Asrar-ut-Tanzil - Saad : 65
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ
قُلْ : فرما دیں اِنَّمَآ : اس کے سوا نہیں اَنَا : کہ میں مُنْذِرٌ ڰ : ڈرانے والا وَّمَا : اور نہیں مِنْ اِلٰهٍ : کوئی معبود اِلَّا اللّٰهُ : اللہ کے سوا الْوَاحِدُ : واحد (یکتا) الْقَهَّارُ : زبردست
فرمادیجئے کہ میں تو بس (عذاب سے) ڈرانے والا ہوں اور اللہ واحد غالب کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں تمہیں کیسے بتاتا اور مجھے کس طرح علم ہوسکتا تھا۔ یہ صرف وحی الہی کا کمال ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں تمہیں اعمال کے نتائج اور انجام کی خبر دے رہا ہوں یہ بھی سن لو کہ جب اللہ نے فرشتوں سے بات کی کہ میں خاک سے ایک انسان پیدا کرنا چاہتا ہوں جب میں اپنی قدرت سے اسے بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا چناچہ جب آدم (علیہ السلام) بن کر زندہ ہوگئے تو سب فرشتے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے مگر ایک ابلیس کہ جن تھا مگر فرشتوں میں رہتا تھا سجدرہ ریز نہ ہوا اس نے ازراہ تکبر انکار کردیا۔ ارشاد ہوا کہ ابلیس جب ہم نے حکم دیا تھا کہ یہ میری خاص تخلیق ہے اور اس کی عظمت کا اقرار کیا جائے اسے سجدہ کیا جائے تو تمہارے سجدہ نہ کرنے کا سبب کیا ہے کیا تو تکبر میں گرفتار ہے یا تو خود کو بڑا سمجھنے لگ گیا ہے۔ تو اس نے کہا میں اس سے بہت بہتر ہوں کہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا فرمایا جو بہت اعلی ہے بہ نسبت اس کے کہ آپ نے اسے مٹی سے بنایا ہے یہ عذر لنگ اس نے اپنے تکبر کا جواز بنایا جس پر ہمیشہ کے لیے مردود قرار پایا اور ارشاد ہو ا کہ چلا جا یہاں سے تجھے رد کیا جاتا ہے اور قیامت تک تجھ پر میری پھٹکار پڑتی رہے گی۔ اس نے عرض کیا اللہ مجھے تو سزا مل گئی لیکن میری ایک درخواست ہے کہ مجھے قیام حشر تک مہلت دی جائے فرمایا جا تجھے مہلت بھی عطا کی مگر قیام حشر تک بلکہ قیام قیامت تک۔ دعا کبھی شیطان کی بھی سن لیتا ہے یہ خالصتاً اللہ کی مرضی مگر اس نے دعا میں حشر بپا ہونے تک وقت مانگا جس کے بعد موت نہیں مگر فرصت قیام قیامت تک ملی کہ موت کی تلخی سے گزر کر وہاں پہنچے گا۔ تو اس نے کہا اللہ مجھے آپ کی عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کردوں گا مگر ہاں تیرے مخلص اور کھرے بندے میری چال میں نہ آئیں گے۔ سبحان اللہ شیطان تک کو ازل سے اقرار ہے کہ مخلص اور کھرے بندے میری گرفت میں نہ آئیں گے۔ اور یہی خلوص قلبی ذکر قلبی کا حاصل ہے اگر کوئی ذکر قلبی سے بھی خلوص حاصل نہ کرسکا تو بہت ہی بےنصیب آدمی ہے۔ ارشاد ہوا میری ذات حق ہے اور میں حق ہی ارشاد فرماتا ہوں میں تجھ سے تیری نسل اور تیرے پیروکاروں سے دوزخ کو بھر دوں گا اور تب تم سب کو اس نافرمانی کا بدلہ مل جائے گا۔ آپ فرما دیجیے کہ میں دین کی تبلیغ کے بدلے تم سے کچھ نہیں چاہتا نہ دولت نہ وقار نہ اقتدار اور میں ایسا بھی ہرگز نہیں کہ اپنی شہرت کے لیے مختلف طریقے اختیار کروں کہ تم سب میری ذات سے خوب واقف ہو۔ ہاں یہ کلام جو میں تم پر پیش کر رہا ہوں یہ تو سب کائنات کے لیے معرفت الہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اگر اب نہ سہی وقت گزرتے دیر نہیں لگتی تمہیں موت کے وقت اور پھر قیامت کے دن اس کی حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔
Top