Al-Qurtubi - Saad : 65
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ
قُلْ : فرما دیں اِنَّمَآ : اس کے سوا نہیں اَنَا : کہ میں مُنْذِرٌ ڰ : ڈرانے والا وَّمَا : اور نہیں مِنْ اِلٰهٍ : کوئی معبود اِلَّا اللّٰهُ : اللہ کے سوا الْوَاحِدُ : واحد (یکتا) الْقَهَّارُ : زبردست
کہہ دو کہ میں تو صرف ہدایت کرنے والا ہوں اور خدائے یکتا اور غالب کے سوا کوئی معبود نہیں
65 ۔ 70:۔ قل انما انا منذر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے میں اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے وما الہ الہ کا معنی معبود ہے اللہ تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں العزیز الغفار۔ پر رفع صفت ہونے کے اعتبار سے ہے اگر تو پہلے کو نصب دے تو اسے بھی نصب دے گا پہلے کو رفع اور مابعد کو مدح کے طور پر نصب دینا بھی جائز ہے العزیز کا معنی محفوظ ہے جس کی کوئی مثل نہ ہو الغفار سے مراد جو مخلوقات کے گناہوں کو بخشنے والا ہو۔ قل ھو نبوا اعظم۔ اے محمد ! انہیں کہو حساب ‘ ثواب اور عقاب کے بارے میں جو تمہیں ڈرا رہا ہوں یہ عظیم الشان خبر ہے مناسب نہیں کہ اسے ہلکا جانا جائے ‘ یہ قتادہ نے معنی کیا ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : عم یتساء لون۔ عن النباالعظیم۔ ) النسائ ( حرکت ابن عباس ؓ ‘ مجاہد قتادہ نے کہا : اس سے مراد قرآن حکیم ہے (1) جس نے تمہیں اس کے بارے میں آگاہ کیا ہے وہ عظیم الشان خبر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نباء عظیم سے مراد عظم منفعت ہے۔ ما کان لی من علم بالملا الاعلی اذیختصمون۔ ملا اعلی سے مراد ملائکہ ہیں (2) ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کے قول کے مطابق فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں اس وقت جھگڑا کیا تھا جب آپ کی تخلیق کیا گیا فرشتوں نے کہا : اتجعل فیھا من یفسد فیھا) البقرۃ (30: ابلیس نے کہا : انا خیر منہ اس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کے واقعات کی خبر دی اللہ تعالیٰ کی تائید کے بغیر اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا نبی کریم ﷺ کی صداقت پر معجزہقائم ہے انہیں کیا ہوگیا کہ قرآن حکیم میں تدبر کرنے سے اعراض کرتے ہیں جب کہ وہ تدبر کر کے آپ کی صداقت کی پہچان سکتے تھے اسی وجہ سے اس قول کو ‘ اس قول : قل ھو نبوا عظیم۔ انتم عنہ معرضون۔ جوڑا ہے۔ دوسرا قول جسے ابو اشہب نے حضرت حسن بصری ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے رب ! نے مجھ سے پوچھا : اے محمد ﷺ فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفارات اور درجات میں جھگڑ رہے ہیں پوچھا : کفارات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کی : جماعت کے لئے قدموں پر چل کر جانا ‘ سخت سردی میں اچھی وضو کرنا اور نماز کے بعد مساجد میں مساجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھنا ‘ پوچھا : درجات کیا ہیں ؟ میں عرض کی سلام کو عام کرنا ‘ کھانا کھلانا ‘ رات کی وقت نماز پڑھنا جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں (1) ۔ امام ترمذی سے اسی معنی میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اس کے بارے میں کہا : حدیث غریب ہے۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے اس کے بارے میں کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (2) ہم نے اسے مکمل طور پر کتاب الاسنی فی شرع اسماء اللہ الحسنی میں تحریر کہا ہے اور ہم نے اس کے اشکال کو بیان کیا ہے۔ الحمد اللہ۔ سورة یس میں مساجد کی طرف چلنے کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے قدم سیاست کا کفارہ بنتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ملا اعلی سے مراد فرشتے ہیں یختصمون میں ضمیر دونوں فرقوں کے لئے ہے اس سے مراد ان لوگوں کا قول ہے جنہوں کہا : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور جس نے یہ کہا وہ ایسے معبود ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ملا علی سے مراد قریش ہیں ان کے اختصام سے مراد ان کا راز داری سے جھگڑا کرنا ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو آگاہ کردیتا ہے۔ ان یو حی الی الا الما انا نذیر مبین۔ میری طرف اندار کی وحی کی جاتی۔ ابو جعفر بن قعقاع نے اسے الاانما پڑھا ہے کیونکہ وحی بھی ایک قول ہے گویا کہا : میرے بارے میں کہا جاتا ہے کہ میں واضح خبر دار کرنے والا ہوں۔ جس نے ہمزہ کو فتحہ دیا اس نے اسے محل رفع میں رکھا ہے کیونکہ یہ نائب الفاعل ہے۔ فراء نے کہا : گویا آپ نے کہا میری طرف انداز کے سوا وحی نہیں کی گئی۔ نحاس نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ انما محل نصب میں ہو۔
Top