تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 38. Saad · Ayah 65
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ﴿65﴾
- قُلْفرما دیں
- اِنَّمَآاس کے سوا نہیں
- اَنَاکہ میں
- مُنْذِرٌ ڰڈرانے والا
- وَّمَااور نہیں
- مِنْ اِلٰهٍکوئی معبود
- اِلَّا اللّٰهُاللہ کے سوا
- الْوَاحِدُواحد (یکتا)
- الْقَهَّارُزبردست
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہہ دو کہ میں تو بس ایک آگاہ کردینے والا ہوں اور اللہ واحد وقہار کے سوا کوئی معبود نہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-8 آگے کا مضمون آیات 88-65
آگے ختامہ سورة کی آیات ہیں۔ پہلے نبی ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا ہے کہ میں ایک منذر ہوں اور ایک ہولناک دن سے لوگوں کو آگاہ کر رہا ہوں جب وہ دن آجائے گا تو اللہ واحد کے سوا کوئی دوسرا کام آنے والا نہیں بنے گا۔ میرا کام انذار ہے وہ میں نے کردیا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں ایمان اتار دینا میری ذمہ داری نہیں ہے۔ جو لوگ غرور اور استکبار کے سبب سے مجھ سے جھگڑ رہیع ہیں وہ یاد رکھیں کہ یہ روش انبیاء اور صالحین کی روش نہیں ہے بلکہ ابلیس اور اس کے پیروئوں کی روش ہے اور وہ اسی انجام سے دوش رہوں گے جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے روز اول سے کر رکھا ہے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-9 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
قل انما اما منذر وما من الہ الا اللہ الواحد القھار (65)
منکروں کو انذار
یعنی تم ان کو آگاہ کردو کہ میں تو آنے والے وقت سے تم کو ایک ہوشیار کرنے والا ہوں۔ اس سے زیادہ میری کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر تم اپنی ضد پر اڑے رہ گئے تو اس کا انجام خود دیکھو گے اگر تم دوسرے دیویوں دیوتائوں کی شفاعت کے بل پر اس دن سے بےپروا ہو تو کان کھول کر سن لو کہ ایک خدا نے قہار کے سوا اور کوئی خدا نہیں ہے۔ لفظ قھار کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ اس کے معنی ہیں سب کو اپنے کنٹرول میں رکھنے والا یعنی اس نے اپنی پوری خدائی اپنے کنٹرول میں رکھی ہے وہ کوئی بےبسی نہیں ہے کہ اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے تمہارے دیوتائوں کا محتاج ہو۔