Urwatul-Wusqaa - Saad : 65
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ
قُلْ : فرما دیں اِنَّمَآ : اس کے سوا نہیں اَنَا : کہ میں مُنْذِرٌ ڰ : ڈرانے والا وَّمَا : اور نہیں مِنْ اِلٰهٍ : کوئی معبود اِلَّا اللّٰهُ : اللہ کے سوا الْوَاحِدُ : واحد (یکتا) الْقَهَّارُ : زبردست
( آپ ﷺ کہہ دیجئے سوائے اس کے نہیں کہ میں تو ڈرانے والا ہوں اور معبود (تو) صرف اللہ ہی ہے جو اکیلا غالب آنے والا ہے
پیغمبر اسلام ! ﷺ سے توحید کا اعلان کرنے کا حکم خاص 65۔ گزشتہ آیات میں جو اہل ایمان پر لطف و کرم کیا جانے والا ہے اس کا ذکر کرنے کے بعد کفار و مشرکین کو جس دردناک اور کربناک عذاب میں مبتلا ہونا ہے اس کا بیان کرکے اب نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو مخاطب فرما کر حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ اپنی قوم کو بتا دیجئے کہ تم جس راستہ پر گامزن ہو یہ راستہ تو سیدھا جہنم کو جا رہا ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لیے مبعوث کیا ہے کہ میں تم کو اور ساری دنیا کے دوسرے لوگوں کو متنبہ کر دوں کہ ابھی وقت ہے تم اپنی اصلاح کرلو اور شرک و کفر سے نکل کر توحید کے راستہ کی طرف آ جائو تاکہ تم کو یہ راستہ جنت کی طرف رواں دواں کر دے اور انجام کار تم اس دنیا کی زندگی کے دن پورے کر کے عالم برزخ میں مقام علیین پر پہنچ جائو اور وہاں قیامت کا دن بپا ہونے کے بعد سیدھے جنت میں پہنچ جائو یہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی راہ ہے جو اکیلا ہی زبردست ہے اور سب کی احتیاجوں کو پورا کرنے والا ہے اور وہ بذاتہ کسی کا محتاج نہیں خواہ وہ کوئی ہو اور کہاں ہو۔ زیر نظر آیت سے مضمون سورة ہذا کے شروع سے جا کر ملا دیا گیا ہے جہاں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے بات شروع کی گئی تھی ایک بار سورت کی شروع کی آیتوں پر نظر ڈال لو بات بالکل واضح ہوجائے گی۔
Top