Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Maarif-ul-Quran - Saad : 65
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ
قُلْ
: فرما دیں
اِنَّمَآ
: اس کے سوا نہیں
اَنَا
: کہ میں
مُنْذِرٌ ڰ
: ڈرانے والا
وَّمَا
: اور نہیں
مِنْ اِلٰهٍ
: کوئی معبود
اِلَّا اللّٰهُ
: اللہ کے سوا
الْوَاحِدُ
: واحد (یکتا)
الْقَهَّارُ
: زبردست
کہہ دو کہ میں تو صرف ہدایت کرنے والا ہوں اور خدائے یکتا اور غالب کے سوا کوئی معبود نہیں
اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔ ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ کام نہیں ہے کہ زبردستی کسی پر ہدایت مسلط کردیں جب کہ خود وہ قبول ہدایت سے انکار کرتا ہو تو ارشاد فرمایا آپ کہدیجئے اے منکرین توحید و رسالت تمہارے اس انکار وتکذیب کا مجھے ذرہ برابر کوئی نقصان نہیں اس کا اصل نقصان تو تم ہی کو پہنچے گا میں تو عذاب خداوندی سے تم کو ڈرانے والا ہوں جیسے اللہ کے دوسرے پیغمبر بھی اس کے عذاب سے لوگوں کو ڈراتے رہے اور یہ سن لو نہیں ہے کوئی معبود عبادت کے لائق بجز اللہ واحد (یکتا) کے جو بڑا ہی غالب ہے جو رب ہے آسمانوں اور زمینوں کا اور ان تمام چیزوں کا جو انکے درمیان میں ہیں جو زبردست اور گناہوں کو بڑا ہی بخشنے والا ہے آپ کہہ دیجئے یہ اعلان توحید اور اس کی طرف مخلوق خدا کو دعوت دینا جس کے واسطے اللہ نے مجھ کو رسول بنایا بڑی ہی عظیم الشان خبر اور بلند پایہ مضمون ہے چاہیئے تو یہ تھا کہ اس کی طرف تو جہ کرتے اور اس کو قبول کرتے مگر افسوس تم تو اس سے بےرخی کررہے ہو نہ تم رسالت پر ایمان لائے اور نہ قرآن کو مانا حالانکہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مجھے تو کوئی علم نہ تھا ملاء اعلی (عالم بالاکا) جبکہ وہ اللہ کے فرشتے آپس میں تکرار وخصومت کررہے تھے تخلیق آدم اور ابلیس کا سجدہ سے انکار کے بارے میں اور اس بارے میں کہ کس بنا پر آدم (علیہ السلام) کو خلافت الہیہ فی الارض کے منصب سے نوازا جارہا ہے یہ سب کچھ میں نے نہ کسی کتاب میں پڑھا اور نہ کسی معلم سے سیکھا یہ تو صرف اللہ کی طرف سے وحی ہے جس کی وحی میری طرف کی جاتی ہے میں تو صرف اللہ کی طرف سے تم کو آخرت اور عذاب آخرت سے صاف صاف ڈرانے والا ہوں وہ اختصام و گفتگو ملاء اعلی کی یہ تھی کہ جبکہ آپ ﷺ کے رب نے فرشتوں سے کہا بیشک میں بنانے والا ہوں ایک انسان کو گارے سے سو جب میں اس کے پتلے یعنی اعضاء جسمانیہ کو پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی طرف سے روح کو پھونک دوں تو تم سب اسکے سامنے سجدہ میں گر پڑنا چناچہ جب اللہ نے اس کو بنالیا اور اس میں روح پھونک دی تو سب کے سب فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ سے انکار کیا کہ وہ غرہ میں آگیا اور کافروں میں سے ہوگیا حق تعالیٰ نے ابلیس کو اس غرور و انکار پر فرمایا اے ابلیس تجھے کس بات نے روکا سجدہ کرنے سے اس کو جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں ،۔ 1 حاشیہ نمبر 1 (” من روحی “ میں نسبت حق تعالیٰ نے اپنی طرف اس لئے فرمائی کہ روح آب وخاک سے نہیں بلکہ عالم غیب سے آئی یہ مضمون سورة بنی اسرائیل میں گذر چکا وہاں اضافت کی حکمت پر کلام کیا گیا ہے تفصیل کیلئے استاد محترم حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) کے مضمون ” الروح فی القرآن “ کی طرف رجوع فرمایا جائے۔ یہ قصہ سورة اعراف و دیگر متعدد سورتوں میں گذر چکا ہے (آیت ) ” لما خلقت بیدی “۔ یعنی جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا ان الفاظ کے ترجمہ میں تو ضیحی کلمات اور قدرت خاصہ ان متکلمین کے مسلک کے پیش نظر اضافہ کئے جو اس طرح کی صفات اور شؤن خداوندی کی تاویل قدرت امر اور مشیت جیسے الفاظ سے کرلیتے ہیں حضرت شاہ صاحب (رح) کہتے ہیں یعنی بدن کو ظاہر کے ہاتھ سے۔ اور روح کو غیب (باطن) کے ہاتھ سے اللہ غیب کی چیزیں ایک طرح کی قدرت سے اور ظاہر کی چیزیں دوسری طرح کی قدرت سے بناتا ہے اس انسان میں دونوں طرح کی قدرت خرچ کی “۔ اس وجہ سے بیدی تثنیہ کا لفظ استعمال فرمایا حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں تحریر فرماتے ہیں ہمارے نزدیک اللہ ک نعوت وصفات میں سلف کا مسلک ہی اقوی واحوط ہے یا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض مخلوقات کو کسی کسی دوسری مخلوق سے پیدا کرتا ہے مثلا بارش کو بادلوں سے اور دھوئیں کو آگ سے اور بعض کو بغیر کسی دوسری مخلوق کے پیدا کرتا ہے تو حضرت آدم (علیہ السلام) اسی دوسری مخلوق میں سے ہیں کہ ان کو کسی کے توسط اور دخل سے نہیں پیدا کیا گیا۔ ) اور قدرت خاصہ سے بنایا کیا تو غرور میں آگیا یا بتا کہ کیا تو بڑے درجے والوں میں سے تھا حالانکہ یہ باطل ہے کیونکہ جب فرشتوں کو سجدہ کا حکم ہوا تو وہ سربسجود ہوگئے اور یقیناً تجھ سے افضل اور بڑھ کر ہیں تو یہ مجال تیری کیونکر ہوئی کہ میرے حکم کی تعمیل سے تو نے روگردانی کی کہا میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس (آدم) کو خاک سے پیدا کیا ہے اور جب کہ میں اس سے بہتر ہوں تو مجھے سجدہ کا حکم دینا حکمت کے خلاف ہے ارشاد ہوا تو اچھا تو پھر آسمان سے نکل کیونکہ بیشک تو اس حرکت سے کہ حکم خداوندی کا مقابلہ کیا اور اس پر طعن واعتراض کیا کہ یہ حکم خلاف عقل و حکمت ہے مردود ہوا اور بیشک تجھ پر میری لعنت رہے گی قیامت کے دن تک اور ظاہر ہے کہ جس پر قیامت کے روز تک لعنت رہی تو بعد میں تو اس پر رحمت کا کوئی امکان نہیں ہوسکتا کیونکہ لعنت اور غضب خداوندی کسی سے اگر منقطع ہوسکتا ہے تو وہ دارالعمل میں رہتے میں رہتے ہوئے تائب ہوجانے کی وجہ سے ہوسکتا ہے اور جب قیامت قائم ہوگئی تو توبہ کا دروازہ بند ہوچکا بولا اگر مجھ کو آدم (علیہ السلام) کی وجہ سے ملعون ومردود کیا گیا تو پھر مجھ کر مہلت دیدیجئے قیامت کی دن تک تاکہ میں ان کی اولاد سے خوب بدلہ لوں ادھر قدرت خداوندی کو دار دنیا میں ہدایت وگمراہی کا مقابلہ رکھنا تھا تاکہ ابتلاء وآزمائش ہوسکے اس وجہ سے ارشاد ہوا اچھا جب مجھے تو مہلت مانگتا ہے تو جا تجھ کو مہلت دیدی گئی ایک وقت معلوم ومعین تک کہنے لگا جب مجھے مہلت مل گئی تو قسم ہے تیری عزت کی کہ میں البتہ ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا بجز آپ کے ان بندوں کے جو ان میں منتخب کئے گئے ہیں فرمایا تو ٹھیک بات ہے اور میں سچ ہی کہا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیرے ساتھ دیں گے یقیناً ان سب سے دوزخ کو بھردوں گا ان تمام حقائق کو سن کر چاہئے کہ لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائیں اور ان کی صداقت وحقانیت پر یقین کریں اگر اس کے باوجود بھی کوئی بدباطن کسی قسم کا شک وتردد کرے یا کوئی معاند آپ ﷺ کے حق میں کسی طمع و لالچ کا تصور کرے تو آپ ﷺ اتمام حجت اور بطور قطع عذر کہہ دیجئے میں تم سے اس قرآن اور اللہ کے احکام کی تبلیغ پر نہ کچھ معاوضہ چاہتا ہوں اور نہ میں تصنع و بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن تو اللہ کا کلام ہے اور ایک عظیم پیغام نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لیے اسی مقصد کے لیے اللہ نے مجھ کو نبی بنایا اور اس میں سراسر تمہارا ہی نفع ہے اور اگر اس حق اور حقیقت کے واضح ہوجائے گا کہ اللہ کا دین حق ہے اسی دین کی پیروی کرنے والوں کو فتح و کامرانی نصیب ہوگی اور اگر ان تاریخی حقائق سے بھی کسی کو حقیقت نہ کھلی تو موت بھی کچھ دور نہیں اور نہ ہی قیامت کچھ بعید ہے اور ہر شخص کی موت تو خود ایک قیامت ہی ہے تو اس وقت معلوم ہوجائے گا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ کہا تھا وہ حق تھا اور ان پر ایمان نہ لانا منکرین کی ہلاکت وتباہی کا باعث بنا مگر ظاہر ہے کہ مرنے کے بعد یا قیامت برپا ہونے پر اگر کسی نے حق پہنچانا تو اس وقت کی معرفت یا ایمان سے تو کچھ فائدہ نہ ہوگا قتادہ (رح) نے (آیت ) ” بعد حین “۔ کی تفسیر میں موت کو بیان کیا ہے اور عکرمہ (رح) کہا کرتے تھے اس سے قیامت مراد ہے قتادہ (رح) نے حسن بصری (رح) کا قول نقل کیا ”۔ یا ابن آدم عند الموت یاتیک الخبر الیقین “۔ کہ ابن آدم موت کے وقت تجھ کو یقین حاصل ہوگا (تفسیر ابن کثیر 4) اور سدی (رح) سے منقول ہے کہ یہ بدر کا دن ہے کہ بدر کی فتح پر منکرین کو یقین کرنا پڑے گا کہ جو کچھ غلبہ حق کی خبر خدا کے پیغمبر نے دی تھی وہ برحق ہے (آیت ) ” ما کان لی من علم بالملا الاعلی “۔ کے ترجمہ میں اضافہ کردہ الفاظ جبکہ اللہ کے فرشتے آپس میں تکرار وخصوصمت کررہے تھے تخلیق آدم (علیہ السلام) اور ابلیس کا سجدہ سے انکار کرنے کے بارے میں “ سے ان أیمہ مفسرین کے قول کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے یہ بیان کیا کہ اس ” اختصام “ سے حضرت آدم (علیہ السلام) کا یہ قصہ مراد ہے جس میں حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کا حکم دیا گیا اور ابلیس نے انکار کیا اور بعض علماء مفسرین نے بیان کیا کہ خلافت آدم (علیہ السلام) کے متعلق مخاصمت نہیں ہے بلکہ اعمال بنی آدم یعنی کفارات میں ملائکہ کی خصومت مراد ہے جس کی تفصیل حدیث اختصام الملاء الاعلی میں مذکور ہے جس کو امام ترمذی (رح) نے اپنی جامع میں تخریج کیا ہے عبدالرحمن بن عائش باسناد مالک بن یخامر حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز صبح کی نماز کے وقت نبی کریم ﷺ دیر تک تشریف نہ لائے حتی کہ سورج نکلنے کے قریب ہوگیا اس وقت آپ ﷺ بڑی عجلت کے ساتھ تشریف لائے نماز کی اقامت ہوئی اور آپ ﷺ نے نماز مختصر پڑھائی سلام پھیرنے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! تم اپنی اپنی جگہ اسی طرح بیٹھے رہو پھر فرمایا ہماری طرف رخ کرتے ہوئے آج رات جب میں تہجد کے لیے بیدار ہوا اور جس قدر مقدر تھا نماز پڑھی تو دوران نماز مجھ پر اونگھ (غلبہ نوم) طاری ہوئی تو میں نے اپنے پروردگار کا بڑی ہی بہترین صورت میں دیدار کیا اس وقت جبکہ مجھے اللہ کی تجلی نصیب ہوئی تو مجھ سے رب العزت نے سوال کیا اے محمد ﷺ جانتے بھی ہو ملأ اعلی کس بات میں خصومت کررہے ہیں میں نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے نہیں معلوم آپ ہی خوب جانتے ہیں تو حق تعالیٰ نے اپنا دست بےمثال میرے شانوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک اور سکون مجھے اپنے سینہ میں محسوس ہونے لگی جس سے میرے واسطے ہر چیز ظاہر ہوگئی (جو حق تعالیٰ مجھ سے سوال فرما رہے تھے) اور یہ ایسا ہی تھا جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تعلیم اشیاء فرما کر فرشتوں سے دریافت کیا گیا تو جواب ملا (آیت ) ” سبحانک لاعلم لنا الا ما علمتنا “۔ لیکن جب (آیت ) ” وعلم ادم الاسمآء کلھا “۔ کی صورت ہوئی تو پھر فرمایا گیا (آیت ) ” یادم انبءھم باسمآءھم “۔ اسی طرح ان علوم ومضامین کا القاء اس طرح اس تاثیر غیبی اور باطنی سے فرمادیا گیا تو پھر آپ ﷺ نے سب باتوں کا جواب دیا اور کہا جی ہاں ! اے پروردگار کفارات میں یعنی ان اعمال میں فرشتوں کی خصومت ہورہی ہے کہ ان کا اجر وثواب کیا ہے یا یہ کہ ان اعمال کو فرشتوں کی کون سی جماعت پہلے بارگاہ رب العزت میں لے کر پہنچتی ہے اور وہ کفارات یہ ہیں باوجود متقتوں کے وضومکمل آداب کی رعایت کے ساتھ کرنا زیادہ سے زیادہ قدم چلنا مسجدوں کی جانب اور نماز کا انتظار کرنا نماز کے بعد، پھر ارشاد ہوا پھر کن اعمال میں خصومت ہے جواب دیا درجات میں سوال ہوا درجات کیا ہیں بتایا اطعام طعام افشاء سلام اور تہجد کی نماز ان اوقات میں جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں ارشاد ہوا سوال کرو فرماتے ہیں میں نے مانگا اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں خیر کے کاموں کا اور برائیوں کے چھوڑنے کا اور مساکین کی محبت کا اور یہ کہ میری مغفرت فرما اور جب تو کسی قوم کو فتنے میں ڈالنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس سے پہلے اٹھالے۔ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری محبت کا اور اس شخص کی محبت کا جو تجھ سے محبت رکھتا ہو اور اس عمل کی محبت جو تمیری محبت کے قریب کردے آپ ﷺ نے یہ کلمات ارشاد فرمائے ہوئے فرمایا یہ کلمات حق ہیں ان کو یاد کرلو اور سیکھ لو اور ایک روایت میں ہے کہ دوسروں کو بھی سکھاؤ یہ مضمون امام احمد (رح) نے اپنی مسند میں ذکر فرمایا اس حدیث کی سند میں اگرچہ بعض محدثین نے کچھ کلام کیا ہے مگر امام ترمذی (رح) نے اس کی تحسین فرمائی۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے اس حدیث اختصام کو نقل کرنے کے بعد یہ فرمایا اس آیت میں جس اختصام کا ذکر ہے وہ یہ اختصام نہیں کیونکہ خود قرآن کریم نے اس اختصاص کی تفسیر (آیت ) ” اذ قال ربک للملئکۃ “۔ سے فرما دی کہ یہ اختصام خلافت آدم (علیہ السلام) اور ان کو امر بالسجود کے بارے میں ہے۔ حضرت استاد شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اس موقعہ پر اپنے فوائد قرآن میں فرماتے ہیں ملأ اعلی اوپر کی مجلس) ملائکہ مقربین وغیرھم کی مجلس ہے جن کے توسط سے تدابیر الہیہ اور تصریفات کو نیہ ظہور پذیر ہوتی ہیں یعنی ملا اعلی میں نظام عالم کے فنا وبقا کے متعلق جو تدبیریں یا بحثیں اور قیل وقال ہوتی ہے مجھے اس کی کیا خبر تھی جو تم سے بیان کرتا اللہ تعالیٰ نے ان میں جن اجزاء پر مطلع کردیا وہ بیان کردیئے میں جو کچھ کہتا ہوں اس کی وحی اور اعلام سے کہتا ہوں مجھ کو یہی حکم ملا ہے کہ سب کو اس آنے والے خوف ناک مستقبل سے خوب کھول کھول کر آگاہ کردوں۔ رہا یہ کہ یہ وقت کب آئے گا اور قیامت کب قائم ہوگی ؟ نہ انذار کے لیے اسکی ضرورت ہے اور نہ اس کی اطلاع کسی کو دی گئی ہے ایک حدیث میں ہے کہ چند انبیاء (علیہم السلام) کے ایک اجتماع میں قیامت کا ذکر چلا کہ کب آئے گی سب نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حوالہ کیا انہوں نے فرمایا مجھے علم نہیں پھر سب نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر حوالہ کیا انکی طرف سے بھی یہی جواب ملا آخر میں سب نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے یہی کہا کہ عین قیامت کا تو مجھے بھی علم نہیں اور یہ لفظ فرمائے ” والمسؤل عنھا باعلم من السائل “۔ معلوم ہوتا ہے کہ ملأ اعلی میں قیامت کے متعلق اس قسم کی بحث و تکرار رہتی ہے تو اس کے بارے میں آپ ﷺ نے صاف فرما دیا (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ کہ مجھے تو ملاء اعلی کا کوئی علم نہیں جبکہ وہ اس معاملہ میں خصومت کرتے ہیں۔ بہر کیف وحی خدواندی سے آپ ﷺ نے صاف ارشاد فرمایا کہ علم صرف اللہ کی شان ہے اللہ کا پیغمبر صرف وہی بتاتا ہے جو اس کو وحی سے بتادیا جائے اس کو نہ ملائکہ اعلی میں خصومتوں کا علم ہے اور نہ قیامت کے واقع ہونے کا علم ہے کہ کب واقع ہوگی۔ اللھم ارزقنا حلاوۃ الایمان وبشاشتہ توفنا مسلمین والحقنا بالصالحین سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین۔ الحمد للہ آج مورخہ 22 شوال المکرم 1400 ھ سورة ص کی تفسیر سے فراغت ہوئی اے خداوند عالم قبول فرما۔ آمین یا رب العالمین “۔
Top