Anwar-ul-Bayan - Saad : 65
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ
قُلْ : فرما دیں اِنَّمَآ : اس کے سوا نہیں اَنَا : کہ میں مُنْذِرٌ ڰ : ڈرانے والا وَّمَا : اور نہیں مِنْ اِلٰهٍ : کوئی معبود اِلَّا اللّٰهُ : اللہ کے سوا الْوَاحِدُ : واحد (یکتا) الْقَهَّارُ : زبردست
آپ فرما دیجیے کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد ہے قہار ہے
صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، وہ واحد قہار ہے، مالک ارض و سماء ہے، عزیز و غفار ہے ان آیات میں توحید اور رسالت کا اثبات فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں۔ آپ کو خطاب فرمایا کہ اپنے مخاطبین سے فرما دیں کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں زبردستی کسی سے ایمان قبول کرانے والا نہیں، پھر توحید کی دعوت دی کہ معبود صرف ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو اپنی ذات وصفات میں تنہا بھی ہے اور قہار بھی ہے یعنی وہ سب پر غالب ہے تکوینی طور پر اس کی قضاء اور قدر کے مطابق سب کچھ وجود اور ظہور میں آتا ہے وہ آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا بھی، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے پروردگار عالم جل مجدہٗ کو چھوڑ کر تم جو کسی دوسرے کی عبادت کر رہے ہو یہ حماقت اور ضلالت ہے، پھر یہ بھی سمجھ لو کہ وہ عزیز بھی ہے یعنی غلبہ والا ہے اسے تمہاری گرفت فرمانے اور عذاب دینے پر پوری پوری قدرت ہے، وہ غالب ہے اور سب مغلوب ہیں لیکن اگر تم کفر و شرک سے توبہ کرلو گے تو وہ بخشش دے گا کیونکہ وہ غفار یعنی بہت بڑا بخشنے والا بھی ہے۔ اس کے بعد آپ کی نبوت کی ایک دلیل بیان فرمائی کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں یہ جو کچھ میں نے اپنی رسالت کی خبر دی ہے اور تمہیں یہ بتایا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں یہ بہت بڑی خبر ہے تمہیں اس کی طرف متوجہ ہونا لازم تھا لیکن تم اس سے اعراض کر رہے ہو تم یہ تو دیکھو کہ میں جو ملا اعلیٰ کی خبریں دیتا ہوں یہ خبریں میرے پاس کہاں سے آگئیں نہ میں نے پرانی کتابیں پڑھی ہیں نہ اہل کتاب سے میرا میل جول رہا ہے یہ باتیں جو میں بتاتا ہوں جن کی اہل کتاب تصدیق کرتے ہیں اور تمہارے سامنے بھی میری بتائی خبروں کا صحیح طور پر ظہور ہوتا رہتا ہے یہ علم مجھے کہاں سے ملا ؟ ظاہر ہے کہ یہ سب مجھے وحی کے ذریعہ سے ملا ہے، اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا پھر فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا اور ابلیس سجدہ کرنے سے منکر ہوا ان باتوں کی جو میں نے خبر دی ہے مجھے ان کا کچھ علم نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے فرشتوں سے یوں فرمانا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں پھر ان کا اس پر سوال اٹھانا پھر آدم (علیہ السلام) کے مقابلہ میں چیزوں کے نام بتانے سے عاجز ہو کر (سُبْحٰنَکَ لاَ عِلْمَ لَنَآ اِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا) کہنا (کما مرّ فی سورة البقرۃ وھذا داخل فی الاختصام لأن قولہ تعالیٰ اذ قال ربک للملئکۃ بدل من قولہ تعالیٰ اذ یختصمون کما ذکرہ صاحب الروح) یہ سب تفصیل مجھے صرف وحی سے معلوم ہوئی ہے اس سے پہلے ان چیزوں کو بالکل نہیں جانتا تھا تم اپنے ہوش کی دوا کرو اور بات کو سمجھو اور میری نبوت کے انکار سے باز آؤ میں دوبارہ واضح طور پر تمہیں بتاتا ہوں کہ میری طرف دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں یہی وحی آئی ہے کہ میں واضح طور پر ڈرانے والا ہی ہوں میری بات نہ مانو گے تو اپنا برا کرو گے میں تم سے زبردستی قبول نہیں کراسکتا۔
Top