Tafseer-e-Haqqani - Saad : 65
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ
قُلْ : فرما دیں اِنَّمَآ : اس کے سوا نہیں اَنَا : کہ میں مُنْذِرٌ ڰ : ڈرانے والا وَّمَا : اور نہیں مِنْ اِلٰهٍ : کوئی معبود اِلَّا اللّٰهُ : اللہ کے سوا الْوَاحِدُ : واحد (یکتا) الْقَهَّارُ : زبردست
اے نبی ! کہہ دو میں جو ہوں تو ایک ڈر سنانے والا ہوں (اور اعلان کرنے والا) کہ خدا واحد قہار کے سوا کوئی معبود نہیں
ترکیب : انما قرء الجمہور بفتح ھمزۃ انما علی انھا و مافی حیزھافی محل رفع لقیا مھا مقام الفاعل ای مایوحی الی الا انذار او الا کونی نذیر امبینا و قرء ابو جعفر بکسر الھمزۃ لان فی الوحی معنی القول۔ 12 منہ تفسیر : اب یہاں سے پھر اصل مطالب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کلام کا دوسرا اسلوب بدل کر اول سورة میں تین باتوں کا اثبات شروع کیا تھا اور انہی کی تائید میں انبیاء کے مختصراً تذکرے آگئے تھے، اس کے بعد دار آخرت کی کچھ کیفیت بیان کردی تھی کہ نیکوں کے لیے وہاں یہ ہے اور بدوں کے لیے یہ تاکہ نفوس بشریہ میں اثر پیدا ہو اور وہ تین باتیں یہ ہیں۔ توحید ‘ رسالت، حشر۔ اس لیے فرماتا ہے۔ قل انما انا منذر ان سے کہہ دو کہ میں تو صرف خبردار کردینے والا ہوں، آگے تم کو اختیار ہے جیسا کرو گے ویسا بدلہ پاؤ گے، اس میں اثبات نبوت ہے اور اسی کے ضمن میں حشر کا بھی ثبوت ہے کہ جس دن کے لیے میں تمہیں خبردار کررہا ہوں وہ دن سر پر آنے والا ہے، رہی توحید اس کے لیے فرماتا ہے۔ ومامن الہ الا اللہ الواحد القہار کہ اس ایک اللہ کے سوا جو اکیلا اور زبردست ہے اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔ ہر ایک اس کے حکم وقدرت کے آگے سرنگوں ہے، پھر جب یہ ہے تو اور کوئی خدا بھی نہیں اور یہی دلیل ہے اس کے واحد ہونے پر اور نہ صرف وہ واحد قہار ہے بلکہ رب السمٰوٰت والارض و مابینہما جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور خود آسمانوں اور زمین کا بھی وہی رب یعنی پرورش کرنے والا ہے۔ موجودات میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اس کی ہر وقت دست نگر نہ ہو۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اور کوئی خالق نہیں نہ کوئی مربی و حاجت روا ہے کہ خدا تعالیٰ زبردستی سے اس کے ملک پر قبضہ کر بیٹھا ہو بلکہ وہی مالک و خالق اور پرورش کرنے والا بھی ہے، اس کی شان قہر و جبروت ہے۔ اسی کی صفت ربوبیت ہے کہ سامع کو ہیبت کے بعد اس کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے۔ برخلاف ادیان باطلہ کے کہ انہوں نے ان صفات کا ایک ذات میں مجتمع ہونا محال خیال کرکے تین شخص جدا جدا بنائے، برہما پیدا کرنے والا ‘ بشن پرورش کرنے والا ‘ مہیش مہادیو، قہار۔ یہ عام ہنود کا خیال ہے۔ خاص خاص فریق کا نہ ہو نہ سہی۔ عیسائیوں نے بھی تین اقنوم گھڑ کر ایک خدا بنایا ہے، اب ابن روح القدس بلکہ وہی عزیز اور غفار ہے۔ ستر برس بھی کوئی نافرمانی کرکے رجوع کرتا ہے تو وہ بخش دیتا ہے۔ اس کے بعد پھر دوسری طرح سے کلام شروع کرتا ہے۔ قل ھو نباء عظیم انتم عنہ معرضون ان سے کہہ دو کہ یہ کوئی ہلکی اور ذرا سی بات نہیں ہے بلکہ بڑی بھاری بات غور طلب ہے، یعنی نبوت و توحید و حشر کی خبر اور تم اس سے انکار کرتے ہو، کچھ بھی فکر و تامل نہیں کرتے۔ تقلیدِ آبائی میں لکیر کے فقیر بنے ہوئے انکار اور تکرار کرتے ہو۔ ماکان لی من علم الخ اب بتلاتا ہے کہ یہ بڑی خبر میں نے تم کو آپ سے بناکر نہیں دی ہے بلکہ مجھے وحی نے خبر دینے پر مجبور کیا ہے، کس لیے کہ جب ملائِ اعلی یعنی عالم بالا کے ملائکہ میں جو کچھ انسان کے بعد ہونے کی بابت اور اس کے اسباب سعادت و شقاوت کی بابت خصوصاً دنیا میں نبی آخر الزمان بھیجنے کی بابت جو کچھ گفتگو ہوئی تھی یا آیندہ امور پر ہونی ہے، اس کی مجھے کیا خبر ہے، البتہ مجھے وہاں سے وحی ہوتی ہے کہ میں لوگوں کو کہہ دوں کہ میں خبردار کرنے والا نبی ہوں۔
Top