درجے کے ساتھ ذکر کی گئی ہیں ۔ اور پھر ان سات سورتوں کا خلاصہ صرف ایک سورة فاتحہ میں آگیا ہے ۔ اور اس سورة کا نچوڑ اس کی آیت ایاک نعبد وایاک نستعین میں سما گیا ہے۔ صرف اللہ کی عبادت اور اسی سے استعانت طلبی منتہائے کمال ہے اور یہ اس سورة فاتحہ کا خلاصہ ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (ب ٢ بخاری ص ٦٤٢ ج ٢) کہ سورة فاتحہ اعظم سورة فی القران یعنی قرآن پاک میں سب سے اعظم بہتر اور اچھی سورة یہی ہے ۔ اعظم کا لغوی معنی بڑی ہے۔ مگر مرادیہ ہے کہ فضیلت میں سورة فاتحہ قرآن پاک کی سب سے بڑی سورة ہے ۔ تمام بڑی چھوٹی اور وسطانی سورتوں میں سب سے اعلی مقام سورة فاتحہ کو حاصل ہے کیونکہ اس میں پورے قرآن کریم کا خلاصہ بیان کردیا گیا ہے۔ یہ بےمثال سورة ہے۔ (ضامن سورة ) قرآن پاک کے دو بنیادی مباحث ہیں ایک عقائد کا اور دوسرا اعمال کا ، اعمال شخصی بھی ہوتے ہیں جن کا تعلق انسان کی انفرادی زندگی سے ہوتا ہے اور منزلی بھی جن کا تعلق تمدنی زندگی کے ساتھ ہوتا ہے ۔ علم اخلاق والے اور حضرت امام شاہ ولی اللہ ان کو تدبیر منزل سے موسوم کرتے ہیں (رح) ۔ ان میں وہ اعمال آتے ہیں جن کا تعلق محلے شہریا ملک سے ہوتا ہے اور ان کی ضرورت اجتماعی زندگی میں گھر کے اندر سے شروع ہو کر پورے معاشرے تک ہوتی ہے ان دونوں انواع کے اعمال کا تذکرہ قرآن میں موجود ہے ۔ عقائد کے سلسلے میں توحید کا ذکر بطور خاص ہے اس کے علاوہ نبوت و رسالت اور قیامت کا ذکر ہے جو کہ قرآن پاک میں موجود ہے ۔ عبادات میں نماز روزہ زکوۃ اور حج کا بیان موجود ہے مکارم اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے ۔ اچھے اور پسند یدہ اخلاق کو اختیار کرنے اور بڑے اور ناشائستہ اخلاق سے پرہیز کی تلقین ہے اہل ایمان کے لیے امربالمعروف اور نہی جن المنکر بہت بڑا اصول ہے جس کو قرآن پاک میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ اہم مضامین میں نیکی کے کاموں میں تعاون خیر وشر کی پہچان قضا وقدر پر ایمان سعادت وشقاوت کی پہچان شفاعت کا مسئلہ جنت اور دوزخ کی تفصیلات ہیں ۔ معاشرتی مسائل میں نکاح و طلاق کے مسائل ، وراثت ، لین دین بیع شرائع خلافت سیاست اور امور سلطنت وغیرہ سب قرآن کریم مذکور ہیں ۔ شروفساد کے قلع قمع کے لیے جہاد کی ضرورت اور فرضیت کا ذکر ہے۔ تبلیغ اسلام کا طریقہ بھی تبلایا گیا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی احسن (النحل ) تبلیغ دین کافریضہ نہایت دانائی اور اچھے طریقے سے آگے بڑھانا چاہیئے اور اگر اغیار کے ساتھ بحث مباحثہ کی نوبت آئے تو اخلاق کی حدود میں رہتے ہوئے احسن طریقہ اختیار کرنا چاہیئے ۔ قرآن پاک کے دیگر مضامین میں محبت صبر عزم تقوی جیسے اہم اصول ہیں امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی حکمت کے مطابق چاراہم بنیادی اخلاق طہارت اخبار سماحت اور عدالت کا تذکرہ بھی قرآن پاک میں موجود ہے ۔ یہ سب قرآن کریم کے اہم مقاصد ہیں ۔ اور سورة فاتحہ ان تمام مقاصد پر مشتمل ہے ۔ ان کا خلاصہ اس سورة مبارکہ میں موجود ہے۔ الہذا یہ عظم سورة فی القرآن ہے۔ سورۃ الفاتحۃ ١ سورة الفاتحہ دیباچہ قرآن درس ہشتم ٨ سورۃ الفاتحہ کی فضیلت کے متعلق کل عرض کیا تھا کہ بااعتبار درجہ اور فضیلت یہ قرآن پاک کی سب سے افضل اور پسند یدہ سورة ہے کیونکہ اس میں قرآن پاک کے تمام مقاصد کا خلاصہ آگیا ہے۔ ہر کتاب کی ابتداء میں اس کتاب کا اجمالی تعارف دیباچہ کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک کا دیباچہ سورة الفاتحہ ہے کیونکہ یہ سورة قرآن پاک کے تمام معانی جامع ہے ۔ اس کی مثال اس طرح بیان کی گئی ہے کمراء ۃ صغیرۃ تریک شیاء عظیما جس طرح ایک چھوٹا سا آئینہ بہت بڑی چیز کو دکھا دیتا ہے۔ اسی طرح یہ مختصر سورة قرآن کریم کے تمام بڑے بڑے مضامین کی جھلک دکھاتی ہے۔ (صفات ربوبیت وعبدیت) اس سورة مبارکہ میں پانچ صفات ربوبیت کی اور پانچ صفات عبدیت کی بیان کی گئی ہیں ۔ ربوبیت کی پہلی صفت اسم ذات اللہ ہے اس کا ذکرسب سے پہلے ہوا ہے۔ دوسرے نمبر پر صفت رب ہے جس کا معنی پرورش کرکے کسی چیز کو حد کمال تک پہنچا تا ہے۔ خود انسان کی پرورش اور ہرچیز کا ارتقاد اسی صفت رب کا مرہون منت ہے۔ تیسری صفت رحمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے جو آخرت میں اس کے فرمانبردار بندوں کو نصیب ہوگی ۔ اس کے بعد پانچویں صفت مالک بیان ہوئی ہے کہ ہر چیز کا مالک خداوند کریم ہی ہے۔ اس سورة مبارکہ میں عبودیت کی پانچ صفات بھی بیان ہوئی ہیں پہلی صفت عبادت ہے۔ ہر انسان کا اولین فریضہ ہے کہ وہ اپنے خالق اور مالک کے سامنے سرنیاز خم کردے ۔ دوسری صفت استعانت بیان ہوئی ہے ۔ مخلوق کے لیے ہر دینی یاد نیاوی کام میں استعانت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کوئی کام پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا ۔ لہذا انسان اللہ تعالیٰ کی استعانت کے محتاج ہیں ۔ عبودیت کی تیسر ی صفت طلب ہدایت ہے ۔ یہ بھی ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے وگرنہ وہ کامیابی کی منازل طے نہیں کرسکتا ۔ ہر اہل ایمان ہر نماز میں یہی دعا کرتا ہے اھدناالصراط المستیقم اے اللہ ! میری سید ہے راستے کی طرف راہنمائی فرما ۔ پھر عبودیت کی چوتھی صفت طلب استقامت ہے ۔ راہ راست میسر آجانے کے باوجود جب تک اس پر استقامت نصب نہ ہو انسان منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا ۔ ہر انسان کے لیے ایمان توحید صحیح عمل اور اخلاق پر قائم رہنا بھی ضروری ہے ۔ لہذا اس سورة مبارک میں استقامت کو بھی طلب کیا گیا جو کہ بہت بلند چیز ہے۔ اس کے بعد عبودیت کی پانچویں صفت نعمت کا طلب کرنا اور خدا تعالیٰ کے غضب وناراضگی سے پناہ چاہنا ہے ۔ یہ تمام پانچوں صفات عبودیت بھی سورة فاتحہ میں بیان ہوگئی ہیں ۔ (انسانی جسم کے عناصر ) امام رازی (متوفی ٦٠٦ ھ) سلطان محمد غوری کے زمانے میں عظیم مفسر قرآن ہوئے ہیں ۔ اس وقت تک مسلمان عروج پر تھے کیونکہ ان کا زوال توساتویں ہجری میں شروع ہوا ہے ۔ تو امام صاحب فرماتے (ب ١ تفسیر کبیر ص ٢٢٩ ج ١) میں کہ انسان کی ساخت مختلف چیزوں کا مرکب ہے ۔ اس جسم میں کثیف چیزیں بھی ہیں اور لطیف بھی ۔ انسانی جسم کی ساخت میں خارجی دنیا کے تمام عناصر پائے جاتے ہیں ۔ جس طرح سونا چاندی لوہا ریت چور زمین کے عناصر ہیں اسی طرح یہ اشیاء انسانی جسم کے عناصر بھی ہیں ۔ یونانیوں کے زمانے میں چارعنا صر تسلیم کیے جاتے تھے جو پانچ چھ اور سات تک پہنچ گئے ۔ ہندوستانیوں کے ہاں چھ عناصر مشہور تھے مگر اس میں کوئی تحدیدنہ تھی بعد میں جوں جوں سائنس نے ترقی کی تحقیقات کا دور آیا تو معلوم ہو ا کہ کائنات میں عناصر کی تعداد تو کہیں زیادہ ہے ، چناچہ آج کل سانسدانوں میں ایک سو بیس ٢٠ سے زیادہ عناصر کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ان تمام عناصر سے فائدہ اٹھایاجاتا ہے اور یہ سارے کے سارے انسانی جسم کا بھی حصہ ہیں ۔ انسان کا جسم اللہ تعالیٰ نے نہایت پیچپدہ کمپلی کیٹڈبنایا ہے ۔ بیشمار ظاہری اشیاء کے علاوہ اس میں لاتعداد باطنی لطیف چیزیں بھی ہیں۔ (نفس شیطانی بہیمی اور ملکی ) امام رازی سمجھا نے کی غرض سے فرماتے ہیں کہ انسانی جسم میں نفس شیطانی بھی پایا جاتا ہے اور نفس فرماتے ہیں کہ جوہر ملکی کا اطمینان اسم اللہ کی تجلی سے ہوتا ہے۔ جب انسان پر اسم ذات کی تجلی پڑتی ہے تو انسان میں موجود ملکی جوہر کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اور جب اسم رب کی تجلی پڑتی ہے تو انسان کا نفس شیطانی زیرہوتا ہے اور وہ انسانی ذہن میں شروفساد برپا نہیں کرسکتا ۔ اسی طرح جب اسم رحمان کی تجلی واردہوتی ہے تو انسان کا نفس سبعی مغلوب ہوتا ہے اور اس کی اصلاح ہوتی ہے۔ المک یومئذن الحق للرحمن آج ساری کی ساری بادشاہی حق تعالیٰ کے لیے ہے جو نہایت مہربان ہے پھر جب اسم رحیم کی تجلی انسان پر پڑتی ہے تو اس کے نفس بہیمی کی اصلاح ہوتی ہے ۔ گویا مراسم پاک کی الگ الگ تجلی اور الگ الگ خواص ہیں ۔ انسان کا جسم کثیف ہے اور یہ کثافت صفت مالکیت سے مغلوب ہوتی ہے اور انسان میں لطافت پیدا ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے سورة فاتحہ میں پانچ صفات ربوبیت کی ذکر کی ہیں اور پانچ ہی عبودیت کی۔ اور اللہ کے پانچ اسمائے پاک کی تجلی سے مختلف قسم کے اثرات انسانی وجود پر پیدا ہوتے ہیں۔ (ملکیت اور بہیمت کی کش مکش) امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی حکمت کے مطابق (ب ١ حجۃ اللہ البالغہ جلداول باب حقیقۃ الروح ص ١٩) انسان میں میں ملکیت اور بہیمیت کی کشمکش جاری ہے اور ابدالاباد تک جاری رہیگی ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ساخت میں یہ دونوں مادے اس مقدار میں رکھ دیے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوں گے جب بھی ان میں سے کوئی مادہ ختم ہوگا ۔ تو انسان باقی نہیں رہے گا بہیمیت کا کچھ مادہ انسان کے ساتھ جنت میں بھی موجود ہوگا کیونکہ انسانیت کے قیام کا انحصار اسی پر ہے ۔ جب بہیمیت کی صفت کسی انسان میں حد سے تجاوز کر جاتی ہے تو اس میں درندوں جیسی چیرنے پھاڑنے کی خصلت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس لیے تعلیم یہ دی جاتی ہے کہ ایسے امور انجام دو جن سے بہیمیت مغلوب اور ملکیت غالب ہو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس مقصد کے حصول کے کیے طہارت اخبات سماحت اور عدالت جیسے زریں اصول اپنانا ہوں گے ، ان امور کو انجام دینے دے بہیمیت دبی رہے گی اور کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی ۔ اگر طہارت کی بجائے نجاست عاجزی کی بجائے تکبر خدمت کی بجائے خود غرضی اور عدالت کی بجائے ظلم کو اختیار کروگے تو بہیمیت بڑھ جائے گی اور انسان نا کامی کی منزل پر گامزن ہوجائے گا ۔ (خلاصہ کتب آسمانی ) امام مجد دالف ثانی (ب ٢ تفسیر عزیزی ص ٢٧ ج ١ ہو اہب الرحمن ص ٢٩ ج ١) نے یہ بات حضرت علی (رض) کی طرف نسوب کرکے اپنے مکاتیب میں نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی آسمانی صحیفے نازل فرمائے ہیں ۔ ان کے تمام مضامین اولا تین آسمانی کتابوں زبور تورات اور انجیل میں جمع کردیے پھر ان تینوں کتب کے جملہ مضامین کو قران پاک میں جمع فرمایا اور قرآن پاک کے تمام مضامین سورة فاتحہ میں یک جا کردیے گویا دیباچہ قرآن سورة الفاتحہ وحی الٰہی کے تمام مضامین کا خلاصہ آگیا ہے ۔ اور پھر سورة فاتحہ کے تمام مضامین بسم اللہ الر حمن الرحیم آگے ہیں ۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کے ہم عصر شیخ عبدالکریم جیلی مفسر قرآن نے بسم اللہ الر حمن الرحیم کی تفسیر میں ۔ الکھف والرقیم فی تفسیر بسم اللہ الر حمن الرحیم کے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں بسم اللہ کی تفسیر شرح وبسط کے ساتھ لکھی ہے۔ اسی طرح صاحب تفسیر کبیرامام رازی نے بھی بسم اللہ کی تفسیر میں فل سکیب کے ستر ٧٠ صفحات لکھے ہیں ۔ آپ فرماتے (ب ١ الکھف والرقیم) ہیں کہ بسم اللہ الر حمن الرحیم کے تمام مضامین حروف ب میں آگئے ہیں بلکہ ” ب “ کے نقطہ میں ہیں اور علم ریاضی میں نقطہ ایک ایسی چیز ہے جسکی تعریف نہیں کی جاسکتی ، اس کو فرض کیا جاتا ہے لیکن اعداد کی تمام عمارت اسی نقطہ پر قائم ہے ۔ اگر چہ نقطہ خود نظر نہیں آتا ، اسی طرح ذات خداوندی خود تو نظر نہیں آتی مگر تمام کائنات کی بنیاد اسی سے قائم ہے۔ اور ” ب “ کا مطلب استعانت بھی ہوتا ہے اور استعانت کا مطلب یہ ہے کہ چیز اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی ہونی چاہیئے اور ہر کام کے لیے اسی سے مدد طلب کرنی چاہیے قرآن وسنت میں استعینوابا اللہ کا حکم موجود ہے کہ تمام مشکلات اور حوائج میں اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق شامل حال نہ ہو تو انسان قدم بھی نہیں اٹھا سکتا حتی کہ آنکھ بھی نہیں جھپک سکتا وہ اور کیا کام انجام دے گا ۔ لہذا استعانت بھی اللہ ہی سے کرنی چاہیئے ۔ غرضیکہ تو حیدباری تعالیٰ جو پورے دین کی جڑبنیاد ہے اسی نقطہ سے سمجھائی گئی ہے۔ امام جعفرصادق سے منقول ہے کہ ” ب “ کا معنی ہے بی کان ما کان وبی یکون مایکون یعنی جو کچھ ہے میری وجہ سے اور جو کچھ ہوگا وہ میری وجہ سے ہوگا۔ سورۃ فاتحہ کی تفسیر اور اسکی فضلیت کے متعلق چند باتیں عرض کردی گئی ہیں ۔ اب حدیث پاک میں سورة فاتحہ کے جو مختلف نام آئے ہیں ان کا ذکر کیا جائیگا۔ سورۃ الفاتحۃ اسمائے سورة الفاتحہ درس نہم ٩ گزشتہ درس بیان ہوچکا ہے کہ سورة فاتحہ قرآن پاک کا دیباچہ ہے اور اس میں قرآن کریم کی مفصل تعلیمات کو نہایت اختصار کے ساتھ سمودیا گیا ہے ۔ یہ سورة قرآن کریم کی تمام سورتوں میں سے افضل اور بہتر سورة ہے ۔ اب آج کے درس میں سورة فاتحہ کے ان مختلف اسماء کا ذکر ہوگا ۔ جو احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔ (ا۔ فاتحۃ الکتاب) اس سورة مبارک کا پہلانام (باتفسیر روح المعانی ص ٣٤ ج ١ ، ) فاتحۃ الکتب ۔ فاتحہ کے معنی کھولنے والی ہے۔ اس کا معنی ابتدا کرنے والی سورة بھی ہے چناچہ قرآن پاک کی ابتداء اسی سورة سے ہوتی ہے ۔ ہر مطبوعہ قرآن کریم کی ابتداء میں یہی سورة آتی ہے ۔ اس واسطے اس کو سورة فاتحہ کہا جاتا ہے۔ تعلیم دیتے وقت بھی سب سے پہلے اسی سورة کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جب نماز میں قرآن حکیم کی قرأت شروع جاتی ہے ۔ تو وہ بھی اسی سورة سے ہوتی ہے ۔ اسی لیے یہ مسئلہ ہے کہ اگر نماز میں سورة فاتحہ سے پہلے کوئی دوسری سورة پڑھی جائے تو سجدہ سہولازم آتا ہے۔ (٢۔ سورة الحمد ) اس سورة مبارکہ کا دوسرا نام (٢ تفسیر ابن کثیر ص ٨ ج ١ ، ) سورة الحمد ہے ، حمد تعریف کو کہتے ہیں اور مراد ایسی سورة ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی جاتی ہے۔ اس لیے اس کا نام سورة الحمد بھی ہے۔ (٣۔ ام القرآن) اس سورة کا تیسرانام (ب ٣ ترمذی ص ١١٥ ج ١) ام القرآن ہے ام اصل کو کہتے ہیں گویا قرآن پاک کی اصل یہی سورة ہے قرآن پاک کی تما م تعلیمات جن تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے یا اس کی صفات سے یا عالم بالا سے وہ سب اس سورة مبارکہ میں مذکور ہیں ۔ اس میں قیامت اور معاد کا ذکر موجود ہے۔ نبوت و رسالت کا ذکر ہے۔ اللہ کی صفت قضا و قدر بھی بیان ہوئی ہے۔ الہذایہ ام القرآن ہے پھر یہ بات بھی ہے کہ تمام علوم کی غایت یا تو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان ہے یا انسان کی عبودیت کی پہچان ہے ۔ چونکہ یہ دونوں چیزیں اس سورة میں پائی جاتی ہیں اس لیے بھی اسے ام القرآن کہا جاتا ہے۔ تمام اصول ار فروعات جن کے انسان پابند ہیں یا جن سے انسان کے ظاہر و باطن کا تزکیہ مقصود ہے ، وہ تمام اس سورة میں آگئے ہیں اس لیے بھی اس سورة کو ام القرآن کہا گیا ہے۔ (ب ٤ سبع مثانی ) اس کا چوتھانام (ب ١ ترمذی ص ١١٥ ج ٢) سبع مثانی یعنی سات دہرائی ہوئی آئتیں ہیں ۔ قرآن پاک میں اس کو قرآن عظیم بھی کہا گیا ہے ۔ ولقد اتینک سبعا من المثانی والقران العظیم (الحجر) ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم عطا فرمایا۔ اس سورة کا آدھا حصہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا ہے اور آدھا حصہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش ہدایت استعانت نہی کی توفیق گمراہی سے بچاؤاور قہروغضب سے نجات پر مشتمل ہے ۔ مثانی کا معنی دہرائی ہوئی ہے ۔ چونکہ یہ سورة ہر نماز کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہے۔ اس لیے بھی اسکو سبع مثانی کہا جاتا ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت (٢ ترمذی ص ١١٥ ج ٢) ہے والذی نفسی بیدہ ما انزل فی التورۃ ولا فی الانجیل ولافی الزبور ولا فی القران مثلھا اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے باعتبار درجہ ، فضیلت ، بہتر ی اور خیریت چاروں آسمانی کتابوں تورات انجیل ، زبور اور قرآن میں اس جیسی کوئی سورة نازل نہیں کی گئی ۔ وانھا سبع من المثانی یہ صرف سبع مثانی ہی ہے جو مجھے عطاکی گئی ہے۔ (٥۔ وافیہ) اس سورة کا پانچواں (ب ١ تفسیر روح المعانی ص ٣٨ ج ١ ، ) نام الوافیۃ یعنی پورا کرنے والی ہے ۔ چونکہ یہ سورة ہر مقصد کو پورا کرتی ہے ، لہذا اسے وافیہ کہا گیا ہے مقصود ہے اصلاح عقائد ہو یا اعمال یا اخلاق یہ سورة سب کو پورا کرتی ہے اس لیے اس کانامہ وافیہ ہے۔ (٢۔ کافیہ) اس سورة مبارکہ کا چھٹا نام (ب ٢ تفسیر ابن کثیرص ٨ ج ١) سورة الکافیۃ ہے ۔ کافیہ کا معنی کفایت کرنے والی ہے ۔ انسان کی نجات کے لیے اگر اور کچھ بھی نہ ہو تو صرف یہی سورة کفایت کرجائے گی اس لیے اس کا نام سورة کافیہ رکھا گیا ہے۔ (٧۔ اساس) اس کا ساتوں نام (٣ ب تفسیر ابن کثیر ص ٨ ج ١) سورة الاساس ہے ۔ اساس کا معنی بنیاد ہوتا ہے ۔ ہر چیز کی بنیادیہی سورة ہے ۔ معاملہ تعلیم کا ہو یا عقیدہ کا ۔ ظاہری اصلاح مطلوب ہو یاباطنی اصول ہوں یا فروعات ہر چیز کی بنیاد ہے ۔ لہذا اسے سورة اساس بھی کہا گیا ہے۔ (٨۔ شفا) اس سورة کا آٹھواں نام (ب ٤ دارمی ص ٣٢ ج ٢) نام شفا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے باطنی شفاتو پورے قرآن پاک میں رکھی ہے ۔ سورة یونس میں جود ہے کہ اے لو گو ! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے آگئی ہے موعظت و شفاء لمافی الصدور اور دلوں کی بیماریوں کی شفا ہے چناچہ قرآن پاک کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے سے تمام باطنی بیماریوں کفر شرک ، نفاق ، بداخلاقی وغیرہ سے شفاملتی ہے۔ تا ہم سورة فاتحہ میں بالخصوس باطنی بیماریوں کے علاوہ بعض ظاہری بیماریاں کے لیے بھی شفا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے (ب ٥ شفاء من سم سورة فاتحہ میں زہر کے لیے شفا ہے ۔ اس کو پڑھ کردم کیا جائے تو اللہ تعالیٰ شفاعطاکرے گا۔ دارمی شریف (ب ١ درمی ص ٣٢٠ ج ١ ، ) کی روایت میں یہ بھی آتا ہے فاتحۃ الکتب شفاء من کل داء سورة فاتحہ میں ہر بیماری کی شفاء ہے۔ اس طرح مسند بزار ہیں (ب ٢ درمنثورص ٥ ج ١) یہ روایت بھی موجود ہے اذا وضعت جنبک علی الفراش جب تم لیٹنے کے لیے اپنا پہلو بستر پر رکھ دو وقرات فاتحۃ الکتب وقل ھو اللہ اور سورة فاتحہ اور سورة اخلاص کی تلاوت کرو فقد امنت من کل شیء الا الموت تو تمہیں موت کے سوا ہر چیز سے امن حاصل ہوگیا ۔ حدیث شریف میں بھی آتا ہے (ب ٣ بخاری ص ٨٥٦ ج ٢) کہ ایک شخص کو دوران سفر بچھو نے کاٹ لیا ۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) نے سورة فاتحہ پڑھ کردم کردایا تو اس شخص کو شفاحاصل ہوگئی ۔ مریض سردار آدمی تھا اس نے کچھ معاوضہ بھی ادا کیا جو حضرت ابو سعید (رض) نے قبول کرلیا ۔ واپس آکر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں سارا واقعہ کہ سنایا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سورة فاتحہ علاج والی سورة ہے لہذا اس کے ساتھ علاج کے لیے اگر کوئی معاوضہ دے تو لے سکتے ہو۔ اس میں کوئی حرج نہیں ، نیز آپ نے یہ بھی فرمایا ماید ریک انھا رقیۃ تجھے کیا معلوم کہ یہ سورة یہ کام کرتی ہے ۔ ہوسکتا ہے انہوں نے کبھی سورة فاتحہ کی یہ تعریف سنی ہو اور پھر عقیدت کے ساتھ دم کیا تو شفامل گئی ۔ (٩۔ تعلیم المسئلہ ) سورۃ فاتحہ کانواں (ب ٤ تفسیر روح المعانی ص ٣٨ ج ١ ، ) نام تعلیم لمسئلہ ہے۔ اس میں اسوال کرنے کا طریقہ سکھلایا گیا ہے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرنا ہو تو پہلے اس کی حمد وثنا بیان کرو اور اور اس کے بعد اپنا سوال پیش کرو۔ لہذایہ سورة تعلیم المسئلہ بھی ہے۔ (١٠۔ شکر) اس سورة کا دسواں (ب ٥ تفسیر روح المعانی ص ٣٨ ج ١) نام شکر ہے ۔ جب کوئی شخص کہتا ہے الحمداللہ رب العلمین تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکر یہ ادا کرتا ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان مبارک ہے کہ جب بھی کوئی نعمت ملے یا کسی نعمت کو استعمال میں لاؤ تو اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاؤ ۔ چناچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مختلف ومواقع پر شکر ادا کرنے کی دعائیں سکھلائی ہیں مثلا جب کھانا کھا چکو تو اس طرح کہو (ب ١ ترمذی ص ١٨٤ ج ٢) الحمد اللہ الذی اطعمنی وسقانی وجعلنی من المسلمین شکر ہے اس اللہ تعالیٰ کا جس نے مجھے کھلایا اور پلایا اور مسلمانوں میں بنایا ۔ جب کوئی شخص نیا کپڑا پہنے تو یوں (ب ٢ ترمذی ص ١٩٦ ج ٢) کہے الحمد للہ الذی کسانی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے مجھے کپڑاپہنا یا ۔ جب کسی سواری پر سوارہوں تو یہ دعا کریں ۔ (ب ٣ ترمذی ص ١٨٢ ج ٢) الحمد للہ سبحان الذی سخرلنا ھذا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اور پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے تابع کردیا ۔ بہرحال یہ الحمد للہ شکر کا معنی بھی دیتا ہے اس لیے اس سورة کا ایک نام شکر بھی ۔ (١١ دعا۔ ) اس سورة کا گیا رہواں نام سورة دعا بھی (٤ ب تفسیر روح المعانی ص ٣٨ ج ٢) ہے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرنے اور اس کے لیے عبودیت اور استعانت کا اقرار کرنے کے بعد حاجت کا سوال بھی کیا جاتا ہے ، لہذابلاشبہ یہ سورة دعا بھی ہے۔ (١٢۔ رقیہ) اس سورة کا بارہواں نام سورة رقیہ (ب ٥ تفسیر روح المعانی ص ٣٨ ج ا) یعنی جھاڑ پھونک والی سورة ہے۔ اس کو پڑھ کر مریض پر دم کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ شفابخشتا ہے ۔ جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں کہ حضرت ابو سعید خدری (رض) نے اس سورة کے ساتھ دم کیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ۔ تجھے کیا پتہ کہ یہ سورة جھاڑ پھونک کا کام بھی دیتی ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ نے زہر یا دیگر مضراشیاد کے لیے شفارکھی ہے۔ بہر حال اس کا ایک نام رقیہ ہے۔ (١٣۔ واقیہ ) اس کا تیرہواں نام (ب ١ تفسیر ابن کثیر ص ٨ ج ١ ، ) واقیہ یعنی بچانے والی سورة ہے ۔ جو شخص اس پر ایمان لائے گا اور اس کی تلاوت کریگا ۔ وہ دنیا اور آخرت کے شرور فتن سے بچ جائے گا ۔ (١٤۔ کنز) اس ارشاد مبارک (ب ٣ تفسیر ابن کثیر ص ٣٤ ج ١) ہے اعطیت من خزاء ن العرش مجھے عرش کے خزانوں میں سے خزانہ عطا کیا گیا ہے ۔ اس خزانہ میں ایک تو یہ سورة فاتحہ ہے اور دوسری آیت الکرسی ہے تیسر ی چیز بقرہ کی آخری آیات ہیں طبرانی کی روایت میں سورة کوثر کا ذکر بھی آتا ہے اس کے علاوہ (ب ٤ ترمذی ص ١٨٤ ج ١) لاحول ولا قوۃ الا باللہ کے متعلق بھی آتا ہے کہ یہ عرش کے خزانوں میں سے خزانہ ہے ۔ اس کی بھی تعلیم دی گئی ہے کہ بکثرث پڑھاجائے۔ (١٥۔ سورة الصلوۃ ) اس سورة کا پندرہواں نام سورة الصلوۃ ہے ۔ چونکہ یہ سورة نماز کے لیے مخصو ص ہے اور ہر نماز خواہ فرض ہو یانفل اس میں سورة فاتحہ پڑھنا پڑتی ہے ۔ لہذا اس کو سورة الصلوۃ بھی کہا جاتا ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح فرماتا ہے قسمت الصلوۃ بینی وبین عبدی میں نے نماز کو اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے ولعبدی ماسئل اور میرے بندے کے لیے وہی ہوگا جو مانگے گا۔ فرمایا جب بندہ الحمد للہ رب العلمین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حمد نی عبد ی میرے بندے نے میری تعریف بیان کی۔ جس وقت بندہ کہتا ہے الرحمن الرحیم تو اللہ فرماتا ہے اشنی علی عبدی میرے بندے نے میرے ثنا بیان کی ۔ پھر جس وقت بندہ کہتا ہے ملک یوم الدین تو اللہ فرماتا ہے مجد نی عبد ی میرے بندہ نے میری بزرگی کا اظہار کیا ہے اور میری عظمت بیان کی ہے ۔ اس نے اپنے معاملات میری طرف سونپ دیے ہیں۔ اس کے بعد جب بندہ کہتا ہے ایاک نعبدوایاک نستعین تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ھذا بینی وبین عبدی یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے ۔ ایک کام میں کرتا ہوں اور ایک بندہ کرتا ہے جب بندہ کہتا ہے اھد نا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ھذالعبدی یہ میرے بندے کے لیے ہے اور بندہ جو مانگتا ہے میں اس کو دیتا ہوں ۔ صراط مستقیم سے مراد انعام یا فتہ لوگوں کا راستہ ہے جن میں نبی صدیق ، شہید اور صالحین شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ان لوگوں کے طریقے پر چلنے دعا کی جاتی ہے نہ کہ لوگوں کا راستہ جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا یعنی یہودی اور نہ گمراہوں یعنی نصارے کا راستہ ۔ یہ لوگ توحید اور ایمان کو چھوڑ کر گمراہی میں مبتلا ہوگئے ۔ لہذا ان کے راستے سے پناہ مانگی گئی ہے جو بھی فردیا قوم ان کے عقیدے کو اپناے گی یا خدا تعالیٰ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک بنائیگی ، وہ گمراہ ہوگی ۔ جب بندہ یہ الفاظ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مطلوبہ چیز کے عطاکا اعلان کیا جاتا ہے ۔ یہ الفاظ نسائی شریف (ب ١ نسائی ص ١٤٥ ج ١) کے ہیں ۔ البتہ بعض الفاظ کی کمی پیشی سے بخاری اور مسلم (ب ٢ مسلم ص ١٧٠ ج ١) شریف میں بھی ہیں ۔ حدیث کی تمام کتابوں میں سورة فاتحہ کو سورة الصلوۃ کا نام دیا گیا ہے ۔ اسمائے سورة کے بیان کے بعد اب نماز میں سورة فاتحہ ۔ سورۃ الفاتحہ ١ نماز میں سورة فاتحہ کا حکم درس دہم ١٠ کل سورة فاتحہ کے وہ نام عرض کیے تھے جو مختلف احادیث میں آئے ہیں سورة فاتحہ کو نماز کے ساتھ خاص تعلق ہے اسی لیے اس کا ایک نام سورة الصلوۃ بھی ہے۔ آج کے درس میں سورة فاتحہ کو نماز میں پڑھنے کے حکم سے متعلق مختصر طور پر عرض کیا جاتا ہے ۔ (ارکان نماز ) نماز میں بعض ارکان یا فرائض ہیں بعض سنن اور بعض مستحبات ہیں ۔ اگر نماز میں کوئی فرض ترک ہوجائے تو نماز باطل ہوجاتی ہے اس کو لوٹانا پڑتا ہے تکبیر تحریمہ فرائض میں شامل ہے ، بعض اس کو شرط کہتے ہیں تاہم اس کے لازم ہونے میں کوئی شبہ نہیں جب تک کوئی شخص تکبرتحریمہ نہیں کہے گا نماز میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ نماز میں قرأت کونا بھی فرض ہے ۔ قرآن پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی ، رکوع سجود بقدر استطاعت قیام اور آخری قعد ہ یہ سب ارکان صلوۃ ہیں ۔ آخری قعدہ کے متعلق فقہائے کرام میں کچھ اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ اس کو رکن قرار دیتے ہیں (ب ١ ہدایہ ص ٦٣ ج ١ ، شرح نقایہ ص ٦٩ ج ١) مگر بعض دیگر آئمہ اس رکن کو تسلیم نہیں کرتے مگر اس کے ضروری ہونے کے وہ بھی قائل ہیں ۔ اسی طرح قرأت یعنی قرآن پاک کی تلاوت بھی نماز کارکن ہے۔ قرأت کے بغیر نماز نہیں ہوگی ۔ فرض نماز کی دونوں رکعتوں میں قرأت فرض ہے اور اگر نماز تین یا چار رکعت والی ہے تو اس کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرض ہے۔ وتر سنن یانوافل کی ہر رکعت میں قرأت ضروری ہے۔ (مطلق قرأۃ فرض ہے) جیسا کہ پہلے عرض کیا ۔ قرأت سے مراد قرآن کریم کا پڑھنا ہے۔ اب اس مسئلہ میں آئمہ کرام کا اختلاف ہے کہ آیا مطلق قرأت فرض ہے یا سورة فاتحہ بھی فرض ہے امام ابوحنیفہ ، امام سفیان ثوری ، امام اوزاعی اور امام ابوحنیفہ کے تمام شاگرد کہتے ہیں۔ کہ نماز میں مطلق قرأت فرض ہے (ب ١ ہدایہ ص ٦٣ ج ١) ۔ قرآن پاک کا کوئی بھی حصہ نماز میں پڑھ لیا جائے تو فرض ادا ہوجائے گا اس میں سورة فاتحہ کی تخصیص نہیں ہے ان کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورة مزمل میں فرمایا ہے ۔ فاقرؤ ماتیسر من القران قرآن میں سے حصہ بھی میسر ہو پڑھو یعنی جتنا یاد ہو یا جتنا ممکن ہو ، پڑھ لوتو نماز ہوجائے گی ۔ سورة فاتحہ ہو یا قرآن کریم کا کوئی حصہ ہو اس کے پڑھنے سے نماز ادا ہو جائیگی ۔ قرآن سے یہی بات ثابت ہے۔ (سورۃ فاتحہ واجب ہے) البتہ ترمذی شریف اور موطا امام مالک میں حضرت ابوہر یرۃ (رض) سے یہ روایت منقول ہے (٢ مئوطا امام مالک ص ٦٧ ترمذی ص ٧١ ج ١) کہ جس نماز میں سورة فاتحہ نہ پڑھی جائے فھی خراج غیر تمام وہ نماز ناقص ہے اور نامکمل ہے ۔ اسی لیے امام ابوحنیفہ اور بعض دیگر آئمہ فرماتے ہیں کہ مطلق قرأت تو فرض ہے مگر سورة فاتحہ واجب ہے ۔ واجب ہے ۔ واجب سے مرادیہ ہے کہ اس کا درجہ فرض سے کچھ کم اور سنت سے زیادہ ہے ۔ اگر سورة فاتحہ نہ پڑھی جائے تو نماز باطل تو نہیں ہوگی مگر ناقص اور ناتمام ہوگی ۔ سورة فاتحہ کے ساتھ قرآن پاک میں سے کم ازکم ایک لمبی آیت یا تین چھوٹی چھوٹی آیتیں یا اس سے زیادہ ملانا بھی واجب ہے اگر کوئی شخص صرف سورة فاتحہ پڑھتا ہے ، اس کے ساتھ کوئی دوسری سورة نہیں ملاتا تو اس سے واجب ترک ہوتا ہے۔ اگر اس کا تدارک سجدہ سہو سے کرے گا تو نماز ادا ہوجائے گی اسی طرح اگر کوئی شخص فاتحہ نہیں پڑھتا بلکہ کوئی دوسری سورة پڑھ لیتا ہے تو یہ بھی ترک واجب ہوگا اور سجدہ سہو سے تلافی ہوسکے گی ، غرضیکہ سورة فاتحہ کا پڑھنا اور اس کے ساتھ قرآن پاک کا کوئی دوسراحصہ ملاناواجب ہے نہ کہ رکن یا فرض ۔ اس سلسلے میں صحاح (ب ١ مسلم ص ١٦٩ ج ١ ابن ماجہ ص ٢٠ نسائی ص ١٤٥ ج ١ ابو داؤدص ١١٨ ج ١) ستہ میں بہت سی احادیث موجود ہیں۔ امام ابوحنیفہ اور آپ کے تمام شاگردکہتے ہیں کہ نمازی کی تین حالتیں ہیں اور ہر حالت کا حکم الگ ہے ۔ نمازی کبھی منفرد ہوتا ہے یعنی اکیلا نماز پڑھتا کبھی امام ہوتا ہے کہ دوسروں کو نماز پڑھاتا ہے اور کبھی مقتد ی حیثیت میں امام کے پیچھے نماز ادا کرتا ہے امام ابو ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اکیلا نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے سورة فاتحہ کے ساتھ کوئی دوسری سورة ملانا بھی ضروری ہے ۔ جب کوئی شخص بطور امام نمازپڑھاتا ہے تو وہ سورة فاتحہ بھی سورة ملانا بھی ضروری ہے ۔ جب کوئی شخص بطورامام نماز پڑھا تا ہے تو وہ سورة فاتحہ بھی پڑھے گا اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورة بھی ملائے گا۔ البتہ جب کوئی شخص متقدی بن کر امام کے پیچھے نماز ادا کرتا ہے تو اس کے ذمہ قرأت نہیں بلکہ اس کے لیے استماع اور انصات ہے ۔ وہ خاموشی کے ساتھ امام کی قرأت کو سنے گا ۔ ایسا شخص نماز کے تمام آداب بجالائیگا تمام ارکان پورے کرے گا مگر قرأت کرنا اس کے ذمے نہیں ہے ۔ نماز کی یہ تین حالتیں ہیں جہنیں آپس میں غلط ملط نہیں کرنا چاہیئے ۔ (امام بخاری کا استدلال) امام بخاری نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت (ب ٢ بخاری ص ١٠٤ ج ١ ہسلم ص ١٦٩ ج ١) بیان کی ہے۔ لا صلوۃ لمن یقداء بفاتحۃ الکتب یعنی سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ اس ضمن ہیں عرض ہے کہ یہ روایت نامکمل ہے امام مسلم نے آگے فصاعذاکالفظ نقل کیا ہے جو کہ صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے اور اسے اہم مسلم کے علاوہ نسائی اور ابو داؤد نے بھی نقل کیا ہے۔ اور پورا جملہ یوں ہے کہ اس شخص کی نماز نہیں جو سورة فاتحہ اور کچھ زائد نہیں پڑ ھتا ۔ امام احمد (رض) فرماتے ہیں کہ یہ حکم منفرد نمازی کے لیے ہے ۔ اگر اکیلا آدمی نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے سورة فاتحہ اور کوئی دوسری سورة ملانا دونوں ضروری ہیں ۔ ان کے بغیر نماز نہیں ہوگی مگر مقتدی کے لیے یہ حکم ہے۔ لہذا جو لوگ سورة فاتحہ کو ضروری دیتے ہیں ، وہ باقی حصے کو کیوں ضروری قرار نہیں دیتے ۔ لہذایہ مطلق قرأت کا حکم ہے ۔ اگر منفردیا امام ہے تو اس کو سورة فاتحہ اور کچھ زائد پڑھنا ہوگا مگر مقتدی کا یہ حکم نہیں ہے اصل بات یہی ہے نماز میں صرف قرأت سے متعلق بہت سی احادیث آئی ہیں ۔ (محض قرأت کا حکم ) حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں آتا ہے (ب ١ ابوداؤد ص ١١٨ ج ١ ابن حبان ص ٢١١ ج ٣) امدنا ان نقدافاتحۃ الکتب وماتیسد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سورة فاتحہ بھی پڑ ہیں اور جتنا حصہ میسر ہو وہ بھی پڑھیں ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت (١) میں آتا ہے امد نی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان انا دی انھ لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتب ومازاد مجھے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ میں اس بات کا اعلان کردوں کہ سورة فاتحہ اور کچھ زائد پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی ، اس طرح ایک اور شخص کا واقعہ بھی حدیث میں آتا ہے (٢ ب ابو داؤد ص ١١٨ ج ١ مستدرک حاکم ص ٢٣٩ ج ١ ) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود مسجد میں تشریف فرما تھے ایک شخص آیا اس نے نماز پڑھی پھر آکر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا آپ نے فرمایا جاؤجاکر نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ۔ اس نے دو بارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی ۔ جب تیسری دفعہ بھی آپ نے ایسا ہی فرمایا تو اس شخص نے عرض کیا کہ حضور ! پھر ہی بتا ہیں کہ میں کس طرح نماز پڑھوں ۔ حضور علیہ الصلو ۃ والسلام نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے اؤ تو پہلے طہارت کرو پھر قبلہ روکھڑے ہو کر تکبیر کہو پھر جو میسر ہو قرآن پڑ ھو ، پھر رکوع کرو سجدہ کرو اور پھر آخر میں قعد ہ بیٹھ کر سلام پھیر دو ، غرضیکہ آپ نے تعلیم کے طور پر فرمایا کہ جتنا میسر ہو قرآن پڑھو۔ آپ نے سورة فاتحہ کا ذکر نہیں فرمایا ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ سورة فاتحہ کا پڑھنا نماز کار کن نہیں ہے ۔ اسی لیے احناف کا مسلک یہ ہے کہ نماز میں سورة فاتحہ اور دوسری سورة کا ملانا دونوں واجب ہیں ۔ اگر ان میں سے کوئی ایک ترک ہوجائے تو سجدہ سہو سے تلافی ہوجائیگی ۔ (فاتحہ خلف امام) اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) والی حدیث مسلم شریف (ب ١ مسلم ص ١٧٤ ج ١ ہسنداحمد ص ٤١٥ ج ٤ نسائی ص ١٤٦ ھ ١ ابو داؤدص ٨٩ ج ١) ابو داؤد نسائی ہمسنداحمد ابن حبان وغیرہ تمام کتب احادیث میں مو جود ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب نماز پڑ ھو تو تکبیر کہو اور جس وقت امام قرأت کرے اذقراء فانصتواتو تم خاموش رہو۔ یہ درجہ اول کی صحیح حدیث ہے ۔ اس کے علا وہ مئو طا امام مالک کی یہ روایت بھی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (ب ٢ مئو طا امام مالک ص ٧) من اد رک رکعۃ من الصلوۃ یعنی جس نے نماز میں رکوع کو پالیا اس نے نماز کو پالیا ۔ رکعتہ کا معنی رکعت بھی ہے اور صرف رکوع بھی ۔ رکوع میں شامل ہونے سے نمازی سورة فاتحہ تو نہیں پڑھتا مگر اس کی رکعت شمارہوجاتی ہے۔ اس سے بھی معلوم ہو ا کہ سورة فاتحہ مقتد ی کے لیے لازم نہیں ہے بلکہ امام کی قرأت ہی اس کو کفایت کر جائیگی اسی طریقے سے حضرت (ب ٣ طحاوی ص ١٤٩ ج ١ ابن ماجہ ص ٦١ ہمسند احمد ص ٣٣٩ ج ٢ ابن ابی شیبہ ص ٣٧٧ ج ١ موطا امام محمد ص ٩٩ ص) جابر (رض) والی روایت طحاوی شریف اور موطا امام محمد میں ہے۔ آپ نے فرمایا من کان لہ امام فقراء الامام لہ قراءۃ یعنی جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرأت اس کی قرأت شمار ہوگی ، لہذا اسے خود قرأت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ وہ خاموش کھڑا رہے۔ ترمذی شریف (ب ١ ترمذی شریف ص ٧١ ج ١) میں حضرت جابر (رض) کی روایت موجود ہے کہ جس شخص نے نماز پڑھی اور اس نے فاتحہ نہ فاتحہ پڑھی تو گو یا اس نے نمازہی نہ پڑھی الا ان یکون وراء الا مام سوائے اس حالت کے کہ وہ امام کے پیچھے یعنی مقتدی ہو۔ اسی طرح موطا امام محمد (٢ مو طا امام محمد ص ٩٧) میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد بھی موجود ہے من صل خلف الا مام کفتہ قراءۃ الا مام جس شخص نے امام کے پیچھے نماز پڑھی اسے امام کی قرأت کفایت کر جاتی ہے اس کو علیحدہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ امام مسلم (ب ٣ مسلم ٢١٥ ج ١) نے حضرت زید (رض) کی روایت بھی نقل کی ہے کہ جب ان سے قرأت خلف اہم کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا لا قداء ۃ مع الا مام فی شیء امام کے ساتھ نماز پڑھنے میں کسی چیز میں قرأت نہیں ہے ، نماز خواہ سری ہو یا جہری صحابہ کرام میں سے صرف دو صحابہ عبادہ ابن صامت (رض) اور محمودابن ربیع (رض) کا نام ملتا ہے کہ وہ امام کے پیچھے سورة فاتحہ پڑھتے تھے ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلو ی مئو طا کی فارسی شرح (٤ ب مصفی شرح فارسی ص ١٣١ ج ١) میں لکھتے ہیں کہ خواندان فاتحہ بامام در صحابہ شائع نہ بود یعنی صحابہ کرام میں کرام امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا مشہور نہیں تھا کوئی اکا دکا ہی پڑھتا ہوگا ورنہ سب خاموش رہتے تھے چناچہ امام ابوحنیفہ امام سفیان ثوری اور امام اوزاعی سب کا مسلک یہی ہے کہ امام کے پیچھے سورة فاتحہ نہ پڑھی جائے خواہ سری نماز ہو یا جہری ۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب امام قرأت کر رہا تو تم خاموش رہو اور سنو ۔ یعنی جب امام بلند آواز سے قرأت کررہا تو تم سنو اور جب دل میں پڑھ رہا ہو تو تم خاموش رہو دونوں باتوں پر عمل ہوجائے گا۔ (آئمہ ثلاثہ کا مسلک ) امام شافعی امام مالک اور امام احمد کتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سری نماز میں امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے تو اس کو ثواب ملیگا کہ یہ مستحب ہے ۔ فرض یا واجب نہیں (ب ١ معنی ابن قدامہ ص ٥٥٧) ہے کہ ضرورہی پڑھے ، البتہ امام شافعی کے متعلق مشہور ہے کہ وہ فاتحہ کو ضروری قرار دیتے ہیں ۔ یہ درست نہیں ہے امام صاحب پہلے عراق میں مقیم تھے اس دوران وہ فاتحہ خلف الامام کو ضروری قرار دیتے تھے ۔ پھر جب مصر تشریف (٢ البدایہ والنہایہ ص ٢٥٢ ج ١) لے گئے تو وہاں پر بڑے بڑے اہل کے ساتھ بحث مباحثہ ہواتو آپ نے اس مسئلہ سے رجوع کرلیا ۔ چناچہ آپ کے دوقول ہیں ۔ آپ قول قدیم کے مطابق فاتحہ خلف الا مام ضروری قرار دیتے تھے مگر قول جدید کے مطابق آپ نے اپنی کتاب الام میں (٣ کتاب الام ص ١٦٦ ج ٧) لکھا ہے کہ جس نماز میں امام بلند آواز سے قرأت کر رہا ہو اس میں مقتد ی کو سورة فاتحہ نہیں پڑھی چاہیئے ۔ ہاں سری نماز میں پڑھنا مستحب ہے ۔ فرض واجب نہیں ہے۔ (مسلک امام بخاری سبہقی ) امام بخاری اور بہیقی دونوں حضرات فاتحہ خلف الا مام کو ضروری قرار دیتے ہیں ۔ امام ترمذی نے لکھا (٤ ب ترمذی ص ٧١ ج ١) ہے کہ بعض حضرات نے اس معاملہ میں تشدد کیا ہے ان میں سے امام بخاری تیسر ی صدی ہجری کے اور امام بہیقی چو تھی صدی کے محدث ہیں ان کا مسلک یہ ہے کہ جو شخص نماز میں سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز ہی نہیں ہوتی کے پیچھے سورة فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز صحیح ہے ۔ غرضیکہ یہ دو آئمہ کرام فاتحہ خلف امام کو لازم قرار دیتے ہیں (مسلک امام ابوحنیفہ ) نماز میں سورة فاتحہ کا جو حکم ہے وہ میں نے مختصر اعرض کردیا اور اس میں مختلف آئمہ کا مسلک بھی بیان کردیا ۔ بعض لوگ غلط پر اپگینڈا کرتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ حدیث کے مطابق عمل نہیں کرتے ۔ یہ بات صحیح نہیں ہے امام صاحب ان تمام احادیث پر عمل کرتے ہیں جن کی صحت کے متعلق آئمہ میں اتفاق ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے دونوں قسم کی روایات منقول ہیں ۔ بعض روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فاتحہ امام کے قائل نہیں ہیں مگر بعض سے شبہ ہوتا ہے کہ شائد وہ بھی قائل ہوں اگر قائل ہیں تو وہ بھی استحباب کے درجے میں فرض واجب نہیں سمجھتے ۔ تینوں آئمہ کرام فراماتے ہیں کہ فاتحہ خلف امام صرف سری نمازوں میں مستحب ہے۔ جہری نماز میں قرات کرنا امام کے ساتھ جھگڑا کرنے کے مترادف ہے البتہ امام ابوحنیفہ امام اوزاعی اور امام سفیان ثوری کا مسلک یہ ہے کہ فاتحہ خلف الا مام نہ سری نماز میں پڑھے اور نہ جہری میں نماز کی تین حالتیں پہلے بیان ہوچکی ہیں ۔ تینوں کا الگ الگ حکم ہے ، لہذا اس کے مطابق ہی عمل کرنا چاہیے ۔ (خلاصہ بحث) خلاصہ بحث یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص منضرد نماز پڑھتا ہے یا بطورامام نماز پڑھاتا ہے تو وہ سورة فاتحہ بھی پڑ ھیگا اور اس کے ساتھ دوسری سورة بھی ملائے گا ۔ اور اگر نمازی کسی امام کے پیچھے مقتدی ہے تو وہ خاموش رہے گا اور امام کی قرأت کو سنے گا کیونکہ اسکے لیے امام کی قرأت کفایت کرجائے گی ۔ امام ابوحنیفہ کا مسلک احادیث کے مطابق ہے اور اس سے تمام احادیث پر عمل ہوجاتا ہے۔ روایت کے ایک حصے پر عمل کرنا اور دوسرے حصے کو چھوڑ دینا مناسب نہیں ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ بعض نے تشدد کیا ہے تشد د کرنا ٹھیک نہیں بلکہ بات ہمیشہ دلیل کیسا تھ ہونی چاہیے پھر دیکھیں کہ قوی دلائل کدھر ہیں چناچہ قوی دلائل امام ابوحنیفہ کے مسلک کی حمایت میں ہیں الہذا امام کے پیچھے سورة فاتحہ نہیں پڑھنی چاہیے ۔ (ربط کلام ) اس سے پہلے سورة فاتحہ کے متعلق ضروری باتیں عرض کی جاچکی ہیں اور کل سورة فاتحہ کے نماز میں پڑھنے کے حکم کا ذکر تھا ۔ اب سورة کے الفاظ اور ان کی مختصر تشریح عرض کی جاتی ہے۔ (کلمہ حمد) ارشاد ہوتا ہے الحمد للہ رب العلمین سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پرورش کرنے والا ہے۔ یہاں پر لفظ الحمد جنس کے درجے میں مطلق ہے اور مطلب یہ ہے کہ ازل سے لے کر ابدتک تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں ۔ حمد کا معنی تعریف ہے اور امام ابن جریر اسے شکر پر بھی محمول کرتے ہیں گویا حمد شکر کا معنی بھی دیتا ہے لہذایہ شکر کا کلمہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بہت ہی پسند یدہ کلمہ ہے کیونکہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکریہ بھی ادا ہوتا ہے الحمد دعا کا کلمہ بھی ہے ۔ جب ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں انسان کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں اسے دعا کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور اس کا مقصد خود بخود پورا ہوجاتا ہے ۔ چناچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان (ب ١ ترمذی ص ١٧٦ ج ٢) ہے افضل الذکر لا الہ الا اللہ و افضل الدعاء الحمد للہ سب سے افضل ذکر کلمہ لا الہ الا اللہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر ہے اور تمام دعاؤں میں افضل دعا الحمد للہ ۔ اسی لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے کی حالت میں ان الفاظ کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے ۔ اللھم لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک اے مولا کریم ! میں تیری تعریف بیان نہیں کرسکتا تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف بیان فرمائی ہے مخلوق میں کون ہے جو پورے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرسکے پوری مخلوق اللہ تعالیٰ کی کماحصہ تعریف کرنے سے عاجز ہے تاہم ہر شخص حتی المقدور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرتا ہے جس سے اس کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے ۔ مسند احمد کی روایت (٣ مسند احمد ص ٤٣٥ ج ٣) میں آتا ہے ان ربک یحب الحمد تیرا پروردگار حمد اور تعریف کو پسند فرماتا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان بھی (٤ ب) ہے کہ جب کوئی بند ہ کوئی چیز کھاتا پیتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتا ہے اور کہتا ہے الحمد للہ تو اللہ تعالیٰ اپنی خوشنودی کا اظہار فرماتا ہے اور کہتا ہے حمدنی عبدی میرے بندے نے میری تعریف بیان کی ہے اور میرا شکر ادا کیا ہے ۔ صحیح حدیث (٥ ب مسند احمد ص ٤٣٥ ج ٣) میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان بھی موجود ہے الحمد للہ تملا المیذان یعنی کلمہ الحمد للہ سے اللہ تعالیٰ کا میز ان پر ہوجاتا ہے ۔ نیز یہ بھی کہ سبحان اللہ اور الحمد کو ملا کر پڑ ھنے سے زمین و آسمان کی درمیانی فضا پر ہوجاتی ہے ان کلمات کے اتنے اثرات اور ثمرات ہیں اس کے علا وہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جہاں بھی اہل ایمان کی صفت بیان کی ہے ۔ وہاں خدا تعالیٰ کی تعریف بیان کرنے کو ان کی ایک صفت کے طور پر ظاہر کیا ہے جیسے فرمایا التائبون العبدون الحمدون (التوبہ) اللہ تعالیٰ نے غلطی کے ارتکاب پر توبہ کرنے والوں عبادت گزاروں اور اس کی حمد بیان کرینوالوں کی تعریف کی ہے ۔ ایک حدیث میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ بھی ارشاد ہے (١ سنن دارمی ص ١٥ ج ١) کہ آخر ی امت کے لوگوں کا ایک لقب حمادون ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ تعریف بیان کرنے لوگوں کا ایک لقب حمادون ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ تعریف بیان کرنے والے ہوں گے ۔ (ہرحالت میں حمد) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا السلام کا یہ بھی فرمان ہے (٢ مسند احمد ص ١٧٣ ج ١) کہ مومن ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتا ہے حتی کہ اگر اس کا کوئی عزیز بھی اس کی آنکھوں کے سامنے جان دے رہا ہو تو مومن پھر بھی الحمد للہ ہی کہتا ہے جب کوئی شخص پورے اعتقاد کے ساتھ یہ کلمہ ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے ۔ کہ اس شخص کے لیے جنت میں بیت الحمد تعمیر کردو ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ بھی فرمان ہے کہ مومن ہمیشہ یہی کہتا ہے (٣ ب ابن ماجہ ص ٢٧٠) الحمد علی کل حال واعوذباللہ من حال اھل النار ہر حالت میں اللہ تعالیٰ ہی کی حمد وثنا ہے اور میں دوزخ والوں کے خال سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں ۔ خدا تعالیٰ اس حالت میں کسی کو نہ لے جائے۔ (صفت ربوبیت) امام ابن جریر (ب ٤ تفسیر ابن کثیر ص ٢١ ج ١) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ الحمد للہ شکر کا کلمہ اس طرح ہے کہ جب کوئی شخص دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے وجود بخشا ہے جسم دیا ہے صحت و تندرستی عطا کی ہے پاک روزی اور نیک اولاد دی ہے۔ ان ظاہری نعمتوں کے ساتھ ساتھ باطنی انعامات کے طوپر ایمان لانے کی توفیق بخشی ہے ، علم عطا کیا ہے ، سمجھ دی ہے ، اچھی نیت اور اچھا اخلاق مرحمت فرمایا ہے تو اس کی زبان سے بےساختہ الحمد للہ رب العلمین ادا ہوجاتا ہے ، یعنی سب تعریفیں اس مالک الملک کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پرورش کرنے والا ہے۔ اس طرح گویا انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔ (لفظ رب کا معنیٰ ) رب کا لفظی معنی تربیت کرنے والا ہے اور مراد ہر چیز کو آہستہ آہستہ بتدریج حد کمال تک پہنچانا ہے ۔ ہر صفت کا اپنا اپنا مفہوم ہوتا ہے جیسے ابداع کا معنے ایجاد کرنا اور خلق کا معنی پیدا کرنا ، اسی طرح ربوبیت کا معنی تربیت کرنا ، پرورش کرنا حالا فحالا آہستہ آہستہ بتدریج یعنی سیٹج پر جس چیز کی ضرورت ہو اس کو ہم پہنچا کر حد کما ل تک پہنچا نا۔ (لفظ عالم کا مفہوم ) کے مادے سے ہے ۔ کائنات میں جتنے بھی جہان ہیں اور ان جہانوں میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں ۔ وہ سب اللہ تعالیٰ کی ضاعی اور کار یگر ی کی علامت ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہر جہان کو عالم سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ہر مصنوع اپنے صانع کو علامت اور نشانی ہوتی ہے تو کا ئنات کی تمام چیزوں کو دیکھ آدمی سمجھ جاتا ہے کہ یہ کسی کاریگر کی بنائی ہوئی ہیں ۔ لہذاوہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے پر مجبورہوجاتا ہے پھر جب کوئی شخص مزید غور وفکر کرتا ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ ہر مخلوق کی تمام ضروریات مہیا کر والا بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ پکار اٹھتا ہے لا رب واہ کہ اس کے علاوہ کوئی رب نہیں ، ہر چیز کو بتدریج حد کمال تک پہنچا نے والی وہی ذات ہے۔ امام ابن جریر ، امام ابن کثیر امام رازی (ب ١ تفسیر ابن کثیر ص ٢٤ ج ١ ، تفسیر طبری ص ٦٣ ج ١) اور بعض دوسرے مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ عالموں کی کل تعداد اٹھارہ ہزار ہے ۔ ہم انسانوں کے جہان میں رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ملا ئ کہ کا جہان ہے ، جنات کا جہان برزخ حشر اور آخرت کے جہان ہیں ۔ اور پھر اس سطح ارضی پر درندوں ، پرندوں اور چرندوں کے الگ الگ جہان ہیں ۔ کوئی مکھیوں کا جہان ہے کوئی کیڑوں مکوڑوں کا جہان ہے۔ نباتات اور جمادات کے جہاں ہیں ۔ اور پھر پانی کے اندر مچھلیوں اور دیگر بیشمار آبی جانوروں کے جہان ہیں۔ ہم چونکہ انسانی عالم میں رہتے ہیں اس لیے ہم اسی سے بحث کرتے ہیں ، قرآن کریم کا موضوع بھی عالم انسانیت کی تکمیل ہی ہے ۔ لہذاباقی جہانوں کو زیر بحث لانا مقصود نہیں ہے۔ بہر حال لفظ رب العالمین سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ تمام کے تمام جہانوں کی پرورش کرنے والا وہی خدا تعالیٰ ہے لہذا تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں ۔
Top