Mualim-ul-Irfan - Saad : 65
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ
قُلْ : فرما دیں اِنَّمَآ : اس کے سوا نہیں اَنَا : کہ میں مُنْذِرٌ ڰ : ڈرانے والا وَّمَا : اور نہیں مِنْ اِلٰهٍ : کوئی معبود اِلَّا اللّٰهُ : اللہ کے سوا الْوَاحِدُ : واحد (یکتا) الْقَهَّارُ : زبردست
آپ کہہ دیجئے (اے پیغمبر ﷺ بیشک میں ڈر سنانے والا ہوں اور نہیں ہے کوئی الہ اللہ تعالیٰ کے سوا جو اکیلا ہے اور زبردست ہے ۔
ربط آیات : اس سورة کی ابتداء میں میں نے عرض کیا تھا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے تمام عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کو واضح کیا ہے چناچہ یہ چاروں مضامین اس سورة مبارکہ میں بیان ہوچکے ہیں درمیان میں اللہ تعالیٰ نے صبر و استقامت کے سلسلہ میں کئی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور ان کی شکر گزاری اور صبر کا حال بیان کیا ، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور سرکش اور نافرمان لوگوں کا انجام بھی ذکر کیا ، اہل دوزخ کی جہنم میں تکالیف اور پھر آپس میں گفتگو کا ذکر بھی آگیا ہے ، آخر سورة میں پھر خلاصہ مضامین آرہا ہے چناچہ آج کے درس میں بطور خاص توحید و رسالت کا بیان ہے اور پھر اگلے درس میں ابلیس کی نافرمانی کا ذکر ہوگا ، اور سورة کے اختتام پر پھر توحید و رسالت ہی کا بیان ہوگا ۔ (پیغمبر بحیثیت منذر) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قل انما انا منذر “۔ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں میرا فریضہ ہے کہ لوگوں کو کفر شرک ، اور ۔۔۔۔ کے انجام سے خبردار کر دوں ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نبی نذیر اور بشیر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے تمام نبی ایمان ، توحید اور اطاعت کرنے والوں کو آخرت میں عیش و آرام سے بھر پور لازوال زندگی کی بشارت سناتے ہیں تاہم ان کے پیغام میں انذار کا پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے کیونکہ دنیا میں عام طور پر کفر ، شرک اور معاصی کا دور دورہ رہا ہے فرمایا آپ کہہ دیجئے کہ میں تو انذار کرنے والا ہوں ، اس میں ضمنا یہ بات بھی آجاتی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں اور نبیوں والا کام ہی کرتا ہوں کوئی فرشتہ یا الہ نہیں ہوں میں تمہیں برائی کے انجام سے خبردار کررہا ہوں ۔ (توحید باری تعالی) فرمایا کہ تمہیں انذار کرنے کے ساتھ ساتھ توحید کی دعوت بھی دیتا ہوں ۔ (آیت) ” وما من الہ الا اللہ الواحد القھار “۔ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ تعالیٰ جو اکیلا ہے اور غالب ہے ، اس کے علاوہ نہ کوئی خالق ہے نہ مالک ہے نہ مدبر ہے ، نہ کوئی علیم کل ہے اور نہ قادر مطلق ہے ، یہ تمام صفات صرف ذات باری تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں ، لہذا وہ اکیلا ہی معبود ہے ہر چیز پر غالب ہے ہر عیب نقص اور کمزوری سے پاک ہے (آیت) ” فتعلی اللہ عما یشرکون “۔ (الاعراف ، 19) یہ مشرک لوگ جن چیزوں کو اس کا شریک بناتے ہیں وہ ان تمام چیزوں سے بلندو برتر ہے ، اللہ تعالیٰ کی یہ بادشاہی صرف اس دنیا تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ تو آخرت کے جہاں کا بھی بلاشرکت غیرے مالک ومختار ہے ، اس کا اعلان ہے (آیت) ” وان لنا للاخرۃ والاولی ‘۔ (13) یہ دنیا بھی ہماری ہے اور آخرت بھی ہماری ہے ہر دو جہانوں میں ہماری ہی حکومت ہے ، ہمارے سوا دونوں جہانوں میں کسی غیرکا حکم نہیں چلتا ۔ سورة کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے رسول نے مشرکین کو خدائے وحدہ لاشریک کی طرف دعوت دی تو وہ متعجب ہو کر کہنے لگے (آیت) ” اجعل الالھۃ الھا واحدا ، ان ھذا لشیء عجاب “۔ (آیت ، 50) کیا اس شخص نے سارے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا لیا ہے یہ تو بڑی عجیب بات ہے ، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں (آیت) ” وھو القاھر فوق عبادہ “۔ (الانعام ، 61) اور وہ اپنے تمام بندوں پر تسلط رکھتا ہے سب چیزیں اسی کے اختیار میں ہیں ۔ فرمایا خدائے واحد کی ایک صفت یہ بھی ہے (آیت) ” رب السموت والارض وما بینھما “۔ وہ آسمانوں ، زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کا پروردگار ہے عالم بالا ہو یا عالم زیریں درمیانی فضا ہو یا فضائی کرے سورج ، چاند ، ستارے وغیرہ سب کا رب وہی ہے وہ ” العزیز “ کمال قدرت کا مالک اور ہر چیز پر غالب ، اور ” الغفار “ و بخشش کرنے والا ہے وہ بڑا مہربان ہے ، اپنے بندوں پر فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ سنبھل جانے اور توبہ کرلینے کا موقع دیتا ہے ، اگر انسان اس کی طرف رجوع کرلے اور تائب ہوجائے تو وہ نہ صرف غلطیوں کو معاف کردیتا ہے بلکہ گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے بلند درجہ بھی عطا کرتا ہے ۔ (قیامت بطور بڑی خبر) اگلی دو آیات میں وقوع قیامت کا ذکر ہے ، ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر ﷺ قل آپ کہہ دیجئے (آیت) ” ھو نبؤ عظیم “ کہ یہ ایک بڑی خبر ہے اس سے مراد قیامت کی خبر ہے جیسے سورة النبا کی آغاز میں فرمایا (آیت) ” عم یتسآء لون ، عن النبا العظیم “۔ یہ لوگ کس چیز کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے ؟ کیا بڑی خبر کے بارے میں یعنی قیامت کے متعلق جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں ؟ علامہ زمخشری (رح) فرماتے ہیں کہ ھو کا اشارہ نہ صرف وقوع قیامت کے متعلق ہے بلکہ توحید و رسالت کی طرف بھی ہے توحید کا مسئلہ بھی عظیم خبر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سارے نبیوں نے لوگوں تک پہنچایا ، دوسری طرف نبی کی نبوت و رسالت بھی بہت بڑی خبر ہے ، خدا کی توحید کو لوگوں تک پہنچانے اور دین اور شریعت کے احکام کی تبلیغ نبوت و رسالت کے ذریعے ہی ہوتی رہی ہے اسی طرح نزول قرآن پاک بھی ایک عظیم خبر ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو وحی کے ذریعے نازل فرمایا اللہ تعالیٰ کے نبی نے نہ تو کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا ، نہ کسی سے علم حاصل کیا ، نہ کوئی کتابیں پڑھیں مگر اس کے باوجود آپ نے امت کو تمام علوم سے آگاہ کیا یہ سب کچھ وحی الہی کے ذریعے ممکن ہوا اور یہی اس کتاب کی صداقت کی دلیل ہے بہرحال فرمایا کہ قیامت ، توحید ، رسالت یا قرآن حکیم ایک بہت بڑی خبر ہے (آیت) ” انتم عنہ معرضون “۔ مگر تم اس سے اعراض کرنے والے ہو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت بیان فرمائی ہے جو وقوع قیامت کے منکر ہیں یا اس کی توحید اور رسالت کو تسلیم نہیں کرتے یا قرآن پاک کو وحی الہی ہونے کا یقین نہیں کرتے ۔ (ملاء اعلی) اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی جماعت ملاء اعلی کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے ، (آیت) ” ماکان لی من علم بالملاء الاعلی اذ یختصمون “۔ مجھے ملاء اعلی کے متعلق کچھ علم نہیں تھا جب کہ وہ تکرار کر رہے تھے ، ملاء اعلی قرآن وسنت کی اصطلاح ہے جس کا لغوی معنی بلند جماعت ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن پاک اور صحیح احادیث میں ملاء اعلی کا ذکر موجود ہے جس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے ، پھر فرماتے ہیں (1) (حجۃ اللہ البالغہ ص 23 ج 1) کہ یاد رکھو ! اس کائنات یعنی ارض وسما ، چاند ، سورج ، سیارے اور ستارے ، ان سب سے اربوں کھربوں سال پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی جماعت ملاء اعلی کو پیدا فرمایا ، اللہ تعالیٰ ازل سے جانتا تھا کہ نوع انسانی کی مصلحت فرشتوں پر موقوف ہے ، لہذا اس نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے فرشتوں کو اس قدر پہلے پیدا کیا کہ جس کا ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ، اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کے ذمے بعض کام لگا رکھے ہیں (آیت) ” لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یؤمرون “۔ (التحریم : 60) فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے بلکہ وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے ۔ فرشتوں کے فرائض میں سے ایک فریضہ یہ بھی ہے کہ وہ ان لوگوں کے حق میں دعائیں کرتے ہیں جنہوں نے اپنے نفس کو مہذب بنایا ہے اور وہ لوگوں کی اصلاح کو کوشش کرتے ہیں ، اس کے برخلاف جو لوگ غیر مہذب ناشائستہ اور عقیدہ ، عمل اور اخلاق کے لحاظ سے بدتر ہوتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں تو ملاء اعلی کے یہ فرشتے ان کے حق میں لعنت بھیجتے رہتے ہیں جن لوگوں کے لیے فرشتے دعائیں کرتے ہیں ان پر دعاؤں کی برکات نازل ہوتی ہیں اور دعاؤں کا اثر انسانوں پر ظاہر ہوتا ہے ایسے لوگوں کو ترقی نصیب ہوتی ہے اور ان کے لیے جزائے عمل میں مزید بہتری پیدا ہوتا ہے ، پھر جن کے حق میں فرشتے بددعائیں کرتے ہیں ان کی ذات میں حسرت وافسوس اور ندامت پیدا ہوتی ہے ، اور ان کے جزائے عمل میں خرابی آتی ہے ، باعتبار جماعت ان فرشتوں کو ملاء اعلی کہا جاتا ہے ، باعتبار مجلس ان کا نام اعلی اور باعتبار رفاقت ان کا نام رفیق اعلی ہے حضور ﷺ نے وفات کے وقت یہی دعا کی تھی ” اللھم الرفیق الاعلی “۔ اے اللہ ! مجھے رفیق اعلی میں پہنچا دے ۔ (ملاء اعلی کے تین درجات) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں (1) (حجۃ اللہ البالغہ ص 16 ج 1) کہ ملاء اعلی کے فرشتوں میں تین درجہ پائے جاتے ہیں پہلے درجے کی جماعت کا مادہ تخلیق بہت ہی بسیط اور لطیف ہے ان کے مادہ تخلیق کی مثال کوہ طور پر نظر آنے والی آگ کی سی ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس اپنے وطن آرہے تو انہوں نے طور پر آگ دیکھی قریب گئے تو دیکھا کہ وہ آگ ایک درخت سے پھوٹ رہی تھی مگر اس کو جلاتی نہیں تھی مگر درخت کی سرسبزی میں مزید اضافہ ہو رہا تھا مسلم شریف کی روایت کے مطابق وہ حجاب ناری تھا یا حجاب نوری تھا مطلب یہ کہ ملا اعلی کے پہلے درجے کے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے ان میں نہایت لطیف روحیں پیدا کی ہیں اور ان کو بہت بڑی طاقت عطا فرمائی ہے ان کی توجہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی تجلی اعظم کی طرف لگی رہتی ہے ۔ ملاء اعلی کی دوسرے درجے کی جماعت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عالم ۔۔۔۔۔ کے لطیف عناصر سے پیدا کیا ہے اور یہ بھی بڑے لطیف فرشتے ہیں یہ جماعت بھی پہلی جماعت کے ساتھ ملی ہوئی ہے شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ملاء اعلی کی تیسری جماعت افاضل الآدمیین کی ہے انسانوں میں افضل ترین لوگ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور کاملین بھی اپنا مادہ دور ختم کرنے کے بعد ملاء اعلی میں شامل ہوجاتے ہیں ملاء اعلی کے ملائکہ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان کسی نہ کسی طرح سفارت کا کام دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اسی کے ذریعے کائنات تک فیض پہنچاتا ہے مخلوق پہ نازل ہونے والی راحت ہو یا تکلیف ، خوشحالی ہو یا بدحالی باران رحمت ہو یا خشک سالی سب انہی فرشتوں کے واسطہ سے نافذ العمل ہوتی ہیں جس مقام میں یہ جماعت رہتی ہے اس کو حظیرۃ القدس کہا جاتا ہے اسی مقام پر اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر کے فیصلے نازل ہوتے ہیں اور پھر آگے کائنات میں جاری ہوتے ہیں انسانوں میں سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام یا دیگر کاملین کی روحیں جب اس مادی جسم کو چھوڑتی ہیں تو وہ بھی اس رفیق اعلی میں پہنچ جاتی ہیں ۔ (ملاء سافل) ملاء اعلی کے بالمقابل ملاء سافل ہوتے ہیں ، ان کا مقام حظیرۃ القدس سے نیچے ہوتا ہے ، ان فرشتوں کے آگے بیت سے طبقات ہیں ان میں سے بعض قبر اور برزخ میں متعین ہیں کوئی زمین پر اور کوئی فضا میں ، بعض سمندروں میں اور بعض انسانی اجسام کے اندر متعین ہیں بعض فرشتے انسان کی حفاظت پر مامور ہیں بعض انسانوں کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں اور بعض کو اللہ تعالیٰ نے دیگر امور پر مقرر کر رکھا ہے ، جب ان تمام فرشتوں کی روشنی بیک وقت چمکتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جس طرح بہت سے بلب بیک وقت روشن کردیے گئے ہوں اور پھر یہ روشنی جس مقام تک پھیلتی ہے اس کو علیین کہا جاتا ہے ۔ (تشریح بزبان رسول) فرمایا مجھے تو علم نہیں تھا کہ فرشتے کس بات میں تکرار کر رے تھے اس تکرار کے متعلق مفسرین کرام دو تفسریں پیش کرتے ہیں پہلی تفسیر تو یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے متعلق فرشتوں میں بات چیت ہوئی ، جس کا ذکر آگلی آیات میں آرہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو تخلیق کیا تو فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا سب فرشتے سربسجود ہوگئے مگر ابلیس نے اس بناء پر انکار کردیا کہ وہ آدم سے افضل ہے لہذا اور اس کو سجدہ نہیں کرسکتا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے راندہ درگاہ ٹھہرایا اور قیامت تک کے لیے اس پر لعنت مسلط کردی گئی ایک تو یہ تکرار ہے ۔ دوسری تشریح خود حضور ﷺ کی زبان مبارک سے ہے مسند احمد اور ترمذی شریف میں یہ روایت موجود ہے جو کہ محدثین کے نزدیک صحیح ہے حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضور ﷺ فجر کی نماز کے لیے کافی دیر سے تشریف لائے یہاں تک کہ ہمیں خطر لاحق ہوگیا کہ کہیں سورج نہ نکل آئے آپ جلد سے تشریف لائے اقامت کہی گئی اور آپ نے وقت کی تنگی کی وجہ سے ہلکی نماز پڑھائی سلام پھیرنے کے بعد آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہو ، پھر آپ نے اس طرح ارشاد فرمایا ، ” انی قمت من الیل فصلیت ما قدرلی فنعست فی صلوتی فرایت ربی فی احسن صورۃ فقال یا محمد ھل تدری فی ما یختصم الملاء الاعلی فقلت لا ادری ثلاث مرات فرایتہ فوضع کفہ بین کیفی حق وجدت بردھا فی نحری فعلمت مافی السموت وما فی الارض ، قال یا محمد ھل تدری فی ما یختصم الملا الاعلی قلت نعم فی الکفارات نقل الاقدام الی الجماعت المکث فی المسجد بعد الصلوۃ واسباغ ولوضوء فی لمکارہ قال وما الدرجات قلت اطعام الطعام ولین الکلام والصلوۃ والناس نیام ثم قال سل فقلت اللھم انی اسئلک فعل الخیرت وترک المنکرت وحب المساکین وان تغفرلی وترحمنی واذا اردت بقوم فتنۃ فتوفنی غیر مفتور واسئلک حبک وحب من تحیک وحب عمل یقربنی الی حبک “۔ میں رات کو بیدار ہوا اور نماز پڑھی جتنی مقدار میں تھی مجھ پر دوران نماز ہی اونگھ طاری ہوگئی اور میں بوجھل ہوگیا ، میں نے اسی حالت میں اپنے پروردگار کو بہت ہی عمدہ صورت میں دیکھا تو اس نے فرمایا اے محمد (ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ جانتے ہیں کہ ملاء اعلی کس چیز میں تکرار کر رہے ہیں میں نے عرض کیا پروردگار میں تو نہیں جانتا ، اللہ نے یہ سوال تین دفعہ کیا اور میں نے تینوں مرتبہ وہی جواب دیا پھر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا دست قدرت میرے کندھے کے درمیان رکھا ، یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی اور پھر ہر چیز مجھے روشن نظر آنے لگی اور میں نے پہچان لیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد (ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بتلاؤ کہ ملاء اعلی کس بات میں تکرار کر رہے ہیں تو میں نے عرض کیا کہ وہ گناہوں کے کفاروں کے بارے میں تکرار کر رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کفارات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا جماعت میں شریک ہونے کے لیے پاؤں سے چل کر جانا (جب کہ ہر ہر قدم کا اٹھنا غلطیوں کا کفارہ بنتا ہے اور درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے ) نیز فرمایا مساجد میں نماز کے بعد بیٹھنا ، تکلیف برداشت کرکے کامل وضو بنانا (یعنی گرمی سردی کی پرواہ کیے بغیر اچھی طرح وضو کرنا) پھر مجھ سے اللہ تعالیٰ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ تو میں نے عرض کیا ، محتاجوں کو کھانا کھلانا ، نرمی سے بات کرنا اور راتوں کو نماز پڑھنا جب کہ لوگ سو رہے ہوں پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا مانگ کیا مانگتے ہو تو میں نے عرض کیا مولا کریم ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے ، منکرات کے ترک کرنے کی اور مساکین کے ساتھ محبت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں اور یہ کہ تو مجھے میری کوتاہیاں معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرمانے اور جب کسی قوم کے بارے میں آزمائش کا ارادہ کرے تو مجھے اس سے پہلے اٹھا لے اور پروردگار میں سوال کرتا ہوں تیری محبت کا اور اس کی محبت کا جو تجھ سے محبت کرے اور اس عمل کی محبت کا جو مجھے تیرے قریب کردے ، پھر حضور ﷺ نے فرمایا یہ بات برحق ہے لہذا اس کو سیکھو اور سکھلاؤ بعض کہتے ہیں کہ سارا واقعہ حضور ﷺ کو بیداری کی حالت میں پیش آیا مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ آپ نے خواب میں دیکھا ۔ اس آیت کریمہ میں (آیت) ” یختصمون “ کا لفظ آیا ہے جس کا معنی تکرار یا جھگڑا کرنا ہوتا ہے مگر شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اس مقام پر فرشتوں کے جھگڑے کی بات نہیں ہے بلکہ اس سے مراد عام بات چیت یا بحث مباحثہ ہے جو وہ آپس میں کرتے ہیں ۔ (تجلی اعظم کے اثرات) اس حدیث پاک سے حضور ﷺ کے لیے علم غیب ثابت نہیں ہوتا کیونکہ علم غیب تو جب ہوگا جب ہر چیز کا ہر وقت علم ہو ، اور یہ خاصئہ خداوندی ہے حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تجلی فرمائی تو ہر چیز روشن ہوگئی اور جب وہ تجلی دور ہوگئی تو پھر کچھ نظر نہ آیا یہ تو وہی بات ہے ۔ گہے برطارم اعلی نشینم گہے برپائے پشت خود نہ بینم : ہماری حالت تو یہ ہے کہ جب ہم اونچے محل پر ہوتے ہیں تو ہر چیز نظر آتی ہے اور کبھی یہ حالت ہوتی ہے کہ اپنے پاؤں پر رکھی ہوئی چیز بھی نظر نہیں آتی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اڑھائی سو میل سے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آگئی مگر جب وہ ایک میل کے فاصلے پر کنوئیں میں پڑے ہوئے تھے تو کچھ پتہ نہ چلا مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک موقعہ پر حضور ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین سے فرمایا ” سلونی ما دمت فی مقامی ھذا “ یعنی جب تک میں ا س مقام پر کھڑا ہوں جو چاہے سوال کرلو ، میں جواب دوں گا ، اس وقت تجلیات کا نزول ہو رہا تھا جس سے ہر چیز روشن نظر آرہی تھی ، چناچہ دو آدمیوں نے سوال کیا جن کے حضور ﷺ نے جواب دیے پھر حضرت عمر ؓ نے آگے بڑھ کر کہا ” رضیت باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد رسولا ونبیا “ میں راضی ہوں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور حضرت محمد ﷺ کے نبی اور رسول ہونے پر ، حضرت عمر ؓ نے یہ کہہ کر اس سلسلہ کلام کو ختم کرا دیا تاکہ کوئی شخص الٹا سیدھا سوال نہ کر دے اور پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہی نہ نازل ہوجائے اس وقت حضور ﷺ جوش کی حالت میں تھے اور آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا ، پھر مذکورہ الفاظ سن کر آپ خاموش ہوگئے ، ۔ (رسالت کی حقانیت) یہاں تک جتنی باتیں بیان ہوئی ہے یہ سب اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے حضور ﷺ کو بتلائیں اسی بات کو حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا (آیت) ” ان یوحی الی الا انما انا نذیر مبین “۔ میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھول کر ڈر سنانے والا ہوں ، میں نے نہ تو کتابیں پڑھیں اور نہ کسی سے کچھ سیکھا ، بلکہ میں تو تمہیں وہی باتیں بتلاتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعے سکھلائیں اور یہی میری نبوت کی حقانیت کی دلیل ہے مشرکوں کے عقیدے کے برخلاف نہ تو میں خدا ہوں اور نہ حاجت روا اور مشکل کشا میں تو برائی اور عقائد فاسدہ کے انجام سے کھول کر ڈر سنانے والا ہوں میں لوگوں کو خبردار کرتا ہوں کہ اگر برائی کو اختیار کرو گے تو اس کا نتیجہ بھی برائی کی صورت میں ہی نکلے گا ۔
Top