Al-Quran-al-Kareem - Saad : 15
وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
وَمَا يَنْظُرُ : اور وہ انتظار نہیں کرتے هٰٓؤُلَآءِ : یہ لوگ اِلَّا : مگر صَيْحَةً : چنگھاڑ وَّاحِدَةً : ایک مَّا لَهَا : جس کے لیے نہیں مِنْ : کوئی فَوَاقٍ : ڈھیل
اور یہ لوگ کسی چیز کا انتظار نہیں کر رہے سوائے ایک سخت چیخ کے، جس میں کوئی وقفہ نہ ہوگا۔
وَمَا يَنْظُرُ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً :”يَنْظُرُ“ یہاں ”یَنْتَظِرُ“ کے معنی میں ہے۔ ”صَيْحَةً وَّاحِدَةً“ (ایک سخت چیخ) سے مراد دوسری دفعہ صور کے نفخہ سے پیدا ہونے والی آواز ہے، کیونکہ پہلے نفخہ کے وقت تک زندہ و موجود رہنے کا انتظار تو کوئی بھی نہیں کرتا۔ ”فَوَاقٍ“ مَا بَیْنَ الْحَلْبَتَیْنِ مِنَ الْوَقْتِ أَوْ مَا بَیْنَ فَتْحِ یَدِکَ وَ قَبْضِھَا عَلَی الضَّرْعِ“ (قاموس) ”دو دفعہ دودھ دوہنے کے درمیان کا وقفہ یا دودھ دوہتے وقت تھن کو پکڑنے اور چھوڑنے کا درمیانی وقفہ۔“ مراد تھوڑا سا وقفہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے والے یہ لوگ ایک سخت چیخ کے انتظار میں ہیں، جو شروع ہوگی تو اس میں اس وقت تک کوئی وقفہ نہیں ہوگا جب تک تمام لوگ زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش نہیں ہوجائیں گے، فرمایا : (اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ) [ یٰسٓ : 53 ] ”نہیں ہوگی وہ مگر ایک ہی چیخ، تو اچانک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے ہوئے ہوں گے۔“ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے۔
Top