Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 65
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ
قُلْ : فرما دیں اِنَّمَآ : اس کے سوا نہیں اَنَا : کہ میں مُنْذِرٌ ڰ : ڈرانے والا وَّمَا : اور نہیں مِنْ اِلٰهٍ : کوئی معبود اِلَّا اللّٰهُ : اللہ کے سوا الْوَاحِدُ : واحد (یکتا) الْقَهَّارُ : زبردست
کہہ دو کہ میں تو صرف ہدایت کرنے والا ہوں اور خدائے یکتا اور غالب کے سوا کوئی معبود نہیں
65۔ 68۔ اوپر دوزخ کے عذاب کا ذکر تھا۔ اس لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں اس عذاب سے ڈرانے آیا ہوں جو انسان کی برداشت سے باہر ہے اور اس عذاب سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تعظیم میں کسی دوسرے کو ہرگز شریک نہ کیا جاوے۔ کیونکہ وہ ایسا صاحب قدرت ہے کہ ساری مخلوقات اس کی قدرت کے آگے عاجز اور اس کی قدرت کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ آسمان و زمین اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب کا وہی مالک ہے۔ زبردست وہ ایسا ہے کہ پچھلی بڑی بڑی قوموں کو اس نے اس شرک کے جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔ اور کوئی اس کے عذاب کو ٹال نہ سکا۔ گناہوں کے بخشنے والا وہ ایسا ہے کہ سوا شرک کے اور جس گناہ کا گناہ گار بغیر توبہ کے مرجاوے گا تو اس نے اس کے گناہوں کے بخش دینے کا وعدہ فرمایا۔ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے جتنے قصے گزر چکے وہ اللہ کے زبردست ہونے کی تفسیر ہیں۔ اسی طرح متعبر سند سے ترمذی 1 ؎ میں انس ؓ بن مالک سے حدیث قدسی کی روایت ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس شخص کے نامہ اعمال میں شرک نہ ہوگا۔ اس کے گناہ اگر اتنے بھی ہوں جس سے زمین بھر جاوے تو اللہ تعالیٰ کو ان کے بخش دینے میں کچھ دریغ نہ ہوگا۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے صاحب بخشش ہونے کی گویا تفسیر ہے۔ اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے۔ کہ جس قرآن شریف کے تم دنیا میں منکر ہو اس قرآن شریف کی قدر تم کو اس وقت معلوم ہوگی جب کہ قیامت کے دن قرآن شریف کی نصیحت پر چلنے والوں کو بڑے بڑے رتبے دیئے جاویں گے۔ اور قرآن شریف کے منکروں کو طرح طرح کے عذاب بھگتنا پڑے گا۔ سورة الفرقان میں گزر چکا ہے کہ قیامت کے دن قرآن شریف اور رسول کے جھٹلانے والے اپنے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھاویں گے اور کہیں گے کہ افسوس ہم نے دنیا میں اللہ کے رسول کی نصیحت پر کیوں نہیں عمل کیا۔ سورة الفرقان کی وہ آیتیں آخری آیت کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اب تو یہ مشرک لوگ قرآن شریف کو جھٹلاتے ہیں مگر قیامت کے دن اس جھٹلانے پر بہت پچھتاویں گے اور بےوقت کا پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آوے گا۔ (1 ؎ جامع ترمذی کتاب الدعوات۔ باب الاستغفار والتوبۃ ص 216 ج 2)
Top