Tafseer-e-Majidi - Saad : 65
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ
قُلْ : فرما دیں اِنَّمَآ : اس کے سوا نہیں اَنَا : کہ میں مُنْذِرٌ ڰ : ڈرانے والا وَّمَا : اور نہیں مِنْ اِلٰهٍ : کوئی معبود اِلَّا اللّٰهُ : اللہ کے سوا الْوَاحِدُ : واحد (یکتا) الْقَهَّارُ : زبردست
آپ کہہ دیجیے کہ میں تو محض ڈرانے والا ہوں اور خدا تو کوئی بھی نہیں بجز اللہ واحد اور غالب کے،59۔
59۔ (نعوذ باللہ مجھ میں کوئی شائبہ الوہیت تھوڑے ہی ہے، اور میں کیا دعوی کسی معنی میں بھی اپنی خدائی کا کرتا ہوں، معبود تو وہی ایک سب پر غالب ہے، اور میں اس کی طرف سے محض تنبیہ کرنے والا) (آیت) ” من الہ “۔ من زائدہ، استغراق نفی کیلئے ہے۔ (آیت) ” الواحد “۔ وہ جس طرح اپنی صفات میں یکتا ہے، عددی حیثیت سے بھی یکتا ہے، نہ کوئی اس کا ثانی نہ کوئی اس کا اقنوم یا مظہر (آیت) ” القھار “۔ وہی سب پر حاکم و غالب، اس پر کوئی بھی حاکم و متصرف نہیں۔ اے ھو وحدہ قد قھر کل شیء و غلبہ (ابن کثیر) القھر الغلبۃ والتذلیل معا ..... واقھرہ سلط علیہ (راغب) اسم ” قھار “ کو بعض لوگوں نے اردو کے ” قہار “ پر بڑے غصہ ور کے معنی میں لیا ہے جو سرتاسر مہمل ہے۔
Top