Tafseer-e-Haqqani - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
ہر طرح کی ستائش اللہ ہی کے لیے ہے جو کل جہانوں کا پرورش کرنے والا ہے
ترکیب : اَلْحَمْدُ مبتدا لِلّٰہِ ثابت کے متعلق ہو کر اس کی خبر ہوئی۔ رَبّْ الْعَالَمِیْنَ اس کی صفت اول (گو یہ نکرہ ہے مگر معنی کے لحاظ سے معرفہ ہے کیونکہ رب العالمین سوائے خدا کے اور کسی پر صادق نہیں آتا) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ صفت و موصوف اس کی صفت دوم۔ مَالِکِ یَوْمْ الدِّیْنَ مضاف و مضاف الیہ مل کر اس کی صفت سوم۔ یہ موصوف اپنی تینوں صفات سے مل کر ثابت کے متعلق ہو کر مبتدا کی خبر ہوئی اور خبر و مبتدا مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ گو مقام انشاء حمد جملہ فعلیہ چاہتا ہے مگر چونکہ خبر حمد بھی انشاء حمد ہے۔ دوام و ثبات کے لیے جملہ اسمیہ لایا گیا۔ تفسیر : ان تینوں آیتوں میں خدائے تعالیٰ بہت سی حکمتیں رعایت رکھ کر اس تقرب کو بتلاتا ہے کہ جس کی طرف بسم اللہ میں اشارہ تھا۔ بسم اللہ میں لفظ اللہ سے ہیبت اور رحمن و رحیم سے رغبت دلا کر اپنی ذات پاک کی طرف متوجہ ہونا مجملاً بتلایا تھا لیکن اس وصول اور تقرب کا کوئی طریق صراحۃً مذکور نہ ہوا تھا کہ وہ کیونکر اس کی طرف متوجہ ہو اور کونسی روحانی سڑک پر چل کر شہر مقصود تک پہنچے۔ آیا کسی درخت میں الٹا لٹکے یا دنیا کے تمام طیبات چھوڑ کر لنگر لنگوٹا باندھ کر کسی مندر یا دریا یا تالاب کے کنارے بیٹھا کرے یا کسی گرجا میں باجا بجا کر کوئی راگ یا بھجن گایا کرے یا پیالہ لے کر گھر گھر بھیک مانگتا پھرے یا کوئی اور جتن کرے جس سے اس محبوب عالم ‘ معبود حقیقی کا وصال اور جمال باکمال نصیب ہو تاکہ کمال حقیقی اور سعادت عظمیٰ ملے۔ سو اس وادی پرخار اور اس بحر ذخار میں سینکڑوں بھٹک کر مرگئے اور بڑے بڑے حکیموں اور فلسفیوں کی کشتیاں غرق ہوگئیں ؎ دریں ورطہ کشتی فروشد ہزار کہ پیدانشد تختہ برکنار اس لیے رحمن و رحیم نے اپنی رحمت سے الہام کے ذریعہ سے اس مشکل کو حل کردیا اور اپنی طرف آنے کا رستہ سہل کردیا کہ اے طالبان راہ نجات و اے جو یندگان آب حیات تم اپنی زبان سے یوں کہو ان الفاظ کے رنگ معانی سے اپنی روح کو رنگین بناؤ کیونکہ جب تم ان الفاظ کے معنی کو خوب دل میں جماؤ اور خیال میں لاؤ گے تو تمہاری روح کی تمام کثافت اور ظلمت و بہیمیت دور ہوجائے گی۔ پس جب آئینہ کا زنگ دور ہوا تو اسی وقت آفتاب جہانتاب کا عکس پڑ کر پر نور ہوا۔ تفصیل : اس جمال کی یہ ہے کہ انسان دراصل روح ہے کہ جس کو نفس ناطقہ بھی کہتے ہیں اور جو اس جسم سے پیشتر تھی اور اس کی مفارقت کے بعد بھی رہے گی اور یہ جسم خاکی کمالات حاصل کرنے کے لیے اس کا آلہ یا مرکب ہے جس طرح آئینہ میں ذاتی جوہر ظاہر کرنے کے لیے راکھ یا کھریا لگا دیتے ہیں تاکہ اس کے بعد رگڑنے سے اس کا جوہرِذاتی نکل آئے اور یہ خوب صاف و شفاف ہو کر چمکنے دمکنے لگے۔ اس طرح حضرت روح کو اس جسم کے ساتھ اسی غرض سے پابستہ کیا ہے۔ پس اصل و بالذات روح کی صفائی مقصود ہے تاکہ یہ اس مبدئِ ١ ؎ نور سے تشبہ حاصل کر کے اس سے جا ملے اور اسی کو سعادت عظمیٰ اور اسی کو کمال اصلی اور اسی کو اتمام سلوک کہتے ہیں۔ اس سلوک کو جو لوگ اپنی عقل سے تمام کرتے ہیں تو ان کو وہم اور تخیلات فاسدہ کے راہزن (کہ جو اس جسم اور اس کی بہیمیت سے پیدا ہوتے ہیں) مقصود تک نہیں پہنچنے دیتے بلکہ وہ ان توہمات و تخیلات کی وجہ سے مخلوق پرستی یا بنیاد جسم کے گرانے اور اس وسیلے سے روح کو چمکانے کے درپے ہوتے ہیں جیسا کہ درخت میں الٹا لٹکنا اور جو انبیاء (علیہم السلام) اور الہام کی روشنی میں اس سیدھی سڑک پر چلتے ہیں کہ جس کو خدا تعالیٰ نے قائم کیا وہ مقصود تک پہنچ جاتے ہیں کما قال اللہ تعالیٰ وَعَلَی اللّٰہِ قَصْدُ السَّبْیْلْ وَمِنْھَا جَآئْرٌ۔ کہ بعض رستے سیدھے خدا تک پہنچتے ہیں اور بعض ٹیڑھے ہیں اور خود اسی سورة میں آگے چل کر یہ تعلیم کرتا ہے کہ یوں کہو اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھْمْ الخ کہ ہم کو وہ سیدھی راہ دکھلا کہ جو انبیاء کی راہ ہے۔ “ الغرض یہ متفق علیہ ہے کہ جب تک روح کو صفائی نہیں اس تک رسائی نہیں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ روح میں کئی طور سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔ (١) یہ کہ یا تو سرے سے خدائے تعالیٰ کے وجود اور اس کے جمیع صفات قدرت و عظمت کا قائل ہی نہ ہو اور تمام مخلوقات یا بعض چیزوں کی ہستی کو از خود جانے۔ جیسا کہ دہریہ ٢ ؎ اور طبیعیہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ازخود طبیعتِ ٣ ؎ عناصر سے پیدا ہوجاتی ہیں اور جب ١ ؎ کس لیے کہ جب تک طرفین میں کوئی مناسبت نہیں ہوتی اس وقت تک تقرب نہیں ہوتا۔ پس وہ نور محض اور لطیف یہ ظلمانی اور کثیف باہم کیونکر ارتباط ہو۔ پس جب انسان اپنی روح کو منور کرتا ہے اور ملکیت غالب ہوجاتی ہے تو ظلمانیت اور تاریکیت ہیولانیت دور ہوجاتی ہے اور انوار عالم قدس اس پر اس طرح پڑنے لگتے ہیں کہ جس طرح آئینہ میں عکس آفتاب۔ پھر یہ شخص بارگاہ قدس اور انجمن انس میں باریاب اور جمالِ با کمال سے فیض یاب ہوتا ہے۔ پس اس طریق کو خدا نے اس سورة میں نہایت لطف کے ساتھ بیان فرمایا۔ ١٢ منہ ٢ ؎ ہنود کا فرقہ جدید آریہ بھی روحوں اور مادہ وغیرہ کی ہستی کو ازخود اور ان کو خدا کا غیرمخلوق کہتا ہے۔ ٣ ؎ اس کو انگریزی میں نیچر کہتے ہیں پس وہ جو آجکل اہل اسلام میں سے ایک فرقہ نیچر یہ کہلاتا ہے وہ گو برائے نام مسلمان ہیں مگر درحقیقت طبیعیہ ہیں۔ چناچہ اس فریق کے گروہ نے جو ایک تفسیر لکھی ہے اس میں اور تہذیب الاخلاق اخبار میں ان کے عقائد ہمارے اس قول کے شاہد عدل ہیں۔ ١٢ منہ تک طبیعت اپنے تصرفات پر قادر رہتی ہے یہ زندہ رہتے ہیں اور جب حرارت غریز یہ تحلیل ہوجاتی ہے تو فنا ہوجاتے ہیں۔ اور یہ سب کاروبار گردش فلک اور طبائعِ اجسام سے ہوتے ہیں نہ زمانے کی ابتدا ہے نہ انتہا۔ یہ رہٹ ہمیشہ سے یوں ہی پھرتا ہے اور یوں ہی پھرتا رہے گا۔ چناچہ اس خراب عقیدہ کے لوگ پہلے بھی بہت تھے اور اب بھی ہزاروں ہیں۔ (٢) یہ کہ خدا تعالیٰ کو خالق تو جانے مگر بعد پیدا ہونے کے خلق کو اس کے اسباب و شروط کی وجہ سے خالق سے مستغنی جانے جیسا کہ بعض آریہ سماج کا عقیدہ ہے کہ بعد مخلوق ہونے کے پھر اس کی طرف کچھ حاجت باقی نہیں رہتی۔ (٣) یہ کہ اس مجموعہ عالم میں سے کسی جزو کو اس کے کمالات ذات و وجود میں مستقل جانے اور پھر اس کو سبھی اختیارات الوہیت میں شریک سمجھ کر اس سے بھی واسطہ عبودیت رکھے جیسا کہ قدمائے یونان وفارس اور زمانہ جاہلیت کے عرب اور ہندو آگ اور پانی ہوا اور آفتاب و ماہتاب اور تاروں اور غیر مرئی ارواح کی نسبت عقیدہ رکھتے تھے۔ بلکہ رکھتے ہیں (اس تاریکی روحانی کو زبان الہام میں شرک کہتے ہیں) (٤) یہ ہے کہ آدمی بعض حاجات اور کاروبار کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے (کہ جن کو رحمت الٰہی مصلحت ملک یا شہر یا اس شخص سے خلاف جانتی ہے) اس کو سراسر پر غضب اور بخیل اور ہلاکو جان کر اس سے محبت نہ کی جائے اور دل میں نفرت پیدا ہوجائے جس سے اس کے ابرار اور اس کے ہادی لوگوں سے دشمنی کا برتاؤ کیا جائے جیسا کہ بعض یہود نے انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا اور خدا کی دشمنی پر کمر باندھی۔ (٥) یہ کہ گو خدا اور انبیاء کا اقرار ہو مگر قیامت اور وہاں کی جزا و سزا کا انکار ہو جیسا کہ یہود میں فرقہ صدوقیہ کا عقیدہ تھا اور اب بھی صد ہا بےدینوں اور دیگر بعض مذاہب کے لوگوں کا عقیدہ فاسد ہے بلکہ وہ دارومدار جزا و سزا کا اسی عالم پر تناسخ کے وسیلہ سے (جیسا کہ ہنود اور مجوس کا عقیدہ ہے) یا مال و اولاد، تندرستی و بیماری میں محرومی و برخورداری کی نسبت جانتے ہیں جیسا کہ بعض جہلا کا عقیدہ ہے۔ (٦) یہ کہ قیامت اور جزا و سزا کا تو اعتقاد ہو مگر اپنے اوہام باطلہ اور خیالات باطلہ سے بعض شخصوں کی نسبت یہ عقیدہ ہو کہ وہ بھی وہاں جس طرح چاہیں گے اپنے معتقدوں اور پرستش کرنے والوں کو فائز المرام کریں گے اور خدائے تعالیٰ کے عذاب و عقاب سے مانع آویں گے۔ اس لیے خدا کے ساتھ نذر و نیاز ‘ استمداد و پرستش میں ان کو بھی شریک کرتے ہیں اور ان کو بھی خدا یا خدا کا جزو یا شریک وسہیم جانتے ہیں جیسا کہ نصاریٰ حضرت مسیح (عیسیٰ ) (علیہ السلام) کو کفارہ سمجھ کر بالکل مطمئن ہوگئے ہیں۔ اور ان کو خدا اور جزئِ خدا سمجھتے ہیں اور اسی طرح اور بھی صدہا جہلا ہیں جو اپنے بزرگوں کو بالکل ومالک و مختار جانتے ہیں۔ سوال : اہل اسلام بھی تو اپنے نبی (علیہ السلام) کو شفیع روز محشر جانتے ہیں۔ جواب : شفاعت تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ رحیم ہے اپنے نبی (علیہ السلام) کی معرفت رحمت ظاہر کرے گا اور اپنے وعدہ کو پورا فرمائے گا۔ نہ یہ کہ آنحضرت (علیہ السلام) خدا کے شریک وسہیم ہو کر اس کے عذاب کو دفع کریں گے اور خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے اس کے معتوب و مغضوب کو جنت میں لے جائیں گے۔ یہ کسی اہل اسلام کا عقیدہ نہیں۔ بلکہ جو کچھ آپ سے سرزد ہوگا بمرضیِ الٰہی ہوگا۔ پس یہ چھ طور ان روحانی تاریکیوں کے اصول ہیں کہ جو قرب خدا سے مانع ہیں اور یہ قرب سے محروم رہنا آخرت میں دوزخ اور طوق و زنجیر وغیرہ چیزوں کی صورت میں ظاہر ہو کر جہنم ہوجائے گا۔ بلکہ ہوچکا اور طرح طرح کی سختیاں دکھائے گا۔ کیونکہ روح کی راحت (کہ جو بشکل جنت ظہور کرے گی بلکہ کرچکی) یہ ہے کہ اس کے مرکز اصلی کی طرف پہنچنے میں کوئی چیز حائل نہ ہوجائے۔ دیکھئے دنیا میں جب کوئی چیز کسی چیز کے حیّزِ طبعی یا مرکز اصلی کے بیچ میں مانع اور عائق ہوجاتی ہے تو وہ چیز اپنے حیز اور مرکز اصلی کی طرف جانے میں کیسی پھڑپھڑاتی ہے اور یہ پھڑپھڑانا اور کشاکشی کے صدمات اٹھانا اس کے لیے جہنم ہے (علیٰ قدر مراتبہ) باقی ان تاریکیوں کی فروعات۔ سو وہ بیشمار اور ہزار در ہزار ہیں ان کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں۔ ان پانچوں طریقوں کی ظلمانیت کو عرف شرع میں کفر اور الحاد کہتے ہیں اور ساتواں طور تاریکی روحانی کا ایک اور ہے کہ جو اس جسم کے اعمال سے متعلق ہے یعنی جس طرح وہ چھ طور قوت نظریہ اعنی اعتقاد سے متعلق ہیں یہ قوت عملیہ سے علاقہ رکھتا ہے وہ یہ کہ انسان اپنی زبان سے وہ باتیں بولے اور ہاتھ پائوں سے وہ کام کرے کہ جو نور فطرت کے خلاف ہوں جن کو عرف شرع میں حرام اور مکروہ کہتے ہیں جیسا کہ کلمات کفر بکنا، گالی دینا، غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، فحش کی باتیں منہ سے نکالنا، قتل کرنا، چوری کرنا، شراب پینا، لوٹ مار کرنا وغیرہ وغیرہ وہ افعال و اقوال کہ جن کی تاریکی روح پر اثر کرتی اور بہیمیت کو زور دیتی ہے۔ چناچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تشریح فرما دی ہے کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ ہوجاتا ہے۔ پھر وہ پھیل کر تمام دل کو گھیر لیتا ہے۔ رواہ البغوی۔ یہ سات چیزیں تمام گمراہیوں کی اصول ہیں کہ جن کے مٹانے کے لیے سلسلہ وار انبیاء (علیہم السلام) دنیا میں آیا کئے اور تمام کتب آسمانی بلکہ جمیع کتب حکمت و اخلاق انہی سات چیزوں کی شرح ہیں خود قرآن مجید میں بھی مختلف عنوان سے اس کو بیان کیا ہے۔ چناچہ ایک جگہ ایک ہی جملہ میں اس کو ختم کردیا۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا٭ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا٭ ” کہ جس نے اپنی روح کو پاک اور منور کیا اس نے مراد پائی اور جس نے آلودہ کیا تو خسارت اٹھائی اور ایک جگہ اس نجات اور ابدی حیات کو اور لطف کے ساتھ بیان فرمایا فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبّْہٖ مَاٰبًا٭ کہ جو چاہے اپنے رب کے پاس آنے کا ٹھکانا بنا لے “ اور ایک جگہ اور خوبی سے اس کو ادا کردیا یٰٓــاَیُّھَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبّْکَ کَدْحًا فَمُلاَقِیْہِ ” کہ اے انسان تو اپنے رب کی طرف کھٹ کھٹ کر کے چلا آتا ہے آخر اس کے پاس پہنچے گا “ وغیرہا من الآیات۔ پس جب انسان ان ساتوں کو چھوڑ ان کے برخلاف میں جو سات عمدہ اصول ہیں ان کی طرف منہ موڑتا ہے تو مقصود اصلی کو پہنچ جاتا ہے اور سعادت عظمیٰ پاتا ہے۔ پس ان آیات میں خدا تعالیٰ نے اپنے پاس آنے کا رستہ اس طرح سے بتایا کہ خدا تعالیٰ کی حمد وثناء ان صفات کے ساتھ کرو تاکہ روح تازہ ہوجائے اور جناب قدس تک گزر ہوجائے اب ہم یہ بات بتلاتے ہیں کہ کون سے جملہ سے کس بات کی طرف اشارہ ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ (کہ تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہیں) میں اول بات کی طرف اشارہ ہے کیونکہ حمد اس ثناء و صفت کو کہتے ہیں کہ جو کسی شخص کے کمالات ذاتیہ و اختیاریہ کی وجہ سے زبان پر آوے جس طرح کہ مدح کمالات غیر اختیاریہ پر ہوتی ہے اور حمد اختیاریہ پر۔ موتی کی صفائی اور کسی مکان وغیرہ غیر ذی عقل کی صفائی و زیبائی کو کہ جو بیان کریں گے تو اس کو مدح کہیں گے نہ حمد اور شکر کسی انعام و اکرام کی وجہ سے ہوتا ہے خواہ زبان سے ثناء وصفات کردی جائے یا کوئی تعظیم کا کام کردیا جائے یا دل ہی میں خوشنودی پیدا کی جائے۔ شکر اور حمد میں عموم و خصوص من وجہ ہے جو حمد کہ کسی انعام و اکرام کی وجہ سے ہو وہاں اس کو شکر بھی کہہ سکتے ہیں۔ پس جب بندہ نے دل سے یہ کہا اور صحیح اعتقاد کیا کہ تمام خوبیاں خدا کے لیے ہیں تو خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کمالیہ کا اقرار پایا گیا دہریہ پن جاتا رہا اور جب کہا رَبّْ الْعَالَمِیْنَ کہ وہ تمام عالم کا پرورش کرنے والا ہے اس سے دوسری اور تیسری بات جاتی رہی کس لیے کہ عالم بروزن فاعَل بالفتح اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس سے دوسری چیز کا علم حاصل ہوجاوے اور وہ خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے سوا ہر موجود و مخلوق کو شامل ہے کیونکہ ان سے ان کے پیدا کرنے والے خدا تعالیٰ کا علم حاصل ہوتا ہے۔ دیکھئے جب ہم کسی تخت یا مکان کو دیکھتے ہیں تو ہم کو یقین کامل ہوجاتا ہے کہ ضرور اس کا بنانے والا کوئی بڑھئی اور معمار تھا کہ جس کے ہاتھ سے یہ بنے ہیں۔ اسی طرح مخلوقات کو غور کرنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ ضرور کوئی قادر بیچون و بیچگون اس کو عدم سے ہستی میں لانے والا ہے۔ پھر اس عالم کے بیشمار انواع و اقسام ہیں : عالم مجردات یعنی وہ چیزیں کہ جو جسم عنصری اور جسم سماوی سے بری ہیں اور ہم کو بسبب لطافت کے دکھائی نہیں دیتیں۔ (جس طرح کہ عالم عنصری میں ہوا لطافت سے دکھائی نہیں دیتیں جیسا کہ ملائکہ اور ارواح) ۔ عالم جسمانیات پھر اس کی دو قسمیں ہیں۔ عالم علویات جیسا کہ آسمان اور آفتاب و ماہتاب اور ستارے اور عالم سفلیات پھر اس کی بھی دو قسمیں ہیں ایک عالم لطیفات یعنی وہ چیزیں کہ جو بسبب لطافت کے دکھائی نہیں دیتیں جیسا کہ ہوا اور کرہ آتش و دیگر بسائط کہ جو علوم جدیدہ سے ثابت ہوئے ہیں اور وہ چیزیں جن کا مادہ صرف یہ لطیف عناصر ہیں یا یہ غالب ہیں جیسا کہ جن اور شیطان اور دیگر مخلوقاتِ الٰہی کہ جس کو ہم نہیں جانتے وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبّْکَ اِلَّا ھُوَٓ دوسرا عالم کثیفات پھر اس کی بھی دو قسمیں ہیں۔ عالم مفردات جیسا کہ پانی اور خاک۔ عالم مرکبات پھر اس کی چار قسمیں ہیں۔ عالم کائناتِ جوّ یعنی وہ چیزیں کہ جو زمین سے اوپر ہیں۔ جیسا کہ ابر اور اولے اور قوس قزح وغیرہ چیزیں۔ دوم عالم جمادات یعنی پہاڑ اور دیگر معدنیات چاندی، سونا، ہیرا، بلور وغیرہ سوم عالم نباتات یعنی درخت اور گھانس اور جڑی بوٹیاں۔ چہارم عالم حیوانات۔ یعنی انسان، گدھا، گھوڑا، درند، پرند، جاندار چیز خواہ برّی ہو خواہ بحری۔ ان تینوں اخیر کو موالید ثلاثہ کہتے ہیں۔ ان سب میں عالم انسان اشرف ہے بلکہ اپنے روحانی علاقہ سے تو ملائکہ سے بھی دو چار قدم آگے ہے۔ پس جب ان سب کو جمع کر کے خدا نے رَبّْ الْعَالَمِیْنَ کہا تو کوئی چیز اس کی تربیت اور پرورش سے خالی نہ رہی اور تربیت یہ ہے کہ درجہ بدرجہ کسی چیز کو پورا کیا جاوے اور اس کے اس کمال تک کہ جو مقدر ہے پہنچایا جاوے اور عالم محسوسات میں تو آپ کو بھی صدہا بلکہ ہزارہا چیزوں کا درجہ بدرجہ پورا ہونا اور تربیت پانا مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے۔ سب سے اول اشرف المخلوقات انسان ہی کو دیکھئے کہ اول غذائوں سے نطفہ بنتا ہے پھر عورت کے پیٹ میں علقہ اور مضغہ بن کر پورا بچہ بنتا اور باہر آتا ہے اور پھر ایک ہی بار جوان اور قوی نہیں ہوجاتا بلکہ رفتہ رفتہ اس طرح سے کہ پہلے بیٹھنے لگتا ہے پھر گھٹنوں چلتا ہے پھر دیوار پکڑ کر پھر بڑھتے بڑھتے ڈاڑھی مونچھ آ کر قوی جوان ہوجاتا ہے اور پھر اسی طرح منزل بہ منزل بےاختیار گھٹتا جاتا ہے۔ اور یہی حال درخت کا ہے اور یہی حال سب چیزوں کا ہے۔ خواہ وہ ہم کو معلوم ہوں یا نہ ہوں۔ اب میں آپ کے روبرو ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہوں کہ جس سے آپ کو تمام عالم کے مجموعہ کا حادث ہونا بخوبی معلوم ہوجائے۔ عالم یعنی خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کے سوا جو کچھ ہے یا جوہر ہے یعنی بذات خود قائم جیسا کہ درخت و پتھر یا عرض کہ جو کسی اور میں ہو کر پایا جاتا ہے جیسا کہ رنگ سیاہی سفیدی کہ جو بغیر کسی جسم کے پائی نہیں جاتی اور ان میں سے ہر ایک حادث ہے اعنی پہلے معدوم تھا پھر موجود ہوا ہے اور جب عالم کے دونوں جزو حادث ہوئے تو مجموعہ عالم بھی حادث اور ہر حادث کے لیے ایک محدث یعنی پیدا کرنے والا ضرور ہے کس لیے کہ جب تمام عالم حادث ہوا تو قطعاً ضروری الوجود نہیں ورنہ عدم کو قبول کرنے کے کیا معنی۔ بلکہ وجود و عدم اس کی ترازو کے دونوں پلے مساوی ہیں پس کوئی مرحج یعنی اس وجودی پلہ کا جھکانے والا ضرور ہے اور وہ عالم سے الگ ہے اور عالم کے جمیع اوصاف و خصائص سے بھی اسی طرح مبائن ہے کہ جس طرح اپنی ذات میں مبائن ہے۔ اب رہا یہ ثبوت کہ کل اعراض حادث ہیں سو وہ یوں ہے کہ بعض کا حادث ہونا تو مشاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریکی چلی گئی، روشنی ہوگئی سبز پتّا سفید ہوگیا اور بعض کا یوں کہ ہر عرض قابل عدم ہے قدیم نہیں اور جو قابل عدم ہے وہ حادث ہے اور کل جواہر کا حادث ہونا بھی ظاہر ہے۔ کس لیے کہ کوئی جوہر ایسا نہیں کہ جس پر کوئی نہ کوئی عرض سوار نہ ہو اور نہیں تو حرکت و سکون سے کوئی بھی خالی نہیں کیونکہ اگر دوآن تک ایک جگہ میں ہے تو ساکن ورنہ متحرک پس جو حوادث کا محل ہے وہ خود بھی حادث ہے ورنہ قدم حوادث لازم آوے گا۔ اس کے سوا اور صدہا دلائل اور براہین اس امر پر ہیں کہ جن کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں۔ پس جب آپ کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ تمام عالم حادث ہے تو اس میں بھی کوئی شک نہ رہا ہوگا کہ یہ ممکن ہے اور ممکن تو ہر وقت اپنی ذات وصفات میں واجب تعالیٰ کا دست نگر رہتا ہے یعنی ہر ساعت و ہر لمحہ ہر ہر بات میں فقیر کی طرح اس کی طرف جھولی پھیلائے رہتا ہے اور وہ رحمن و رحیم اس میں خزانہ غیب سے وجودات اور صفات کے ٹکڑے ڈالتا رہتا ہے تاکہ ہر وقت اس کو اس سے ارتباط و احتیاج رہے اور ایکبارگی حاصل کر کے دعوائے استقلال نہ کرنے لگے اور خدائی کا دم نہ بھرنے لگے۔ اور اس احتیاج ہمہ وقت کے روا کرنے کو تربیت اور اس روا کرنے والے کو رب کہتے ہیں۔ اس عمدہ مطلب کو (کہ جس پر حکماء و عقلا دلائل وبراہین لانے میں بڑی سخت مشقت اٹھاتے ہیں) کس سہل طور سے ایک لفظ رب العالمین میں بیان کردیا کہ جس کو عالم و جاہل ‘ حکیم و فلاسفر برابر سمجھتے ہیں اور جس کو اونٹ و بکری چرانے والے عرب کے بدو بھی سمجھ کر حظ اٹھاتے تھے کیونکہ تمام عالم میں اکثر چیزوں کا مربی ہونا تو مشاہدہ سے معلوم ہے اور باقی چیزوں کی نسبت عقل یہ فیصلہ کرسکتی ہے کہ جب وہ بھی ممکن ہیں تو پھر جس طرح ان کو ہر وقت احتیاج ہے ان کو بھی کوئی ترجیح کی وجہ معلوم نہیں پس اس لفظ رب العالمین سے چند امور ثابت ہوئے : (١) خدا تعالیٰ کی ذات مقدسہ کا اور اس کے تمام کمالیہ کا ثبوت کس لیے کہ اس عالم گوناگوں کی تربیت بغیر حیات ‘ قدرت ‘ علم ‘ ارادہ ‘ سمع ‘ بصر ‘ کلام ‘ تکوین اور پھر رازقیت ‘ رحمت ‘ حلم وغیرہ کے نہیں ہوسکتی اور تمام حدوث اور نقصان کی باتوں سے بری ہونا۔ کیونکہ ممکن اور واجب اور رب اور مربوب میں تغائرِ ذاتی ہے۔ پس (١) جہالت، (٢) عجز، (٣) حدوث، (٤) کھانے، (٥) پینے، (٦) سونے، (٧) چلنے، (٨) پھرنے سے وہ پاک ہے۔ اسی طرح (٩) جورو بنانے، (١٠) بچہ جنانے اور (١١) مجسم و مشکل ہونے اور کسی مکان خاص میں اور زمانے میں پائے جانے سب سے پاک ہے کیونکہ یہ باتیں مربوب کا حصہ ہیں نہ رب کا۔ (٢) یہ کہ اس کا نہ کوئی شریک ہے نہ سہیم نہ ہم جنس نہ ہم کفو نہ باپ نہ بیٹا۔ کس لیے کہ اب جو کوئی دوسرا ہوگا تو عالم میں داخل مخلوق ہوگا اور جبکہ وہ ایک عالم بلکہ کل عالموں کا رب ہے تو پھر اس کا شریک وسہیم کب ہے یہاں سے توحید کا کامل ثبوت ہوگیا۔ (٣) یہ کہ مخلوقات کو جس طرح اپنے خالق کی طرف ابتدائِ وجود میں احتیاج ہے۔ اسی طرح بعد وجود کے بھی ہر وقت ہر بات میں اسی کی دست نگر اور محتاج ہے۔ جیسا کہ لفظ تربیت بآواز بلند کہہ رہا ہے، پس جو مستقل مانتے اور اسباب و شروط کو مستقل بالتاثیر جانتے ہیں محض تاریکی جہالت اور وادی ضلالت میں پڑے ہیں۔ (٤) عالم بلکہ جس قدر عالم مقدرۃ الوجود مانے جائیں ان میں سے کوئی فرد اور کوئی جزو ایسا نہیں کہ اپنے کسی کمال یا کسی وصف جلال سے اس مرتبہ میں پہنچ جائے کہ وہ اس کی ہر وقت کی دست نگری سے آزاد ہوجائے۔ پس جب خود ہر وقت محتاج ہے تو پھر اور کسی کی کیا حاجت روائی اور کاربراری کرسکتا ہے۔ پھر اس کی پرستش و عبادت اور اس سے سوال و استعانت خام خیال اور روح کے لیے وبال ہے۔ سبحان اللہ ایک لفظ رب العالمین میں اول اور دوسری اور تیسری اور چوتھی صورت ظلمت روح کو کس طرح سے مٹا کر کس طرح منور فرمایا ہے بلکہ اسی لفظ میں پانچویں بات کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ جو رَبُّ الْعَالَمِیْنَ ہے تو اس کو مہربان اور نہایت رحیم ہونا بھی لازم ہے ورنہ تربیت ممکن نہیں اور جب وہ مہربان ہر وقت تربیت کرنے والا ہے تو یہ بات خیال کر کے دل از حد اس سے محبت کرے گا اور جان سے پیارا سمجھے گا لیکن اس بات کی طرف لفظ الرحمن الرحیم میں اور بھی صراحت کردی پس جو اس کو رَبُّ الْعَالَمِیْنَ سمجھے گا اور پھر اس کے ساتھ ہی رحمن و رحیم کے معنی بھی دل پر نقش ہوں گے تو ایک دریائے محبت جوش میں آئے گا اور شعلہ عشق بندہ کے دل میں بھڑکے گا اور جہاں عقل کے ذریعہ برسوں میں پہنچتا ہے وہاں عشق کی بدولت ایک لمحہ میں وصال ہوتا ہے۔ دیکھئے جب بچہ اپنی ماں سے عاقلانہ طور پر سوال کرتا ہے تو وہ اس سے اسی دانشمندی سے پیش آتی ہے اور جب وہ اچھی میری اماں، اچھی میری اماں کہہ کر گلے سے چمٹ جاتا ہے تو پھر اس کے دل میں بھی محبت کا بےحد جوش ہوتا ہے۔ پس یہی حال بندہ کا خدا سے ہے۔ جب یہ ایک بار جوش محبت میں یا ربی کہتا ہے تو وہاں سے پے درپے عبدی عبدی کی آوازیں آتی ہیں چناچہ خود فرماتا ہے اِنَّ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ کہ ” میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے “ اور فرماتا ہے مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بْعَذَابْکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ” کہ اگر تم ایمان لاؤ اور شکریہ ادا کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب کرکے کیا کرے گا “۔ اور جب کہ رحمت پر زیادہ نازاں ہونا باعث جرأت تھا تو اس ترازو کو برابر کرنے کے لیے مالک یوم الدین بھی فرما دیا اور اس میں پانچویں اور چھٹی اور ساتویں بات کی طرف اشارہ ہے کس لیے کہ انسان جب مالک یوم الدین کے معنی پر نظر رکھے گا نہ تو انکار قیامت کرے گا اور نہ عدم سزاء و جزاء کا قائل ہوگا ‘ نہ تناسخ کو دھیان میں لائے گا اور جب اس دن کا اس کو مالک و مختار سمجھے گا تو مخلوق میں سے کسی چیز کو بھی اس امر میں حصہ دار نہ جانے گا نہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو نہ کسی غوث و پیر و ولی و نبی کو نہ فرشتہ کو کیونکہ یہ وہ روز ہے کہ لاَ یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَــہُ الرَّحْمٰنُ ” جس میں خدا کی اجازت کے بغیر کوئی بات بھی نہ کرسکے گا “ اور جب خدا کے روبرو جانے اور اس کی حکومت میں حاضر ہونے کو دل میں جماوے گا تو ادنیٰ گناہ سے بھی اس کے دل میں لرزہ آوے گا۔ پھر شتر بےمہار ہو کر لذائذِ دنیا میں مستغرق ہونا اور فسق و فجور میں عمر کو کھونا تو کجا ایسی باتیں وہی کرتے ہیں جو قیامت سے نہیں ڈرتے اس تھوڑے سے کلام میں تمام مضامین ہدایت کو ختم کردیا اور تین آیتوں میں بیشمار الہامی اور روح کو زندہ کرنے والی باتوں کو بھر دیا۔ اب جو کوئی اس کلام سے واقف ہو کر ان الفاظ سے خدا کی ثناء و صفت کر کے اس کو یاد کرے گا۔ بالخصوص نماز میں کہ جہاں طہارت جسمانی بھی اور پھر ہر عضو سے مضمون محبت بھی ادا کیا جاتا ہے۔ کبھی دست بستہ کھڑا ہو کر یہ کلام منہ سے بولتا ہے، کبھی شوق میں آ کر پائوں پڑتا ہے تو اس قدر دل پر انوارِ الٰہی اور فیوض نامتناہی فائض ہوں گے کہ بیان سے باہر ہیں۔ اس مطلب کے علاوہ اس کلام میں جو کچھ اسرار ہیں بیشمار ہیں ہم دو ایک اسرار بطور نمونہ بیان کرتے ہیں۔ (١) یہ کہ ہر ایک جملہ ایک دوسرے سے زنجیر کے حلقوں کی طرح مربوط ہے گویا کہ ایک دوسرے کی دلیل ہے چناچہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ (کہ تمام تعریفیں اور خوبیاں خدا ہی کے لیے ہیں) یہ ایک بڑا بھاری دعویٰ ہے کہ جس کا منکر انکار کرسکتا ہے کہ بعض خوبیاں فلاں کے لیے بھی ہیں یا سرے سے ہم اللہ کو نہیں مانتے یا ان خوبیوں کا خدا کے لیے ثبوت نہیں مانتے۔ پس جب اس کے بعد رَبّْ الْعَالَمِیْنَ کہا تو ان تمام شکوک کو بڑی دلیل قوی سے دفع کردیا (جیسا کہ آپ جان چکے ہیں) پس جب الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ کہا تو گویا تمام عالم کے رب ہونے کے لیے کامل شہادت ادا کردی کس لیے کہ تمام عالم کی پرورش اسی کا کام ہے کہ جو رحمن و رحیم ہے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ تربیت بااختیار خود کرتا ہے نہ بمجبوری جیسا کہ حکمائے یونان سمجھتے تھے اور مالک یوم الدین گویا الرحمن الرحیم کے لیے تتمہ اور تکملہ ہے۔ کس لیے کہ گو دنیا کی لاکھوں نعمتیں اور بیشمار خوبیاں کسی کو اس کی رحمت سے حاصل ہوجائیں مگر تابہ کے آخر غریبانہ اس ملک سے جانا اور ہر چیز کو چھوڑ جانا ہے کیونکہ یہ ترکیبِ ١ ؎ اجسام ایک روز مضمحل ہونے والی ہے۔ یہ خاک کا گھر مٹی میں ملنے والا ہے۔ ہمارے بدن کے وہ حالات کہ ١ ؎ ترکیب اجسام کے لحاظ سے بےبنیاد یہ نرم جسم حیوانات اور نباتات ہے۔ پھر جمادات، اس لیے دنیا میں جس قدر جمادات کی عمر ہے وہ حیوانات نباتات کی نہیں۔ یہ جمادات وہ ہیں کہ جو قدرتی ترکیب سے مرکب ہیں۔ جیسا کہ چاندی ‘ سونا، ہیرا وغیرہ، ورنہ ترکیب صناعی کو وہ استحکام کہاں۔ شاہجہانی عمارتیں بھی کئی سو سال بعد ہلنے لگتی ہیں۔ ایک دوست کا مکان دیکھنے کا بعد مدت کے اتفاق ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ ہر جگہ چونا جھڑ گیا دیواروں میں ادھر ادھر درزیں پڑگئیں نہ کمرے پر وہ رونق ہے نہ کڑی تختہ کا وہ حال ہے۔ یہ دیکھ کر ترکیب انسان کی طرف دھیان آیا کہ اسی طرح یہ گل بھی مرجھاتا ہے اور اس خانہ تن کا نقشہ چند روز میں کیسا بگڑ جاتا ہے ؎ صد حیف کہ گلرخاں کفن پوش شدند وز خاطر یک دگر فراموش شدند آنان کہ بصد زباں سخن می گفتند آیا چہ شنیدند کہ خاموش شدند ہرچند احباب و اقارب کی وہ شکلیں جو ہمارے روبرو خاک میں مل گئی تھیں آنکھوں کے سامنے کھڑی ہوگئیں اور بےاختیار دل آنکھوں سے آنسو ہو کر بہنے لگا ؎ مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں میں اے لئیم تو نے یہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے اس بےبنیاد ہستی میں کچھ غفلت اور خرمستی اور مصائب پر بےقراری اور دکھ پر آہ وزاری ؎ اے شمع صبح ہوتی ہے روتی ہے کس لیے تھوڑی سی رہ گئی ہے اسے بھی گزار دے اس مضمون کو قرآن مجید نے اکثر مقام پر بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ایک جگہ گھانس کے ساتھ تشبیہ دے کر بےثباتی بیان کی ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے کَمَثَلٍْ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتَہٗ ثُمَّ یَھْیْجُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًا۔ الآیہ۔ ١٢ منہ جو تیس برس یا چالیس برس پیش آتے ہیں زبان حال سے یہ خبر سناتے ہیں۔ ادھر بال سفید ہونے لگے ادھرچہرہ کی تازگی میں فرق آنے لگا، آنکھ، کان بھی جواب دینے لگے ‘ سب کیل و پرزے ڈھیلے ہونے لگے ‘ طبیعت اپنے کاروبار سے معطل ہونے لگی ‘ ایک دن بلبلہ سا بیٹھ گیا۔ سب عیش و آرام خواب و خیال ہوگئے۔ سب نعمتیں جاتی رہیں، پس جب تک اس عالم میں سب نعماء اور ہر طرح کی فرحت نصیب نہ ہوئی تو کچھ بھی نہ ہوا۔ پس مالک یوم الدین ہونا اس رحمت کو کمال تک پہنچا دینا ہے۔ کیونکہ مالک روز جزا وہاں یہاں سے بڑھ کر دے گا اور اس غیر متناہی زمانے میں بہت کچھ سلوک اور احسان کرے گا یہ کمال رحمت ہے۔ (٢) یہ تو آپ جان ہی چکے کہ نبی بندوں اور خدا میں ایک واسطہ ہے کہ جو بندوں کو خدا سے ملاتا اور باہم میل جول پیدا کرتا ہے۔ پس اس کلام میں کہ جو خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے اس رابطہ اور میل جول کے متعلق تمام باتیں اجمالاً یا تفصیلاً ہونی ضرور ہیں اور اس باہمی ارتباط اور رشتہ کا مدار چند چیزوں پر ہے : (اول) یہ کہ خدا تعالیٰ کی ذات اور جمیع صفات کا بندوں کو یقین کرا دے اور مشاہدہ سا کر کے دکھا دے۔ نہ یہ کہ صرف بیان غیرکافی اور دعواے غیر شافی پر بس کرے اور یہ بات عالم و جاہل حکیم و فلاسفر سب کے حصہ میں علیٰ قدر استعداد اتہم باران رحمت کی طرح آوے۔ سوائے عنادی اور ازلی کو رباطنوں کے ہر شخص اس سے پورا فیض پاوے۔ سو یہ بات اس وقت کہ جب سلسلہ نبوت کو تمام کرنا منظور ہوا ازحد ضرور ہے اور یہ بڑی بھاری بات ہے بلکہ جو شخص رہنمائی کا بیڑا اٹھائے اور سلسلہ نبوت کا خاتم ہو اس کے لیے معجزہ ہے اور یہ اول امر اس لیے ضروری ہے کہ انسان کی جبلی عادت ہے کہ وہ غیرمحسوس چیز کا مشکل سے قائل ہوتا ہے اور ذات باری بھی محسوس نہیں اس لیے سینکڑوں ملحد اس وادی شکوک میں سر ٹکرا کر مرگئے اور سینکڑوں کی آنکھوں پر ظلمات کے پردے پڑگئے اور یہ مقتضائے جسمانی اور اثر شیطانی ہے۔ (دوم) وہ نبی اپنے نور نبوت سے اس عالم کی ابتداء اور انتہا اس طرح دکھا دیوے کہ عقل کے نزدیک جس طرح اس چیز کی ابتداء و انتہاء میں کہ جس کو اپنے روبرو بنتے بگڑتے دیکھا کوئی شک نہیں رہتا۔ ایسا ہی اس مجموعہ کائنات کی ابتداء و انتہا میں کوئی شک باقی نہ رہے تاکہ سوائے خدا کے نہ کسی کو قابل عبادت سمجھے نہ کسی سے مدد مانگے نہ کسی کو الوہیت کا حصہ دار جانے اور یہاں کی چیزوں کو فانی اور نعمائِ دنیا اور مصائبِ دہر کو آنی جانی جان کر ہر حال میں اسی کا خیال رکھے اور اپنے آپ کو مسافر تیز رو جانے کیونکہ تمام اصول سعادت اسی پر موقوف ہیں۔ (سوم) یہ کہ خدا تعالیٰ سے وہ محبت پیدا کر دے کہ جو عقل سلیم کے نزدیک اور کسی کے ساتھ جائز نہ ہو۔ یعنی ہزار جان سے دل قربان ہونے کو اس پر آمادہ رہے کہ جس کو عشق یا حقیقی محبت کہتے ہیں نہ یہ کہ صرف زبان سے یہ کہہ کر بس کرے کہ خدا سے محبت کرو اور ایسی اور ایسی محبت کرو کیونکہ سب سے آخیر روحانی حکیم کا یہی کام نہیں کہ وہ یہ کہہ کے چلا جاوے کہ تندرستی حاصل کرو۔ بیماری کو دفع کرو بلکہ اپنی تدبیر خجستہ سے علاج کر کے مرض زائل کر دے۔ اس لیے کہ تمام انبیاء کی تعلیم کی یہی علت غائی اور مقصود اصلی ہے۔ (چہارم) یہ کہ نیک چلنی اور تمام دینی اور دنیاوی کاروبار میں راہ راست کو اختیار کرنے پر پہلے لوگوں کے اچھے برے حالات اور ان کے نیک و بد نتیجہ کو یاد دلا کر خوب آمادہ کیا جاوے کہ ان کے دل میں بری باتوں کا خوف اور نیک باتوں کا شوق پیدا ہوجائے اور جس طرح دنیاوی کاروبار کو کسی نتیجہ پر یقین کرنے سے ازخود اختیار کرنے اور ان کے بجا لانے میں جو کچھ مشقت اٹھاتے ہیں اس نتیجہ کے شوق میں اس کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں اسی طرح ہر عمل کا نتیجہ نیک و بد لوگوں کے روبرو ہر وقت تصویر بن کر کھڑا رہے جس سے وہ ازخود نیک عمل بجا لانے اور برے کاموں سے بچنے میں سعی کریں۔ نہ یہ کہ فقط اسی بات پر بس کرے کہ فلاں کام کرو اور فلاں نہ کرو اور پہلے لوگوں کی کہانیاں کہہ کر قصہ خوانوں کی طرح اپنی محفل کا رنگ جما دے اور وہ نبی بلاسود اپنی کتاب کو روزنامچہ یا تاریخ بنا دے۔ یہ وہ چار اصل الاصول ہیں کہ جن پر عقلمند عین آنکھوں سے صاد کرتے ہیں اور جن کی خوبی کا ہر اہل مذہب دم بھرتے ہیں۔ اب دیکھئے کہ ان چاروں کو خدا تعالیٰ نے کس خوبی کے ساتھ اپنے ایک تھوڑے سے کلام میں بیان کردیا کہ جس کو ذرا بھی سمجھ ہو تو وہ اس کلام مقدس پر سو جان سے ایمان لاوے (اول) امر کو الحمدللہ رب العالمین میں مشاہدہ کرا دیا کیونکہ تمام عالم درجہ بدرجہ کمال کو پہنچتا اور اس کا ہر جزو وقتاً فوقتاً پرورش پاتا ہے جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں اور مشاہدہ بھی اس کی تائید کر رہا ہے۔ تو اب اس تمام عالم اور مجموعہ کائنات سے علیحدہ ایک شخص کے موجود ہونے میں کہ جو مربی اور قادر اور علیم اور حکیم ‘ مرید و سمیع وبصیر ‘ رحمن و رحیم ہے البتہ اس عقل کے اندھے کو شک ہوگا کہ جو کسی تخت و کرسی کو دیکھ کر اس کے بنانے والے کے وجود اور صفات و صنعت وقدرت میں شک کرتا ہے ورنہ عقلمند کو تو مشاہدہ سے بڑھ کر اس بات کا یقین ہوگا۔ دیکھئے جب کوئی کسی پردہ کے پیچھے دیوار بنائے اور رفتہ رفتہ چن کر اس کو تیار کرے پس اس دیوار کی حالت دیکھنے والے کو اس شخص کے وجود کا ایسا ہی یقین ہوگا کہ جس طرح اس کو عیاناً دیکھنے سے ہوتا ہے اور اس کی صفات اور اس دیوار کے حدوث میں بھی کوئی شک باقی نہ رہے گا۔ اسی طرح جو شخص ہر چیز کو خدا ہی کے ید قدرت سے پرورش پاتے اور گھٹتے بڑھتے دیکھتا ہے وہ بھی اس کی ذات اور صفات پر اعلیٰ درجہ کا یقین رکھتا ہے۔ اگرچہ یہاں سے بھی اس کے صفات معلوم ہوتے تھے مگر الرحمن الرحیم مالک یوم الدین میں اور بھی کھول دیا اور مشاہدہ کر کے دکھا دیا۔ اب غور کیجئے کہ یہ برہان مفید ہے یا یہ کہنا کہ ابتداء میں خدا نے آسمان کو اور زمین کو پیدا کیا الخ جیسا کہ سب سے اول تورات میں کہا گیا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ کس لیے کہ اس کو تو وہی مانے گا جو خدا کا قائل اور الہام کا بالخصوص اس کلام کا مقر ہوگا ورنہ وہ کہہ سکتا ہے کہ جائز ہے کہ آسمان و زمین قدیم ہوں اور خدا موجود نہ ہو بخلاف اس عبارت قرآنیہ کے کہ اس نے منکر و ملحد کے تمام شکوک و شبہات کی جڑ اکھاڑ دی اور اس بات کو اس قوی برہان سے ثابت کردیا گویا مشاہدہ کرا دیا لہٰذا اس لیے بھی قرآن کا نازل ہونا ضروری تھا اور دیگر کتب اناجیل وغیرہ میں تو اتنا بھی نہیں جیسا کہ ہم ہر کتاب کا سرنامہ لکھ کر آپ کو ابھی دکھاتے ہیں۔ امر دوم کو بھی اسی جملہ الحمد للہ رب العالمین سے مشاہدہ کرا دیا کس لیے کہ جب عقل نے اپنی آنکھوں سے ہر وقت عالم کو ایک غیر شخص کا محتاج دیکھ لیا کہ جو غیب سے اس کو ہستی کا حصہ عطا کرتا ہے اور یہ ہر آن اس کی تربیت سے فیض اٹھاتا ہے تو اب اس کے حادث ہونے اور اس کی ابتداء اور انتہا میں کیا شک باقی رہ گیا۔ یہ بات بھی ایسی فطری الیقین ہے کہ جیسی پہلی بات۔ اس برہان تربیت پر جو شخص ذرا بھی غور کرے گا تو اپنی عقل کی دونوں آنکھوں سے جس طرح خدا تعالیٰ کو بجمیع صفات مشاہدہ کرے گا اسی طرح اس کے مربوب و مصنوع عالم کے احتیاج اور فنا پذیر ہونے کو دیکھ لے گا۔ ایک بڑا حکیم اور فلسفی جو فنِ الٰہیات میں بیشمار دلائل سے ان دونوں باتوں کو ثابت کر کے لطف اٹھاوے یا کوئی صاحب قوت روحانی اپنے مکاشفہ اور نور نبوت سے یہاں تک پہنچ جاوے تو اس کا علم اور یقین اس امر میں اس سے زیادہ نہ ہوگا کہ جو اس کلام اور اس برہان سے فیض پانے والے کو حاصل ہے۔ تورات کا جملہ مذکورہ تو اس امر میں اسی نقصان پر ہے جو پہلے امر میں تھا۔ اور کتابوں میں تو اتنا بھی نہیں یہ بھی نزول قرآن کے لیے ایک بڑی ضرورت ١ ؎ تھی۔ (امر سوم) کہ الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم، مالک یوم الدین سے ثابت کیا بلکہ دلوں میں جما دیا۔ کس لیے کہ محبت کی دو قسم ہیں : ایک ذاتی کہ بغیر کسی نفع کے اس کی ذات سے ایک جذب مقناطیسی کی سی کیفیت پیدا ہوجائے۔ دوسری صفاتی کہ کسی سے پہلے حقوق اور حال کی نعمتوں اور آیندہ کی امیدوں سے محبت کی جائے۔ پھر صفاتی کی تین قسمیں ہیں : ایک پہلے حقوق کے لحاظ سے۔ دوسرے حال کی بخششوں اور نعمتوں سے۔ تیسرے آیندہ کی بہتری اور ہر قسم کی بھلائی کی امید سے اور تمام دنیا کی محبتوں کو بھی جو آپ غور کریں گے تو وہ انہیں میں سے ایک محبت ہوگی۔ پس کسی دل میں محبت پیدا کرنے کی یہی صورت ہے کہ یا اس کو جلوہ ذات دکھایا جائے یا ان تینوں صورتوں میں سے ایک کو یاد دلایا جائے بلکہ صفحہ دل پر لکھ دیا جائے۔ اور جہاں کہ جلوہ ذات اور یہ تینوں حالات بھی سامنے کھڑے کردیے جائیں تو وہاں محبت کا کچھ ٹھکانا ہی نہیں۔ اس کے مقابلہ میں زبانی محبت کرنے کا ١ ؎ ضرورت قرآن حکم دینا وہ نسبت رکھتا ہے کہ جو کسی پیاسے کو برف کے شربت پلانے سے زبانی پانی پیو پانی پیو کہنا نسبت رکھتا ہے۔ پس اس اہم امر کو خدا تعالیٰ نے ان تینوں جملوں سے دلوں پر نقش کردیا اور ہر قسم کی محبت سے دل کو بھر دیا۔ الحمد للہ میں تو اپنی ذات مجمع الصفات کا جلوہ دکھا کر ذاتی محبت کا پیالہ پلا دیا اور رب العالمین میں حقوق سابقہ و لاحقہ تربیت و حاجت روائی کو یاد دلا کر شیدا بنا دیا اور الرحمن الرحیم سے اپنی ہمہ وقت رحمت و عنایت کا امیدوار بنا کے مفتون کردیا اور مالک یوم الدین سے تو آخرت کی نعمائِ باقیہ اور عنایات غیرمتناہیہ کا نقشہ دل پر جما کر اپنا دیوانہ کردیا اور مجنوں بنا دیا اور اسی لیے ایک جگہ قرآن مجید میں اس کلام پر ایمان لانے والے کی نسبت یہ فرماتا ہے والَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًا لِّـــلّٰہِ کہ ” اہل ایمان اللہ سے سب چیزوں سے زیادہ محبت رکھتے ہیں “ اور بھی کئی جگہ اسی طرح پر ارشاد ہے۔ اس وقت جو لوگوں نے الہامی کتابیں فرض کر رکھی ہیں ان میں اس اہم مسئلہ کا پتا بھی نہیں۔ چناچہ ان کے سرناموں سے آپ کو معلوم ہوگا اور جو کہیں بیچ میں ذکر بھی ہے تو صرف محبت کرنا فرمایا ہے۔ نہ محبت کا طریق بتلایا ہے نہ اس کو دلوں میں جمایا ہے۔ اسی لیے جس قدر اس امت محمدیہ میں محبان خدا گزرے ہیں اور اب بھی ہیں اور آیندہ بھی ہوں گے کسی اور مذہب میں سواں حصہ بھی نہیں۔ کیونکہ محبت کا نتیجہ اول تو پوری پوری اطاعت ہے جیسا کہ فرمایا ہے قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبْعُوْنِیْ ” کہو کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میرا کہا مانو “ کیونکہ اطاعت رسول عین اطاعتِ الٰہی ہے سو یہ فرمانبرداری اور جان نثاری جس قدر اس امت میں اپنے رسول کے لیے پائی جاتی ہے۔ اس کا بیسواں حصہ بھی کسی میں نہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کی سرکشی تو ضرب المثل ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارہ حواری گو مطیع تھے مگر آنحضرت (علیہ السلام) کے صحابہ سے کیا نسبت جنہوں نے حضرت پر اپنی جان کو تہلکہ میں ڈال کر خدا کے دشمنوں سے بڑے استقلال سے مقابلہ کیا۔ مگر مسیح (علیہ السلام) کے ایک حواری نے تو چند روپے لے کر ان کو دشمنوں کے پنجہ میں پھنسا دیا اور حضرت شمعون پطرس اور دیگر حواری کافور ہوگئے (جس پر عیسیٰ (علیہ السلام) نے سب کو بےایمانی اور سخت دلی کا لقب عطا کیا) (انجیل مرقس باب ١٦) اور اخیر مرتبہ محبت کا یہ ہے کہ اس کے شوق میں اپنی جان اور جسم کو اس پر فدا کر کے اس کے وصال کا طالب ہو ؎ خرم آں روز کزیں منزل ویراں بروم راحت جاں طلبم وسوئے جاناں بروم در ہوائے رخِ تو ذرہ صفت رقص کناں تالب چشمہ خورشید درخشاں بروم اس مرتبہ کو زبان شریعت میں شہادت اور عرف طریقت میں فنا فی اللہ کہتے ہیں۔ اس محبت الٰہی نے اسلام میں یہاں تک ترقی کی کہ مرنے جینے ‘ کھانے پینے ہر کاروبار میں اسی کا واسطہ اور اسی کا ذکر مقدم سمجھا جاتا ہے ؎ کارِ ما عشق و بار ما عشق است حاصل روزگارِ ما عشق است اور شہداء اور اولیاء اللہ اس امت میں انبیائِ بنی اسرائیل کے ہم پلہ گزرے ہیں جن کے خرق عادات و کرامات کا ایک عالم مقر ہے۔ یہ فیض حواریوں میں رہ کر منقطع ہوگیا۔ اس امت میں قیامت تک رہے گا۔ دوسری صدی عیسوی سے لے کر اب تک عیسائی بھی کسی سچے عیسائی کا پتا نہیں بتلاتے کہ جس پر زہر اثر نہ کرے ‘ سانپوں کو اٹھا لے ‘ اس کا ہاتھ لگتے ہی بیمار تندرست ہوجائیں (انجیل مرقس) یہ بھی نزول قرآن کے لیے ایک بڑی ضرورت تھی۔ واضح ہو کہ جب انسان کے دل پر یہ تینوں باتیں جلوہ گر ہوجاتی ہیں تو پھر اس کی آنکھوں میں کسی کی ہستی مستقل نہیں معلوم ہوتی چہ جائیکہ اس سے طلب حاجات اور ادائے عبادات بلکہ وہ ہر کام میں خدا ہی سے استعانت چاہتا اور اسی کی عبادت کرتا ہے اس لیے ان تینوں آیتوں کے بعد اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ بندے کے منہ سے کہلوا دیا۔ (امر چہارم) کو اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھْمْ غَیْرْ الْمَغْضُوْبْ عَلَیْھْمْ وَلا الضَّآلِّــیْنَ میں واضح کردیا کیونکہ جب بندے کو ہر امر میں راہ راست پر چلنے کی ترغیب دی اور سیدھی راہ چلنے والوں کو جو کچھ نتیجہ ملا وہ بتلا دیا اور اس کے برخلاف افراط وتفریط کرنے والوں ‘ راہ راست کو چھوڑ دینے والوں کا ثمرہ غضب الٰہی اور گمراہی پہلوں کا حال بیان کر کے جتلا دیا تو گویا ہر کام کا نیک و بد نتیجہ دنیاوی و اخروی آنکھوں سے دکھا دیا۔ پس جس طرح ان تینوں مضامین کی شرح قرآن مجید میں جا بجا ہے اسی طرح اس امر چہارم کی شرح کے لیے بھی موسیٰ اور فرعون اور دیگر انبیاء اور ان کے اعداء کا حال بیان کر کے متنبہ کردیا اور پھر عالم آخرت کے نیک و بد نتائج مختلف طور سے بیان کر کے دل کو عالم آخرت کے شوق اور اپنے خوف سے بھر دیا۔ چونکہ تورات و اناجیل میں یہ بات نہیں بلکہ صرف امور خانہ داری پر ابتدا سے اخیر تک روزنامچہ نویسی کی ہے۔ اس لیے اس کی اصلاح کے لیے بھی قرآن کا نازل ہونا پُر ضرور تھا۔ (٣) ان تینوں آیات میں رحمت اور غضب کی جیسی رعایت منصب الہام کو ضرور تھی ویسی ہی رکھی۔ چناچہ اس امت مرحومہ کے لیے یہ مناسب تھا کہ آثار غضب کی نسبت اطوار رحمت کو زیادہ ظاہر کیا جاوے اس لیے رب العالمین اور الرحمن الرحیم دو جملے تو وہ بیان کئے کہ جن سے رحمت ٹپکتی ہے اور پھر خوف دلانے کو جیسا آٹے میں نمک مالک یوم الدین کو بھی ذکر فرما کر چوکنا کردیا تاکہ رحمت پر مغرور ہو کر جرأت نہ پیدا ہوجاوے۔ الغرض افراط وتفریط سے کامل اجتناب کیا نہ سراسر رحمت نہ بالکل غضب بلکہ مناسب مناسب۔ یہ کمال حکمت ہے۔ (٤) مبدہ و معاد کو بھی برابر یاد دلایا جس طرح الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم میں آفرینش اور پرورش دنیا کا ذکر تھا تو اسی طرح مالک یوم الدین میں آخرت کو یاد دلا دیا۔ (٥) ہر ایک موقع پر وہ مناسب لفظ بولا گیا کہ اگر اور لفظ بولا جاتا تو مطلب فوت ہوجاتا چناچہ الحمد للہ کی جگہ المدح والشکر میں یہ بات حاصل نہ ہوتی کس لیے کہ مدح غیر اختیاری کمالات پر ہوتی ہے اور یہاں خدا تعالیٰ کے کمالات کا اختیاری اور عدم اضطراری ہونا ثابت کرنا مقصود تھا کہ فلسفہ یونان کا یہ غلط خیال رد ہوجائے کہ یہ عالم اس سے بایجاب (بالاضطرار) سرزد ہوا ہے اور وہ بےاختیار ہر چیز کی پرورش کرتا ہے اور اسی طرح شکر کسی نعمت عطا کرنے پر ہوتا ہے نہ کمالات ذاتیہ پر بخلاف حمد کے کہ وہ سب پر ہوتی ہے۔ پس اس لیے لفظ حمد کو اختیار کیا اور اس کے ساتھ الف لام بھی ملا دیا تاکہ فائدہ استغراق کا دیوے اور ہر حمد اس کے لیے ثابت ہوجائے۔ کلام عرب میں الف لام اکثر اسم نکرہ پر آتا ہے اور یہ لام چار قسم پر ہے کس لیے کہ اگر اس سے کوئی شخص خاص مراد ہے جیسا کہ الرجل یعنی وہ آدمی تو اس کو لام عہد خارجی کہتے ہیں اور اگر ماہیت مراد ہے تو پھر یا حرف ماہیت بلالحاظ تحقیق افراد ہے تو اس کو لام جنس کہتے ہیں جیسا کہ الرجل خیر من المراءۃ میں لام جنس رجل (مرد) مراد ہے اور اگر وہ ماہیت افراد میں متحقق ہونے کے لحاظ سے ہے تو یا تو کل افراد مراد ہوں گے تو اس کو لام استغراق کہتے ہیں جیسا کہ الحمد میں کل افراد حمد مراد ہیں خواہ کوئی حمد کسی کی کرے سب انجام کار خدا ہی کی حمد ہے کیونکہ جس کی کوئی حمد کرے گا تو کسی کمال پر کرے گا سو وہ اسی کے ہاں سے آیا ہے۔ نوکروں کے جود و سخا کی تعریف درحقیقت آقا کے جود و سخا کی تعریف ہے کہ جس کے مال کو اس کی اجازت سے دیتے ہیں اور اگر کل افراد مراد نہیں بلکہ بعض غیر معین تو اس کو لام عہد ذہنی کہتے ہیں جیسا کہ کوئی شخص اپنے نوکر کو کہے اعط الرجل کہ کسی شخص کو یہ صدقہ دے آ یعنی جو ملے کسی کی خصوصیت نہیں۔ اسی تقسیم کے بیان کرنے میں علماء اصول اور بیان کے مختلف عنوان ہیں۔ تلویح اور مطول میں علامہ سعد الدین علیہ الرحمۃ نے اس کی خوب تحقیق کی ہے اور اسی طرح للہ کی جگہ للغفور یا کوئی اور نام آتا تو یہ مطلب حاصل نہ ہوتا کس لیے کہ دعویٰ یہ ہے کہ کل خوبیاں خدا کو ہیں سو اس کے لیے وہ اسم لانا چاہیے کہ جس میں کل خوبیاں مجتمع ہوں تاکہ اسی دعویٰ میں دلیل پیدا ہو کر ایک عجیب لطف حاصل ہو۔ سو اس کے لیے سوائے لفظ اللہ کے جو اس ذات واجب الوجود کے لیے مقرر کیا گیا ہے کہ جس میں تمام صفات کمالیہ ہوں اور کوئی اسم صلاحیت نہیں رکھتا۔ کیونکہ اور اسمائِ صفاتیہ ہیں ان میں خاص ایک صفت کا لحاظ ہے اور اسی طرح رب العالمین میں رب کی جگہ اگر صانع اور خالق کہتے تو مقصود حاصل نہ ہوتا کس لیے کہ مقصود یہ تھا کہ ہر دہریہ اور منکر کے روبرو ذات باری تعالیٰ کو ثابت کیا جائے۔ سو یہ بات لفظ رب میں حاصل ہے کہ جس سے ہر چیز کا ہر وقت حادث اور محتاج ہونا دیکھ کر جلد یقین ہوجائے کہ آخر اس سلسلہ ممکنات کا ہر وقت پرورش کرنے والا ضرور کوئی واجب الوجود جامع الصفات ہے ورنہ اگر یہ چیزیں خود بخود ہوتیں تو پھر ان کے وجود کی باگ کون روکنے والا ہے کہ جو ٹھہر ٹھہر کر ہر چیز عطا کرتا اور تدریجاً میدان ہستی میں آنے دیتا ہے۔ کیوں یکبارگی نہ ہوگئی بخلاف لفظ خالق و صانع کے کہ ان میں یہ بات حاصل نہیں اور اسی لیے خدا تعالیٰ کے ثبوت وجود کے لیے اس برہان تربیت سے کوئی دلیل بڑھ کر کیا برابر بھی نہیں اور اسی طرح اگر عالمین میں جمع کی جگہ لفظ مفرد عالم لاتے اور رب العالم کہتے تو وہ مدعا کہ جو ہم نے بیان کیا حاصل نہ ہوتا کیونکہ گو حکمائے یونان اور زردشتیوں اور کیومرثیوں اور قدمائے ہنود اور بہت سے لوگوں کا یہ عقیدہ غلط ہے (کہ ہر نوع کے لیے ایک رب ہے کہ جس کا بت بنا کر اب تک ہندوستان میں ہنود پوجتے ہیں اور جہلائِ عرب نے بھی ہر کام کا ایک حاجت روا بنا کر سینکڑوں بت کعبے میں اور دیگر مقامات میں رکھ چھوڑے تھے) مگر ان کے مقابلہ میں خدا کو رب العالم کہنا نفی شرک اور بت پرستی مٹانے کے لیے چنداں موثر نہ ہوتا اور جب رب العالمین کہا تو سب کو خدا کی بےنہایت قدرت و عظمت بتلا کر اور سب معبودوں پر فوقیت مشاہدہ کرا کر خواب غفلت سے جگا دیا کہ اے نادانو ذرا یہ تو جانو کہ اول تو جس کو تم جس چیز کے لیے رب قرار دیتے ہو وہ بھی ربّ حقیقی نہیں۔ نہ باپ بیٹے کے لیے نہ ماں اولاد کے لیے نہ بادشاہ رعیت کے لیے نہ ارواح و ملائکہ نہ ستارے نہ چاند و سورج نہ جو الا مکھی آگ کا مالک ہے نہ بھیرون کا کچھ پانی پر اختیار ہے۔ علیٰ ہذالقیاس اور اگر یہ بھی فرض کیا جاوے تو پھر سب کا رب کون ہے اور تمام عناصر و اجسام اور علویات و سفلیات آسمان و زمین کس کے قبضہ میں ہیں سو وہ حقیقی رب ہے عبادت اور استعانت اسی کا حصہ ہے۔ درحقیقت انسان جب تربیت کے مضمون کو خیال کرے اور جو جو چیزیں ایک ادنیٰ چیز کی تربیت میں درکار ہیں ان کو سوچے گا تو یقینا یہ کہہ اٹھے گا کہ ایک نوع کا رب رب نہیں۔ کس لیے کہ تربیت اور پرورش ایک نوع کی بغیر اس کے کہ اس کو جمیع انواع پر اختیار کلی ہو ممکن نہیں۔ ذرا انسان کی پرورش میں صرف روٹی ہی کو خیال کر لیجیے کہ اس کے لیے آفتاب کی حرارت اور ماہتاب کی برودت اور بارش اور ہوا اور زمین کی صلاحیت وغیرہ وغیرہ کتنی چیزیں درکار ہیں سو وہ کل ایک رب النوع کے بس کی نہیں۔ پس وہ رب النوع ایک روٹی حاصل کرنے پر تو قادر ہی نہیں اور جمیع امور میں تو کیا خاک تربیت و پرورش کرے گا۔ اب یہاں سے ہنود وغیرہ ان مذاہب کی حقیقت اور ان کے پیشوائوں کی عقل کی تیزی اور صفائی تو آپ کو بخوبی معلوم ہوگئی ہوگی کہ جنہوں نے عناصر اور کواکب پرستی کو طریق نجات ٹھہرا دیا اور دساتیر اور ویدوں اور پرانوں کو انہیں لغویات سے بھر دیا جو اللہ کو رب العالمین جانے گا وہ تو ان سب باتوں کو اور پھر ان سب طریقوں کے پابند ہو کر ریاضت کرنے اور ترک گوشت کرنے اور غیر قوموں کے پانی کھانے سے بچنے کو مدار نجات یا مکتی کا باعث جاننے والے کو تو کس درجے میں جہل مرکب میں گرفتار جان کر اس پر تاسف کرے گا۔ پادری صاحب دیکھئے قرآن کے ایک لفظ نے کس قدر جنمی اندھوں کو بینا اور مرض مہلک کے بیماروں کو تندرست کردیا اور کس قدر مردہ روحوں کو زندہ کردیا تمہارے تمام اناجیل و تورات اور قرآن کا یہ لفظ ذرا دونوں کو دو پلوں میں رکھ کر تولو اور پھر انصاف سے بولو۔ حضرت مسیح ( علیہ السلام) نے تو دو چار بیماروں اور دو ایک مردوں اور دو ایک اندھوں کو معجزہ دکھا کر تندرست اور زندہ کیا اور وہ تندرستی و زندگی بخشی تھی کہ جو جسم فانی سے متعلق تھی اور اخیر نبی سید المرسلین ( علیہ السلام) کے تو ایک لفظ نے حیات ابدی اور صحت روحانی بخش دی اب دیکھئے کون سا معجزہ بڑھ کر ہے ؟ ؎ کیا اک لفظ سے عالم کو زندہ یہ ایک ادنیٰ ہے فیضان محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لبوں میں آپ کے کیا ہی اثر ہے مسیحا بھی ہیں قربان محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اسی طرح الرحمن الرحیم کی جگہ اگر کوئی اور لفظ بولا جاتا تو وہ لطف کہ جو ہم نے ان دونوں لفظوں کی تفسیر میں بیان کیا ہے حاصل نہ ہوتا اور اسی طرح اگر رحیم کو پہلے اور رحمن کو پیچھے لاتے تو وہ بات فوت ہوجاتی اور اسی طرح مالک یوم الدین میں اگر لفظ مالک کی جگہ حاکم کہتے تو یہ بات حاصل نہ ہوتی کس لیے کہ کسی چیز کا مالک ہونا اس پر کلیۃً اختیارات کو ہاتھ میں لانا ہے بخلاف حاکم کے کہ اسے اپنے محکوم پر ایک اختیار خاص کے سوا اور کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ پس مالک خاص اور حاکم عام ہے اور خاص میں عام بھی آجاتا ہے اور اسی لیے جو مالک کو ملک پڑھتے ہیں ان کے قول کو مرجوع ٹھہرایا جاتا ہے اور اگر مالک کے بعد لفظ یوم نہ لاتے بلکہ ملک الدین کہتے تو یہ مقصود اعظم کہ جو قیامت کا ثابت کرنا ہے حاصل نہ ہوتا کس لیے کہ دین (دان یدین سے) جزا کو کہتے ہیں۔ عرب بولتے ہیں کما ١ ؎ تدین تدان کہ جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔ پس یہ جزا ہر وقت نہیں ہوتی بلکہ خواہ جزا دنیاوی ہو خواہ اخروی اس کا ایک وقت ہوتا ہے اور یوم سے مراد بھی یہاں مطلق وقت ہے اگر یہاں یوم ذکر نہ کرتے تو جزا کا موقت ہونا سمجھا نہ جاتا تو ہر وقت جزا نہ پانے سے خواہ مخواہ بہت سے کجرو لوگوں کے دلوں میں خدا کی عدالت میں شبہ آتا اور اپنے افعال نیک پر اسی وقت نیک نتیجہ مرتب نہ ہونے سے نیکی کرنے والا مایوس اور بد کام کا برا نتیجہ اسی وقت نہ پانے سے شیر اور دلیر ہوجاتا۔ پس جب یوم کہا تو دونوں کو آگاہ کردیا اور جزائِ کامل کے وقت (قیامت) کو مبہم کر کے دل کو خوف وامید سے بھر دیا اور یہ بات قانون نبوت کے لیے اصل الاصول ہے۔ (٦) یہ کہ اس کلام میں جو خدا نے اپنے بندے کو حمد کرنے سے تقرب کا راستہ ٢ ؎ بتایا تو اس کلام کے ساتھ حمد کرنی بھی بتلائی کہ جس سے ہر طرح کی تاریکی روحانی (خواہ اعتقاد سے متعلق ہو خواہ عمل سے) زائل ہوتی ہے اور پھر اس حمد کو تین اوصاف پر قائم کیا۔ اول یہ کہ حمد اس ذات کے لیے ہے کہ جو تمام جہان کا پرورش کرنے والا ہے۔ دوم یہ کہ وہ نہایت مہربان اور رحیم ہے۔ سوم یہ کہ وہ یوم جزاء کا مالک ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ جس میں یہ تین وصف نہ پائے جائیں وہ ہر قسم کی حمد کا مستحق نہیں اور جب حمد کا مستحق نہیں تو پھر عبادت اور استعانت کا تو کیا استحقاق ہے۔ پس اسی لیے اس کلام کے بعد وہ کلام ذکر کیا جو اس کا نتیجہ ہے۔
Top